کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. چین: ویکسین کی آزمائش کے لیے انجیکشن تقسیم

    کورونا وائرس، ویکسین، کووڈ 19، چین، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق کووڈ 19 کی پہلی ویکسین کی طبی آزمائش کے لیے رضا کاروں میں انجیکشن تقسیم کر دیے گئے پیں۔

    گلوبل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ویکسین چینی فوج کے سائنسدانوں نے بنائی ہے اور اسے پیر کی شب منظور کیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ چین کا یہ اعلان کورونا وائرس کے لیے ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کے لیے امریکی اعلان کے 19 گھنٹے بعد کیا گیا۔

    چین میں ناول کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک 3245 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  2. ایران میں 966 نئے کیسز کی تصدیق

    ایران، کورونا وائرس، تہران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    21 مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے 966 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس طرح ملک میں کووڈ 19 کے کل مریضوں کی تعداد 20 ہزار 610 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 123 رہی جبکہ کل 1556 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

    ایران میں اس عالمی وبا کے مریضوں اور ہلاکتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں تہران میں ایک بار پھر سب سے زیادہ 232 کیسز سامنے آئے ہیں۔

  3. کورونا کا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر پر اثر, عامر پیرزادہ، بی بی سی سری نگر

    kashmir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ کئی مہینوں سے لاک ڈاؤن کی زد میں رہنے والے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 18 مارچ کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔

    سری نگرکی رہائشی جن 67 سالہ خاتون میں وائرس پایا گیا وہ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب سے واپس آئی تھیں۔

    خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان خاتون کے گھر کے آس پاس تین سو میٹر کے علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔

    سری نگر میں کورونا کا مریض سامنے آنے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کا اندازہ راشن اور روز مرہ کی چیزوں کی خریداری کے لیے لمبی قطاروں اور پٹرول پمپ کے سامنے کھڑا ہجوم دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔

    سری نگر کے ضلعی مجسٹریٹ شاہد چودھری نے ٹویٹ کیا کہ ’کورونا وائرس کے انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سری نگر شہر میں نقل و حمل پر پابندی نافذ کی گئی ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں میڈیکل ٹیمیں تعینات کی گئیں ہیں۔ انتظامیہ نے تمام ضروری انتظامات کر رکھے ہیں۔ براہ کرم گھر پر ہی رہیں۔‘

    kashmir

    ریجنل ٹرانسپورٹ افسر نے کشمیر کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس کے ساتھ ہی باہر سے پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمد پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

    وادی میں سڑکوں پر پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی گئی ہے تاکہ ٹریفک اور لوگوں پر نظر رکھی جاسکے۔

    صرف سرکاری ملازمین ، میڈیا والوں کو کہیں بھی جانے کی اجازت ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے پاس درست شناختی کارڈ موجود ہو۔اس کے علاوہ ، اگر کوئی ہنگامی صورتحال ہے تو ، صرف شہریوں کو ہی باہر جانے کو کہا گیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے باقاعدگی سے اعلانات کیے جارہے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں اور معاشرتی فاصلے پر پوری طرح عمل کریں۔

    ابھی تک جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے چار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔جن میں سے تین مقدمات جموں کے ہیں اور ایک کا تعلق کشمیر سے ہے۔

  4. انڈیا میں کورونا کے 282 مریض، چار اموات

    انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطابق 21 مارچ 2020 کو صبح 10 بجے تک انڈیا میں کورونا وائرس کے 282 مریضوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    کووڈ-19 وائرس سے انڈیا کی 22 ریاستیں متاثر ہو چکی ہیں جبکہ اس سے دہلی، کرناٹک، پنجاب اور مہاراشٹر میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    مہاراشٹر انڈیا کی سب سے متاثرہ ریاست ہے جہاں اب تک 63 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 11 مریض ایک ہی دن میں سامنے آئے ہیں۔

  5. کیا گرمی سے کورونا وائرس ختم ہوجاتا ہے؟

    کورونا وائرس، گرمی، موسم گرما

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا کے کئی ممالک میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ گرمی اور درجہ حرارت زیادہ ہونے سے کورونا وائرس خود بخود مر جاتا ہے۔

    یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ گرم پانی پینا چاہیے اور گرم پانی سے ہی نہانا چاہیے تاکہ وائرس کا پھیلاؤ رُک سکے۔

    کچھ جگہوں پر تو اس پیغام کو اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف سے بھی جوڑا گیا ہے۔

    یونیسیف سے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو یہ معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے ایسا کوئی پیغام جاری نہیں کیا۔

    ’حال ہی میں ایک پیغام انٹرنیٹ پر یونیسیف کے نام سے چل رہا ہے کہ آئس کریم اور ٹھنڈی چیزیں کھانے سے وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔‘

    یونیسیف نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیغام جھوٹ پر مبنی ہے۔

    امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں وائرسز کے ماہر نیلجے وان دورمالن مختلف سرفیسز پر ان وائرسز پر ٹیسٹ کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت اور زیادہ نمی میں کورونا وائرسز جلدی مر جاتے ہیں۔ محققین کی رائے میں اس جیسے کورونا وائرسز 56 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرمی میں مر جاتے ہیں مگر یہ اتنا گرم ہے کہ اس درجہِ حرارت کے پانی میں نہانے سے انسانی جلد کو نقصان ہو سکتا ہے۔

    تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے ایسی کوئی ٹھوس تحقیق نہیں ہوئی جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ موسم گرما کی آمد پر یہ عالمی وبا ختم ہو جائے گی۔

  6. انڈیا: حکومت نے ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کی قیمتیں متعین کردیں

    کورونا وائرس، انڈیا، ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کی قیمت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وفاقی وزیر رام رلاس پسون نے کہا ہے کہ حکومت نے ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کی قیمتیں متعین کر دیں ہیں اور لوگوں کو یہ اقدام سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

    ٹوئٹر پر ان کے ایک پیغام کے مطابق ملک بھر میں ماسک آٹھ سے 10 روپے میں فروخت ہوگا جبکہ ہینڈ سینیٹائزر کی 200 ایم ایل کی بوتل 100 روپے یا اس سے کم میں دستیاب ہوگی۔

    ان اشیا کی قیمت 30 جون 2020 تک یہی رکھنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

    انڈین وزیر نے یہ تسلیم کیا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ان اشیا کی طلب اور قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جبکہ یہ اقدام اسی وجہ سے لیا گیا ہے۔

  7. جنوبی کوریا، سعودی عرب میں نئے کیسز

    کورونا وائرس، جنوبی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو جنوبی کوریا میں 147 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

    فروری کے مقابلے مارچ میں یہاں کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ملک میں اب تک 8799 لوگوں میں کووڈ 19 کی تشخیص کوئی ہے۔

    ایک دن میں سب سے زیادہ 909 کیسز 29 فروری کو آئے تھے۔

    دوسری طرف سعودی عرب میں جمعے کو کورونا وائرس کے 70 کیسز سامنے آئے ہیں اور ملک میں کیسز کی کل تعداد 344 ہے۔

  8. جیک ما کا ایمرجنسی سامان عطیہ کرنے کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    چینی کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے کہا ہے کہ وہ پاکستان، سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک میں ایمرجنسی سامان عطیّہ کریں گے۔

    اس سامان میں 18 لاکھ ماسک، دو لاکھ 10 ہزار ٹیسٹ کٹ، 36 ہزار حفاظتی لباس، وینٹی لیٹرز اور تھرما میٹر شامل ہیں۔

  9. کورونا وائرس مختلف سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟

    کورونا وائرس مختلف سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بہت سارے ریسپیریٹری یعنی سانس کے نظام پر اثر انداز ہونے والے وائرسز کی طرح کورونا وائرس ان چھوٹے چھوٹے قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے جو کسی کھانسنے والے کے منہ اور ناک سے خارج ہوتے ہیں۔

    ایک کھانسی میں 3000 تک ایسے قطرے آ سکتے ہیں۔

    امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں وائرسز کے ماہر نیلجے وان دورمالن مختلف سرفیسز پر ان وائرسز پر ٹیسٹ کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔

    ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ کھانسنے کے بعد یہ وائرس ہوا میں تین گھنٹے تک رہ سکتا ہے۔

    کھانسی کے ایک سے پانچ مائیکرو میٹر چھوٹے چھوٹے قطرے ہوا میں کئی گھنٹوں تک رہ سکتے ہیں۔ یہ سائز انسانی بال سے 30 گنا زیادہ کم ہے۔

  10. کن ممالک نے سفری پابندیاں عائد کی ہیں؟

    سفر، پابندی، ملک، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • کینیڈا میں صرف کینیڈین یا امریکی شہری، مستقل قیام پذیر شہری یا سفارتی عملہ ہی داخل ہوسکے گا۔ ایک روز قبل پی آئی اے کی ٹورنٹو جانے والی پرواز پر ان افراد کو سفر نہیں کرنے دیا گیا جن کے پاس وزٹ یا بزنس ویزا تھا۔ اس پرواز سے 37 مسافروں کو اس وقت اتار دیا گیا جب وہ جہاز میں سوار ہو چکے تھے۔
    • چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچنے والے تمام لوگوں کو مخصوص ہوٹل یا کسی قرنطینہ مرکز میں لازماً 14 دن گزارنے ہوں گے۔
    • ہانگ کانگ نے کہا ہے کہ تمام ممالک سے آنے والے مسافروں کو خود کو 14 دن کے لیے تنہائی میں رکھنا ہوگا
    • جاپان نے گذشتہ 14 دن کے اندر جنوبی کوریا، ایران یا اٹلی میں وقت گزارنے والے لوگوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کے بیشتر ملکوں سمیت 38 ممالک سے آنے والے مسافروں کو خود کو جاپان کی حکومت سے منظور شدہ جگہوں پر تنہائی میں رکھنا ہوگا۔
    • ملائیشیا میں محدود استثنیٰ کے علاوہ تمام ممالک کے شہریوں کے ملک میں داخلے یا ٹرانزٹ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
    • برطانیہ نے ملک میں داخلے پر پابندی عائد نہیں کی ہے لیکن اپنے شہریوں کو 30 دن کے لیے دنیا بھر کا غیر ضروری سفر کرنے سے روک دیا ہے۔
    • امریکہ نے ان تمام غیر ملکی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے جو گذشتہ 14 روز میں چین، ایران، یورپ کے شینگن ممالک، برطانیہ اور آئرلینڈ کا دورہ کر چکے ہوں۔ امریکہ نے جن ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے ان میں فی الحال پاکستان شامل نہیں ہے۔
  11. سڈنی: ساحل سمندر پر لوگوں کی آمد کے خلاف پولیس کی کارروائی

    سڈنی، ساحل سمندر، پولیس

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلیا میں سڈنی کی پولیس نے بونڈائے بیچ (ساحل سمندر) پر کارروائی کرتے ہوئے اسے بند کر دیا ہے کیونکہ یہاں لوگوں کی تعداد طے کردہ حد سے تجاوز کر رہی تھی۔

    آسٹلریلیا میں گھروں یا عمارتوں سے باہر 500 سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

    تاہم سڈنی کے ساحل سمندر پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو رہی تھی جس سے حکام کو وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش تھی۔

    لوگ گھروں کے اندر رہنے کی حکم کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

    جمعے کو جاری ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ساحل سمندر پر لوگ نہا رہے ہیں، دھوپ سینک رہے ہیں اور سرفنگ کر رہے ہیں۔

    پولیس نے اسی روز ساحل سمندر کو عارضی طور پر بند کر دیا اور فی الحال یہ واضح نہیں کہ اسے کب کھولا جائے گا۔

  12. کورونا سے دو لاکھ 75 ہزار متاثر، 11 ہزار ہلاکتیں

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ 75 ہزار سے بڑھ گئی ہے وہیں ہلاک شدگان بھی 11 ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں۔

    دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والی اس وبا کا اثر چین میں تو کچھ کم ہوا لیکن اس وقت یورپ اس کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    اٹلی اب کورونا سے ہلاکتوں کے معاملے میں چین سے بھی آگے بڑھ گیا ہے اور صرف جمعے کو وہاں 627 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی جو وبا کے آغاز کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

    اب اٹلی میں 47 ہزار سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر جبکہ چار ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

    اٹلی کے علاوہ یورپ میں فرانس، سپین اور برطانیہ وہ ممالک ہیں جو کورونا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

  13. عمر رسیدہ افراد کے مقابلے نوجوانوں کو ہسپتال داخل نہیں ہونا پڑتا؟, سٹیفنی ہیگرٹی، بی بی سی

    کورونا وائرس، نوجوان، ہسپتال، عمر رسیدہ افراد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اب تک اس وائرس کے سلسلے میں اتنے ٹیسٹ نہیں کیے گئے کہ یہ پتا چلے کہ یہ وائرس خاص طور پر کن لوگوں کو لگتا ہے اور اس کے ان پر کیا اثر ہوتے ہیں۔

    مختلف اندازوں سے پتا چلاتا ہے کہ نوجوان قدرے کم ہسپتال میں داخل ہوں گے۔ تاہم امریکہ میں سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ ایسے تخمینے درست نہیں اور نوجوانوں کی شرح بھی ان تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    سی ڈی سی کی رپورٹ میں ملک میں 2500 ابتدائی کیسز کو دیکھا گیا ہے جن لوگوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا، ان میں 38 فیصد 20 سے 54 سال کی عمر کے تھے۔ اگر اس رینج کو 20 سے 44 سال کر دیا جائے تو یہ شرح 20 فیصد ہو جاتی ہے۔

    تاہم یہ بات درست ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے والے تصدیق شدہ کیسز میں بڑی عمر کے لوگوں کی شرح زیادہ ہے۔ عالمی سطح ہر 85 سال کی عمر سے زیادہ کے متاثرہ لوگوں میں 14.8 فیصد لوگ اس وائرس سے ہلاک ہو گئے۔

    مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ نوجوان اس وائرس متاثر نہیں ہو رہے اور انتہائی شدید بیمار نہیں ہو رہے۔

    سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق 20 سے 39 سال کی عمر کے لوگوں کی ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح 50 سے 69 کی عمر کے لوگوں کی شرح سے تھوڑی ہی کم ہے۔

  14. نوجوان کورونا کے خطرے سے محفوظ نہیں: عالمی ادارۂ صحت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ انھیں کورونا وائرس متاثر نہیں کر سکتا اور انھیں بزرگ افراد سے میل ملاقات سے گریز کرنا چاہیے۔

    ادارے کے ڈائریکٹر تیدروس ایدہانوم نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی جانب سے کیے گئے میل ملاقات کے فیصلے ’کسی اور کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

    عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر کی جانب سے یہ بیان ایسی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں نوجوان اس وائرس کے بارے میں تنبیہی پیغامات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے اور ان کا خیال ہے کہ کورونا بزرگ اور معمر افراد کو ہی زیادہ متاثر کر سکتا ہے۔

    ایک آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ معمر افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں لیکن اس وائرس نے نوجوانوں کو بھی نہیں بخشا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ناقابلِ تسخیر نہیں۔ یہ وائرس انھیں کئی ہفتے کے لیے ہسپتال پہنچا سکتا ہے یہاں تک کہ مار بھی سکتا ہے۔ اور یہی نہیں ممکن ہے کہ آپ بیمار نہ ہو لیکن آپ کے ان فیصلوں کی وجہ سے کہ آپ کہاں جائیں گے یہ کسی اور کے لیے زندگی موت کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

  15. امریکی طلبا کی ویڈیو پر تنقید, سٹیفنی ہیگرٹی، بی بی سی

    کورونا وائرس، نوجوان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک طرف دنیا بھر میں لوگ خود کو قرنطینہ میں رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب فلوریڈا کے ساحلی شہر میامی میں نوجوان طلبہ شراب کے نشے میں پارٹی کر رہے ہیں۔

    ایسا لگاتا ہے کہ نوجوانوں کے خیال میں انھیں کچھ نہیں ہو سکتا۔ امریکہ میں نئے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

    امریکی میڈیا میں رپورٹ ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میامی میں ایک نوجوان کہتا ہے کہ ’اگر مجھے کورونا ہوگیا تو کورونا ہوگیا۔ میں اسے خود کو پارٹی کرنے سے نہیں روکنے دوں گا۔‘

    اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں نے جہاں غم و غصہ ظاہر کیا وہیں کچھ کا کہنا ہے کہ شاید نوجوانوں کو اس حوالے سے دیے گئے پیغامات صحیح نہیں تھے۔

    اور امریکی میں ابتدائی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو بھی اس وائرس سے شدید خطرہ ہے۔

  16. سماجی دوری کے لیے عالمی اقدامات

    paris

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دنیا میں کورونا وائرس کے نئے مریض سامنے آنے اور اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعے کو اس سلسلے میں مختلف ممالک میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں

    سپین: ہسپانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ فوج ایسے افراد کو پکڑے گی جو بلامقصد گھروں سے باہر پائے جائیں گے

    جرمنی: جرمنی کی دوسری گنجان آباد ترین ریاست بوویریا ملک میں لاک ڈاؤن کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔

    فرانس: فرانسیسی پولیس نے اختتامِ ہفتہ پر سیر سپاٹے کے لیے جانے افراد کو روکنے کے لیے پیرس کے ریلوے سٹیشنوں پر گشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    انڈونیشیا: دارالحکومت جکارتہ میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور پیر سے بارز، سنیما اور متعدد دیگر کاروبار بند کر دیے جائیں گے۔

  17. ہر پانچویں امریکی کو گھر میں رہنے کا حکم

    لاس اینجلس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں کیلیفورنیا کے بعد دیگر کئی ریاستوں نے بھی عام معمولاتِ زندگی معطل کرنے اور شٹ ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس بندش کے نتیجے میں اندازاً امریکہ کی 20 فیصد آبادی کو جلد ہی گھر تک محدود رہنے کا حکم مل جائے گا۔

    کیلیفورنیا اور الینوائے پہلے ہی لاک ڈاؤن کا اعلان کر چکی ہیں جبکہ اب کنیٹیکٹ اور نیو جرسی میں بھی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کورونا سے بچاؤ کے لیے گھروں میں رہیں۔

    ریاست نیویارک میں تمام غیر ضروری کاروبار بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    امریکہ نے سنیچر کی رات 12 بجے سے 30 دن کے لیے میکسیکو اور کینیڈا سے متصل اپنی سرحد کے آرپار غیرضروری سفر پر بھی پابندی عائد کی ہے تاہم اس کا اطلاق تجارتی گاڑیوں پر نہیں ہو گا۔

    جمعے کو اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے امریکی شہریوں سے کہا کہ وہ پابندی کے نفاذ سے قبل وطن واپس آ جائیں ورنہ ان کی واپسی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    امریکہ میں کورونا وائرس سے 230 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد ساڑھے 18 ہزار سے زیادہ ہے۔

    دنیا بھر میں کورونا کے متاثرین کی تعداد دو لاکھ 70 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ 11 ہزار سے زیادہ لوگ اس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

  18. سماجی دوری اور شاہ رخ خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. برطانیہ میں کیفے، ریستوراں بند رکھنے کا حکم

    کورونا وائرس، برطانیہ، کلب

    ،تصویر کا ذریعہWARREN LITTLE/GETTY IMAGES

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جمعے کی شب سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام کیفے، پب اور ریستوراں بند رہیں گے جبکہ کھانا گھر لے جانے کی سہولت (ٹیک آوے) دستیاب رہے گی۔

    برطانیہ میں تمام نائٹ کلب، تھیٹر، سینما، جِم اور دیگر عوامی مقامات کو جلد از جلد بند رکھنے کا کہا گیا ہے۔

    بورس جانسن نے کہا ہے کہ ہر ماہ اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    دوسری طرف حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایسے ملازمین کی مدد کریں گے جو اس صورتحال کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے۔ حکومت ایسے لوگوں کو ان کی تنخواہ کا 80 فیصد حصہ ادا کرے گی۔

    انگلینڈ میں کورونا وائرس کی وجہ سے 167 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  20. امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان ’غیر ضروری‘ نقل و حرکت معطل

    امریکہ، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ اپنی سرحدوں پر تمام غیر ضروری نقل و حرکت معطل کر دی ہے۔

    یہ ان اقدامات میں شامل ہے جن میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ اس بندش کا آغاز سنیچر کی شب سے ہوگا لیکن اس سے تجارت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

    کیلیفورنیا اور الینوائے سمیت کچھ امریکی ریاستوں میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔ نیویارک میں غیر ضروری کاروبار بند رکھنے کا حکم ہے۔

    جلد ہر پانچ میں سے ایک امریکہ پر ’گھر پر رہنے‘ کا حکم نافذ ہوگا۔

    امریکہ میں 18500 افراد میں اس وائرس کی تشخیص جبکہ 230 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔