پاکستان میں انٹرنیٹ بینکنگ سے رقومات کی منقتلی اور ادائیگی پر عائد تمام چارجز کا خاتمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے بینکوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بینک کے دفاتر آنے سے گریز کریں اور بلوں کی ادائیگی، رقومات کی منتقلی کے لیے آن لائن بینکنگ، موبائل بینکنگ یا پھر ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کریں۔
یہ ہدایات جمعرات کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والے احکامات کی روشنی میں جاری کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ سٹیٹ بینک نے انٹرنیٹ، موبائل بینکنگ سے رقومات کی منقتلی اور ادائیگی پر عائد تمام چارجز ختم کردیے تھے۔
سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ کورونا وائرس کی صورتحال کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ فنانشل سہولیات موجود رہیں اور لوگوں کی بینکوں میں آمد کو کم سے کم کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کرنسی کے پھیلاؤ کو کم سے کم کیا جا سکے گا کیونکہ کرنسی نوٹ کے ذریعے بھی وائرس پھیلنے کے خدشات موجود ہوتے ہیں۔
سٹیٹ بینک کے جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے بینکنگ کا رجحان مقبول ہو رہا ہے۔ ریئل ٹائم آن لائن برانچز، اے ٹی ایم، پی او ایس مشینوں، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ، کال سینٹرز، ای کامرس اس کا ذریعہ ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق گزشتہ سال ان ذرائع سے 170 ٹرلین کی منتقلیاں کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ساڑھے 15 ہزار سے زائد بینکوں کی برانچز ہیں جبکہ 15 ہزار کے قریب اے ٹی ایم مشینیں اور 56 ہزار سے زائد پی او ایس مشینیں موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہState Bank of Pakistan













