کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. تائیوان میں قرنطینہ توڑنے پر 33 ہزار ڈالر جرمانہ

    تائیوان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تائیوان میں حکام نے قرنطینہ کی خلاف ورزی کرنے اور تفریح کے لیے کلب جانے والے ایک شخص کو 33 ہزار ڈالر کے مساوی جرمانہ کر دیا ہے۔

    یہ شخص بیرونِ ملک سے واپس آیا تھا اور اسے قانون کے مطابق دو ہفتے کے لیے تنہا رہنا تھا لیکن وہ اتوار کو دارالحکومت تائیپی میں تفریح کرتا پایا گیا۔

    حکام نے اس شخص پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ عائد کیا ہے۔

    خیال رہے کہ تائیوان کے چین سے قریب ہونے کے باوجود وہاں کورونا کے کم مریض سامنے آنے پر وہاں کی حکومت کی تعریف کی جا رہی ہے۔

    تائیوان میں اب تک صرف 195 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    تائیوان نے ملک میں غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ شہریوں کو بیرونِ ملک سے آنے پر 14 دن کے لیے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔

  2. اٹلی کی جانب سے پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی میں قومی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے دو ہفتے بعد حکومت نے شہریوں پر پابندیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اٹلی کے وزیرِ اعظم جزیپ کونٹے نے تمام غیر ضروری دوکانوں اور تجارتی مراکز کو بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ لوگوں کے میل جول میں کمی لائی جا سکے۔

    تقریباً 100 قسم کی کمپنیاں کھلی رہیں گی جن میں کھانے پینے کے مراکز، کیمیکلز، توانائی اور کاغذ بنانے والی فیکٹریاں، گاڑیوں کے پارٹس اور کفن بنانے والی فیکٹریاں شامل ہیں۔

    اٹلی میں لوگوں کو اپنا قصبہ چھوڑنے کی بھی ممانعت ہے اور انھیں ملک کے اندر سفر کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اٹلی کے شمال میں واقع علاقے لمبارڈی میں اب تک سب سے زیادہ اموات سامنے آئی ہیں اور یہاں گھروں سے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہے۔

  3. بریکنگ, فلسطین میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آ گئے, کورونا وائرس سے متاثرہ دونوں افراد گذشتہ ہفتے پاکستان سے واپس آئے تھے

    فلسطین

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    فلسطینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کے دو شہریوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو گذشتہ ہفتے پاکستان سے واپس لوٹے تھے۔

    ان میں ایک کی عمر 79 اور دوسرے کی عمر 63 تھی اور وہ مصر کے راستے غزہ پہنچے تھے او اب انھیں مصر کے ساتھ سرحدی علاقے رفاح میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جبکہ وہ افراد جو ان دونوں سے رابطے میں تھے انھیں آئیسولیشن میں رکھا جائے گا۔

    گذشتہ روز مغربی کنارے میں فلسطین کے وزیر اعظم نے عوام سے خطاب میں کہا کہ وہ اتوار سے اگلے دو ہفتے تک خود کو گھروں میں محصور کر لیں اور صرف صحت کے شعبے سے منسلک افراد، فارمیسی اور گروسری بیچنے والے افراد کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔

    اقوام متحدہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کووڈ 19 اگر غزہ میں پھیلا تو بہت تباہ کن حالات پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ 2007 سے اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے باعث فلسطین میں شدید غربت ہے اور ان کانظام صحت بھی ناقص ہے۔

  4. نیویارک شہر میں طبی ساز و سامان میں کمی متوقع، 15000 سے زائد کیسز کی تشخیص

    nycv

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے شہر نیویارک کے مئیر نے کہا ہے کہ وہاں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے باعث شہر کے پاس میسر طبی سہولیات اور ساز و سامان کی کمی سے معاملات اور بگڑ سکتے ہیں۔

    بل ڈی بلاسیو نے این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ممکن ہے کہ اگلے دس روز میں ہمیں طبی ساز و سامان میں بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑے اور اگر ہمیں وینٹی لیٹرز نہیں ملک تو کئی لوگ مر سکتے ہیں۔‘

    امریکہ میں اب تک 31 ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیسز اور 390 اموات ہوئی ہیں نصف کے قریب کیسز (15168) نیویارک سٹیٹ امریکہ میں سامنے آئے ہیں۔

    نیو یارک کے مئیر نے کہا: ’امریکیوں کو کڑوا سچ بتانا ضروری ہے۔ یہ معاملہ بد سے بدتر ہوتا جا رہج ہے اور اپریل اور مئی میں حالات بہت برے ہوں گے۔‘

  5. جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں واضح کمی، لیکن ’طویل جنگ کا سامنا‘

    korea

    ،تصویر کا ذریعہafp

    چار ہفتے قبل سب سے زیادہ تعداد میں کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آنے کے بعد جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ نئے متاثرین کی تعداد میں واضح کمی سامنے آئی ہے جس سے یہ امید روشن ہوئی ہے کہ چین کے بعد ایشیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ملک میں یہ اس وبا پر قابو پایا جا رہا ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹے میں جنوبی کوریا میں 64 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس تعداد کے بعد ملک میں مجموعی طور پر متاثرین کی کل تعداد 8961 ہو گئی ہے جبکہ 111 افراد کی موت ہو چکی ہے۔

    جنوبی کوریا کے حکام نے تنبیہ کی ہے کہ خطرہ ابھی بھی نہیں ٹلا ہے اور جنوبی کوریا کو ابھی بھی ایک طویل جنگ کا سامنا ہے۔

  6. کورونا: برطانیہ میں مکڈونلڈز، کاسٹا کافی اور نینڈوز بند

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPA

    برطانیہ میں کھانے پینے کے ریستوارنوں نے اپنے آپریشن محدود کرنے کا اعلان کیا ہے اور صرف ڈرائیو تھرو یا ڈیلیوری سروس بحال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان ریستورانوں میں مکڈونلڈز، نینڈوز اور کاسٹا کافی شامل ہیں۔ مکڈونلڈز نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں سوموار تک تمام 1270 ریستوارن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ادھر نینڈوز نے بھی برطانیہ میں تقریباً 400 ریستوران غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مکڈونلڈز کا کہنا ہے کہ ایسا انھوں نے اپنے ہاں کام کرنے والے سٹاف اور صارفین کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    کاسٹا کافی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کافی شاپ ہسپتالوں میں بدستور چلتی رہے گی جہاں این ایچ ایس ورکرز اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. اولمپکس گیمز 2020 کے انعقاد پر شکوک و شبہات بڑھنے لگے

    کینیڈا کی جانب سے کورونا کے عالمی پھیلاؤ کی وجہ سے اپنا دستہ بھیجنے سے انکار کے بعد جاپان میں ہونے والے 2020 اولمپکس اور پیرالمپکس گیمز کے انعقاد پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔

    جاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ کھیل ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔

    ادھر آسٹریلین ٹیم کا بھی کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ان گیمز کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا اس وجہ انھوں نے اپنے ایتھلیٹس کو کہا ہے کہ وہ 2021 میں ہونے والی گیمز کی تیاری کریں۔

    اولمپکس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  8. بریکنگ, ہانگ کانگ میں غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی

    ہانگ کانگ میں حکام نے غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

    شہر کے رہنما کیری لام نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اس پابندی کا اطلاق بدھ سے اگلے 14 دن کے لیے ہو گا۔

  9. ایرانی صدر: ’امریکہ کی امداد کی پیشکش تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ سے کہا کہ وہ جھوٹی پیشکش کرنے کی بجائے اپنی ’دہشت گرد‘ پابندیوں کو ہٹائے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف لڑا جا سکے۔

    وہ پیر کے روز کورونا وائرس کے حوالے سے ایک میٹنگ کی سربراہی کر رہے تھے جسے مقامی ٹی وی چینل نے براہ راست نشر کیا۔

    روحانی نے امریکہ کی امداد کو ’تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی ’مجرمانہ اور دہشتگرد‘ پابندیوں کے باعث ایران میں میڈیکل سپلائی رکاوٹ بن رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا ’اگر آپ نے مدد کرنی ہے تو ایرانی قوم کی ترقی کی راہ سے ہٹ جائیں۔‘

    ان کی امداد کی پیشکش ایسی ہے جیسے صاف پانی روک کر گدلے پانی کے گلاس کی پپیشکش کرنا۔‘

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے امداد کی پیشکش کو گذشتہ روز ایک تقریر میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

  10. انڈیا کے 75 اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن، تمام مسافرٹرینیں بند, شکیل اختر، بی بی سی اردو

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ہی ملک کے 75 اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

    دلی، جھارکھنڈ، پنجاب اور ناگا نینڈ جیسی ریاستوں نے بھی اس مہینے کے اواخر تک لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے پورے ملک میں سبھی مسافر ٹرینوں کی آمدورفت بند کر دی ہے۔

    دلی میں لاک ڈاؤن کا نفاذ پیر کی صبج سے کیا گیا ہے۔ دارالحکومت میں میٹرو ریلوے سمیت سبھی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں۔ صرف لازمی خدمات سے وابستہ دفاتر کھلے ہوئے ہیں۔

    دواؤں اور روزمرہ کی اشیا کی دوکانوں کے علاوہ سبھی دوکانیں اور بازار بند ہیں۔ اس دوران کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 415 ہو گئی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 8 بتائی جاتی ہے۔

    وبائی بیماریوں کے ماہرین انڈیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    مہاراشٹر، مغربی بنگال، ہریانہ، آندھرا پردیش اور اتر پردیش میں جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ممبئی میں مقامی ٹرینیں بند کر دی گئی ہیں۔

    بہت سے شہروں میں لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ کورونا کے خوف سے لاکھوں نوکری پیشہ افراد ممبئی، پونے، بنگلور اور دلی جیسے شہروں سے اپنی آبائی ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں۔

    مسجد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لیکن ٹرینیں بند ہو جانے سے بڑی تعداد میں یہ ورکرز سفر نہیں کر سکیں گے۔ اندورنی ریاست بھی مائگرینٹ ورکرز میں اپنے آبائی گھر جانے کے لیے افراتفری مچی ہوئی ہے۔

    اتوار کے روز پورے ملک میں صبح سات بجے سے چودہ گھنٹے کا ’عوامی کرفیو نافذ کیا گیا تھا جس کے دوران سبھی لوگ اپنے گھروں میں بند رہے۔ دلی سمیت بڑے بڑے شہروں میں سڑکیں ویران ہیں۔

    پورے ملک میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے۔ لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن پر سنجیدگی سے عمل کریں۔

    کل انھوں نے ایک ٹویٹ پیغام مین کہا تھا کہ ’عوامی کرفیو کامیاب رہا ہے لیکن یہ ایک لمبی لڑائی کا محض آغاز ہے۔‘

    انڈیا کی پارلیمنٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مالیاتی بل منظور کرنے کے بعد دونوں ایوانوں کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے کی توقع ہے۔

    مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں کرونا کے مریضوں کی تشحیص اور دیکھ بھال کے لیے قرنطینہ کے نئے مرکز کھولنے میں مصروف ہیں ۔

  11. دنیا کی سب سے مہنگی گھڑ دوڑ بھی ملتوی

    گھڑ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دبئی ورلڈ کپ جسے دنیا کی مہنگی ترین گھڑ دوڑ بھی کہا جاتا ہے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث ملتوی کر دی گئی ہے۔

    حکام کا اس دوڑ کو 28 مارچ کو میڈان ریس کورس میں بند دروازوں کے پیچھے منعقد کروانے کا ارادہ تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے فیصلہ کیا کہ اسے شرکا کے تحفظ کے غرض سے مؤخر کر دیا جائے۔

    یہ اس دوڑ کا 25واں ایڈیشن تھا جس کی کل انعامی رقم ساڑھے تین کروڑ ڈالر تھی۔ سنہ 2019 میں تھنڈر سنو نامی گھوڑا دو مرتبہ دبئی ورلڈ کپ جیتنے والا پہلا گھوڑا بن گیا تھا۔

  12. چینی بالآخر سکھ کا سانس لینے لگے!

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنچین میں بالآخر کرفیو اور لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کے باعث چین کے باسی بھی سکھ کا سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

    سوموار کے روز چین کے صوبہ ہوبائی، جس کے شہر ووہان سے یہ وائرس شروع ہوا تھا، وہاں ایک اور شہر میں کرفیو کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ باہر جا سکتے ہیں اگر وہ احتیاطی تدابیر یعنی ماسک پہنیں اور اس سماجی دوری اختیار کریں
    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک حجام اور صارف ماسک پہنے ہوئے ہیں، چین میں لگی سخت گیر پابندیوں کے دوران اکثر شہروں میں حجاموں کی دوکانیں بھی بند کر دی گئی تھیں۔
    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشندسمبر کے اوائل میں شروع ہونے والے اس وائرس سے چین کے 81 ہزار سے زائد لوگوں کو متاثر کیا
  13. ہاروی وائن سٹائن میں کووڈ 19 کی تشخیص

    ہاروی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنسی زیادتی اور ریپ کے جرم میں جیل کی سزا کاٹنے والے ہالی ووڈ کے سابق فلم پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن میں بھی کووڈ19 کی تشخیص ہوئی ہے۔

    وائن سٹائن نیویارک میں وینڈی اصلاحی ادارے میں موجود ہیں۔ اس سے قبل وہ نیویارک شہر کی ہی ایک اور جیل میں موجود تھے جبکہ انھیں دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث چند دن قبل ایک ہسپتال میں بھی لے جایا گیا تھا۔

  14. سعودی عرب میں 21 روزہ کرفیو کی تیاری

    سعودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب کے شاہ سلمان نے پیر کی شام سے ملک بھر میں 21 روزہ کرفیو کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کیسز میں ایک چوتھائی کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کرفیو کا اطلاق رات سات بجے سے صبح کے درمیان ہو گا۔

    ملک میں اب تک 511 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہو چکی ہے جو اب تک خلیج ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ اتوار کے روز سعودی عرب میں 119 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

    اب تک خطے میں سعودی عرب اور کویت کی جانب سے سب سے کڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    اس قبل سعودی عرب کے شاہ سلمان نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں ابھی مزید مشکلات باقی ہیں کیونکہ ملک کو تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باعث بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

  15. کورونا: جنوبی ایشیا کی صورتِ حال

    جنوبی ایشیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ اس خطے کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار ہیں جہاں حال ہی میں کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہاں وبا پھیل تو اس کی روک تھام انتہائی مشکل ہو جائے گی۔

    • پاکستان میں مجموعی طور پر کسیز کی تعداد 799 ہو چکی ہے جس کے بعد یہاں جنوبی ایشیا میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ کیسز ہو گئے ہیں۔ حکومت نے بین الاقوامی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے اور صوبہ سندھ جہاں اب تک سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’اپنے آپ کو خود قرنطینہ میں رکھیں کیونکہ اگر میں نے لاک ڈاؤن کیا تو اس سے مسائل میں اضافہ ہو گا۔‘
    • انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں مارچ کے اواخر تک لاک ڈاؤن رہے گا۔
    • سری لنکا میں دو قیدی اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ سری لنکا کی جانب سے ملاقات کرنے پر پابندی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ سری لنکا میں اب تک 82 کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے جس کے باعث کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
    • بنگلہ دیش میں 25 افراد کے کووڈ کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد حکام نے تمام بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور تمام سکول اور کالج بند کر دیے ہیں۔
  16. کورونا: ’چین میں سب زیادہ کیسز برطانیہ سے آئے‘

    چین کے سرکاری میڈیا نے اعداد وشمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق چین میں اب تک جن بیرونِ ملک سے آنے والے 353 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے ان میں سب بڑی تعداد برطانوی باشندوں کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. کیا آپ کو ماسک پہننا چاہیے یا نہیں؟, ٹیسا وانگ بی بی سی نیوز، سنگاپور

    ماسک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ دیکھنے میں تو بہت معمولی سا سوال لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اتنا ہی مشکل ہے۔

    برطانیہ، امریکہ اور سنگاپور میں بھی لوگوں کو ماسک اس وقت تک نہ پہننے کا کہا جا رہا ہے جب تک وہ بیمار نہ ہوں۔

    یہ اس عالمی ادارہ صحت کے ہدایت نامے کے عین مطابق ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں آپ کو سڑکوں پر بہت کم لوگ ماسک پہنے دکھائی دیں گے۔ تاہم چین، ہانگ کانگ، تائیوان، جنوبی کوریا اور جاپان میں ماسک پہننا اب ایک ضرورت بن چکا ہے اور تقریباً ہر کوئی ماسک پہن کر باہر نکلتا ہے۔

    چین کے کچھ علاقوں میں تو ماسک نہ پہننے والوں کو سزا بھی دی گئی ہے۔ جو افراد ماسک پہنننے کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے ضروری ہے کیوںکہ جو لوگ ویسے تو صحت مند لگتے ہیں، وہ شاید وائرس سے متاثرہ ہوں۔

    تاہم کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اس کے باعث ماسکس کی کمی بھی ہو سکتی ہے اور اس سے ان لوگوں کو ماسک میسر نہیں آ سکتے جنھیں ان کی اشد ضرورت ہے جیسے کہ بیمار افراد اور صحت کے عملہ۔

    اب یہ ایک متنازع موضوع بن گیا ہے اور ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جن ممالک میں ماسک پہننے کی پابندی نہیں ہے وہاں ماسک پہننے والوں پر جملے کسے گئے، یہاں تک کہ حملے بھی کیے گئے۔

    ادھر چین اور جنوبی کوریا میں ماسک نہ پہننے والوں کو برا سمجھا جاتا ہے اور عمارتوں یا دوکانوں میں گھسنے سے منع کر دیا جاتا ہے۔

    کچھ ماہرین اس حوالے سے بھی بحث کر رہے ہیں کہ کیا عالمی ادارہ صحت کو اپنا ہدایت نامہ تبدیل کر لینا چاہیے یا نہیں۔

  18. مراکش میں لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے فوج سڑکوں پر

    اتوار کے روز مراکش کی حکومت نے لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے فوج کو سڑکوں پر بھیجا تاکہ لوگ اس حکم پر عمل درآمد کریں۔

    مراکو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمراکش پولیس بھی اس حکم پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔
    مراکو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناب تک مراکش میں اس وائرس سے چار افراد ہلاک ہو چکے جبکہ 115 اس سے متاثر ہوئے ہیں
    مراکو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمراکش سمیت پوری دنیا میں ہی لوگوں کو گھروں میں رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد طلب کی جا رہی ہے۔
    مراکو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنچین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس وائرس نے اب تک 173 ممالک کو متاثر کیا ہے
  19. اٹلی کورونا وائرس سے اتنی بری طرح متاثر کیوں ہوا ہے؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آپ یقیناً اب تک یہ جان چکے ہوں گے کہ اٹلی اب تک وائرس سے بدترین متاثر ہوا ہے۔

    اب یہ اس وبا کی گڑھ بن چکا ہے اور ملک کے صدر نے تمام ممالک کو کہا ہے کہ وہ اس کے پھیلاؤ کو سست کرنے کی کوششوں میں ناکامی سے سبق سیکھیں۔

    اب تک اس ملک میں ہونے والی اموات نے چین کے اعداد و شمار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جہاں سے یہ وائرس گذشتہ برس شروع ہوا تھا۔ اتوار کے روز اٹلی میں 651 اموات رپورٹ کی گئیں اور یہاں اب تک کل اموات کی تعداد 5476 ہو گئی ہے جو دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    تو اٹلی اتنی بری طرح سے متاثر کیوں ہوا ہے؟ اس حوالے سے متعدد وجوہات ہیں جن پر زیادہ بات نہیں ہوئی ہے۔

    تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ افراد لمبارڈی جیسے علاقوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اٹلی کی دنیا بھر میں جاپان کے بعد سب سے ضعیف العمر آبادی ہے۔ یہاں 23 فیصد لوگ 65 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔

    عمر رسیدہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیوں کہ یہ وائرس عمر رسیدہ افراد کے لیے خاص طور پر مہلک ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اٹلی میں زیادہ تر اموات ایسے عمر رسیدہ افراد کی ہوئی ہیں جنھیں پہلے سے کم از کم ایک بیماری لاحق تھی۔

    ماہرین کا ماننا ہے کہ ان عمر رسیدہ افراد کے ساتھ 18 سے 34 برس کی عمر کے افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھا۔

    اس حوالے ایک اور بات جو اہم ہے وہ یہ کہ اٹلی میں وائرس ایک طویل عرصے تک پھیلتا رہا۔

    کچھ صحت کے حکام کا ماننا ہے کہ یہ وائرس اٹلی میں یہاں فروری کے اواخر میں پہلے کیس کی تصدیق سے بہت پہلے آ چکا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ شمالی اٹلی میں کئی ہفتوں تک بغیر نشاندہی کے کئی ہفتوں تک پھیلتا رہا۔

  20. بریکنگ, کینیڈا کا اولمپکس 2020 سے دستبرداری کا اعلان

    کینیڈا نے اولمپکس 2020 سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے کھلاڑی ٹوکیو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی اولمپک کمیٹی نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی(آئی او سی) سے ٹوکیو مقابلوں کو ایک سال کے لیے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اپنے کھلاڑیوں کو نہیں بھیجے گا۔

    انھوں نے مزید کہا ’دنیا صحت سے متعلق عالمی سطح پر بحران کی صورتحال سے دوچار ہے جو کھیل سے کہیں زیادہ اہم ہے۔‘

    اولمپک  مقابلے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images