ڈچ سائنسدانوں کو ’اینٹی باڈی مل گئی‘, اینا ہولیگن، بی بی سی نیوز
ڈچ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ انھیں ایک ایسی اینٹی باڈی مل گئی ہے جس سے کورونا وائرس کی تشخیص اور بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کو ابھی تک انسانوں پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے جس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ یوٹریکٹ یونیورسٹی کے ایراسمس میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں نے اپنی دریافت کو سارس2 کی اینٹی باڈی کے طور پر بیان کیا ہے۔ یہ وہ کورونا وائرس ہے جو حالیہ عالمی وبا کووڈ۔19 پھیلا رہا ہے۔ سائنسدان پہلے ہی سارس1 کی اینٹی باڈی پر کام کر رہے تھے کہ نیا کورونا وائرس آ گیا۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے دریافت کیا کہ اسی اینٹی باڈی نے اس انفیکشن کو بلاک کیا ہے۔ سائنسدان امید کرتے ہیں کہ وہ ایک دوائیوں کی کمپنی کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ وہ دوا کے طور پر اس کو بڑے پیمانے پر بنائے جو اس وائرس کی تشخیص میں مدد اور اسے مزید پھیلنے سے روک سکتی ہے۔ علیحدہ کووڈ۔19 ویکسین کو بنانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس وقت تک شاید یہ وائرس غائب بھی ہو گیا ہو۔













