برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ جبکہ اموات کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’وبا کے عروج سے گزر چکا ہے‘۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: متاثرہ شخص سے رابطے کا سراغ لگانے والی ایپس کتنی موثر ہیں؟

    covid

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا اور سنگاپورمیں پہلے ہی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے کا سراغ لگانے والی ایپس موجود ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ برطانیہ میں بھی ہفتوں کے اندر اندر ایک ایپ آ جائے۔

    یہ ایپس کسی صارف کے مقام کا سراغ لگاتی ہیں۔ پھر کسی متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آنے کی صورت میں، صارف کو آگاہ کیا جاتا ہے۔

    آسٹریلیا میں حکومت نے اپنے شہریوں سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا کہنا ہے۔

    اگر آپ لاک ڈاؤن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو یہ ایپ لاک ڈاؤن سے باہرجانے والا ٹکٹ ہے- اب تک تقریباً تیس لاکھ افراد اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔

    لیکن سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ ان ایپس سے متعلق رازداری جیسے خدشات برقرار ہیں۔

    پروفیسر جیمز کربٹری کہتے ہیں ’لیکن اہم سوال ہے کہ ڈیٹا کو کس طرح محفوظ کیا جائے گا، اسے کہاں محفوظ کیا جائے گا اور اسے کب تک استعمال کیا جائے گا؟‘

    وہ کہتے ہیں’ خیال یہی ہے کہ انھیں صرف متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ لیکن کسی دوسرے مقصد کے لیے ان ایپس کے استعمال کا خطر ہ موجود ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایسی ایپس کی بھی حدود ہیں۔

    بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’تصور کریں آپ کسی کیفے میں بیٹھے ہوئے ہیں، آپ میز پر وائرس چھوڑ دیتے ہیں اور ایک گھنٹے بعد کوئی دوسرا آتا ہے اور اسے یہ وائرس لگ جاتا ہے۔ ایپ آپ کو یہ معلومات نہیں بتا پائے گی۔‘

    ’خطرہ یہ ہے کہ یہ ایپ لوگوں کو اعتماد کا غلط احساس دلاتی ہے۔ یہ آپ کے مسائل کا جادوئی حل نہیں ہے۔‘

  2. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں؟

  3. کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟

    کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جاننے کے لیے دیکھیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  4. لاک ڈاؤن کے باعث جانوروں کے غیر قانونی شکار میں اضافے کا خدشہ

    pangolin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنگلی حیات کی زندگی پر نظر رکھنے والے ایک بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی نسلوں کے لیے خطرہ دوبارہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ حکام کی ساری توجہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے اقدامات پر عمل درآمد کی طرف مڑ چکی ہے۔

    ادارے نے سرحدوں کی بندش کے بعد ہاتھی دانتوں اور جانوروں سے بنائی جانے والی دیگر مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    وائلڈ لائف جسٹس کمیشن (ڈبلیو جے سی) کا کہنا ہے کہ چین میں جنگلی جانوروں کی فروخت پر پابندی کے باعث جنوب مشرقی ایشیا میں پینگولن سکیلز اور ہاتھی دانت سمگل کرنے والے نیٹ ورک کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ وبا کے باعث جرائم پیشہ گروہ سرحدوں پر نگرانی کے سخت نطام اپنا رہے ہیں۔

    ڈبلیو جے سی کے کارکنان جو اکثر خفیہ طور کام کرتے ہیں، نے کمبوڈیا ، ویتنام اور لاؤس میں ہاتھی دانتوں کے بڑے ذخیرے کی اطلاع دی ہے۔

    ڈبلیو جے سی کا کہنا ہے کہ صرف ویتنام میں سمگلروں کو 22 ٹن سے زیادہ پینگوئن سکیلز تک رسائی حاصل ہے۔

    پنگولین معدومی کے خطرے سے دوچار جانور ہے اور اس کرہ ارض پر سب سے زیادہ سمگل شدہ جانوروں میں اس کا شمار کیا جاتا ہے۔

    بہت سے ایشیائی ممالک میں اسے بطور دوا ایک بہت قیمتی جانور سمجھا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ایشیا میں پینگولن سکیلز کی تجارت کی مالیت کئی ارب ڈالر تک ہے۔

  5. چین: ملتوی کیا گیا پارلیمانی اجلاس جلد منعقد ہونے کی توقع, جان سڈورتھ ، بیجنگ سے بی بی سی کے نمائندے

    China

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملتوی کیا گیا سالانہ پارلیمانی اجلاس اگلے مہینے کے آخر میں منعقد کیا جائے گا۔

    چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ صرف برائے نام پارلیمان ہے لیکن پھر بھی کمیونسٹ پارٹی کی پہچان اور ملک کی پالیسیوں میں اہم تبدیلیاں لانے والے فورم کے طور پر اس کی اہمیت اب بھی قائم ہے۔

    اگر فروری میں اس اجلاس کو ملتوی کرنے کا اعلان اس بات کی علامت تھا کہ یہ وبا کتنی سنگین تھی تو اب اسے منعقد کرنے کا اعلان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکام کے خیال میں حالات کنٹرول میں ہیں۔

    لیکن عام طور پر اس موقع پر پورے چین سے 3000 مندوبین بیجنگ آتے ہیں۔ اتنے بڑے افراد کے اجتماع سے انفیکشن کا اندیشہ ہے اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کچھ لوگوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہونے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔

    ووہان سے پھیلنے والی وبا کے بارے میں صحیح معلومات اور اعدادوشمار نہ دینے پر چین کو الزامات کا سامنا ہے۔ لیکن اس کے بعد لگائے گئے سخت اقدامات اور بڑے پیمانے پر معاشرتی فاصلے پر عمل درآمد نے انفیکشن کی تعداد کو ڈرامائی طور پر کم کردیا ہے۔

  6. نیو یارک کے میئر کی یہودیوں کے جنازوں کے اجتماعات پر تنقید

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیویارک کے میئر بل ڈی بلیسو نے کورونا وائرس سے مرنے والے ایک یہودی ربیع کے جنازے میں سینکڑوں افراد کے جمع ہونے کے بعد، شہر میں رہنے والے ہسیدک فرقے کے چند افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ڈی بلیسیو خود جائے وقوع پرپہنچ گئے تھے۔

    ٹویٹر پر اس طرح کے اجتماعات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انھوں نے خبردار کیا کہ یہ واقعہ مزید ہلاکتوں کا سبب بن سکتا ہے۔

    نیو یارک شہر کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہاں اب تک 17000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ڈی بلیسو کا کہنا تھا کہ انھوں نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ بڑے گروپوں میں جمع ہونے والے افراد کو پولیس سٹیشن بلائیں یا انھیں گرفتار کر لیں۔

    میئر کے تبصروں پر آن لائن خاصی تنقید کی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. انڈیا میں پھنسے برطانوی شہریوں کو لگتا ہے ’انھیں بھلا دیا گیا ہے‘, ڈیوڈ پٹٹم، بی بی سی نیوز

    ا

    ،تصویر کا ذریعہAMANPAL MANN

    برطانیہ کے دفتر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ ہزاروں برطانوی شہری جن میں سے بیشتر بزرگ ہیں، انڈیا میں لاک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد بھی وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔

    ان میں سے کچھ افراد کے پاس ادوایات ختم ہو چکی ہیں لیکن تشدد کی خبروں کے بعد وہ باہر جانے سے خوفزدہ ہیں۔

    ان برطانوی شہریوں کے رشتہ داروں اور اراکین پارلیمنٹ نے انھیں واپس لانے کے لیے فوری طور پر زیادہ سے زیادہ پروازیں چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    برطانوی حکام کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کی واپسی کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

  8. پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت

  9. مردہ قرار دی جانے والی خاتون کی اپنے گھر واپسی

  10. پولینڈ: متاثرین میں مسلسل اضافے کے باوجود گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوٹل کھلے رکھنے کا فیصلہ

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پولینڈ کے حکومتی ترجمان پیوتر مولر نے بدھ کے روز سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ پولینڈ کے ہوٹل گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے کھلے رہیں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

    بدھ کے روز پولینڈ کی حکومت چند ایسے کاروبار کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان کرنے والی ہے جو کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک بند تھے۔

    عام طور پر پولینڈ میں موسم گرما کی تعطیلات جولائی اور اگست کے درمیان ہوتی ہیں تاہم ابھی یہ پوری طرح سے واضح نہیں ہے کہ رواں سال بھی ایسا ہی ہوگا۔

    حکومت نے سکولوں کی بندش میں 24 مئی تک توسیع کردی ہے۔

  11. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  12. بریکنگ, انڈیا میں کورونا سے 1000 سے زیادہ ہلاکتیں, ایک دن میں ہلاکتوں کا نیا ریکارڈ

    انڈین حکام کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹے میں 73 افراد کی ہلاکت کے بعد کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 1007 تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ وبا پھیلنے کے بعد انڈیا میں ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق اب تک ملک میں 31 ہزار سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    انڈیا میں گذشتہ 10 دن میں کورونا کے متاثرین اور اس سے ہونے والی اموات کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔

    انڈین حکومت نے منگل کو کہا تھا کہ کورونا کے علاج کے لیے متاثرین کے پلازما کے استعمال کا تجربہ کیا جا رہا ہے تاہم یہ تجربہ کسی مریض کے لیے ’جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے‘۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. ترکی: کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 2992 ہوگئی

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    منگل کو ترکی کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 سے مرنے والوں کی تعداد میں 92 افراد کا اضافہ ہوا جس سے مجموعی تعداد 2992 ہوگئی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں 2392 کا اضافہ ہوا، اس طرح کل تعداد 114653 ہوگئی ہے جو مغربی یورپ یا امریکہ سے باہر متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    گذشتہ روز ترکی نے حفاظتی لباس اور ماسک سمیت دیگر طبی سامان کی کھیپ امریکہ روانہ کی تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں امریکہ کی مدد کی جا سکے گی۔

    منگل کو ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ترکی کی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ مئی کے آخر میں معیشت کی بحالی کا آغاز کرنے سے قبل کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پا کر انفیکشن کی دوسری لہر کے خطرے کو کم سے کم کرنا ہے۔

  14. ڈیوڈ وارنر: ’انگلینڈ کے دورے کا امکان بہت کم ہے‘

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادرے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیائی بیٹسمین ڈیوڈ وارنر کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ان کی ٹیم کے دورہِ انگلینڈ کے امکانات بہت کم ہیں۔

    رواں برس جولائی میں آسٹریلیائی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنا تھے۔ حالانکہ انگلش کنٹری کرکٹ سیزن میں ہونے والی تبدیلیوں نے یہ ناممکن بنا دیا ہے۔

    ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ اس دورے میں ستمبر تک تاخیر ہوسکتی ہے لیکن وارنر کا ماننا ہے کہ ایسا ہونے کے امکانات کم ہیں۔

    کرکٹ ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے وارنر کا کہنا تھا ’اس وقت انگلینڈ کے حالات کے پیشِ نظر ہمارے دورے کا امکان بہت کم ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن میں کووڈ 19 کی تشخیص، میزبان ملک میں صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

    آسٹریلیائی ٹیم پہلے ہی جون میں دو ٹیسٹ میچوں کے لیے بنگلہ دیش کا دورہ منسوخ کرچکی ہے اور زمبابوے کے خلاف محدود اوورز کی ہوم سیریز کے بارے میں بھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

    رواں برس آسٹریلیا اکتوبرسے نومبر تک ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا ہے جس کے متعلق بین الاقوامی اے ایف پی کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔‘

  15. ملاوی: وائرس سے شدید متاثرہ گھرانوں کو نقد رقم فراہم کی جائے گی

    م

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ملاوی کے صدر پیٹر متھاریکا نے کووڈ 19 سے شدید متاثرہ افراد کے لیے ہنگامی طور پر نقد رقم کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

    متاثرہ گھرانوں کو مئی سے 35000 ملاویان کوچا (47 ڈالر) تک کی ماہانہ ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔

    یہ اعلان ملاوی میں ہائیکورٹ کی طرف سے ایک حکم میں توسیع کے بعد سامنے آیا ہے جس میں حکومت کو تین ہفتوں کے مکمل لاک ڈاؤن سے روکا گیا ہے۔

    انسانی حقوق کے گروپوں نے تشویش ظاہر کی تھی کہ غریب لوگ اس سے بری طرح متاثر ہوں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں رہے گا۔

    ملاوی میں اب تک کورونا وائرس کے 36 متاثرین اور تین اموات ہو چکی ہیں۔

  16. دنیا بھر کی سنسان سڑکیں

    دنیا بھر کے بڑے شہروں میں تقریباً ہر طرف یہی منظر ہے۔ وہ سڑکیں اور گلیاں جو کبھی لوگوں اور گاڑیوں کے رش سے بھری ہوتیں تھیں، اب بالکل سنسان نظر آتی ہیں۔

    ہاں بس کبھی کبھار کوئی اکا دکا شخص ان سڑکوں سے گزرتا نظر آجاتا ہے۔

    k

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنٹوکیو میں شنجوکو کا یہ علاقہ جو عام دنوں میں رش سے بھرا نظر آتا ہے، بالکل ویران ہے
    k

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجاپان کے مشہور شاپنگ اضلاع میں سے ایک، گینزا بھی اسی طرح سنسان ہے
    k

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی شہر لاس اینجلس بھی ویران پڑا ہے
    k

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنترکی کا دارالحکومت انقرہ بھی بالکل خاموش ہے
  17. کورونا وائرس: جرمنی میں مزید 202 اموات

    کوورنا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے نتیجے میں مزید 202 اموات ریکارڈ کی گئیں اور 1304 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    ملک میں اب تک کووڈ-19 کے متاثرین کی تعداد 157000 سے زیادہ ہے جبکہ مجموعی اموات 6115 ہیں جو بیشتر بڑے یورپی ہمسایہ ممالک سے کہیں کم ہیں۔

  18. کورونا وائرس: آسٹریلیا میں جلد ہی پابندیاں اٹھائے جانے کا امکان

    Australia

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکام 11 مئی سے معاشرتی پابندیوں کو کم کرنے پر غور کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا ’جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کچھ ریاستوں سے پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ اور وہ وقت دور نہیں جب باقی ریاستوں میں بھی آپ ایسا ہوتے دیکھیں گے۔‘

    نیو ساؤتھ ویلز، ویسٹرن آسٹریلیا، کوئینز لینڈ اور جنوبی آسٹریلیا میں کچھ حد تک پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے۔

    سکاٹ موریسن نے لاکھوں آسٹریلیائی عوام سے وائرس ٹریسنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا کہا ہے- انھوں نے ایپ کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کا ٹکٹ قراردیتے ہوئے کہا ’ایپ کا جتنا زیادہ پیمانے پر استعمال کیا جائے گا اتنی جلدی معمول کی طرف لوٹنا ممکن ہو گا۔‘

    انھوں نے ان 2.8 ملین آسٹریلیائی باشندوں کی تعریف کی جنھوں نے اتوار کی رات کووڈ سیف ایپ ڈاؤن لوڈ کر لی تھی لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا ’میں باقی رہ جانے والے لاکھوں اور کروڑوں سے بھی ایسا کرنے کو کہوں گا۔‘

    تاہم موریسن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کھیلوں کے میچ اور گرجا گھروں میں عبادت کی اجازت ملنے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’میں اس وقت کا منتظر ہوں جہاں آسٹریلیائی باشندے ایک ریستوران یا کیفے یا پب میں دوبارہ کھانے کے لیے بیٹھ سکیں گے۔‘

    ’لیکن کچھ عرصے تک کھیلوں کے میچ اور بڑی تقریبات ہونا ممکن نہیں ہو سکے گا۔‘

  19. کورونا وائرس: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چین میں ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا

    china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین نے 28 اپریل کو کورونا وائرس سے متعلقہ کوئی نئی اموات رپورٹ نہیں ہوئیں۔

    تاہم نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ منگل کے روز 22 نئے انفیکشن سامنے آئے جن میں ایک کے علاوہ باقی سب بیرونی ممالک سے آئے ہیں۔

    چین میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بدستور 4633 ہے۔

  20. اتنے امریکی ویتنام جنگ میں نہیں مرے جتنے کورونا وائرس کا شکار بن گئے, پیٹر بوس، شمالی امریکہ سے بی بی سی کے نمائندے

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تقریباً 1955-1975 تک جاری رہنے والی ویتنام جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 58220 امریکیوں کے مقابلے میں، حالیہ چند ہی مہینوں کے دروان کورونا وائرس کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے میڈیکل ایڈوائزر میں سے ایک ڈاکٹر انتھونی فوکی نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا ختم ہونے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر محققین کوئی موثرعلاج تلاش کرنے میں ناکام رہے تو ملک کو بہت برے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ڈاکٹر فوکی نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ وائرس واپس آئے گا بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ گرمیوں کے دوران یہ بالکل ختم نہ ہو۔