کورونا وائرس: متاثرہ شخص سے رابطے کا سراغ لگانے والی ایپس کتنی موثر ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا اور سنگاپورمیں پہلے ہی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے کا سراغ لگانے والی ایپس موجود ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ برطانیہ میں بھی ہفتوں کے اندر اندر ایک ایپ آ جائے۔
یہ ایپس کسی صارف کے مقام کا سراغ لگاتی ہیں۔ پھر کسی متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آنے کی صورت میں، صارف کو آگاہ کیا جاتا ہے۔
آسٹریلیا میں حکومت نے اپنے شہریوں سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا کہنا ہے۔
اگر آپ لاک ڈاؤن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو یہ ایپ لاک ڈاؤن سے باہرجانے والا ٹکٹ ہے- اب تک تقریباً تیس لاکھ افراد اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔
لیکن سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ ان ایپس سے متعلق رازداری جیسے خدشات برقرار ہیں۔
پروفیسر جیمز کربٹری کہتے ہیں ’لیکن اہم سوال ہے کہ ڈیٹا کو کس طرح محفوظ کیا جائے گا، اسے کہاں محفوظ کیا جائے گا اور اسے کب تک استعمال کیا جائے گا؟‘
وہ کہتے ہیں’ خیال یہی ہے کہ انھیں صرف متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ لیکن کسی دوسرے مقصد کے لیے ان ایپس کے استعمال کا خطر ہ موجود ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایسی ایپس کی بھی حدود ہیں۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’تصور کریں آپ کسی کیفے میں بیٹھے ہوئے ہیں، آپ میز پر وائرس چھوڑ دیتے ہیں اور ایک گھنٹے بعد کوئی دوسرا آتا ہے اور اسے یہ وائرس لگ جاتا ہے۔ ایپ آپ کو یہ معلومات نہیں بتا پائے گی۔‘
’خطرہ یہ ہے کہ یہ ایپ لوگوں کو اعتماد کا غلط احساس دلاتی ہے۔ یہ آپ کے مسائل کا جادوئی حل نہیں ہے۔‘

















