اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹ میں کام محدود

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کے تحت دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹ میں کام محدود کر دیا گیا ہے اور اب چھ اپریل تک ان عدالتوں میں صرف ضمانت اور حکمِ امتناع کے معاملات کی سماعت ہی ہو گی۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ظفر کھوکھر نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ یہ فیصلہ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اجلاس میں کیا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اجلاس میں ہونے والے فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں ججوں کی تعداد 72 ہے جن میں دو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے علاوہ 20 ایڈیشنل سیشن ججز اور 50 سول جج شامل ہیں۔ سیشن جج کے پاس مقدمات کی کاز لسٹ کے مطابق 50 مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سنے جاتے ہیں جبکہ ایک سول جج اوسطاٌ ایک سو کے قریب مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر سنتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی عدالتوں میں آمد کا عمل بھی رک جائے گا۔ حکام کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر دو سو کے قریب ملزموں کو مقامی عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے اڈیالہ جیل سے ضلعی عدالتوں میں لایا جاتا ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ وفاقی دارالحکومت میں موجود درگاہوں کو بھی بند کرنے پر غور کر رہی ہےاور ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ چیف کمشنر کی سربراہی میں اجلاس ہو رہا ہے جس میں اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔














