برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ جبکہ اموات کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’وبا کے عروج سے گزر چکا ہے‘۔

لائیو کوریج

  1. کووڈ 19 کی ویکسین پر تحقیق کے لیے برطانیہ 1.5 ارب پاؤنڈ خرچ کرے گا

    کووڈ 19 کی ویکسین پر تحقیق کے لیے برطانیہ 1.5 ارب پاؤنڈ دے گا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اگلے پانچ برس کے دوران کووڈ 19 کی ویکسین پر بین الاقوامی تحقیق اور کوششوں کے لیے 1.5 ارب پاؤنڈ خرچ کریں گے۔

    بین الاقوامی ترقیاتی کی سیکرٹری این میری نے بتایا ہے کہ برطانیہ ہر سال ویکسین کے اتحاد کو 330 ملین پاؤنڈ ادا کرے گا۔

    سیکرٹری ڈامنگ راب نے بعد میں کہا تھا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ پورے ملک کو انفیکشن سے بچانے کے لیے انھیں ویکسین دی جائے اور دوسرے کم آمدن والے ممالک کی بھی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنی آبادیوں کو اس وبا سے بچا سکیں۔

  2. امریکی معاشی پیداوار میں دہائی کی سب سے بڑی کمی

    امریکی معاشی پیداوار میں دہائی کی سب سے بڑی کمی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بدھ کو جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال کی شروعات پر پہلے تین ماہ کے دوران امریکہ کی معاشی پیداوار کی شرح میں 4.8 فیصد کی کمی آئی ہے۔

    یہ ملکی معیشت میں گذشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی کمی ہے۔

    اس دوران امریکہ میں دو کروڑ 6 لاکھ افراد بے روزگاری کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق معیشت میں یہ گراوٹ جون تک 30 فیصد مزید کمی کی طرف جائے گی۔

    کووڈ 19 کے بحران کی وجہ سے دنیا بھر میں ممالک کوکاروباری سرگرمیاں رکنے کی وجہ سے معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

    امریکی معاشی پیداوار میں دہائی کی سب سے بڑی کمی

    جرمنی کے وزیر معاشی امور پیٹر نے کہا ہے کہ اس عالمی وبا کی وجہ سے ان کے ملک کی معیشت عالمی جنگ دوم کے بعد سے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔

    ملک کی قومی پیداوار 6.3 فیصد تک گرنے کے امکان ظاہر کیے گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ عالمی پیداوار تقریباً تین فیصد تک گِرسکتی ہے۔

  3. انڈیا میں بین الریاستی سفر کی مشروط اجازت, ملک میں 31,332 متاثرین، ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں

    انڈیا میں بین الریاستی سفر کی مشروط اجازت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں اب تک کورونا وائرس کے 31 ہزار سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ ملک بھر میں ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔

    مرکزی حکومت نے بین الریاستی سفر کی مشروط اجازت دے دی ہے جس کے تحت ملک کی ایک ریاست میں پھنسے ہوئے ملازمین، طلبہ، سیاح یا زائرین دوسری ریاست جاسکیں گے۔

    محکمہ داخلہ کی نئی ہدایات کے مطابق ایسا صرف گروہ میں کیا جا سکے گا اور سفر سے قبل سکریننگ کی جائے گی۔

    حکام نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدد سے انفیکشن ریٹ میں کمی آئی ہے۔

    پنجاب میں لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی توسیع کی گئی ہے اور اس کے تحت کرفیو 17 مئی تک جاری رہے گا لیکن دکانیں چار گھنٹوں کے لیے کھولی جا سکیں گی۔ یعنی صبح 7 سے 11 بجے تک۔

    ملک میں لاک ڈاؤن 3 مئی کے بعد بھی جاری رہنے کے امکان ظاہر کیے جارہے ہیں۔

  4. بیٹے کی پیدائش پر برطانوی وزیر اعظم چھٹی پر جائیں گے

    بیٹے کی پیدائش پر برطانوی وزیر اعظم چھٹی پر جائیں گے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حال ہی میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے اور اپنی ذمہ داریاں واپس سنبھالنے والے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے جس کے بعد اب وہ کم مدت کی چھٹی پر جائیں گے۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس دوران ڈاؤننگ سٹریٹ کے 10 نمبر گھر کے اوپر موجود فلیٹ میں رہیں گے۔

    وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح لندن کے ایک ہسپتال میں پیدائش کے بعد کیری سیمنڈز اور نوزائیدہ بچہ دونوں بہت اچھی صحت میں ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے ’وزیر اعظم اور محترمہ سیمنڈز نے این ایچ ایس کی زچگی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔‘

    وزیر اعظم کے لیے بیٹے کی پیدائش بہت اہم موقع ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب ان کی حکومت کو کورونا وائرس جیسے وبائی مرض کا سامنا ہے۔

    بورس جانسن کے لیے گذشتہ چند ہفتے خاصے حیرت انگیز رہے:

    • 7 مارچ: کووڈ 19 کا مثبت ٹیسٹ
    • 5 اپریل: ہسپتال میں داخل
    • 7 اپریل: انتہائی نگہداشت میں منتقلی
    • 27 اپریل: کام پر واپسی
    • 29 اپریل: بچے کی پیدائش
  5. ’برطانیہ میں ہسپتال داخل ہونے والے ایک تہائی مریض ہلاک ہوئے‘, جیمز گلیگہر، بی بی سی نمائندہ صحت و سائنس

    ’برطانیہ میں ہسپتال داخل ہونے والے ایک تہائی مریض ہلاک ہوئے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں کووڈ 19 کے مریضوں پر سب سے بڑی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال داخل ہونے والے ایک تہائی مریض ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان میں سے آدھے افراد کو ڈسچارج کیا گیا جبکہ باقی اب بھی زیر علاج ہیں۔

    چیف محقق پروفیسر کیلم کے مطابق ہسپتالوں میں مرنے والوں کی یہ شرح ایبولا جتنی ہے۔

    ’ہسپتال میں داخل ایبولا کے 35 سے 40 فیصد مریض مرتے ہیں۔۔۔ لوگوں کو یہ سننا پڑے گا۔۔۔ یہ ایک بہت خطرناک بیماری ہے۔‘

    اس تحقیق میں 166 ہسپتالوں کے تقریباً 17 ہزار مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔ موٹاپا اور زیادہ عمر ہونا ہلاکت کا خدشہ بڑھا دیتے ہیں۔

    تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مردوں میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے اور عمر کے اعتبار سے مرد اور خواتین میں ہلاکتوں کی شرح میں واضح فرق دیکھا گیا ہے۔

  6. بیجنگ سمیت شمالی چین میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ

    بیجنگ سمیت شمالی چین میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دارالحکومت بیجنگ سمیت شمالی چین کے گنجان آبادی والے علاقوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے کی جانے والی سختیوں میں جمعرات سے نرمی کر دی جائے گی۔

    حکام کے مطابق بیجنگ، تیانجن اور ہوبائی صوبے میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی کارروائیوں میں بھی کمی ہوجائے گی۔

    کئی صوبوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے مقامی معیشت کی بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور روزانہ کے نئے متاثرین میں بھی کمی آئی ہے۔

    وبا کے کم خطرے والے ممالک سے آنے والوں افراد کے لیے 14 دن قرنطینہ میں رہنے کی شرط بھی ختم کر دی جائے گی۔ لوگوں کو خود ساختہ آئسولیشن یا تنہائی اختیار کرنے کی تلقین دی گئی ہے۔

    بیجنگ میں اب لوگوں کو باہر ماسکس پہن کر نکلنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    تاہم کورونا سے متاثرہ ممالک یا ہوبائی سے آنے والوں کے لیے کچھ سختیاں برقرار رکھی جائیں گی۔

    یاد رہے کہ اگلے ماہ چین کے پارلیمان کا اجلاس بھی ہوگا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکام کے مطابق یہاں صورتحال پر کافی حد تک قابو پایا جاچکا ہے۔

  7. سپین کے ساحل سمندر پر سپرے کرنے پر حکام کی معذرت

    سپین کے ساحل سمندر پر بلیچ کا سپرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین میں حکام نے ایک ساحل سمندر پر بلیچ کا سپرے کرنے کے بعد معافی مانگی ہے۔ انھوں نے ایسا کورونا وائرس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا تھا۔

    کیڈز کے قریب اس ساحل سمندر پر سپرے کے لیے ٹریکٹر استعمال کیے گئے اور ساحل سمندر پر دو کلومیٹر کی دوری تک سپرے کیا گیا۔

    سپین میں بچوں کو لاک ڈاؤن کے دوران پہلی مرتبہ باہر نکلنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ ساحل سمندر پر سمندری حیات کے لیے یہ بلیچ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے اور ماہر ماحولیات نے بھی اس پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    سپین میں اب تک کورونا وائرس سے 23 ہزار 800 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد دو لاکھ 32 ہزار سے زیادہ ہے۔

  8. ’1.5 ارب افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں‘

    ’1.5 ارب افراد بے روزگار ہونے کا خدشہ‘

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بین الاقوامی لیبر کے ادارے (آئی ایل او) نے کہا ہے کہ عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں نصف ملازمین کا بےروزگار ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

    ان کے اعداد و شمار کے مطابق یہ 1.5 ارب افراد بنتے ہیں۔

    دنیا بھر میں کووڈ 19 کی وجہ 31 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں اور یہ وبا دو لاکھ 20 ہزار لوگوں کی اموات کی وجہ بنی ہے۔

    ادارے کے مطابق ایسے لوگ جو غیر رسمی طریقے سے کام کرتے ہیں انھیں سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ اور اس میں ریٹیل، مینوفیکچرنگ اور کھانے کی سروس کے شعبے شامل ہوتے ہیں۔

    خطے میں عالمی دبا کے پہلے ماہ کے دوران دو ارب غیر رسمی ملازمین کی تنخواہوں کی عالمی اوسط میں 60 فیصد تک کمی آئی ہے۔

    ادارے کے ڈائریکٹر جنرل گائے رائڈر کہتے ہیں کہ لاکھوں ملازمین کے لیے آمدن نہ ہونے کا مطلب کوئی خوراک، سکیورٹی اور مستقبل نہ ہونا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں کاروبار مشکل سے سانس لے رہے ہیں۔‘

    ’ان کے پاس بچت میں کوئی رقم نہیں ہے نہ قرضوں تک تک رسائی ہے۔ یہ کام کرنے والی دنیا کے اصل چہرے ہیں۔ اگر ہم نے ان کی ابھی مدد نہ کی تو یہ ختم ہوجائیں گے۔‘

  9. سکاٹ لینڈ میں اموات 2200 سے تجاوز کر گئیں

    سکاٹ لینڈ میں اموات 2200 سے تجاوز کر گئیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سکاٹ لینڈ میں مزید 656 اموات کی تصدیق ہوئے ہے جنھیں کورونا وائرس سے جوڑا گیا ہے۔ اب یہاں کووڈ 19 سے کل ہلاکتیں 2272 ہوگئی ہیں۔

    یہ اضافہ گذشتہ ہفتے ریکارڈ کیا گیا اور اسی طرح اموات میں اضافہ اس سے پچھلے ہفتے بھی دیکھا گیا تھا۔

    سکاٹ لینڈ کے ان اعداد و شمار میں تمام افراد کے موت کے سرٹیفکیٹ پر کورونا وائرس کو ممکنہ وجہ کے طور پر درج کیا گیا تھا۔

    یہ وسیع پیمانے پر علاقے کی صورتحال بتاتا ہے جہاں ہر روز کووڈ 19 کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے اور لیبارٹری کی ٹیسٹنگ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔

  10. کورونا وائرس کی آزادانہ تحقیق کے مطالبے پر آسٹریلیا اور چین کے درمیان تناؤ

    چین کی جانب سے تنقید کے باوجود آسٹریلیا کا وائرس کی تحقیقات کا مطالبہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کی وبا پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ ’بالکل صحیح‘ ہے کیونکہ دنیا جاننا چاہتی ہے کہ یہ عالمی وبا کیسے پھیلی۔

    آسٹریلیا میں چین کے سفیر نے آزادانہ تحقیق کے مطالبے کو اس سے قبل مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ چین آسٹریلیا کی اشیا کا بائیکاٹ کر سکتا ہے۔

    بدھ کو وکٹوریا اور تسمانیا کے لیے قونصل جنرل ’بن بلائے‘ قومی پریس کانفرنس میں شامل ہوگئے جس میں وزیر صحت گریگ ہنٹ موجود تھے۔

    ٹی وی پر نشر ہونے والی اس کانفرنس میں ارب پتی انڈیو فاریسٹ نے ملک میں ایک کروڑ کٹس دینے کا اعلان کرنا تھا۔

    فاریسٹ نے قونصل جنرل کو مدعو کیا تھا تاکہ وہ کچھ باتیں کر سکیں۔

    وزیر خارجہ نے ان کا تعارف نہیں کرایا اور نہ ہی انھیں سوالات لینے کی اجازت تھی۔

    مقامی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے دفاتر کو ان کی موجودگی کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔

    قونصل جنرل نے پریس کانفرس کے دوران کووڈ 19 سے مقابلے کے لیے چینی کوششوں کو سراہا۔

    فاریسٹ نے اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش کی تھی۔

  11. نائجیریا میں ٹیسٹنگ سست روی کا شکار, ریئلٹی چیک

    افریقہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نائجیریا میں وبائی امراض کی روک تھام کے ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیسٹنگ میں تیزی لائی جائے۔

    ٹوئٹر پر ڈاکٹر چکوے لکھتے ہیں کہ: ’ہم مزید آر این اے ایکسٹراکشن کٹس چاہ رہے ہیں تاکہ کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ بڑھا سکیں۔‘

    افریقہ میں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں اب تک صرف 11 ہزار ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور 1500 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ملک کی آبادی لگ بھگ 20 کروڑ ہے۔

    جنوبی افریقہ کے مقابلے نائجیریا میں ٹیسٹنگ کم ہوئی ہے۔ جنوبی افریقہ کی آبادی چھ کروڑ ہے لیکن وہاں ایک لاکھ 85 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ایتھوپیا میں 15 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ ہوئے ہیں اور اس کی آبادی 10 کروڑ 14 لاکھ کے آس پاس ہے۔ یہاں بھی ٹیسٹنگ کی شرح نائجیریا سے زیادہ ہے۔

    یورپ اور ایشیائی ممالک سے کڑے مقابلے کی وجہ سے افریقی ممالک کے لیے وبا پھیلنے کے دوران ٹیسٹنگ کے سامان کا بندوبست کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ کئی ممالک میں یہ وبا افریقی ممالک سے قبل پھیلی تھی۔

  12. فرانس کی فٹبال لیگ کون جیتا؟

    فٹبال

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس کی فٹبال لیگ کئی مسائل سے دوچار ہے جس میں سرفہرست یہ ہے کہ کسے چیمپیئن قرار دیا جائے اور کسے اگلے مرحلے کے لیے چنا جائے۔

    یہ لیگ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے معطل ہوگئی تھی۔

    جمعرات کو ایک میٹنگ میں اہم فیصلے متوقع ہیں اور یہ ممکن ہے کہ 2019 سے 2020 کا سیزن دوبارہ شروع نہیں کیا جاسکے گا۔

    بورڈ نے 17 جون سے سیزن دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن حکومتی سختیوں کی وجہ سے یہ اب مشکل لگ رہا ہے۔

    اگست میں کھالی سٹیڈیم میں میچ کھیلنے کی بھی تجویز کی گئی تھی۔

  13. امریکہ میں 10 لاکھ متاثرین کی تصدیق, دنیا کے ایک تہائی متاثرین امریکہ میں

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    دنیا می کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ اس ملک میں 58 ہزار سے زیادہ اموات پیش آئی ہیں۔

    نائب صدر مائیک پینس نے منیسوٹا میں ایک ہسپتال کے دورے کے دوران چہرے پر ماسک نہیں پہنا تھا اور وہ واحد شخص تھے جنھوں نے اس سے متعلق اصول کی خلاف ورزی کی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ دس لاکھ متاثرین کی تصدیق اس لیے ہوئی ہے کیونکہ ملک میں ٹیسٹ دنیا بھر کی نسبت زیادہ ہے۔ ’دوسرے ملک ٹیسٹنگ میں ہم سے کافی پیچھے ہیں۔‘

    انھوں نے حکم دیا ہے کہ ملک میں خوراک کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے گوشت کی پیکنگ کرنے والے پلانٹ کھلے رکھے جائیں۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی ریاست میساچوسیٹس کے ایک کیئر ہوم میں کورونا وائرس سے تقریباً 70 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ یہاں مزید 82 رہائشیوں اور 81 ملازمین میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے۔

    کانگریس کے کچھ اراکین نے واشنگٹن واپسی کا منصوبہ موخر کر دیا ہے۔ کچھ قانون سازوں نے اس حوالے سے شکایت کی تھی کہ یہ قبل از وقت ہوگا۔

  14. برطانیہ کے بعد فرانسیسی بچوں میں بھی کورونا وائرس سنڈروم کا انکشاف

    k

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کورونا وائرس سے جڑی نئی بیماری کے خدشے کے بعد، فرانس میں تقریباً ایک درجن سے زائد بچوں کے ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جو دل کے گرد سوزش کے عارضے میں مبتلا ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق اولیویر ویرن کا کہنا تھا کہ ابھی اتنے ثبوت موجود نہیں ہیں جو اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ اس نئی بیماری کا تعلق کورونا وائرس سے ہے۔ تاہم فرانس ان معاملات کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔‘

    اس سے قبل برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے ایسے بچوں کے بارے میں الرٹ جاری کیا تھا جن میں پیٹ درد اور سوزش سمیت غیر معمولی علامات پائی گئیں اور انھیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی۔

    لندن میں وزیر صحت میٹ ہینکوک نے منگل کے روز کہا تھا ’یہ ایک نئی بیماری ہے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اس کی وجہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان میں کچھ بچوں کے کوورنا ٹیسٹ مثبت اور باقیوں کے منفی آئے ہیں۔

    اٹلی، سپین اور سوئٹزرلینڈ میں بھی ایسے ہی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

  15. ایران: ایک دن میں مزید 1073 مریض، 80 ہلاکتیں

    ا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کووڈ 19 سے متاثرہ مزید 1073 کیسز سامنے آئے ہیں۔ متاثرین کی کل تعداد 93657 ہو گئی ہے۔

    جہاں پور کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 80 مریض ہلاک ہو چکے ہیں اور اب اموات کی مجموعی تعداد 5957 ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 73791 ہوگئی ہے۔

    جہان پور نے بتایا کہ پورے ملک میں مجموعی طور پر 2965 مریض انتہائی نگہداشت یونٹوں (آئی سی یو) میں ہیں۔

    صحت کے عہدیدار کے مطابق ایران میں آج تک پی سی آر ٹیسٹوں کی کل تعداد 453386 ہے۔

  16. انڈونیشیا: وائرس کو مارنے کی امید میں ہر کوئی دھوپ سینکنے میں مصروف

    Indonesia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    قمیضیں اتارے سپائیوں سے لے کر گھروں کے باہر کھڑے نوجوانوں تک، انڈونیشیا میں ہر کوئی دھوپ لگوانے میں مصروف ہے۔

    انڈونیشیائی باشندوں کو امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ سورج کی کرنیں کورونا وائرس کے جراثیم ختم کر دیتی ہیں۔

    عام طور پر بالی آنے والے سیاح دھوپ لگواتے نظر آتے ہیں لیکن مقامی افراد ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اس کی وجہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایسے بے بنیاد دعوے ہیں کہ سورج کی کرنیں وائرس یا اس سے جڑے جراثیم کو مار دیتی ہیں۔

    اس امید کو پچھلے ہفتے اس وقت تقویت ملی جب ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ نئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ سورج کی روشنی وائرس کو جلد ہی ختم کردیتی ہے۔

    ابھی اس تحقیق کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا جانا باقی ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران جوش و خروش سے اس کے بارے میں بات کی۔

    انڈونیشیا کے ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا میں ستائیس سالہ گھریلو خاتون تھیریشیا ریکے آسٹریا کہتی ہیں ’اس سے پہلے میں نے ہمیشہ دھوپ سے گریز کیا تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’مجھے امید ہے کہ اس سے میرے جسم میں موجود دفاعی نظام کو تقویت ملے گی۔ طبی ماہرین اس بارے میں شبہات کا شکار ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ صبح کی دھوپ میں پندرہ منٹ کا بیٹھنا آپ کے لیے اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔

    indonesia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  17. کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

  18. روس: صرف 24 گھنٹوں میں 100 سے زائد ہلاکتیں

    russia

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کوورنا وائرس سے مزید 108 اموات ہوئیں۔ اس طرح اموات کی مجموعی تعداد 972 ہوگئی ہے۔

    ملک میں کوورنا وائرس کے آغاز سے اب تک روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات کی تعداد میں، یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 82 علاقوں میں 5841 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے 44.9 فیصد میں کوئی طبی علامت نہیں ظاہر ہوئیں۔

    وائرس سے نمٹنے کے لیے ماسکو میں بنائے گئے ہیڈ کوارٹر نے 29 اپریل کو اپنے ٹیلیگرام چینل پر بتایا تھا کہ 108 افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

    ہیڈ کوارٹر کے مطابق روس میں متاثرین کی کل تعداد 99399 ہے جن میں سے 10286 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    اس سے قبل سب سے زیادہ اموات گذشتہ روز ہوئیں جب 72 مریض ہلاک ہو گئے۔

  19. کیا کورونا وائرس لاشوں سے بھی پھیل سکتا ہے؟

  20. بریکنگ, برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ہاں بیٹے کی پیدائش

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی منگیتر کیری سیمنڈز نے ان کے بیٹے کو جنم دیا ہے۔

    وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح لندن کے ایک ہسپتال میں پیدائش کے بعد کیری سیمنڈز اور نوزائیدہ بچہ دونوں بہت اچھی صحت میں ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے ’وزیر اعظم اور محترمہ سیمنڈز نے این ایچ ایس کی زچگی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔‘

    وزیر اعظم کے لیے بیٹے کی پیدائش بہت اہم موقع ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب ان کی حکومت کو کورونا وائرس جیسے وبائی مرض کا سامنا ہے۔

    بورس جانسن کے لیے گذشتہ چند ہفتے خاصے حیرت انگیز رہے:

    • 7 مارچ: کووڈ 19 کا مثبت ٹیسٹ
    • 5 اپریل: ہسپتال میں داخل
    • 7 اپریل: انتہائی نگہداشت میں منتقلی
    • 27 اپریل: کام پر واپسی
    • 29 اپریل: بچے کی پیدائش