برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ جبکہ اموات کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’وبا کے عروج سے گزر چکا ہے‘۔

لائیو کوریج

  1. جنوبی افریقہ میں متاثرین میں ریکارڈ اضافہ

    مریض

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی افریقی میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ملک میں صحت کے محکمے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز مزید 354 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس سے کل متاثرین کی تعداد 5350 ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق یہ گذشتہ روز کے مقابلے میں متاثرین کی تعداد میں 73 فیصد اضافہ ہے۔

    اس کے علاوہ اب تک ملک میں 103 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    گذشتہ روز ہلاک ہونے والے 10 افراد میں ایک نرس بھی شامل تھی۔

    برِاعظم افریقہ میں مصر کے بعد جنوبی افریقہ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

  2. سوئٹزرلینڈ کا لاک ڈاؤن میں ’توقع سے پہلے‘ مشروط نرمی کا اعلان, اموجن فولکس، بی بی سی نیوز جنیوا

    سوئٹزرلینڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوئٹزلینڈ کی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے تمام دوکانیں، ریستوران، شراب خانے اور میوزیمز 11 مئی سے کھول دیے جائیں گے۔

    یہ فیصلہ یقیناً توقع سے پہلے لیا گیا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کیسز اور ہسپتالوں میں داخل افراد کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے جس کی توقع کو نہیں کی جا رہی تھی۔

    سوئٹزرلینڈ میں گذشتہ دس دنوں کے دوران روزانہ 250 سے کم کیس سامنے آ رہے ہیں جبکہ یہاں انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں وبا کے دوران ہمیشہ سے ہی جگہ موجود رہی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بے صبرے کاروباروں جیسے شراب خانوں اور ریستورانوں کو کھول دیا ہے۔ دوسری جانب سکولوں کو 11 مئی کو کھولنے کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

    تاہم ملک میں وزیرِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زندگی معمول پر آ جائے گی۔ شراب خانوں میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہو گی، ریستورانوں میں میز صرف چار لوگوں کے مختص ہوں گے جبکہ ہر میز کے درمیان دو میٹر کا فاصلہ برقرار رکھا جائے گا۔

    بڑے اجتماعات پر تاحال پابندی رہے گی۔

    اس اثنا میں ملک گیر ٹریسنگ کا عمل شروع کیا جائے گا اور وائرس سے متاثرہ افراد اور ان کے قریبی افراد کو قرنظینہ میں رہنے کا کہا جائے گا۔

    کچھ افراد یقیناً اس اعلان کے بعد سکھ کا سانس لیں گے، لیکن باقی جنھیں یہ یاد ہے کہ ملک میں وائرس کتنی تیزی سے پھیلا تھا انھیں خوف ضرور ہو گا کہ شاید پابندیوں میں نرمی بہت جلدی کر دی گئی ہے۔

  3. وبا کے دوران ڈراؤنے خوابوں کا کیا مطلب ہے

  4. سعودی عرب: قطیف میں بین الاصوبائی نقل و حرکت کی بحالی

    سعودی عرب: قطیف میں بین الاصوبائی نقل و حرکت بحال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روئٹرز کے مطابق سعودی عرب کے صوبے قطیف میں بین الاصوبائی نقل و حرکت جمعرات سے بحال کردی گئی ہے۔

    اس کا مطلب ہے کہ اب اس مشرقی صوبے کے اندر جانے یا وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔

    کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے 8 مارچ کو لاک ڈاؤن کے دوران اس سے نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    ملک میں لاک ڈاؤن میں گذشتہ دنوں نرمی آئی ہے اور اب لوگوں کو احتیاط کے ساتھ باہر نکلنے کی اجازت ہے۔ لیکن اس کے باوجود مخصوص اوقات میں کرفیو نافذ رہتا ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں اب تک کووڈ 19 کے 20,077 متاثرین ہیں جبکہ 157اموات ہوچکی ہیں۔

  5. جرمنی میں حالات کیسے ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    جرمنی میں لاک ڈاؤن میں نرمی تو کر دی گئی مگر سماجی دوری سمیت کئی پابندیاں ابھی برقرار ہیں۔

    جرمنی کے شہر ہیڈلبرگ سے پاکستانی طالب علم مدثر قاضی بتا رہے ہیں کہ وہاں زندگی کا پہیہ اب کیسے چل رہا ہے۔

  6. مائیک پومپیو: چین ووہان کی لیبز تک رسائی دے

    مائیک پومپیو: چین ووہان کی لیبز تک رسائی دے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر چین سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کے شہر ووہان میں موجود وائرالوجی لیبز تک دنیا کو رسائی دی جائے تاکہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ سمجھا جاسکے۔

    ’دنیا یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ کووڈ 19 کی وبا کیسے شروع ہوئی اور بیجنگ پر لازم ہے کہ وہ شفاف طریقہ اپنائے۔‘

    امریکہ اس سے قبل چین سے کورونا وائرس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرچکا ہے اور چین پر یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ ابتدائی طور پر اس نے وائرس کے پھیلاؤ کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔

    تاہم چین نے اس الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

    مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ’وہاں متعدی پیتھوجینز کی کئی لیبز ہیں جہاں اب بھی کام جاری ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہاں ایسی سکیورٹی میں کام کیا جاتا ہے کہ ایسا دوبارہ ہونے سے روکا جاسکے۔‘

  7. کورونا: وبا ’نقد رقم کے استعمال میں کمی کو مزید تیز کر دے گی‘

  8. برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ

  9. کینیڈا: ماہ رمضان کے دوران نماز کے اجتماع پر پابندی

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی وبا کے باعث کینیڈا کی مساجد میں نماز کے اجتماع پر پابندی ہے۔

    مقامی حکومت نے کینیڈا کے شہروں ٹورنٹو، سکاربورو اور مارکھم کی مساجد میں صرف دوران رمضان اذان مغرب بذریعہ لاوڈ سپیکر دینے کی اجازت دی ہے۔

    ایسا کینیڈا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ ان مساجد کے چاروں طرف لاوڈ سپیکر لگائے گئے ہیں جس سے اذان کی آواز دور دور تک سنی جا سکتی ہے۔

  10. یورپ: اٹلی کے بعد برطانیہ میں سب سے زیادہ اموات

    یورپ: اٹلی کے بعد برطانیہ میں سب سے زیادہ اموات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات ان ممالک میں پیش آئی ہیں:

    اٹلی 27,682

    برطانیہ 26,097

    سپین 24,275

    فرانس 24,087

  11. کورونا وائرس کا علاج ڈھونڈنے کی دوڑ, جیمز گلیگر، نمائندہ برائے سائنس و صحت

    کورونا وائرس کا علاج ڈھونڈنے کی دوڑ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا کورونا وائرس کا علاج مل گیا ہے؟ اس کا جواب شاید میں دیا جاسکتا ہے۔

    ادویات کی کمپنی جیلیڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی دوا رمڈسور سے کورونا کا علاج ممکن ہے۔ لیکن انھوں نے اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں دیے۔

    یہ ایک اینٹی وائرس دوا ہے جسے ابتدائی طور پر ایبولا کے علاج کے لیے بنایا گیا تھا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں وبائی امراض کے ادارے کی آزمائش سے ’مثبت نتائج‘ ملے ہیں اور تحقیق اپنے اختتام پر پہنچ گئی ہے۔

    تاہم اب تک ہم یہ نہیں جانتے کہ ان کے دعوے میں کتنی سچائی ہے اور یہ دوا کتنی شدت سے کورونا کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

    صرف یہ ثبوت ملا ہے کہ یہ دوا صرف تب زیادہ مؤثر ہے جب اسے جلدی استعمال کیا جائے۔

    کمپنی نے کہا ہے کہ ’62 فیصد مریض اس کے جلدی استعمال سے ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے اور اس کے مقابلے 49 فیصد ایسے مریض ڈسچارج ہوئے جن کا علاج کچھ دیر بعد اس سے کیا گیا۔‘

    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دوا سے صحتیابی کی شرح میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ لاک ڈاؤن کی کامیابی کی وجہ سے مریضوں کی تعداد کم تھی۔

    ہمیں امریکہ کی طرف سے ملنی والی مکمل معلومات کا انتظار کرنا ہوگا۔

  12. پنجاب میں کورونا وائرس کے ٹیسٹوں میں کمی کی وجہ کیا ہے؟

  13. یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی زیر غور

    یورپ میں لاک ڈاؤن میں نرمی زیر غور

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یورپ میں سفری پابندیاں اور لاک ڈاؤن جاری ہیں۔ براعظم میں مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی زیر غور ہے۔

    لیکن حکومتیں اب بھی لوگوں کی نقل و حرکت محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    ہوائی سفر اور سیاحت کی صنعتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ مقامی حکام اس حوالے سے منصوبے بنا رہے ہیں کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں حالات کیسے قابو میں رکھے جائیں گے۔

    ماہر ماحولیات وائرس کی روک تھام کے لیے سپین میں کیے جانے والے اقدامات سے خوش نہیں ہیں۔ سپین میں حکام نے ایک ساحل سمندر پر بلیچ کا سپرے کرنے کے بعد معافی مانگی ہے۔ انھوں نے ایسا کورونا وائرس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا تھا۔ ملک میں اب تک کورونا وائرس سے 23 ہزار 800 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد دو لاکھ 32 ہزار سے زیادہ ہے۔

    اٹلی میں متاثرین کی تعداد 201,505 جبکہ فرانس میں 169,053 ہے۔ دونوں ممالک امریکہ اور سپین کے بعد وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

  14. امریکہ کی تازہ صورتحال

    امریکہ کی تازہ صورتحال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اس وقت کورونا وائرس کے کل مصدقہ متاثرین کی تعداد 1,014,568 ہے اور منگل کو یہ تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

    اب تک کم از کم 58 ہزار 471 افراد کووڈ 19 سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکی ریاستوں جورجیا اور اوکلاہوما میں لاک ڈاؤن کے بعد اب کاروبار کھولنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    کیلیفورنیا میں بھی ’گھر پر رہنے‘ کی ہدایت کے باوجود مقامی حکام نے کچھ ساحل سمندر کھولنے کی حمایت کی ہے۔

    امریکی معاشی پیداوار میں سال کے شروع کے 3 ماہ میں 4.8 کی کمی واقع ہوئی ہے۔

  15. نوبل انعام یافتہ جاپانی سائنسدان نے یہ نہیں کہا کہ وائرس انسان نے بنایا, ریئلٹی چیک

    نوبل انعام یافتہ جاپانی سائنسدان نے یہ نہیں کہا کہ وائرس انسان نے بنایا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نوبل انعام یافتہ جاپانی سائنسدان سے ایک بیان منسوب کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے شاید یہ کہا ہے کہ کورونا وائرس ووہان میں ایک چینی لیب میں انسانوں نے بنایا۔ یہ غلط معلومات ہے کیونکہ انھوں نے ایسا ہرگز نہیں کہا۔

    تاسوکو ہونجو کے نام سے اس بیان کو غلط انداز میں واٹس ایپ، فیس بک اور ٹوئٹر پر مختلف زبانوں میں پھیلایا جا رہا ہے۔

    پروفیسر ہونجو نے 2018 میں فزیکس یا میڈیسن میں نوبل انعام جیتا تھا۔

    کویوتو یونیورسٹی میں جاری ہونے والے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس غلط بیانی سے وہ کافی پریشان ہوئے ہیں کہ ان کے نام سے جھوٹ پر مبنی خبر چلائی جا رہی ہے۔

    ’اس موقع پر ہمیں بیمار افراد کی صحتیابی پر محنت کرنی چاہیے اور دُکھ ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک نئے آغاز کی طرف دیکھنا ہے۔ بیماری کی بنیاد کے حوالے سے ایسے غلط دعوؤں کو نشر کرنے سے ہم اس وبا سے خطرناک طریقے سے دھیان ہٹا رہے ہیں۔‘

    سازشی نظریات کو فروغ دینے والوں نے شروع سے اس خیال کو اپنایا ہے کہ وائرس انسانوں نے بنایا۔ یہ نظریہ سوشل میڈیا پر کئی جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس نظریے کو اکثر سائنسدانوں نے یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ کورونا وائرس کا جائزہ لینے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں میں داخل ہوا۔

  16. برطانیہ میں اموات کی تعداد 26,097 ہوگئی

    برطانیہ کی صورتحال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں 2 مارچ سے 28 اپریل تک کورونا سے 26,097 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ان اعداد و شمار میں کیئر ہومز اور ہسپتالوں میں مرنے والے افراد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

    یہ وہ اموات ہیں جن میں مرنے والوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

    محکمہ صحت انگلینڈ نے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے آغاز سے خطے میں 3811 اضافی اموات کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے 70 فیصد ہسپتالوں کے باہر اور 30 فیصد ان کے اندر پیش آئی ہیں۔

    سیکرٹری ڈامنک راب نے کہا ہے کہ تب تک لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں کی جائے گی جب تک وائرس کی منتقی کی دوسری لہر سے بچا نہیں جاتا۔

    ملک میں 52,429 ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت ہیدا ہوچکی ہے جبکہ ایک لاکھ کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    کل متاثرین کی تعداد 162,350 بتائی جا رہی ہے۔

  17. لاک ڈاؤن نے چائے کی طلب بڑھا دی

    لاک ڈاؤن نے چائے کی طلب بڑھا دی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں ہر روز لاکھوں افراد چائے سے اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں۔ لیکن اب کورونا وائرس کی وجہ سے جاری عالمی لاک ڈاؤن نے اس کی طلب مزید بڑھا دی ہے۔

    وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نقل و حرکت اور تجارت محدود ہوگئی ہے اور یہ سلسلہ چائے کی پیکنگ اور اس کی ترسیل میں ایک ماہ کی تاخیر کا باعث بنا ہے۔ اس سے کچھ جگہوں پر چائے کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    چائے کی عالمی برآمد میں چین، انڈیا، کینیا، سری لنکا اور ویتنام بڑے ممالک سمجھے جاتے ہیں جو دنیا بھر میں 82 فیصد چائے پہنچاتے ہیں۔

    انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ سال 2020 کے دوران انڈیا کی چائے کی پیداوار میں 9 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ کٹائی کے موسم میں لاک ڈاؤن اور صنعتی سرگرمیوں کی معطلی کی وجہ سے ہوا۔

    خام چائے، جسے روس درآمد کرتا ہے، کی طلب میں لاک ڈاؤن سے پہلے کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایسی غلط معلومات بھی پھیل رہی ہے جس کے مطابق چائے پینے سے کورونا وائرس سے بچاؤ ممکن ہوسکتا ہے۔

  18. الزامات اور مقدمات کے بعد کیا تبلیغی جماعت اب مسیحا کہلائے گی؟

  19. گنی بساؤ کے وزیر اعظم میں کورونا کی تشخیص

    گنی بساؤ کے وزیر اعظم میں کورونا کی تشخیص

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گنی بساؤ کے وزیر اعظم نونو گومس اور ان کی کابینہ کے تین وزرا میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    محکمہ صحت کے بیان کے مطابق انھیں دارالحکومت بساؤ کے ایک ہوٹل میں قرنطینہ کیا گیا ہے اور ایسا ان کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا گیا۔

    مغربی افریقہ کے اس ملک میں 70 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے لیکن وزیر صحت کے مطابق وائرس کی منتقلی کی شرح بڑھ سکتی ہے۔

  20. جرمنی نے سفری پابندی میں توسیع کردی

    جرمنی نے سفری پابندیوں کی توسیع کردی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی نے غیر ضروری بین الاقوامی سفر پر پابندی کے حکم کی توسیع 14 جون تک کر دی ہے جس کے بعد کورونا وائرس کی وجہ سے موجودہ سفری پابندیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    اس موقع پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کووڈ 19 کی عالمی وبا کے خطرے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اس لیے 3 مئی تک جاری رہنے والی سفری پابندی کی توسیع کردی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ امید کی جاسکتی ہے کہ 14 جون کے بعد ملک کو اس سفری تنبیہ کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں اس وقت کووڈ 19 کے 159,912 متاثرین ہیں جبکہ 6,314 اموات ہوچکی ہیں۔