کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, امریکہ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں کورونا سے لڑنے کے لیے متحد

    ایمازون اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹز مل کر امریکہ میں لوگوں تک کورونا ٹیسٹ کرنے کی کٹس پہنچا رہے ہیں۔

    بل گیٹس کی فاؤنڈیشن کی مالی امداد سے سیئیٹل کورونا اسسیسمنٹ نیٹ ورک (سکین) کا مقصد اس چیز کو جانچنا ہے کہ یہ انفیکشن پھیلتا کیسے ہے۔

    اسی لیے ایمازون کیئر سکین سے کورونا کی کٹس لے کر صارفین تک پہنچا رہا ہے اور انھیں واپس لیب تک لا رہا ہے۔

    یہ تجربہ سیئیٹل کی کنفز کاؤنٹی میں کیا جا رہا ہے جو کہ اس وائرس سے متاثر ہونے والے امریکہ کے بدترین علاقوں میں سے ایک ہے۔

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. دنیا بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 16,508 ہو گئی

    اموات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث اب تک 16,508 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 378,679 ہے۔

    سب سے زیادہ 6,077 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں جبکہ چین میں 3,153، سپین میں 2,311، ایران میں 1,812، فرانس میں 860، امریکہ میں 515، برطانیہ میں 335، نیدرلینڈز میں 213، جرمنی میں 123 جبکہ سوئزرلینڈ میں اب تک 120 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اگرچہ ہلاکتوں میں اٹلی سرِفہرست ہے مگر کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز اب بھی چین میں زیادہ ہیں۔

    چین میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 81,507، اٹلی میں 63,927، امریکہ میں 43,963، سپین میں 35,136، جرمنی میں 29,056، ایران میں 23,049، فرانس میں 20,123، ساؤتھ کوریا 8,961، سوئزرلینڈ میں 8,795 جبکہ برطانیہ میں مصدقہ کیسز کی تعداد 6,726 ہے۔

  3. برطانیہ: شہریوں کے گھروں سے نکلنے پر سخت پابندیاں عائد

    بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو مزید روکنے کی غرض سے شہریوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں ہیں جن کا اطلاق آج سے ہو رہا ہے۔ یہ پابندیاں ابتدائی طور پر تین ہفتے تک نافذ العمل رہیں گی۔

    ان نئی پابندیوں کا اعلان برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ایک خطاب میں پیر کی شب کیا ہے۔ شہریوں کو کہا گیا ہے انھیں صرف ’انتہائی محدود مقاصد‘ کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔

    شہری صرف اشیائے خوردونوش اور ادویات کی خریداری، دن میں ایک مرتبہ ورزش، (انتہائی ضرورت کے تحت) گھر سے آفس اور آفس سے گھر آمدورفت کے لیے گھروں سے نکل پائیں گے۔

    عبادت گاہیں، جم، کھیلوں کے میدان اور لائبریریاں بند رہیں گی، عوامی مقامات پر دو سے زیادہ افراد کے اکھٹا ہونے پر پابندی ہو گی۔ غیر ضروری سامان جیسا کہ کپڑے اور الیکٹرونکس کا سامان فروخت کرنے والی دکانوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    شہریوں کو اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں سے ملاقات کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ پولیس کو حکومتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کو کہا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے افراد پر جرمانے عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    تمام سماجی اجتماعات، شادیوں اور بپتسمہ کرنے کی تقریبات پر مکمل پابندی ہو گی تاہم جنازے میں شرکت کی اجازت ہو گی۔ پارک صرف ورزش کی غرض سے کھلے رہیں گے مگر وہاں کسی بھی طرح کے اجتماع کی اجازت نہیں ہو گی۔

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ عائد کردہ ان نئی پابندیوں کا مستقل جائزہ لیا جائے گا اور (پابندیوں میں مزید سختی برتنے یا نرمی کرنے کا) فیصلہ تین ہفتوں بعد کیا جائے گا۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’میں برطانوی عوام کو ایک سادہ کی ہدایت دینا چاہتا ہوں کہ آپ کو گھر رہنا چاہیے۔‘

  4. امریکہ میں تازہ ترین صورتحال

    فلوریڈا بیچ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں ملک کے سرجن جنرل نے کہا ہے کہ ’اس ہفتے صورتحال خراب ہو جائے گی‘ اور تشویش ظاہر کی کہ بڑی تعداد میں امریکی نوجوان اس وباء کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان امریکی ریاستوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے جہاں لوگوں کو گھر میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

    امریکہ میں نیشنل گارڈ کے سربراہ جنرل جوزف لینگل نے کہا کہ یہ صورتحال بالکل ایسے ہے جیسے ’ہر ریاست کو بیک وقت 54 طوفانوں کا سامنا ہو‘۔

    دریں اثناء ملک میں سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی نے 1.8 ٹریلین ڈالر کا اقتصادی پیکج یہ کہہ کر بلاک کر دیا ہے کہ اس سے عام امریکیوں کو مدد نہیں ملنی تھی اور نہ اس میں پیسوں کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے مناسب ضوابط طے کیے گئے ہیں۔

  5. برطانیہ: انڈے والی مرغیوں کی مانگ ’پاگل پن‘ کی حد تک بڑھ گئی

    انڈے دینے والی مرغی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی سپر مارکیٹوں میں کورونا وائرس کے وباء کے بعد انڈوں کی شدید کمی کے پس منظر میں انڈے دینے والی مرغیوں کی مانگ میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برطانیہ کے علاقے ہیمپشائر میں مرغیوں کا کاروبار کرنے والی کمپنی ’ہولی واٹر ہینز‘ کی سوزی بالڈون نے بتایا کہ اس مہینے مرغیوں کی مانگ ’پاگل پن‘ کی حد تک بڑھ گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ انھیں فی گاہک تین مرغیوں کی حد لگانی پڑی ہے تاکہ سب کی مانگ پوری کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ تو 20 مرغیوں مانگ رہے تھے۔

    سوزی بالڈون نے کہا کہ وہ مرغی فروخت کرنے سے پہلے چیک کرتے ہیں کہ آیا خریدنے والے کے پاس مرغیاں پالنے کی جگہ بھی ہے یا نہیں؟ انھوں نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ جب حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور سب لوگ کام پر واپس جائیں گے تو پھر ان مرغیوں کا خیال کون رکھے گا۔ ایک اور پولٹری فرم کے مالکن نے بتایا کہ ان کے پاس سب پرندے فروخت ہو چکے ہیں لیکن فون مسلسل بج رہا ہے۔

  6. برطانوی مسافروں کو ملک واپس آنے کا حکم

    برطانیہ میں وزارت خارجہ نے ایسے شہریوں جو کسی اور ملک میں موجود ہیں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے ملک واپس آجائیں۔

    کئی برطانوی مسافر ان ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی سرحدیں کورونا وائرس کے خطرات کی وجہ سے بند کر لی تھیں۔

    تقریباً 499 برطانوی شہری پیرو میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔

    دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس ہفتے ریسکیو پروازیں شروع کی جائیں گی۔

    گواتیمالا اور مراکش میں پھنسے مسافروں نے بھی مدد مانگی ہے۔ مسافروں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ سفارتخانے ان کی مدد نہیں کر رہے۔

  7. عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کی تنبیہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں تیزی آ رہی ہے۔

    جنیوا میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈراس ادھانوم نے کہا کہ ’کورونا کے پہلے کیس کے رپورٹ ہونے کے بعد 67 دن میں نمبر ایک لاکھ تک پہنچا، گیارہ دن میں دوسرا لاکھ ہوا اور تیسرا لاکھ صرف 4 دن میں ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ جی 20 ممالک کے سربراہان سے اس ہفتے بات کریں گے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی لباس اور آلات کی تیاری کے لیے مل کر کام کریں۔

  8. برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 335 ہوگئیں

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 335 ہوگئیں

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    این ایچ ایس انگلینڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ میں کووڈ 19 سے مزید 46 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اب تک ملک میں کل ہلاکتیں 335 ہوچکی ہیں۔

    مریضوں کی عمر 47 سے 105 کے درمیان تھیں اور تمام پہلے سے کسی نہ کسی مرض میں مبتلا تھے۔

    سکاٹ لینڈ اور ویلز میں کورونا سے چار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    برطانوی پارلیمان کے اجلاس جاری ہیں جبکہ حکومت کو ایمرجنسی اختیارات دینے پر بحث کی جارہی ہے۔

  9. سونگھنے کی صلاحیت اور زبان سے ذائقہ ختم ہونا کیا نئی علامت؟, فلیپا روکسبی، بی بی سی نیوز

    سونگھنے کی صلاحیت، زبان سے ذائقہ ختم ہونا نئی علامت؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تعداد میں لوگ سونگھنے کی صلاحیت اور زبان سے ذائقہ ختم ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔

    ان میں سے کچھ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ بعض صرف اس لیے پوسٹ شیئر کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو متنبہ کیا جاسکے کہ یہ کووڈ 19 کی بیماری کی نئی علامات ہوسکتی ہیں۔‘

    برطانیہ میں ناک کان اور گلے کے امراض کے ماہرین کو اس عالمی وبا کے دوران ایسنوسمیا، یعنی سونگھنے کی صلاحیت اور زبان سے ذائقہ ختم ہونا، کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    ایسا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ نزلہ زکام میں بھی وائرس کی وجہ سے ہم سونگھنے کی صلاحیت اور زبان سے ذائقہ کھو دیتے ہیں۔

    لیکن کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اسے علامات کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ خود ساختہ تنہائی میں جانے پر مجبور ہو سکیں، خاص طور پر جب دوسری علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

    ڈاکٹرز کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ اس اقدام سے ایسے لوگ جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور اس وجہ سے وہ ساختہ تنہائی میں نہیں جاتے ان کی تعداد میں کمی آسکتی ہے۔

    امریکہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کو علامات کی مدد سے مریضوں میں وائرس کی سکریننگ کرنی چاہیے۔

    ناک، کان اور گلے کے سرجنز میں انفیکشن دوسرے طبی عملے کے مقابلے زیادہ پھیل رہا ہے۔ اس سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    جرمنی میں دوتہائی لوگ جنھیں کورونا وائرس ہوا ان میں ایسنوسمیا کی علامت پائی گئی۔

    جنوبی کوریا میں 30 فیصد مریضوں نے یہ کہا کہ ان میں مرکزی علامت سونگھنے کی صلاحیت ختم ہونا تھی جبکہ باقی علامات زیادہ ظاہر نہیں ہوئیں۔

    تاہم موجودہ شواہد انفرادی مشاہدے پر مبنی ہیں اور کسی تحقیق کے ذریعے انھیں ثابت نہیں کیا جاسکا۔

    کورونا وائرس کی بڑی علامات میں بخار اور مسلسل کھانسی شامل ہیں۔

  10. وائرس کا پھیلاؤ سمجھنے کے لیے سائنسدان کیا کر رہے ہیں؟, جیمز گلاگر، نامہ نگار برائے صحت

    وائرس کا پھیلاؤ سمجھنے کے لیے سائنسدان کیا کر رہے ہیں؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ سمجھنے کے لیے سائنسدان اس کی جینیاتی جانچ کے ذریعے شواہد ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا کوڈ ہے جو اس کا جواب دینے میں مدد کر سکتا ہے کہ وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے منتقل ہوتا ہے۔

    مریضوں سے ملنے والے نمونوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وائرس اپنی شکل تبدیل کر رہا ہے۔

    مختلف مریضوں میں کورونا وائرس کی جینیاتی جانچ سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے۔

    مثلاً مریضوں کا ایک گروہ جو تقریباً ایک جیسے کورونا وائرس کا شکار ہوا ان میں وائرس ایک ہی جھرمٹ سے ہوسکتا ہے۔

    کیمبرج کے ایک ہسپتال میں بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا اور ان سے سپر بگ ایم آر ایس اے کی وبا کو سمجھنے میں مدد ملی تھی۔

  11. ڈنمارک کے لاک ڈاؤن میں توسیع

    ڈنمارک کے لاک ڈاؤن میں توسیع

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈنمارک کے وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں 13 اپریل تک توسیع کی گئی ہے۔

    لاک ڈاؤن کے تحت تمام سکول اور ریستوران بند رکھے گئے ہیں جبکہ اکثر سرکاری اہلکاروں کو گھروں پر رہنے کی ہدایت ہے۔

    پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کی طرف سے کہا گیا کہ سکول، بار، لائبریری، جِم، ہیئر ڈریسر اور دوسری سروسز آئندہ دو ہفتوں تک بند رکھی جائیں گی۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں اب تک کورونا وائرس کے 1300 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 13 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    ڈنمارک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنھوں نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے۔

  12. یروشلم کے مقدس مقامات بھی بند

    یروشلم

    یروشلم کے چند مقدس مقامات میں مسجد اقصیٰ اور ڈوم آف دا راک (قبۃ الصخرہ) کو بند کیا جاچکا ہے۔

    پیر کو دو عقیدت مند مسلمان یہاں ایک بند دروازے پر آئے، اپنی جائے نماز بچھائی اور باہر سیڑھیوں پر ہی نماز پڑھنے لگے۔

    یروشلم کے پرانے شہر کو مسلمان حرم شریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔ دونوں مذاہب کے افراد کے لیے یہ مقدس مقام ہے۔

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر کئی دنوں سے عقیدت مند مسجد میں داخل نہیں ہو پا رہے تھے۔ سماجی دوری کے اقدامات پر عمل کے لیے صرف باہر نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    لیکن اتوار کی شب اسلامی ٹرسٹ یعنی وقف کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مسلمان اس عمارت میں کسی بھی حصے میں نماز نہیں پڑھ سکیں گے۔

    اسرائیل میں میڈیا کے مطابق یہودیوں کو بھی ان مقدس مقامات میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔

    عام حالات میں ان مقامات میں داخلے سے متعلق کسی بھی تبدیلی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ لیکن اب خطے میں کورونا وائرس کے خطرے کی وجہ سے ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا ہے۔

  13. کورونا کے اعدادوشمار
  14. انڈیا میں تمام مقامی پروازیں منسوخ

    انڈیا میں تمام مقامی پروازیں منسوخ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی حکومت نے بدھ کی صبح سے تمام مقامی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    اس اقدام سے انڈیا کے ایئر پورٹس سے کوئی بھی پرواز اڑان نہیں بھر سکے گی کیونکہ بین الاقوامی پروازوں کو پہلے سے منسوخ کیا جاچکا ہے۔

    پروازوں پر پابندی اتوار کو جنتا کرفیو کے دوران عائد کی گئی تھی اور اسے کم از کم ایک ہفتے تک جاری رکھا جائے گا۔

    یہ اب تک واضح نہیں کہ مقامی پروازیں کب تک معطل رہیں گی۔

    ملک میں ریلوے کا نظام بھی معطل ہے اور کئی ریاستوں نے اپنی سرحدیں بند کر لی ہیں جس سے ملک میں نقل و حرکت محدود ہوگئی ہے۔

    انڈیا بھر میں کورونا وائرس کے 415 کیسز سامنے آچکے ہیں اور سات ہلاکتیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

  15. برطانیہ: فاسٹ فوڈ کی دکانیں بند

    برطانیہ میں فاسٹ فوڈ کی دکانیں بند ہو رہی ہیں

    پیر سے برطانیہ میں ہزاروں فاسٹ فوڈ ریستوران بند ہونے جا رہے ہیں۔

    جمعے کو وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ ریستوران اور کیفے بند کر دیے جائیں، سوائے ٹیک اوے کی سہولت کے۔

    ایسے ریستوران جو اپنی دکانیں، اندر بیٹھ کر کھانے اور ٹیک اوے کی سہولت دونوں کے لیے، بند کر رہے ہیں ان میں نینڈوز، سب وے، میکڈونلڈز اور کافی شاپ کوسٹا شامل ہیں۔

  16. برطانیہ میں ایک نرس کا پیغام: ’یہ کوئی مذاق نہیں‘

    ایک نرس کا پیغام: ’یہ کوئی مذاق نہیں‘ کورونا وائرس، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لندن کے ایک ہسپتال میں آئی سی یو میں تعینات ایک نرس نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ سوشل ڈسٹین سنگ یا سماجی دوری کی ہدایات پر عمل کریں۔

    گذشتہ روز برطانیہ کے دارالحکومت کی کچھ تصاویر انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی تھیں جن میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو پارک کا رُخ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس نرس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ: ’کئی لوگ ایسے افراد کو جانتے ہیں یا خود 60 برس کے ہیں اور دل کے کسی مرض میں مبتلا ہیں۔

    ’اگر ایسے شخص کو کورونا وائرس ہوتا ہے تو اعداد و شمار کے مطابق وہ مر جائے گا۔ تو اس بارے میں سوچیے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کوئی رشتہ دار یا اپنے والد کو کھو دیں یا خود ہلاک یا ہو جائیں؟‘

    ’سب لوگ کسی نہ کسی کو جانتے ہوں گے جنھیں کورونا وائرس کی بیماری ہوئی یا اس سے ہلاک ہوگئے۔ یہ کوئی مذاق نہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ نرسوں کو معلوم ہے کہ ان کی نوکری تھکاوٹ سے بھرپور ہو جائے گی کیونکہ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔

    ’ہم اپنی پوری کوشش کر سکتے ہیں اور ایسا ہی کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ صورتحال مزید کتنی خراب ہوسکتی ہے۔ تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم تیار ہیں جبکہ ہمیں تو یہ علم بھی نہیں کہ حالات کتنے خراب ہیں؟‘

    ’اگر برطانیہ کے حالات اٹلی جتنے خراب ہوتے ہیں تو کوئی بھی نظامِ صحت اس کی تیاری نہیں کر سکتا۔‘

  17. کورونا: ’عالمی معیشت کئی برسوں تک متاثر ہوگی‘

    کورونا: ’عالمی معیشت کئی برسوں تک متاثر ہوگی‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کی بین الاقوامی تنظیم (او ای سی ڈی) نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا کو واپس اپنی اصل حالت میں آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

    او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل اینجل گوریا نے کہا ہے کہ ابھی سے معیشت کو ملنے والا دھچکا مالی بحران سے زیادہ بڑا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سوچنا خواہش مندانہ ہوگا کہ ملکوں کے حالات آسانی سے اس نقصان کے بعد ٹھیک ہوجائیں گے۔

    او ای سی ڈی نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اخراجات کے لیے بنائے گئے اصولوں کو چھوڑ کر وائرس کے علاج اور تیز رفتار ٹیسٹنگ کی یقین دہانی کریں۔

  18. یورپ: سماجی دوری کا نفاذ مشکل، ’کورونا پارٹیز ایک حقیقی خطرہ‘

    یورپ: سماجی دوری کا نفاذ مشکل، ’کورونا پارٹیز ایک حقیقی خطرہ‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ دنوں میں ہم نے برطانیہ میں لوگوں کو سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ شہری سیاحتی مقامات کا دورہ کر رہے تھے اور مارکیٹوں میں ایک بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

    یورپ میں کئی ممالک کو یہ مشکل پیش آئی کہ سخت اقدامات کا نفاذ کس طرح کیا جائے۔

    پیر کو بیلجیئم میں حکام کا کہنا تھا کہ برسلز پولیس نے صرف 24 گھنٹوں میں 288 لوگوں پر جرمانے عائد کیے ہیں۔ ان لوگوں کو سزا ملی ہے جو پارک میں کھانا کھا رہے تھے، کیفے اور بار کے باہر بیئر پی رہے تھے یا دکانیں بند کرنے سے انکار کر رہے تھے۔

    فرانس میں حکام نے ہزاروں لوگوں پر جرمانے عائد کیے ہیں۔ ڈرونز کی تعیناتی کے ذریعے سخت اقدامات نافذ کیے جارہے ہیں۔ بعض تنظیموں نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ بے گھر افراد پر تنہائی اختیار نہ کرنے کے خلاف جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    جرمنی میں چانسلر اینگلا مرکل نے اتوار کو کہا کہ دو سے زیادہ لوگوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہے۔ اس کا اطلاق خاندانوں پر نہیں ہوگا۔

    بواریا کی ریاست میں پولیس نے کئی ’کورونا پارٹیز‘ بند کروائی ہیں جنھیں نوجوان افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے منعقد کیا تھا۔ وزیراعظم مارکس نے انھیں ’حقیقی خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

  19. کورونا وائرس: مشرق وسطی کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    picture

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    مشرق وسطیٰ کے ممالک نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں۔

    خطے میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک سعودی عرب ہے جہاں پیر کی شب سے تین ہفتے کا کرفیو لاگو کیا جائے گا جس کا اطلاق شام سات بجے سے صبح چھ بجے تک ہوگا۔

    شام میں کووڈ 19 سے متاثرہ پہلے مریض کی شناخت ہو گئی ہے جو کہ ایک 20 سالہ خاتون ہیں جو بیرون ملک سے واپس آئی تھیں۔

    متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ 25 مارچ سے وہ اپنے ملک میں تمام کمرشل اور ٹرانزٹ فلائٹس پر پابند عائد کر رہے ہیں جس کے بعد دنیا کا مصروف ترین ائیر پورٹ دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ بند ہو جائے گا۔

    عراق نے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب اگلے ہفتے تک تک ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

  20. بریکنگ, سپین میں ہلاکتیں 2000 سے بڑھ گئیں

    وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ بدستور کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ براعظم بنا ہوا ہے

    • سپین میں اس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے بڑھ گئی ہے۔ حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے میں مزید 462 افراد کی ہلاکت کے بعد اب ملک میں کووڈ-19 سے مرنے والوں کی تعداد 2182 ہو گئی ہے۔
    • اطالوی حکام کے مطابق اتوار کو ملک میں کورونا سے مزید 651 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اٹلی یورپ میں سب سے متاثرہ ملک ہے۔
    • آسٹریا کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 3611 ہے اور ایک دن میں 367 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔
    • فرانس میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 674 تک پہنچ گئی ہے۔ فرانسیسی پارلیمان نے ملک میں دو ماہ کے لیے طبی ایمرجنسی لگانے کی منظوری دے دی ہے۔
    • ہالینڈ کی حکومت نے سپین سے آنے والی تمام پروازوں پر دو ہفتے کے لیے پابندی لگا دی تھی۔