دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔
لائیو کوریج
صدر ٹرمپ نے یورپ سے امریکہ کے سفر پر پابندی عائد کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے یورپ پر نئی
سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کے روز ٹیلیویژن خطاب میں انھوں نے کہا کہ اگلے 30 دن کے لیے یورپ سے
امریکہ آنے والوں کے لیے تمام سفر معطل رہے گا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ سخت مگر ضروری‘ پابندیوں کا اطلاق برطانیہ پر نہیں
ہوگا۔ جہاں اب کورونا وائرس کے 460 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کے 1،135 تصدیق شدہ کیسز ہیں جن میں 38 افراد کی
ہلاکت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ اس وائرس کے نئے کیسز کو ہمارے ساحل سے داخل ہونے سے
روکنے کے لیے ہم اگلے 30 دن کے لیے یورپ سے امریکہ کے سفر کو معطل کردیں گے۔‘
انھوں نے
مزید کہا کہ ’ان نئی پابندیوں کا اطلاق جمعہ کی شب 12 بجے سے ہو گا۔‘
کوئٹہ میں سول سوسائٹی اور شہریوں کا احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے
موئثر اقدامات نہ کرنے اور آبادیوں کے قریب قرنطینہ مراکز قائم کرنے کے خلاف سول
سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ
کیا۔
مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے صوبے میں صحت
کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں معمولی
بیماریوں کے لیے مناسب علاج معالجے کا موئثر انتظام نہیں وہاں کورونا جیسی بیماری
سے بچاﺅ کے
انتظامات کس نوعیت کے ہوں گے ان کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے
لینا چاہیے کیونکہ ایک ایسے علاقے میں جہاں علاج معالجے کی سہولیات پہلے سے تسلی
بخش نہیں وہاں اس کے پھیلنے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔
سول سوسائٹی کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ
میاں غنڈی میں عام شہریوں نے بھی قرب و جوار کے علاقوں میں قرنطینہ مراکز اور
آئسولیشن وارڈ کے قیام کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ احتجاج ہزار گنجی میں قرنطینہ مرکز اور شیخ زید ہسپتال
میں قائم آئسولیشن وارڈ کے خلاف کیا گیا۔
مظاہرین نے ان مراکز کے خلاف کوئٹہ کراچی ہائی وے کو چند گھنٹوں کے لیے بند کیے رکھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان مراکز کو ان علاقوں سے ہٹاکر کسی ایسے علاقے میں منتقل کیا جائے جہاں آبادی کم ہوں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے قرنطینہ مراکز بلوچستان میں قائم کرنے کی بجائے ان کے صوبوں میں قائم کیے جائیں۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان نے دستیاب وسائل سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے پہلے بڑے پیمانے پر موثر اقدامات کیے جس کی ایک واضح مثال تفتان میں بڑے قرنطینہ مرکز کا قیام ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بلوچستان میں رکھنے کی بجائے ان کے صوبوں میں منتقل کرنے کی مطالبے کی بات ہے تو تفتان میں قرنطینہ کا مدت پوری ہونے کے بعد ان کو ان کے صوبوں میں منتقل کیا جائے گا۔
تفتان میں قائم قرنطینہ میں مقیم زائرین کی شکایات, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تفتان میں ایران اور عراق سے آنے والے زائرین کے لیے قائم قرنطینہ
مرکز میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔وہاں مقیم دو خواتین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قرنطینہ
مرکز میں سہولیات پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں جس
مقام پر رکھا گیا ہے وہاں ہر وقت دھول اور مٹی اڑتی رہتی ہے جبکہ سردی سے بچنے کا
بھی مناسب انتظام نہیں ہے۔
خواتین نے کہا کہ اس مرکز میں واش رومز کا بھی مناسب انتظام
نہیں ہے اور جو واش رومز بنائے گئے ہیں وہ انتہائی ناکافی ہیں۔
ان زائرین خواتین کا کہنا تھا کہ انھیں ایران سے آئے ہوئے
11 روز ہوگئے ہیں اور اس دوران کوئی ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی ان کے پاس نہیں آیا۔
اس مرکز میں موجود عامر علی نے بتایا کہ تفتان میں بڑی
تعداد میں لوگوں کو غیر محفوظ طریقے سے رکھا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی
شخص کورونا وائرس سے متاثر ہو تو وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
جبکہ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا
کہنا کہ تفتان میں 3ہزار 7سو افراد کو رکھا گیا ہے اور دستیاب وسائل میں ان کو بہترین
سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان کے اقدامات کی وجہ
سے نہ صرف یہ بلوچستان میں کرونا نہیں پھیل سکا بلکہ یہ اقدامات ملک کے دوسرے
علاقوں میں بھی اس کو روکنے میں مددگار ثابت ہوئے۔
بلوچستان کے ہسپتالوں کا عملہ کورونا کے مریضوں کے علاج کے حوالے سے تشویش کا شکار, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ہسپتالوں کا عملہ کورونا کے
مریضوں کے علاج کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے۔ شیخ زید ہسپتال جہاں کورونا کے
مریضوں کے لیے آئیسولیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے کے عملے کے بعض ارکان نے کام کرنے
سے انکار کیا تھا جبکہ دیگر مراکز کا عملہ بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
اس پر شیخ زید کے عملے کو باقاعدہ طور پر نوٹس بھی جاری
کیا گیا ہے تاہم ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر منظور نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا
کہ کسی نے کام کرنے سے انکار نہیں کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں مطلوبہ حفاظتی انتظامات ہیں۔
یہ نوٹس ویسے تنبیہ کے طور پر دیا گیا تاکہ لوگ اپنی ڈیوٹی میں کسی کوتاہی کا
مظاہرہ نہ کریں۔
جبکہ بلوچستان میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کی تنظیموں کا
کہنا ہے کہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کے لیے کورونا وائرس سے بچانے کے لیے جو موئثر
انتظامات ہونے چائیے تھے وہ ابھی تک نہیں کیئے گئے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر
حنیف لونی نے بی بی سی کو بتایا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے شہروں کے اندر
یا شہروں کے قریب قرنطینہ مرکز یا آئسو لیشن سینٹر قائم کرنا کسی طرح بھی مناسب
نہیں۔
انھوں نے کہا کہ خود ڈاکٹروں یا دیگر عملے کے بچاﺅ
کے لیے مطلوبہ تعداد میں حفاظتی کٹس بھی نہیں ہیں۔نہ موثر ماسک اور دستانے ہیں اور
نہ ہی ہاتھ دھونے کا مناسب انتظام ہے ۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بلوچستان میں
محکمہ صحت کی کسی مرکز میں عملے کی جانب سے کام نہ کرنے سے متعلق خبروں کو مسترد
کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے کورونا کی روک تھام کے لیے دیگر حکومتوں کے
مقابلے میں زیادہ اقدامات کیے ہیں۔
کورونا وائرس: چین میں صورتحال بہتر
چین جہاں سے کورونا وائرس نے سر اٹھایا تھا وہاں صورتحال بہتر ہو رہی ہیں۔ چین میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 22 ہے جبکہ 36 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔
چین میں 80790 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جن میں 3158 جان کی بازی ہار گئے جبکہ 61611 لوگ مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ چین میں اب بھی کورونا وائرس کے 16021 مریض موجود ہیں جن میں 4 ہزار سے زیادہ کی صورتحال نازک بتائی جا رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران: کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد نو ہزار سے زیادہ
ایران میں کورونا وائرس کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایران میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں 63 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد نو ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے اور مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی میں چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 196 افراد ہلاک
اٹلی میں کورونا وائرس سے مرنےوالوں کی تعداد 827 ہو چکی ہے۔ اٹلی جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 12 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے، وہاں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں 196 لوگ کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے۔ چین کے بعد اٹلی میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہے۔
اٹلی میں روز بروز کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹلی کے شمالی صوبے واریسے کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ واریسے لمبارڈی علاقے کا حصہ ہےجہاں کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’کورونا کو عالمی وبا قرار دینے سے عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں فرق نہیں آئے گا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ برائے صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس ادھانوم غیبریسس نے مزید کہا کہ ’عالمی وبا‘ کی اصطلاح کے استعمال میں لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے۔
ایک بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ اگر اس اصطلاح کا غلط استعمال کیا گیا تو یہ غیر ضروری خوف اور مایوسی پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے جس سے اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وبا کو ’عالمی‘ قرار دینے سے عالمی ادارہ صحت کی اس سے نمٹنے سے متعلق کوششوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور دیگر ممالک کو بھی اپنی کوششوں میں تبدیلی نہیں لانی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل کورونا کی عالمی وبا کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی وبا دیکھی جس پر قابو بھی پایا جا سکے۔
اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی کوششوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام ممالک کے دروازوں پر دستک دی ہے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کی جانے والی ناکافی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے شروع دن سے ہی اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں۔۔۔ اور متعدد ممالک نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔‘
’ایسے ممالک جہاں اب اس وائرس کے نتیجے میں متعدد کیسز سامنے آ رہے ہیں، ان کے لیے اب بات یہ نہیں کہ کیا وہ اسے روک سکتے ہیں، بلکہ یہ کہ کیا وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔‘
عالمی وبا ہوتی کیا ہے؟؟؟
اس ویڈیو میں جانیے کہ عالمی وبا درحقیقت ہوتی کیا ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, کورونا وائرس عالمی وبا قرار
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے دیا ہے۔
ادارے کی جانب سے دی گئی میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے دنیا بھر میں کیسز میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران 13 گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ متاثرہ ملکوں کی تعداد تین گنا ہو گئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت 114 ممالک میں 118000 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں جبکہ 4291 افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, آئر لینڈ اور بیلجیئم میں پہلی ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئر لینڈ اور بیلجیئم نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں پہلی پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
آئر لینڈ میں ایک مریض ملک کے مشرق میں بدھ کی صبح ہلاک ہوا۔ آئرش ٹائمز کے مطابق یہ شخص بھی معمر بتائے جا رہے ہیں۔
آئر لینڈ میں اب تک 34 افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔
اسی اثنا میں بیلجیئم نے بھی تصدیق کی ہے کہ بدھ کو تین افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
مرنے والوں میں ایک شخص کی عمر 73 برس ، دوسرا 86 برس جبکہ تیسرا 90 برس کا تھا۔
برطانیہ میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 456 ہو گئی ہے اور ایک دن میں وہاں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
برطانیہ کے محکمہ صحت کے مطابق منگل سے اب تک 83 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
انگلینڈ کے این ایچ ایس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کورونا کی جانچ کے لیے یومیہ تعداد 1500 سے بڑھا کر 10000 کر دی ہے۔
کورونا وائرس: چہرے کو ہاتھ نہ لگانا اتنا مشکل کیوں؟
کسی وبا کے پھوٹنے کی صورت میں ہمیں اپنی ان تمام عادتوں میں سے جو ہمیں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں، کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے۔
جانداروں کی دوسری تمام انواع میں صرف انسانوں کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ غیرارادی طور پر اپنے جسم کو چھوتے ہیں۔ اور انسان کی یہی عادت کورونا وائرس (کووِڈ 19) کی وبا کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔
Coronavirus: کورونا وائرس سے متعلق چند بنیادی سوالات اور ان کے جواب
دنیا میں جیسے جیسے کووِڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے عام آدمی کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں نت نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔یہاں کلک کریں اور جانیے انہی سوالات کے جواب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, کورونا سے پہلا پاکستانی ہلاک
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کورونا وائرس کے باعث پہلے پاکستانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ پاکستان میں یا پاکستان سے باہر کورونا کے باعث کسی پاکستانی کی پہلے ہلاکت ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروق نے بی بی سی کی سحر بلوچ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے پاکستانی میلان سے سو کلو میٹر دور واقع بروشیا نامی شہر کا رہائشی تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 61 سالہ شخص طویل عرصے سے اٹلی میں ہی مقیم تھے۔
کورونا وائرس: سینیٹائزر کے لیے انسان کے استعمال پر سعودی تیل کمپنی ارامکو کی معافی
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر میں دفاتر کے اندر ماسک کے علاوہ ہر ٹیبل پر ہینڈ سینیٹائزر ضرور دکھائی دے رہا ہے لیکن سعودی کمپنی ارامکو کو اپنے ایک ورکر کو سینیٹائزر ڈسپینسر کا کاسٹیوم پہنا کر گھمانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔خبر کی تفصیل کے لیے کلک کریں
دنیا بھر سے تازہ صورتحال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
• ہنڈیورس نے ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے دو کیسز کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے ایک حاملہ خاتون ہیں جنہوں نے سپین کا سفر کیا تھا اور دوسرے مریض سوئٹزر لینڈ سے آئے ہیں۔
• جنوبی افریقہ نے مزید چھ افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل ہے۔ جنوبی افریقہ میں متاثرہ افرگاد کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ ملک میں بڑے پیمانے پر خدشات ہیں کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی کے مریض وہاں ہیں اور ان کے پہلے سے کمزور مدافعتی نظام پر کورونا جلد اثر انداز ہوسکتا ہے۔
• الجیریا نے ملک میں اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی اجتماعات کو معطل کر دیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
• اسرائیل میں کورونا کے 42 مریض ہو چکے ہیں اب وہاں بیرون ملک سے آنے والے سبھی افراد کو 14 دن تک لوگوں سے الگ تھلگ رہنے کو کہا گیا ہے۔
امریکہ میں کورونا کا خوف
امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لوگ پانی کی بوتلیں، ٹوائلٹ رول اور کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کر رہے ہیں۔ واشنگٹن سے نمائندہ بی بی سی ونیت کھرے کی رپورٹ۔
بریکنگ, پاکستان میں کورونا کے 20ویں مریض کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے ایک نئے مریض کی تصدیق کے بعد ملک میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔
گلگت بلتستان کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر شاہ زمان نے بی بی سی اردو کی حمیرا کنول کو بتایا کہ سکردو کے 14 سالہ لڑکے میں وائرس کی تصدیق کی اور بتایا کہ متاثر لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ 25 فروری کو ایران سے پاکستان پہنچا تھا۔
ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق کہ متاثرہ لڑکا چار مارچ کی رات اہل خانہ کے ہمراہ سکردو پہنچا جہاں چھ مارچ کو اس میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں اور اسے آئسولیشن وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق متاثرہ لڑکے کے اہلخانہ کو بھی ان کی رہائش گاہ پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں فی الوقت کورونا کے سب سے زیادہ مریض صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 15 ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں دو، دو جبکہ بلوچستان میں ایک مریض سامنے آیا ہے۔
پاکستان میں اب تک جتنے بھی مریض سامنے آئے ہیں وہ بیرونِ ملک سفر کے بعد واپس وطن پہنچے تھے اور ان میں سے بیشتر نے ایران کا سفر کیا تھا تاہم ایران کے علاوہ شام اور برطانیہ سے واپس آنے والے پاکستانیوں میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
نیویارک کے کورونا سے متاثرہ علاقے میں فوج تعینات
،تصویر کا ذریعہEPA
نیویارک کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو رکنے کے لیے شہر کے شمالی قصبے میں فوج بھیج رہے ہیں۔
نیشنل گارڈ نیو روچیل کے علاقے میں قرنطینہ میں رہنے والوں کے لیے خوارک مہیا کریں گے۔ یہاں کا ایک میل کا علاقہ ’کنٹینمنٹ زون‘ قرار دیا گیا ہے۔
امریکہ میں اب تک کورونا کے 1000 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
صرف نیویارک میں ہی 173 کیسز ہیں، جن میں سے 108 ویسٹچیسٹر کاؤنٹی میں ہیں جہاں نیو روچیل واقع ہے۔ .