برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ
دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ جبکہ اموات کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’وبا کے عروج سے گزر چکا ہے‘۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس مختلف سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسے جیسے کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی ہے، ہمارا سرفیسز یعنی کسی بھی چیز کی سطح جیسے کہ ٹیبل یا دروازے کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔
اب عوامی مقامات پر بہت سے مناظر عام ہو گئے ہیں جیسے کہ لوگوں کا دروازے اپنی کہنیوں سے کھولنے کی کوشش کرنا، ٹرین کا سفر کرتے ہوئے کسی ہینڈل کو نہ پکڑنا، دفاتر میں ہر روز ملازمین کا اپنی میزوں کو صاف کرنا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
نورین شمس صحافی ہیں اور ان دنوں امریکہ کی ریاست ایریزونا کے شہر فینیکس میں ہیں۔ وہاں لاک ڈاؤن کی کیا صورتحال ہے۔
وہ بتا رہی ہیں اس وی لاگ میں۔
کھیلوں کی دنیا کی تازہ ترین صورتحال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث کھیلوں کے براہ راست مقابلے تو تقریباً ناپید ہیں لیکن خبروں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
فیفا کے چیف ڈاکٹر نے خبردار کیا ہے فٹبال کے سیزن دوبارہ شروع نہ کیے جائیں بلکہ اگلے سیزنز کے لیے تیاری کی جائے۔
ٹوکیو اولمپکس کی چیف یوشیرو موری کا کہنا ہے کہ اگر کھیلوں کا مقابلہ 2021 میں بھی منعقد نہ ہو سکا تو اسے منسوخ کرنا پڑے گا۔
فرانس کی جانب سے کھیلوں کے تمام مقابلوں پر پابندی کے بعد لیگ ون اور لیگ ٹو کے فٹبال سیزن ستمبر تک شروع نہیں ہو سکیں۔
آسٹریلیا میں رگبی کے چار کھلاڑیوں کو سماجی دوری کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ کیا جائے گا۔
سپین کا جون کے آخر تک ’مرحلہ وار‘ لاک ڈاؤن ہٹانے کا منصوبہ
،تصویر کا ذریعہAFP
یورپی ملک سپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ چار مرحلوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کو ہٹا دے گا اور جون کے آخر تک وہاں زندگی ’معمول‘ پر آ جائے گی۔
سپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف خطوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی مناسبت سے پابندیاں مختلف انداز میں ختم کی جائیں گی۔
سپین کے چار جزیروں پر لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز چار مئی سے ہو گا جس کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی ایسا ہی جائے گا۔
اب تک ملک میں کورونا وائرس سے تقریباً 24000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ملک میں 14 مارچ کے بعد سے دنیا کی سب سے سخت پابدیاں لگائی گئی تھیں تاکہ لوگوں کو گھروں تک محدود کیا جا سکے۔ ان پابندیوں میں بچوں کے گھروں سے نکلنے پر چھ ہفتوں کی پابندی عائد کی گئی تھی۔
یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ سپین میں وائرس کا پھیلاؤ کم ہو رہا ہے تاہم منگل کے روز سپین کے محکمہ صحت کے مطابق ملک میں 301 اموات سامنے آئیں جو کہ گذشتہ ماہ کے اوائل میں 950 بھی ہوا کرتی تھیں۔
نئے مریضوں کی تعداد 1308 تپی جو کہ 14 مارچ کے بعد سے سب سے کم ہے۔
کیا امریکہ میں واقعی ٹیسٹنگ دوسرے ممالک سے زیادہ ہو رہی ہے؟, ریئیلٹی چیک
،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا ہے ہے کہ امریکہ میں ٹیسٹنگ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اور بہتر ہو رہی ہے۔
امریکہ میں ٹیسٹنگ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک میں 5593495 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جو یقیناً مجموعی طور کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔
تاہم امریکہ میں آبادی بھی دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ ہے اس لیے آبادی کے تناسب کے اعتبار سے امریکہ میں اب بھی دیگر ممالک سے کم ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹیسٹنگ کے اعدادو شمار کا درست موازنہ کرنا بھی مشکل ہے۔ کچھ ممالک ٹیسٹ کیے گئے افراد کو گنتے ہیں جبکہ کچھ ٹیسٹوں کی تعداد یعنی کچھ افراد کو ایک سے زیادہ مرتبہ بھی ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے ہر 60 میں سے ایک فرد کا ٹیسٹ کیا جبکہ اٹلی میں یہ تعداد ہر 35 میں سے ایک فرد کی ہے۔ سپین میں ہر 45 افراد میں سے ایک جبکہ آسٹریلیا میں پچاس۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کورونا کے خلاف جاری جنگ میں سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن واحد ہتھیار ہیں جنھیں نافذ کرنے کے لیے دنیا کے اکثر ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔
لیکن لاک ڈاؤن ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے کیسے نمٹا جائے۔
جانیے ماہرِ نفسیات عطیہ نقوی سے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی نائب صدر مائیک پینس نے منگل کے روز بین الاقوانمی شہرت یافتہ میو کلینک کا دورہ کیا لیکن وہاں موجود تمام افراد کے برعکس انھوں نے ماسک نہیں پہنا۔
تمام مریضوں، عملے اور ہسپتال آنے والوں کو ماسک پہننا لازم ہوتا ہے اور ایسا میو کلینک کی ویب سائٹ پر بھی درج ہے۔
نائب صدر کی ماسک کے بغیر فوٹیج کے سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد میو کلینک نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ مائیک پینس کو اس حوالے سے پہلے سے مطلع کر دیا گیا تھا تاہم اس ٹویٹ کو بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نے کلینک سے اس حوالے سے سوالات کیے ہیں تاہم تاحال جواب سامنے نہیں آیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے۔
اگر بات اب بھی سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔
ہم کسی بھی ملک سے زیادہ ٹیسٹ کر رہے ہیں اس لیے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے: ڈانلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آج امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور اس حوالے سے جب صدر ڈانلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے فروری میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اس وقت جو 15 مصدقہ متاثرین ہیں وہ چلد صفر کے قریب چلے جائیں گے تو انھوں نے کہا کہ یہ آخر کار صفر تک چلے جائیں گے۔
منگل کے روز میڈیا بریفنگ کےدوران انھوں نے کہا کہ ’آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب آپ کیسز کی بات کرتے ہیں تو ہم کسی بھی ملک سے زیادہ ٹیسٹنگ بھی کرتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کسی بھی ملک سے زیادہ ٹیسٹ کر رہے ہیں، بہت زیادہ، کسی بھی ملک سے دو گنا زیادہ۔ اور ایک وقت آئے گا کہ متاثرین کی تعداد صفر ہو جائے گی۔‘
لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کی اجازت دینے پر آبدوز کے کپتان عہدے سے برخواست
،تصویر کا ذریعہANDREW SEGAL
برطانوی بحریہ رائل نیوی نے اپنی ایک آبدوز کے کپتان کو اپنے ماتحت افراد کو لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے کی اجازت دینے پر ملازمت سے ہٹا دیا ہے۔
کمانڈر جان لیوئس جوہری آبدوز ایچ ایم ایس ٹرینچینٹ کے کپتان تھے اور انھوں نے پلائی ماؤتھ کی ڈیونپورٹ پر اس پارٹی کی اجازت دی تھی۔
یہ اقدام سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو کے بعد اٹھایا گیا جس میں آبدوز میں موجود افراد واپسی پر ناچ رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔
کپتان کو اس عہدے سے برخواست کر دیا گیا ہے تاہم وہ رائل نیوی کا حصہ رہیں گے۔
جیک ما: کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کوشاں چین کے امیر ترین شخص کو کس سے خطرہ ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران گذشتہ ماہ چین کے سب سے رئیس شخص نے ٹوئٹر پر اپنا اکاوٴنٹ کھولا۔ تب سے لے کر اب تک ان کی ہر پوسٹ چین اور دنیا کے ہر ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے طبی امداد کے بارے میں ہے۔
جیک ما نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ’ایک دنیا، ایک جنگ!’ تو وہیں دوسرے میں وہ لکھتے ہیں ’ہم ساتھ مل کر اسے ممکن بنا سکتے ہیں۔‘
امریکی بحریہ اور نیوی کے طیاروں کا کورونا وائرس سے لڑنے والوں کو خراج تحسین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی بحریہ اور فضائیہ کے طیاروں نے آج نیویارک نیو جرسی اور پینسلوینیا کی ریاستوں کے فضاؤں میں پرواز کی اور طبی، نیم طبی عملے اور کورونا وائرس کی عالمی وبا سے لڑنے والے دیگر ملازمین کو خراج تحسین پیش کیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیڈا میں افطار کے دوران لاؤڈ سپیکر پر اذان کی اجازت
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کرونا وائرس کی وبا کے باعث کینیڈا کی مساجد میں نماز کے اجتماع پر پابندی ہے۔ مقامی حکومت نے کینیڈا کے شہروں ٹورنٹو، سکاربورو اور مارکھم کی مساجد میں صرف دوران رمضان اذان مغرب بذریعہ لاوڈ سپیکر دینے کی اجازت دی ہے۔ایسا کینیڈا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
ان مساجد کے چاروں طرف لاوڈ سپیکر لگائے گئے ہیں جس سے اذان کی آواز دور دور تک سنی جا سکتی ہے۔
دیکھتے ہیں کینیڈا سے محسن عباس کی یہ رپورٹG
یورپ کی تازہ ترین صورتحال!
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس مییں 11 مئی سے دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پرتگال آئندہ سنیچر کو ملک میں
ہنگامی صورتحال ختم کر دے گا۔ یورپ کی دیگر اہم خبریں:
فرانس کے وزیر اعظم نے ملک کی پارلیمان میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں سے نکلنے کا
منصوبہ پیش کیا ہے۔ دکانیں، بازار اور پرائمری سکول 11 مئی سے کھل جائیں گے لیکن
جو لوگ گھر سے کام کر رہے ہیں وہ ابھی تین ہفتے تک ایسا ہی کرتے رہیں گے۔
فرانس میں عجائب گھر ستمبر کے آخر تک کھولے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے
علاوہ فرینچ لیگ کی ٹاپ ٹو ڈویژنز بھی بحال نہیں ہوں گی۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے تسلیم کیا ہے کہ روس میں حفاظتی کٹس کی کمی ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ ملک میں پیداوار اور درآمد کیے جانے کے باوجود بھی ہر قسم کی
شایا کی کمی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں وبا کی انتہائی شدید صورتحال ہے۔
اٹلی میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 200000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ گذشتہ
24 گھنٹوں میں 608 نئے کیسز ریکارڈ ہوئے جبکہ 382 ہلاکتں ہوئیں۔
نیویارک کے گورنر کی میڈیا، طبی ماہرین پر تنقید
امریکی ریاست نیوریاک کے گورنر اینڈریو کومو نے کورونا کی وبا ے متعلق بروقت
خبردار نہ کیے جانے پر امریکی میڈیا، امریکی ماہرین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی
طبی برداری کو بھی آڑھے ہاتھوں لیا ہے۔
کومو کا کہنا تھا ’گورنرز کا کام عالمی وبا سے لڑنا نہیں ہے۔‘
’ماہرین کہاں تھے؟ نیوریاک ٹائمز کہاں تھا؟ وال سٹریٹ جرنل کہاں تھا؟ یہ
خبردار کرنے والے کہاں تھے جنھیں کہنا چاہیے تھا کہ احتیاط کریں چین میں وائرس ہے
جو امریکہ میں بھی آسکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’یہ ریاستوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔‘
امریکی اخباروں اور نیوز سائٹس نے بہت پہلے جنوری میں ڈبلیو ایچ او کے حوالے
سے مقالے تحریر کیے تھے جن میں کورونا وائرس اور عالمی طبی ہنگامی حالت کے بارے
میں بتایا گیا تھا۔
ان کا یہ بیان ایسے میں آیا ہے جو نیویارک کے رہنماؤں پر وائرس کے حوالےسےردعمل میں تاخیر پر تبصروں میں اضافہ ہوا ہے۔
نیویارک کے گورنر کا 15 مئی کے بعد لاک ڈاؤن میں مشروط نرمی کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ریاست نیوریاک کے گورنر اینڈریو کوؤمو نے کہا ہے کہ ریاست کے کچھ علاقوں
میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک نرم کر دیا جائے گا بشرطیکہ وہاں کچھ ضروری اہداف حاصل ہوں
جن میں 14 دن کے دوران وائرس کے نئے کیسز میں کمی شامل ہے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ ایسے مقامات پر لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوگا جہاں ہسپتالوں
میں 70 فیصد کورونا کے مریض ہیں یا وہاں منتقلی کی شرح 1.1 ہے۔ سب سے زیادہ متاثر
ہونے والے شہر نیویارک سٹی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کہ شہر اپنی نہیں کھلے گا ’بصورت دیگر کوئی
معجزہ ہوجائے‘۔
مصنوعات سازی اور تعمیراتی کام پہلے شروع ہوں گے۔ اگر وہ احتیاطی تدابیر
اپناتے ہیں تو ہے ایسا کر سکتے ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 335 افراد نیویارک میں ہلاک ہوئے۔
گورنر کومو کا کہنا تھا کہ ’میں ہر روز یہ سوچتا ہوں یہ برا خواب شاید آج ختم
ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔‘
بریکنگ, امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جان ہاپکنز یونیورٹی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ
میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس سے پہلے مارچ میں امریکہ سب سے زیادہ کورونا کے کیسز کے ساتھ
چین سے بھی آگے نکل گیا تھا جہاں سے یہ وائرس شروع ہوا تھا۔
امریکہ
میں ہلاکتوں کی تعداد 56749 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے
بی بی سی اردو کے ورلڈ لائیو پیج پر خوش آمدید
دنیا بھر سے کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین خبریں آپ بی بی سی اردو کے اس لائیو پیج پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔