برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ جبکہ اموات کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’وبا کے عروج سے گزر چکا ہے‘۔

لائیو کوریج

  1. سرحدی پابندیوں کی وجہ سے آسٹرین وادی دنیا سے ’کٹ کر رہ گئی‘, بیتھنی بیل، بی بی سی نیوز، ویانا

    مغربی آسٹریئن ایلپس میں واقع  کلین والسرٹل نامی علاقہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریا میں دور دراز واقع ایک الپائن وادی میں جس کی سرحد جرمنی کے ساتھ ملتی ہے تقریباً 2 ہزار افراد اپیل کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان لگی سرحدی پابندیوں کو ختم کیا جائے۔

    مغربی آسٹریئن ایلپس میں واقع کلین والسرٹل نامی علاقے میں صرف جرمنی سے سڑک کے ذریعے ہی جایا جا سکتا ہے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب سے کورونا وائرس کی وجہ سے سرحدی پابندیاں لگائی گئی ہیں یہ علاقہ باقی سارے آسٹریا سے کٹ گیا ہے۔

    آسٹریا اور جرمنی کے وزرائے داخلہ کو بھیجی گئی ایک آن لائن پیٹیشن میں کہا گیا ہے کہ کلین والسرٹل کے کسی بھی رہائشی کا کووڈ۔19 کا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا ہے۔ کلین والسرٹل کی ویب سائٹ کے مطابق صرف اہم ورکرز اور مسافروں کو یا انتہائی طبی یا تجارتی وجہ سے ہی آمد و رفت کی اجازت ہے۔

    نقشہ
  2. بریکنگ, کورونا وائرس: انگلینڈ میں مزید 391 ہلاکتیں

    انگلینڈ کے صحت سے متعلق ادارے این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب مزید 391 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    اس کے بعد انگلینڈ کے ہسپتالوں میں وائرس کے سبب مصدقہ ہلاکتوں کی تعداد 20131 ہو گئی ہے۔

    پورے برطانیہ میں وبا سے متعلق تازہ تفصیلات ابھی کچھ دیر تک سامنے آئیں گی۔

  3. ڈنمارک: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی نہیں آئی

    ڈنمارک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈنمارک میں رواں ماہ کے اوائل سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی نہیں آئی ہے۔

    ڈنمارک کے سٹیٹ سیرم انسٹیٹیوٹ کے مطابق ایک شخص سے دوسروں کو وائرس منتقل ہونے کے تناسب کے مطابق وسطی اپریل سے اس کی شرح 1.0 سے نیچے ہی رہی ہے۔

    یہ ادارہ متعددی بیماریوں کے خلاف تیاری کا ذمہ دار ہے۔

    تاہم ادارے کا کہنا تھا کہ ’ایسے آثار نہیں ملے کہ کووڈ 19 تیزی سے پھیل رہا ہو۔‘

    اسی اثنا میں جرمنی نے نے پابندیوں میں نرمی کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ بھی وائرس کی پھیلاؤ کی شرح ایک سے نیچے لانے کی کوشش میں ںہیں۔

    مارچ کے آعاز میں جرمنی میں یہ شرح تین تھی تاہم اپریل کے وسط تک یہ ایک سے نیچے آگئی۔ پیر کی شام تک یہ ایک بار پھر بڑھ کر دوبارہ ایک تک آگئی۔ اس وقت یہ 0.76 ہے۔

  4. ٹیسٹنگ سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟, ریالٹی چیک

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کی وبا پر اپنی انتظامیہ کا دفاع جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ’سب ممالک کو ملا کر بھی ان سے زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں۔‘

    لیکن کیا یہ درست ہے؟

    تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق امریکہ نے کل 60 لاکھ 26 ہزار 170 ٹیسٹ کیے ہیں۔ یہ اس کے کہیں قریب بھی نہیں ہیں جتنے کہ پوری دنیا نے مل کے کیے ہیں۔

    اگر صرف سپین، اٹلی، جرمنی اور برطانیہ کے ٹیسٹ ہی دیکھیں تو وہ امریکہ سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

    امریکہ نے کسی بھی ملک سے زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں، لیکن اس کی دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ آبادی بھی ہے، اور اب بھی یہ فی کس کے حساب سے دوسرے کئی اہم ممالک سے بہت پیچھے ہے۔

    مارچ میں وائٹ ہاؤس نے اعتراف کیا تھا کہ ملک کے پاس مناسب حساب سے ٹیسٹنگ کٹس نہیں ہیں، لیکن اس کے بعد سے امریکہ نے ٹیسٹنگ میں اضافہ کر دیا ہے اور اپریل کے آغاز سے لے کر اب تک اس میں تقریباً چھ گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

  5. برٹش ایئر ویز شاید گیٹ وِک پر آپریشنز بحال نہ کرے

    گیٹوک ایئر پورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئر ویز نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد بھی شاید گیٹ وک کے ہوائی اڈے پر اس کے آپریشنز بحال نہ کیے جائیں۔

    یہ اعتراف برٹس ائیر ویز کے سربراہ کی جانب سے ایک یادشت میں لکھا گیا۔

    برٹس ائیر ویزگیٹ وک آپریشنز جو اس وقت معطل ہیں۔ یہاں سے 70 مختلف منزلوں کی جانب سے پروازیں جاتی ہیں۔

    ایک دوسرے خط میں برٹش ایئر ویز کا کہنا تھا کہ وہ ہیتھرو ائیر پورٹ پر بھی اپنے آپریشنز کو معطل کرنے کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے 4300 پائلٹس کی ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے۔

  6. بریکنگ, شمالی آئرلینڈ میں مزید نو افراد ہلاک

    شمالی آئر لینڈ میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتالوں میں مزید نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وہاں ہونے والی مجموعی ہلاکتیں اب 347 ہو گئی ہیں۔

    شمالی آئر لینڈ کے وزیر صحت رابن سوان کا کہنا ہے کہ ’قوم اس وقت خنجر کی دھار پر ہے`

    اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں کے اندر رہیں۔

  7. 2020 میں وبا کے دوران ہونے والا ایک باکسنگ میچ

    حیران کن طور پر نکاراگوا میں گذشتہ ویک اینڈ پر ایک باکسنگ میچ ہوا۔ ملک میں لاک ڈاون ہوا ہے اور نہ سماجی دوری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    فوٹوگرافر کارلوس ہریرا نے عالمی سطح پر غیر معروف باکسرز کے اس میچ کی تصاویر لی ہیں جسے لاطینی امریکہ میں ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

    باکسنگ میچ

    ،تصویر کا ذریعہCarlos Herrera

    باکسنگ میچ

    ،تصویر کا ذریعہCarlos Herrera

    باکسنگ میچ

    ،تصویر کا ذریعہCarlos Herrera

  8. وبا کی وجہ سے کاربن کے اخراج پر کیسے فرق پڑ رہا ہے؟, راجر ہرابن، ماحویات کے نامہ نگار

    کاربن کا اخراج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کے اقدامات کی وجہ سے اس سال عالمی طور پر کاربن کے اخراج میں آٹھ فیصد تک ریکارڈ کمی کا امکان ہے۔

    انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے اندازوں کے مطابق یہ کمی 2008 میں کساد بازاری کے دوران آنے والی ریکارڈ کمی سے چھ گنا زیادہ ہے۔

    ایجنسی کے مطابق یہ ایک دہائی میں کاربن کے اخراج کی سب سے کم سطح ہو گی۔ سفر اور کاروبار پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے آلودگی کم ہوئی ہے۔ لیکن ایجنسی کہتی ہے کہ ’اتنی خوشی کی بھی بات نہیں ہے‘۔

    سائنسدان چاہتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح جلدی سے گرے، لیکن بنا معشیت بند کیے۔

    بجلی کی عالمی طلب کے پانچ فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے، جو کہ 1930 کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ توانائی کی کمپنیوں کی تباہی میں صرف قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع ہی تھوڑا بہت کاروبار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    آئی ای اے کے مطابق 2020 میں کم کاربن پیدا کرنے والے ذرائع عالمی توانائی کی مارکیٹ کا تقریباً 40 فیصد محیہ کرنے کے قریب ہیں۔

  9. امریکہ: بیروزگار افراد کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ

    ڈیٹا

    گذشتہ ایک ہفتے میں امریکہ میں 38 لاکھ افراد نے بیروگاری کی وجہ سے معاوضے کی درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ گذشتہ 6 ہفتوں میں 3 کروڑ امریکی بیروزگار ہوئے ہیں۔

  10. بورس جانسن: بیماری سے لوٹنے کے بعد کابینہ کے اجلاس کی صدارت

    10 ڈاؤننگ سٹریٹ

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بیماری سے کام پر لوٹنے کے بعد کابینہ کی پہلی میٹگ کی صدارت کی ہے۔

    ان کے ترجمان کے مطابق میٹنگ میں چیف میڈیکل افسر کرس وٹی اور چیف سائنسی مشیر سر پیٹرک والینس کی جانب سے بریفننگ دی گئی کہ کورونا وائرس کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    صحافیوں کے ساتھ بریفنگ میں ترجمان سے یہ بھی پوچا گیا کہ آیا لاک ڈاؤن جون کے آخر تک رہے گا جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی فیصلے پر ’قیاس آرائی‘ نہیں کرنا چاہتے۔

    ’ہمیں حقیقت پسند ہونا ہوگا، ہمیں ایک طویل عرصے تک بہت سے اقدامات کرتے رہنا ہوگا۔‘

    یومیہ ایک لاکھ ٹیسٹ کے ٹارگٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے لیے ’سخت محنت‘ کر رہے ہیں۔

    اس سے پہلے جسٹس سیکرٹری رابرٹ بکلینڈ کہہ چکے ہیں کہ ’شاید‘ یہ ٹارگٹ حاصل نہ کیا جا سکے۔

  11. بریکنگ, ویلز میں مزید 22 اموات

    ویلز میں مزید 22 لوگ ہلاک ہوگئے ہیں اور وہاں اموات کی کل تعداد اب 908 ہوگئی ہے۔

  12. بریکنگ, امریکہ میں 3 کروڑ افراد بیروزگار

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے 38 لاکھ افرد نے بیروگاری کی وجہ سے معاوضے کے لیے درخواستیں دی ہیں جس سے امریکہ میں بیروگار افراد کی تعداد تقریباً 3 کروڑ ہوگئی ہے۔

    ملک کی مختلف ریساتوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے کہ کاروبار کھولے جائیں اور کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے۔

  13. جنوبی افریقہ میں سگریٹ کے فروخت کی اجازت کا فیصلہ واپس

    جنوبی افریقہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی افریقہ نے مئی میں کورونا وائرس کے حوالے سے پابندیوں میں نرمی کے بعد سگریٹ کی فروخت کی اجازت دینے کا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طبی تحفظات کی وجہ سے اس پابندی کوبرقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    دیگر افریقہ ممالک کا کا احوال

    • قرن افریقہ میں بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ اس خطے کو تین گنا خطرہ لاحق ہے کیونکہ یہاں کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل اور سیلاب کا بھی سامنا ہے۔
    • کینیا میں آن لائن صارفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے جہاں وزرات صحت کی جانب سے چائے اور اس کے لوازمات پر 37000 ڈالر کے اخراجات سامنے آئے ہیں جبکہ اس کی نصف رقم اس عملے کے فون کریڈٹ کے لیے استعمال ہوئی جو وائرس کے خلاف لڑائی میں شامل ہیں۔ یہ رقم ورلڈ بینک کی جانب سے وبا کے خلاف ہنگامی ردعمل کے لیے عطیہ کی گئی تھی۔
    • نائجیریا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کہ وہ پیر سے سرکاری دفاتر اور بینکس کھول رہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ صرف صبح چھ سے شام چھ بجے تک چلنے کی اجازت ہو گی۔
  14. کورونا وائرس: دنیا بھر میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ سے تجاوز کر گئی

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ 9 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

    امریکہ 10 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ

    سپین 2 لاکھ 36 ہزار سے زیادہ

    اٹلی 2 لاکھ سے زیادہ

    فرانس ایک لاکھ 66 ہزار 600 سے زیادہ

    برطانیہ ایک لاکھ 66 ہزار 400 سے زیادہ

  15. بریکنگ, سکاٹ لینڈ میں مزید 60 ہلاکتیں

    سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 60 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    تازہ ہلاکتوں کے بعد سکاٹ لینڈ میں اس وبا کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1475 ہو گئی ہے۔

  16. یمن میں کورونا کی وبا پہنچنے پر خدشات میں اضافہ, سبیشچئن اوشر، بی بی سی عرب امور کے ایڈیٹر

    yemen

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمن میں کورونا وائرس کے سبب ہونے والی پہلی دو اموات کے بعد پہلے سے جنگ زدہ ملک میں اس وبا کی تباہی کے حوالےسے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    پہلے سے عرب دنیا کے غیرب ترین ملک میں پانچ سال سے جاری جنگ کے بعد یمن میں اس سے پہلے وبائیں کافی شدت سے پھیلی ہیں خاص طور پر ہیضے کی وبا۔

    عدن شہر کے طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پہلے سے وجود ڈینگی بخار جیسے متعدد بیماریوں کے باعث اول تو اس وائرس کی تشخیص ہی مشکل ہے۔ جبکہ کووڈ 19 کے ٹیسٹ کی سہولت انتہائی محدود ہے۔

    یمن میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک کے داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ لیکن اب خدشہ ہے کہ شاید یہ وائرس وہاں تیزی سے پھیلے۔

    یمن کے لوگوں کے لیے یہ نیا خطرہ پہلے سے ٹوٹے ہوئے ملک کے لیے ایک اور چیلنج ہے۔

  17. صحت اب سیاسی ایجنڈے میں اوّلین ترجیح ہونی چاہیے: ڈبلیو ایچ او

    WHO

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    یورپ کے لیے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر دنیا کورونا وائرس کی مستقبل میں آنے والی لہر کی تباہی سے بچنا چاہتی ہے تو عوامی صحت کو سب سے ترجیحی سیاسی ایجنڈا بنانا ہوگا۔

    ڈاکٹر ہنس کلگی کا کہنا تھا کہ اگر دنیا کے ممالک اس وائرس کی ’دوسری یا تیسری لہر` کے اثرات کو کم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سبق سیکھنا ہوگا اور خاص طور پر اگر اس کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسین بھی دستیاب نہ ہوئی۔

    ڈبلیو ایچ او کی یورپ بریفینگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ایک چیز جو ہم نے مختلف ممالک میں دیکھی وہ یہ تھی کہ کس تیزی کے ساتھ حتیٰ کے بظاہر بہترین نظام صحت بھی اس سے متاثر ہوئے۔‘

    ’لہٰذا اس موقعے پر حاصل ہونے والا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ صحت کو درحقیقت سیاسی ایجنڈے میں سب سے اوپر ہونا چاہیے۔ ‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صحت ہی معیشت کو چلاتی ہے۔ دیکھیں اس وقت صحت کے بغیر کیا حالات ہیں، کوئی معیشت نہیں ہے۔ صحت کے بغیر کوئی قومی سلامتی نہیں ہے۔‘

    ’ہم متحد کوششوں کے بعد ایک بار ہم اس وبا سے نکل آئیں تو یہ وہ سبق ہے جو ہمیں کبھی نہیں بھولنا۔‘

  18. سپین: گھروں میں محصور لوگوں کے لیے مڈریڈ میں چلتا پھرتا سینما

    سینما

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی کے بعد یورپ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک سپین ہے۔ طویل لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کڑی پابندیوں کا حصہ ہے۔

    سپین کے دار الحکومت مڈریڈ میں لوگ اب اپنے گھروں کی بالکونیز میں بیٹھ کر فلمز دیکھ سکیں گے کیونکہ مقامی حکومت نے ان کے لیے ایک چلتا پھرتا سینما بنایا ہے جو ان کے گھروں کے باہر آئے گا۔

    اس سینما میں ایک بڑی سی سکرین ہوگی اور وہ ہر شام کسی نئے محلے میں جائے گا۔ اس طرح لوگ لاک ڈاؤن کے دوران کہیں باہر جائے بغیر گھر کی بالکونی سے فلمیں دیکھ سکیں گے۔

  19. ممبئی: فلمی ستاروں کے پُر آسائش ٹریلر اب خواتین پولیس اہلکاروں کے زیر استعمال

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وجہ سے بالی وڈ کی رونقیں تو ماند پڑ گئی ہیں مگر وہ بڑے اور پُرآسائش ٹریلر، جنھیں اداکار فلم کے سیٹ پر شوٹنگ کے دوران وقفے میں آرام کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے، ابھی بھی استعمال میں ہیں۔

    لیکن آج کل انھیں کوئی فلمی ستارے نہیں بلکہ ممبئی میں لاک ڈاؤن کے دوران مختلف علاقوں میں تعینات خواتین پولیس اہلکار استعمال کر رہی ہیں۔

    گذشتہ ہفتے سے بستر، باتھ روم، پیڈ اور سینیٹائزر جیسے اشیا ضرورت سے آراستہ یہ بڑی بڑی گاڑیاں سڑک کے کنارے آ کر کھڑی ہونے لگی ہیں تاکہ مشکل حالات میں 12، 12 گھنٹے ڈیوٹی کرتی خواتین پولیس اہلکاروں کو واش روم جانے میں دشواری نہ ہو۔

  20. ’اضافی خام تیل ذخیرہ کرنے کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے‘

    oil

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق اس سال دنیا میں تیل کی مانگ میں ریکارڈ کمی متوقع ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ ”آئندہ چند ہفتوں‘‘ میں اضافی خام تیل کو سٹور کرنے کے لیے جگہ کم ہوجائے گی۔

    تنظیم کے ایگزیکٹیوو ڈائریکٹر فتیح برول کا کہنا ہے کہ ان کے اندازوں کے مطابق جون کے وسط تک عالمی سطح پر تیل کو سٹور کرنے کی جگہ مکمل طور پر بھر جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ سب سے زیادہ شدید شمالی امریکہ میں ہے۔

    تیل کی کمپنیوں نے اب آئل ٹینکر لینا شروع کر دیے ہیں تاکہ وہ اپنا تیل سٹور کر سکیں۔ امریکہ میں تیل کی اس قدر مانگ سے زیادہ مقدار موجود ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں پہلی مرتبہ تیل کے فیوچرز کانٹریکٹ کی قیمت منفی ہوگئی تھی۔ تاہم قیمتوں میں قدرے تیزی آنا شروع ہوگئی ہے۔