کورونا وائرس: ہنگامی صورتحال میں پنجاب حکومت کتنی تیار ہے؟, عمردراز ننگیانہ، بی بی سی اردو، لاہور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر صوبائی حکومت صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ کر چکی ہے۔
اس وقت تک صوبہ بھر میں 85 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 81 افراد کو کلیئر قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم پنجاب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں زائرین حال ہی ایران اور پاکستان کے تفتان بارڈر پر قائم قرنطینہ میں رکھے گئے افراد میں شامل ہیں۔
پنجاب حکومت کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ 700 سے زائد زائرین 20 بسوں کے ذریعے بلوچستان سے پنجاب میں داخل ہوں گے۔
تاہم حکام کے مطابق ’پنجاب میں داخل ہونے پر ایک مرتبہ پھر ان کا معائنہ کیا جائے گا۔ مشتبہ افراد کو ہسپتال جبکہ دیگر افراد کو گھروں کے اندر 14 روز کے لیے زیرِ نگرانی رکھا جائے گا۔‘
اگر کسی کو مزید قرنطینہ میں رکھنے کی ضرورت پیش آئی تو ڈیرہ غازی خان میں واقع غازی یونیورسٹی میں 1740 افراد کی گنجائش کا قرنطینہ مرکز قائم کر دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے حکام نے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر دو قسم کے انتظامات کر رکھے ہیں۔
صوبہ بھر کے ہسپتالوں کو مشتبہ مریضوں کو علیحدگی میں رکھنے، محفوظ ترسیل کرنے اور علاج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایسے افراد کی نقل و حرکت اور طبی صورتحال کی نگرانی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کے مطابق صوبہ کے تین شہروں میں مجموعی طور پر 495 بستروں پر مشتمل تین ہسپتالوں میں آئسولیشن یعنی مریضوں کو زیرِ نگرانی رکھنے کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔
ان میں راولپنڈی میں 50 بستروں، لاہور میں 75 اور جنوبی پنجاب میں مظفر گڑھ میں 370 بستروں پر مشتمل ہسپتال شامل ہیں۔ صوبہ پنجاب کے بلوچستان اور سندھ کے ساتھ لگنے والے علاقوں میں قرنطینہ اور نگرانی کے نتظامات زیادہ بڑے پیمانے پر کیے گئے ہیں۔
قرنطینہ کی سب سے بڑی سہولیات غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں قائم ہے جہاں 130 کمروں پر مشتمل 1740 افراد کی گنجائش رکھی گئی ہے۔















