دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, ایران میں ایک دن میں ایک ہزار نئے مریض
،ویڈیو کیپشنایران
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کووڈ-19 کورونا وائرس کے مزید 1075 مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے میں اس وائرس سے متاثرہ مزید 75 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 429 تک پہنچ گئی ہے۔
ان کے مطابق متاثرین میں سے 3276 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس مذہبی رسم و رواج کی ادائیگی میں کیسے خلل ڈال رہا ہے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
ایک انسٹا گرام پوسٹ میں اٹلی کے شہر میلان کی ایک نرس ایلیسیا بوناری نے اپنی ملازمت کے دوران کورونا وائرس کے حوالے سے مشکلات کے باوجود اپنے فرائض کی ادائیگی پر فخر کا اظہار کیا۔ دنیا بھر میں ان کی تعریف کی جا رہی ہے۔
ان کی تصویر کے ہمراہ ایک پوسٹ جس میں ماسک پہننے کے باعث ان کے چہرے پر زخم دکھائی دے رہے ہیں انٹساگرام پر 740000 لوگوں نے پسند کیا۔
انھوں نے پوسٹ میں لکھا ’میں کام پر جاتے ہوئے خوفزدہ ہوں۔ مجھے ذر ہے کہ ماسک میرے چہرے کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپتا یا میں حادثاتی طور پر گندہ دستانوں سے اپنے چہرے کو چھو سکتی ہوں، یا میرے چشموں کے شیشے میری آنکھوں کو مکمل طور پر نہیں ڈھاپنتے اور کچھ ان سے گذر سکتا ہے۔‘
’میں جسمانی طور پر تھک چکی ہوں کیونکہ یہ حفاظتی آلات بہت برے ہیں۔ مجھے لیب کوٹ میں پسینہ آ جاتا ہے اور ایک بار میں حفاظتی لباس پہن لوں تو میں باتھ روم نہیں جا سکتی اور چھ گھنٹوں تک کچھ پی نہیں سکتی۔‘
’میں نفسیاتی طور پر بھی تھک چکی ہوں۔ میرے تمام ساتھی بھی کئی ہفتوں سے اسی حالت میں ہیں۔ لیکن یہ سب ہمیں ہمارا کام کرنے سے نہیں روک سکتا۔ ‘
’میں اپنے مریضں کی دیکھ بھال جاری رکھوں گی۔ کیونکہ مجھے اپنے کام پر فخر اور اس سے محبت ہے۔‘
انھوں نے لوگوں سے گذارش کی کہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کو جھنجھلاہٹ کا شکار نہ کریں اور اگر انہیں ضرورت نہیں تو ہسپتال مت آئیں بلکہ خود کو الگ تھلگ کر لیں۔
بریکنگ, گلگت بلتستان میں کورونا کا ایک اور مریض سامنے آ گیا, پاکستان میں مجموعی طور پر 20 کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سےایک صحت یاب بھی ہو گیا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے تیسرے مریض کی تصدیق کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے ایک صحت یاب ہو چکا ہے۔
گلگت بلتستان کے لیے کورونا وائرس کے بارے میں فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان نے بی بی سی اردو کی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس مریض میں کووڈ-19 وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اس کا تعلق سکردو سے ہے اور وہ بھی ایران سے واپس آیا تھا۔
ان کے مطابق یہ 31 سالہ شخص 25 فروری کو ایران سے واپس پہنچا تھا اور علامات ظاہر ہونے پر انھیں چھ تاریخ کو آئیسولیٹ کیا گیا اور جمعرات کو ان میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق اب تک گلگت بلستان میں ایک خاتون سمیت تین افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جن کا علاج گلگت ہسپتال میں الگ تھلگ رکھ کر کیا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرات کے باعث یہ کوشش کی جارہی ہے کہ جمعہ کے اجتماعات محدود کردیے جائیں جس کے لیے سفارشات حکومت کو بھجوائی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں اس وقت کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ ہے جہاں 14 افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوئی جن میں سے ایک صحت یاب ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں اس وائرس کے تین، اسلام آباد میں دو اور بلوچستان میں ایک مریض سامنے آیا ہے۔
کورونا وائرس سے متعلق اہم سوالات: لوگ ماسک کیوں نہیں پہن رہے؟, فرگس والش، نامہ نگار برائے صحت
،تصویر کا ذریعہPID
،تصویر کا کیپشنماسک کا استعمال اور انھیں پہننے سے متعلق ہدایات حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی ہیں
ہم گھروں سے باہر لوگوں کو پتلے اور کاغذ کے بنے ماسک پہنے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ وہ ماسک تو نہیں جن سے آپ بیمار ہونے سے بچ سکیں۔
ہاں اگر لوگ کھانس یا چھینک رہے ہیں تو ایسے ماسکس کی مدد سے وہ انفیکشن پھیلانے سے رُک سکتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ جن میں علامات موجود ہیں انھیں گھر رہنا چاہیے اور جراثیم نہیں پھیلانے چاہییں۔
ایسے ماسک بھی دستیاب ہیں جن میں باریک دھاگے بہتر فلٹریشن کا سبب بنتے ہیں لیکن انھیں پہننے سے الجھن ہو سکتی ہے۔
برطانوی ادارہ برٹش لنگ فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ چہرے پر ماسک پہننے کی تجویز نہیں دیتے کیونکہ ایسے شواہد موجود نہیں جن سے ان کی اِفادیت ظاہر ہو سکے۔
سب سے اہم ہدایت یہ ہے کہ ہاتھ صاف رکھیں تاکہ بیماری سے محفوظ رہا جاسکے۔ یہ سننے میں آسان لگتا ہے لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ آپ 20 سیکنڈ تک پانی اور صابن سے ہاتھ دھوئیں۔
بریکنگ, کورونا کے پیش نظر پاکستان کی سفری ہدیات اور ضوابط کا اعلان جلد کیا جائے گا, سحر بلوچ، بی بی سی اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے جمعرات کو کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کی ٹریول ایڈوائزری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس وقت اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس وبا کی روک تھام کے لیے اہم اقدام اٹھائے جارہے ہیں جن میں پاکستان کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر حفاظتی اقدامات شامل ہیں اور سفر سے متعلق قواعد جلد سامنے لائے جائیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے مختلف ممالک میں ویزا کی منسوخی سے منسلک خبریں سنی ہیں جو ان ممالک کے حفاظتی اقدامات کا حصہ ہیں۔ طورخم بارڈر پر ہونے والے اقدامات کے حوالے سے بھی جلد آگاہ کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان کے شہر کابل کو تین دن اور ہرات میں موجود پاکستانی سفارتخانے کو پندرہ دن کے لیے انتظامی وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا ہے۔ ان سفارتخانوں میں کونسلر سروسز کو تاحال بند کیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود پاکستانی سفارتخانے میں کام کرنے والے محمد اصغر میں کورونا وائرس ہونے کی اطلاع غلط ہے۔ ’ہماری اطلاعات کے مطابق محمد اصغر میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ہم بغیر تصدیق کیے کوئی غلط اطلاع نہیں دیں گے خاص کر کہ ایسے معاملات میں۔`
سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کی طرف سے پاکستان اور دیگر ممالک سے اپنے شہریوں اور مزدور پیشہ افراد کو واپس سعودی عرب بلانے اور ویزا سروسز معطل کرنے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ ’وزارتِ داخلہ کی حالیہ رپورٹ ہماری نظر سے گزری ہے۔ میری سفیرِ پاکستان سے ریاض میں بات ہوئی ہے وہ سعودی وزارتِ داخلہ سے پاکستانی شہریوں کے معاملات پر بات کریں گے۔ اور آگے کا لائحہ عمل بتائیں گے۔‘
دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ دنیا بھر میں ممالک اپنے ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدام اٹھا رہے ہیں اور سعودی عرب کا اقدام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
تفتان سرحد پر ایران سے واپس آنے والے زائرین کی بڑھتی تعداد اور سکریننگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ایران سے زائرین کی ایک بڑی تعداد تفتان بارڈر کے ذریعے واپس آئے ہیں۔ وزارتِ صحت اور دیگر اداروں نے وہاں پر اقدامات کیے ہیں جن کے تحت صوبائی بلوچستان کے ساتھ مل کر سکریننگ کی جارہی ہے۔ اس عمل میں واپس آنے والوں کی تصدیق اور مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ تو یہ ایک طویل عمل ہے جو ہم زائرین کی بڑی تعداد کی وجہ سے کررہے ہیں۔‘
وہ ممالک جہاں سکول بند کر دیے گئے ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ کے تعلیم، سائنس اور ثقافت سے متعلق ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے وبائی شکل اختیار کرنے کے بعد 22 ممالک نے ملک بھر میں سکول بند کر دیے ہیں۔
مختلف ممالک میں سکولز مختلف اوقات کے لیے بند کیے گئے ہیں:
ڈنمارک ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے حال ہی میں سکول اور یوبنیورسٹیز 15 دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک نے یہ فیصلہ کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کے باعث کیا ہے جہاں یہ کیسز 514 تک پہنچ گئی ہے۔
قزاقستان میں تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے تاہم وہاں بھی احتیاطاً پیر سے سکول بند کر نے کا اعلان کیا گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے اٹلی نے ایک ماہ کے لیے سکول بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ وہاں 2500 افراد میں کورونا کی تصدیق کے بعد کیا گیا۔
گذشتہ ماہ جاپان کے حکام نے کہا تھا کہ تمام سکول مارچ کے اختتام پر تعلیمی سال کے خاتم تک بند رہیں گے۔ وہاں 186 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
اس کے علاوہ 13 ممالک نے ایسے علاقوں میں سکول بند کیے جہاں کورونا کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سپین کا شہر مڈریڈ اور فرانس میں پیرس کے دو علاقے بریٹینی اور اوئس شامل ہیں، اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ یوکرین میں بھی زیادہ تر سکولز بند ہیں۔
برطانیہ اور جرمنی میں نسبتاً کم تعداد میں سکول عارضی طور پر بند کئے گئے ہیں۔ تاکہ سٹاف یا طلبہ میں وائرس کی تصدیق کے بعد یہاں کی صفائی کی جاسکے۔
پاکستان میں بالخصوص صوبہ سندھ اور باقی ملک میں کہیں کہیں سکولوں نے 13 مارچ تک ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستاں میں اب تک 20 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 15 سندھ میں ہیں۔
کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,324 پوائنٹس کی کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے اور امریکہ کی جانب یورپ پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے بعد بین الاقوامی مالیاتی منڈیاں گراوٹ کا شکار ہیں۔
پاکستان کی سٹاک مارکیٹ بھی عالمی سطح پر پھیلی اس معاشی تنزلی کی عکاسی اس طرح سے کر رہی ہے کہ جمعرات کی دوپہر تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1324 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ایک روز میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی تھی۔ آج دوپہر تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3.02 فیصد کمی دیکھی گئی ہے اور 100 انڈیکس 1324 پوائنٹس کی کمی کے بعد 36349 پوائنٹس پر کھڑا ہے۔
فنانشل کمپنی ٹاپ لائن بروکریج سے منسلک سعد ہاشمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 100 انڈیکس میں کمی یورپ میں کورونا وائرس کے پیش نظر کیے جانے والے اقدامات اور صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ سفری پابندیوں کے اطلاق کا ردعمل ہے۔
’سرمایہ کاروں کو تشویش اب اس بات پر ہے سٹاک مارکیٹ کے تسلسل میں خلل پڑ سکتا ہے۔ امریکہ کی فلائٹس بند ہو چکی ہیں، امریکہ سب سے بڑا صارف ہے۔ اس طرح دیگر ممالک کی جانب سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں اور یہ اقدامات پاکستان کی ٹریڈ کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ نا صرف پاکستان بلکہ خطے کی دیگر مارکیٹس بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئی ہیں۔
’مندی کا رجحان پیر کے روز سے دیکھا جا رہا ہے۔ پیر کو 100 انڈیکس 22 سو پوائنٹس نیچے آ گیا تھا۔ مگر اس کے بعد مارکیٹ تھوڑی بحال ہوئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ سیکٹرز کا یہ خیال تھا کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باعث شرح سود کچھ کم ہو گی۔ تاہم آج پھر 100 انڈیکس نیچے آ گیا ہے۔‘
سعد ہاشمی نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان میں صورتحال اتنی بُری نہیں ہو گی جتنی دوسرے ممالک کی سٹاک مارکیٹ میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا کے باعث یہاں ابھی حالات اتنے بُرے نہیں ہیں۔ ’مگر اگر یہ دنیا میں مزید پھیلتا ہے تو شاید پاکستان کی مارکیٹ سے اس حد تک نہ بچ سکے جتنا سرمایہ کار سوچ رہے ہیں۔‘
کورونا وائرس کے حوالے سے اہم سوالات: کیا وائرس کسی بھی سطح پر باقی رہ سکتا ہے؟, فرگس والش، نامہ نگار طبی امور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کا انحصار سطح کی نویت پر ہے۔
کسی سخت سطح پر، جیسے کہ دروازوں کے ہینڈل، لفٹ کے بٹن یا کچن کاؤنٹر پر یہ وائرس تقریباً 48 گھنٹوں تک پنپ سکتا ہے۔ اس سے پہلے کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر حالات سازگار ہوں تو کورونا وائرس ایک ہفتے تک بھی کسی سطح پر رہ سکتا ہے۔
تاہم کپڑوں جیسی نرم چیزوں پر یہ کافی کم وقت کے لیے رہتا ہے۔ تو مثال کے طور پر اگر آپ کے کوٹ پر وائرس لگ گیا ہے اور آپ اسے ایک دو دن تک نہیں پہنتے تو وائرس ناکارہ ہو جائے گا۔
یاد رکھیں کہ صرف متاثرہ سطح کو ہاتھ لگانے سے آپ کو کووِڈ 19 نہیں ہوگا۔ لیکن اگر آپ وہی ہاتھ انفیکشن اپنے منھ، ہونٹ یا ناک میں لگائیں گے تو انفیکشن پھیل سکتا ہے۔
ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل دیکھنے والے ایک شخص میں کووِڈ 19 کی تشخیص
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل کے دوران شائقین میں سے ایک شخص میں کووِڈ 19 انفیکشن کی تشخیص ہوئی ہے۔
یہ میچ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا اور سٹیڈیم کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ مریض کم خطرے کا باعث ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جنھوں نے یہ میچ دیکھا، اس سے قطعِ نظر کہ انھوں نے این 95 ماسک پہنے تھے، کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت کی نگرانی کریں۔
میلبورن کرکٹ کلب نے حفاظتی تدابیر کے لیے گراؤنڈ میں صفائی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آخری میچ انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ میچ جیت کر آسٹریلیا نے یہ ٹائٹل پانچویں مرتبہ اپنے نام کر لیا تھا۔
پاکستان سپر لیگ: کرکٹرز اور شائقین کے لیے کیا ہدایات ہیں؟, عبدالرشید شکور، بی بی سی اردو، کراچی
،تصویر کا ذریعہTwitter/TheRealPCBMedia
پاکستان کرکٹ بورڈ اور سندھ کی حکومت نے کورونا وائرس کے سبب کراچی میں پاکستان سپر لیگ کے میچوں کے موقع پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سندھ کی حکومت سے بات چیت کے بعد اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ پاکستان سپر لیگ کے کراچی میں ہونے والے پانچ میچز معمول کے مطابق ہونگے جن میں 17 مارچ کو ہونے والا کوالیفائر بھی شامل ہے۔
تاہم ان میچوں میں شائقین کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں پی ایس ایل کا اگلا میچ جمعرات کی شام کراچی کنگز اور لاہور قلندر کے درمیان کھیلا جائے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرکٹرز کے لیے ہدایات
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اگرچہ پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے لیے کسی قسم کی خاص ہدایت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن ٹیموں کی انتظامیہ کا یہی کہنا ہے کہ وہ پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ان ٹیموں کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر کرکٹرز اور کوچنگ سٹاف پہلے سے احتیاط کر رہے ہیں۔ کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر لوگوں سے ملنے سے گریز کریں۔
کرکٹرز کی دیگر سماجی سرگرمیوں کو بھی محدود کر دیا گیا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ کرکٹرز کو ہوٹل کے کمروں میں قید کر دیا گیا ہو۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام کرکٹرز کے بیگ میں سینی ٹائزرز موجود ہیں۔ ٹیموں کے ڈاکٹرز کھلاڑیوں کو ہدایات دینے کے لیے موجود ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی ہے کہ کھلاڑی میچ کے دوران ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شائقین کے لیے ہدایات
سندھ حکومت یہ اعلان کرچکی ہے کہ کراچی میں ہونے والے میچوں کے درمیان اسٹیڈیم آنے والے لوگوں کی تھرمل اسکریننگ کی جائے گی اور میڈیکل ٹیمیں وہاں موجود ہونگی۔
واضح رہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کے مختلف انکلوژرز میں داخل ہونے کے چودہ گیٹ ہیں۔
کمشنر کراچی نے پی ایس ایل کے میچوں کے موقع پر شائقین کے لیے خاص ہدایات جاری کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے گریز کریں۔ اسٹیڈیم کی کرسیوں، جنگلے اور دوسری چیزوں کو غیرضروری مت چھوئیں۔ اپنے ہاتھوں کو صابن یا سینی ٹائزر سے صاف کریں۔
چھینک کی صورت میں رومال یا ٹشو پیپرز کا استعمال کریں۔ ٹشو پیپرز کو ڈسٹ بن میں ڈال دیں۔
لوگوں سے یہ بھی کہا گیا کہ نزلہ زکام اور کھانسی کی صورت میں اسٹیڈیم آنے سے گریز کریں۔ اسٹیڈیم میں خالی بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
’چین میں کورونا وائرس کا عروج گزر چکا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کے ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا اپنی انتہا سے گزر چکی ہے (یعنی یہ وبا اب چین میں تنزلی کی جانب گامزن ہے)۔
چین میں اس وبا کے مرکز صوبہ ہوبائی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کم ہوئی ہے۔ جب سے صوبہ ہوبائی میں یہ وبا پھوٹی ہے اس وقت سے اب تک یہ اپنی سب سے کم ترین شرح پر آ چکی ہے۔
دوسری جانب چین کے ریاستی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق صوبہ سنکیانگ کو کووِڈ 19 سے ’پاک‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ اخبار نے ان ’افواہوں‘ کی بھی تردید کی ہے کہ اس خطے میں قائم ’تربیتی کیمپس‘ میں موجود افراد انفیکشن کا شکار ہیں۔
جمعرات کو سنکیانگ حکومت کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین سے باہر ’مشرقی ترکستان‘ کی فورسز سنکیانگ کی ساکھ خراب کرنے کے لیے جھوٹ پھیلا رہی ہیں۔
ترجمان نے ان افواہوں کو ’ہر طرح سے مضحکہ خیز اور بچگانہ‘ قرار دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سکیانگ میں کووِڈ 19 کے تمام 73 مریضوں کو ’علاج کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج‘ کر دیا گیا ہے اور گذشتہ 20 دنوں میں کورونا وائرس کا کوئی بھی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔
کرناٹک میں ہسپتال سے بھاگنے پر سزا ملے گی, عائشہ پریرا، بی بی سی نیوز
انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں حکام نے اس 123 سالہ قدیم قانون کا نفاذ کر دیا ہے جس کی مدد سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ کورونا کے مشتبہ مریض ہسپتالوں سے بھاگ نہ سکیں یا گھر پر قرنطینہ کیے گئے افراد اس پابندی کی خلاف ورزی نہ کریں۔
1897 کے وبائی امراض کے قانون کے تحت کوئی بھی فرد، ادارہ یا تنظیم اگر ان اقدامات کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ اقدام دبئی سے آنے والے اس مریض کے ہسپتال سے فرار کے بعد اٹھایا گیا ہے جسے بنگلور کے ہوائی اڈے پر بخار کی تشخیص کے بعد سرکاری ہسپتال لے جایا گیا تھا اور وہاں سے وہ بھاگ نکلا تھا۔
انڈیا میں اس وقت کووڈ-19 کے 60 مصدقہ مریض موجود ہیں اور اس نے 15 اپریل تک ملک میں داخلے کے لیے جاری کیے گئے بیشتر ویزوں کو معطل کر دیا ہے۔
چینی فضائی کمپنیوں کو ایک ماہ میں تین ارب ڈالر سے زیادہ نقصان, جسٹن ہارپر، بی بی نیوز، سنگاپور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر مختلف ممالک کی جانب سے سفری پابندیاں عائد ہونے کے باعث ہوابازی کی عالمی صنعت کو بڑے پیمانے پر مسافروں کی کمی کا سامنا ہے۔
چین میں گذشتہ ماہ فضائی سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں 84.5 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مسافروں کی کمی کورونا وائرس کے معیشت پر پڑنے والے بدترین اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
جمعرات کو چین میں ہوا بازی کے شعبے کے نگراں ادارے نے کہا ہے کہ مسافروں کی تعداد میں کمی سے آمدن میں 3.01 ارب امریکی ڈالر کمی ہوئی ہے۔
رواں ہفتے چین کی حکومت نے مشکل کا شکار شعبہ ہوا بازی کو سپورٹ کرنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ وہ چینی ایئرلائنز کو سبسڈی فراہم کریں گے جبکہ بین الاقوامی فلائیٹس کو اضافی فنڈنگ بھی دی جائے گی۔
چین: ہوٹل گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 29 ہو گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں آٹھ مارچ کو زمین بوس ہونے والے ایک ہوٹل میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی ہے۔ اس ہوٹل کو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو رکھنے (قرنطینہ) کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس ہوٹل میں 70 سے زائد کورونا وائرس کے مریض رہ رہے تھے۔ 27 افراد عمارت کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو زخمی افراد بعدازاں دم توڑ گئے۔
انفیکشن سے عالمی وبا کی صورتحال کیسے پیدا ہوتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنپشاور میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے حکام کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں
لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر روزا لِنڈ ایگو نے وبا کی تشریح کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وائرس کیسے پھیلتا ہے اور ایک عام انفیکشن عالمی وبا کی شکل کیسے اختیار کر لیتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ وائرس بہت چھوٹا ہوتا ہے اور یہ پروٹین اور جینیاتی مواد سے مل کر بنتا ہے۔
’دنیا میں کئی طرح کے وائرس پائے جاتے ہیں۔ فلو وائرس کی ایک ایسی قسم ہے جس سے ہر سال کئی انسان متاثر ہوتے ہیں ۔ ہر سال 10 سے 20 فیصد برطانوی آبادی کو فلو ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وائرس کا پھیلاؤ سمجھنے کے لیے ہم فلو کی مثال لے سکتے ہیں۔ ایک انسان سے دوسرے انسان میں کھانسنے یا چھینکنے سے پھیل سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ تب بھی پھیل سکتا ہے کہ جب کسی بیمار شخص کا بلغم کسی جگہ موجود ہو۔ ’اس لیے اپنے ہاتھ دھونا بہت ضروری ہے۔‘
’کچھ ایسے وائرس بھی ہیں جو براہِ راست رابطے سے پھیلتے ہیں، جیسا کہ جب لوگ گلے ملیں یا بوسہ لیں۔ اسی طرح ایچ آئی وی جیسے وائرس بھی ہیں جو جنسی عمل سے پھیلتے ہیں۔‘
این ڈیمک، ایپی ڈیمک اور پینڈیمک میں فرق
این ڈیمک انفیکشن سے مراد ایسی بیماری ہے جو پورے سال ایک علاقے میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری ہر وقت اور ہر سال موجود رہتی ہے۔ اس میں چکن پوکس یا خسرے کی بیماری شامل ہے جو ہر سال برطانیہ میں پاتی جاتی ہے۔ افریقہ میں ملیریا ایک این ڈیمک انفیکشن ہے۔
ایپی ڈیمک یعنی وبا سے مراد ایسی بیماری ہے جس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور پھر اس میں کمی آتی ہے۔ برطانیہ میں ہم ہر سال فلو کی وبا دیکھی جاتی ہے جس میں موسمِ خزاں اور سرما میں مریض بڑھ جاتے ہیں، مریضوں کی ایک چوٹی بن جاتی ہے اور پھر مریضوں میں کمی آتی ہے۔
پینڈیمک سے مراد ایک عالمی وبا ہے، یعنی ایسا انفیکشن جو ایک ہی وقت میں دنیا بھر میں پھیل رہا ہوتا ہے۔ سنہ 2009 میں فلو کا پینڈیمک دیکھا گیا جس کا آغاز میکسیکو سے ہوا اور پھر یہ وبا دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اسے فلو کی پینڈیمک کا نام دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر روزا لِنڈ ایگو کے مطابق ’وائرس کے اس پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس بات کو دیکھنا ہوگا کہ لوگ دنیا بھر میں سفر کرتے ہیں۔ اگر یہ وائرس یا انفیکشن ایسی جگہوں پر پہنچ جائے جہاں یہ برقرار رہ سکتے ہوں تو پینڈیمک (عالمی وبا) کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔‘
ویکسین سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟
اس سے قبل کہ ہمیں یہ بیماری لاحق ہوجائے، ویکسین ہمارے جسم کو اس حوالے سے تیار کر دیتی ہے کہ یہ وائرس یا بیکٹیریا کیسا دکھتا ہے۔
ویکسین کے بعد اگر یہ وائرس یا بیکٹیریا ہمارے جسم میں داخل ہوجائے تو وہ اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر روزا لِنڈ ایگو کہتی ہیں کہ دنیا موجودہ حالات میں کسی بھی پینڈیمک کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
’فی الحال کئی سائنسدان، صحت کے مراکز اور عالمی ادارہ صحت ایک ساتھ کام کر رہے ہیں کہ ہم کسی بھی عالمی وبا کے لیے ہر طرح سے تیار رہ سکیں۔‘
کورونا وائرس کے لیے ’عالمی وبا‘ کی اصطلاح اب کیوں استعمال کی گئی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے دیا ہے۔
’عالمی وبا‘ ایک ایسی اصطلاح جسے عالمی ادارہ صحت اس سے قبل استعمال کرنے سے گریزاں تھا۔
عالمی وبا ایسے وبائی مرض کو کہتے ہیں جو بیک وقت دنیا کے مختلف ممالک کے مختلف افراد میں پھیل رہا ہو۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ اب یہ اصطلاح (عالمی وبا) اس لیے استعمال کر رہا ہے کیونکہ وائرس سے نمٹنے کے لیے ’خطرناک حد تک غیر فعال‘ ہونے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
عالمی وبا کیا ہے؟
عالمی وبا کی اصطلاح کسی بھی ایسی متعدی بیماری کے لیے مختص ہے جس میں مختلف ممالک میں ایک کثیر تعداد میں لوگ ایک دوسرے سے متاثر ہو کر بیمار پڑ رہے ہوتے ہیں۔
آخری مرتبہ سنہ 2009 میں سامنے آنے والے سوائن فلو کو عالمی وبا قرار دیا گیا تھا، ماہرین کے مطابق سوائن فلو کے باعث ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عالمی وبا عموماً ایسے وائرس کے پھیلنے سے ہوتی ہے جو نیا ہوا، لوگوں کو آرام سے متاثر کر سکتا ہو اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی میں موثر انداز میں منتقل ہو رہا ہو۔
اور نیا کورونا وائرس ان تمام شرائط پر پورا اترتا ہے جس کا نا تو کوئی علاج ہے اور نہ ہی ایسی ویکسین جو اسں کی روک تھام کر سکے۔
اس اصطلاح کا استعمال اب کیوں ہو رہا ہے؟
فروری کے اختتام پر ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا تھا کہ اگرچہ کورونا وائرس میں عالمی وبا بننے کی صلاحیت ہے مگر فی الحال ہم ’اس کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کو وقوع پذیر ہوتا نہیں دیکھ رہے ہیں۔‘
مگر وقت کے ساتھ مختلف ممالک میں اس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ اب 114 ممالک میں کورونا وائرس کے 118000 مصدقہ کیسز ہیں۔
زبان میں تبدیلی اس وائرس کے اثرات میں بدلاؤ نہیں لاتی مگر اب عالمی ادارہ صحت کو امید ہے کہ کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد ممالک اس سے نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائیں گے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ ’چند ممالک صلاحیت کی کمی کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں، کچھ ممالک وسائل کی کمی کے باوجود جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ کچھ ممالک عزم کے فقدان کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔‘
عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک کو یہ اقدامات اٹھانے کے لیے کہا ہے:
ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے میکینزم کو موثر اور بہتر بنایا جائے
عوام کو وائرس کے خطرات سے آگاہ کیا جائے، اور بتایا جائے کہ لوگ اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں
کووِڈ 19 سے متاثرہ ہر شخص کو ڈھونڈا جائے، اسے الگ تھلگ رکھا جائے، ٹیسٹ کیے جائیں اور اس کے متاثرہ شخص سے متعلقہ تمام افراد کا سراغ لگایا جائے
ڈاکٹر ٹیڈروس کہتے ہیں ’ہم یہ پرزور انداز میں یا واضح طور پر نہیں کہہ سکتے، مگر تمام ممالک مل کر اس عالمی مرض کا رخ بدل سکتے ہیں۔‘
انڈیا کی جانب سے 15 اپریل تک سفری ویزے معطل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ 15 اپریل تک تمام عام ویزے معطل کر دیے گئے ہیں تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ملک میں اطلاعات کے ادارے پریس انفارمیشن بیورو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 فروری کے بعد انڈیا میں چین، اٹلی، ایران، کوریا، فرانس، سپین اور جرمنی سے آنے والے مسافروں کو کم از کم 14 دنوں تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
ویزے کی معطلی 13 مارچ سے شروع ہو گی جبکہ اس میں سفارتی ویزا یا بین الاقوامی اداروں اور منصوبے کے لیے استعمال ہونے والے ویزوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
انڈیا نے اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کہ ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں جبکہ بیرون ملک سے آنے والے شہریوں کو 14 دنوں تک قرنطینہ میں رکھا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب کے پاکستان سمیت کئی ممالک کے ساتھ سفری رابطے منقطع
،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وقتی طور پر دنیا کے کئی ایسے ممالک کے ساتھ سفری رابطے منقطع کر دیے ہیں جہاں کورونا وائرس کے مریض موجود ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی خبر میں سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کے تحت نہ تو سعودی شہری ان ممالک آ جا سکیں، نہ ہی ان ممالک سے آنے والا کوئی بھی شخص سعودی عرب میں داخل ہو پائے گا۔
ان ممالک کی فہرست میں درج ذیل ممالک شامل ہیں:
پاکستان
سری لنکا
یورپی یونین کے رکن ممالک
سوٹزرلینڈ
فلپائن
سوڈان اور جنوبی سوڈان
کینیا
جیبوٹی
صومالیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
اس کے علاوہ سعودی عرب نے اردن کے ساتھ اپنی زمینی سریدیں بھی مسافروں کے لیے بند کر دی ہیں تاہم مال کی آمد رفت جاری ہے۔
اس فیصلے سے سعودی عرب میں کام کرنے والا فلپائن یا انڈین نژاد طبی عملہ متاثر نہیں ہوگا۔
سعودی عرب میں اب تک کورونا وائرس کے 45 مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
امریکی اداکار ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ بھی کورونا وائرس کا شکار
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی اداکار ٹام ہینکس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ ریٹا ولسن بھی
کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں۔
63 سالہ اداکار نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پر لکھا کہ آسٹریلیا میں دونوں میاں
بیوی نے کوئینز لینڈ میں نزلہ کی علامات کی شکایت کے بعد طبی معائنہ کروایا اور اس
نتیجے میں کروائے گئے خون کے ٹیسٹ میں ان میں اور ان کی حالیہ میں کورونا وائرس
مثبت آیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب وہ آئسولیشن میں وقت گزاریں گے۔
یہ جوڑا آجکل آسٹریلیا کے گولڈ کوسٹ پر موجود تھا جہاں ہینکس ایلوس پرسلی کی زندگی
سے متعلق ایک فلم پر کام کر رہے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے علامات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں تھکن محسوس ہوتی تھی، تھوڑا سا نزلہ بھی تھا اور جسم میں کچھ درد بھی، ریٹا کو کچھ سردی لگ رہی تھی اور تھوڑا سا بخار بھی تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے جیسا کہ ابھی دنیا میں ضرورت ہے، ہمیں کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ دنیا کو اپنی صحت کے متعلق ’آگاہ‘ رکھیں گے۔