کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. گورنر نیویارک: ’کورونا پھیلنے کی رفتار بلٹ ٹرین سے بھی تیز ہے‘

    گورنر نیویارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست نیویارک ملک میں جاری کورونا وائرس کے بحران کا مرکز بن چکی ہے۔

    منگل کو نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کورونا وائرس کے علاج سے متعلقہ طبی سامان کی فراہمی کی اپیل کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ نیویارک میں یہ وائرس ’بلٹ ٹرین‘ کی رفتار سے بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    نیویارک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ 200 سے زائد افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ نئے کیسز کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    گورنر کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ وبا اس سے کہیں بڑی ہے جتنی ہم سوچ رہے تھے۔ یہ وبا اس سے کہیں تیز ہے جتنا ہمارے گمان میں تھا۔‘

    گورنر کی جانب سے یہ تنبیہ ایسے وقت میں کی گئی ہے جب صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ رائے دی گئی ہے کہ امریکہ کو کاروبار کے لیے آئندہ ماہ کھول دینا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے گورنر اینڈریو پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے طبی سامان کی بروقت ترسیل کے احکامات نہیں دیے تھے۔

  2. آسٹریلیا: جنازے میں 10، شادی میں پانچ افراد کی پابندی عائد

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے حکومت نے جنازے میں زیادہ سے زیادہ دس افراد جبکہ شادی کی تقریب میں زیادہ سے زیادہ پانچ افراد کی شرکت کی پابندی عائد کر دی ہے۔

    آسٹریلیا میں کابینہ کی ایک میٹنگ کے بعد وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے ملک بھر میں شہریوں پر عائد کردہ نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی پابندیوں کا اطلاق بدھ کے روز نصف شب سے ہو گا۔

    آسٹریلیا میں حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے 427 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2136 ہو گئی ہے۔

    آسٹریلیا میں اب تک کورونا وائرس سے آٹھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  3. دنیا بھر میں کیسز کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کر گئی

    دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

    ان کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے میں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے خاص کر یورپی ممالک میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    دنیا میں کیسز میں اضافہ کس تیزی سے ہوا:

    6 مارچ: ایک لاکھ سے تجاوز

    18 مارچ: دو لاکھ سے تجاوز

    21 مارچ: تین لاکھ سے تجاوز

    24 مارچ: چار لاکھ سے تجاوز

    پانچ ممالک جن میں کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے:

    چین: 81591

    اٹلی: 69176

    امریکہ: 49768

    سپین: 39676

    جرمنی: 31991

  4. اٹلی اتنا زیادہ متاثر کیوں ہوا ہے؟

    روم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کووِڈ 19 سے دنیا میں سب سے متاثرہ ملک اٹلی میں اموات 6820 تک پہنچ گئی ہیں۔ اٹلی میں لاک ڈاؤن کو بھی چند ہفتے گزر چکے ہیں اور ملک کا خطہ لمبارڈی اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    لیکن اٹلی اتنا زیادہ متاثر کیوں ہوا ہے؟

    وباؤں کے اطالوی ماہر پیرلوئجی کوکو کا کہنا ہے کہ وجوہات کا تعین قبل از وقت ہوگا لیکن اس کی کئی وجوہات ہوں گی۔

    ’ایک وجہ تو جینیاتی ہوگی، وائرس کا اثر مختلف نسلی گروہوں اور انفرادی طور پر بھی مختلف ہوگا‘۔

    ان کے مطابق ’کچھ میں وائرس ہوگا لیکن علامات نہیں اور دوسری جانب لوگ جلد موت کا شکار ہو رہے ہیں‘۔

    ان کے مطابق اٹلی کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عمر رسیدہ افراد کی ایک بڑی تعداد ہے۔ اور عمر رسیدہ افراد میں وائرس ہو تو ان میں پیچیدگیاں زیادہ ہوتی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس میں اطالوی لوگوں کے ثقافتی اور سماجی رویوں کو بھی دیکھنا ہوگا جیسا کہ ’ان کی ملاقاتوں میں لوگوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے اور پھر جس طرح وہ ایک دوسرے سے قربت کا اظہار کرتے یا ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ اطالوی خاندان ایک دوسرے سے قریب اور مختلف نسلیں بھی مل جل کر بیٹھتی ہیں۔‘

    پیرلوئجی کوکو کے مطابق ملک کے شمال میں اموات کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ فضائی آلودگی ہو سکتی ہے۔

    ’اس خطے میں صنعت اور ٹریفک کی آلودگی کی وجہ سے سانس کی بیماریاں ہیں جو کہ کووِڈ 19 سے مزید بگڑ جاتی ہیں‘۔

  5. انڈیا میں کورونا کے متاثرین کے علاج کے لیے خصوصی رقم کا اعلان

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس کے متاثرین کے علاج اور صحت سے متعلق نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی پندرہ ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. بریکنگ, اٹلی: گذشتہ روز میں 743 افراد ہلاک

    اٹلی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک روز میں ملک میں 743 افراد کی موت ہوئی ہے۔ ملک میں اموات کی کل تعداد 6820 ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے کے دو دنوں میں اموات میں کمی دیکھی گئی تھی اور اب اچانک اضافہ ہوا ہے۔

  7. لندن: ملٹری کی مدد سے عارضی ہسپتال کھولا جائے گا

    برطانوی وزیر صحت ہینکاک

    برطانیہ کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ لندن کے ایکسل سینٹر میں ایک دو وارڈز والا عارضی ہسپتال کھولا جائے گا جہاں 4000 مریضوں کی گنجائش ہوگی۔

    ریٹائرڈ میڈیکل سٹاف سے کی گئی اپیل کے جواب میں مسٹر ہینکاک کے مطابق گیارہ ہزار پانچ سو لوگ سامنے آئے ہیں جن میں 2660 ڈاکٹر اور 6147 نرسیں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ 18000 سے زیادہ میڈیکل سٹوڈنٹ بھی این ایچ ایس کا حصہ ہوں گے۔

  8. انڈیا: 21 دن کے لاک ڈاؤن پر سوشل میڈیا پر ردعمل

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پورے ملک میں 21 دنوں کے لاک ڈاؤن پر عوام کی ملی جلی رائے ہے۔

    ایک ارب سے زیادہ کی آبادی والے ملک میں 21 دنوں کے مکمل لاک ڈاؤن کا عام دنوں میں تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

    یہ عام حالات نہیں ہیں۔ بیشتر عوام کو اس بات کا علم ہے کہ حالات تشویشناک ہیں اور کورونا وائرس کے معاملات میں دن با دن اضافہ ہو رہا ہے۔ انڈیا میں کورنا وائرس کے 482 کیسز سامنے آچکے ہیں اور اب تک نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر بیشتر عوام نے لاک ڈاؤن کو تسلیم کیا ہے۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ یہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

    حالانکہ بعض افراد نے حکومت کے اس قدم پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے کم نوٹس پر لاک ڈاؤن کرنا صحیح قدم نہیں ہے۔ وہیں بعض نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے چھوٹے موٹے کاروبار اور روزانہ اجرت والے مزدوروں کی زندگی بری طرح متاثر ہوگی تو اس کے بارے میں حکومت نے کیا سوچا ہے؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 4

  9. برطانیہ: اموات میں 87 افراد کا اضافہ

    برطانیہ میں پیر سے اب تک 87 اموات ہوئی ہیں اور اب برطانیہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 422 ہوگئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. دلی میں اقدامات, شکیل اختر، بی بی سی اردو، دلی

    دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے شہر کے مختلف علاقوں میں پریشان حال لوگوں کے لیے دوپہر اور رات کے لیے مقت کھانے کا انتظام کیا ہے۔

    انھوں نے تعمیرات سے منسلک یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی فوری مدد کے لیے پانچ پانچ ہزار روپے دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    انہوں نے ایک پیغام میں بتایا کہ گزشتہ چالیس گھنٹے میں دلی میں کرونا مریضوں کی تعداد میں ایک مریض کا بھی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

  11. انڈیا میں لاک ڈاؤن کے دوران کیا ہوگا؟, شکیل اختر، بی بی سی اردو داٹ کام، دلی

    انڈیا میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے پورے ملک میں اکیس دنوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔

    لاک ڈاؤن کے دوران کسی کو بھی اپنے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس مدت میں صرف لازمی خدمات کے محکمے ہی کھلے رہیں گے۔ دواؤں اور روزمرہ کی اشیا کی دکانیں کھلی رہیں گی ۔لاک ڈاؤن کے دوران کرفیو جیسی سختی نافذ رہے گی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔

    حکومت نے ان سخت اقدامات کا اعلان چین اور جنوبی کوریا کے طرز پر کیا ہے۔ ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ابتدا میں وائرس کے کم پھیلنے کے بعد اب یہ وائرس انڈیا میں بڑے پیمانے میں تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

  12. مودی: ’ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے گھبرائیں نہیں’

    انڈین وزیرا عظم نریندر مودی نے کہا کہ 'گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ادویات وغیرہ فراہم ہوں گی۔ وفاقی اور ریاستی حکومتیں مل کر یہ یقینی بنائیں گی۔’

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. کم عمر مریض کو اپنا ریسپائریٹر دینے والے اطالوی پادری کورونا وائرس سے ہلاک

    اپنا ریسپائریٹر ایک انجان کورونا وائرس کے شکار جوان شخص کو دینے والے اطالوی پادری کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اٹلی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک برگامو کے شہر لوویرے کے ہسپتال میں 72 سالہ پادری جیوسیپ بیرارڈیلی نے دم توڑ دیا۔

    ایک اندازے کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس کی وجہ سے 50 پادری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی میں اب تک 6077 اموات ہو چکی ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقے لومبارڈی میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک میں لاک ڈاؤن ہے۔

    کاسنیگو قصبے کے مرکزی پادری جیوسیپ بیرارڈیلی گذشتہ ہفتے لوویرے ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔

    ہسپتال کے حکام کے مطابق انھوں نے یہ کہہ کر ریسپائریٹر استعمال کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ان کے بجائے کسی جوان مریض کو دیا جانا چاہیے۔

    اطلاعات کے مطابق ان کی آخری رسومات نہیں ہوئیں مگر جب ان کا تابوت تدفین کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو کاسنیگو کے رہائشیوں نے کھڑکیوں اور بالکونیوں سے تالیاں بجائیں۔

    منگل کو پوپ فرانسس نے ہلاک ہو جانے والے ڈاکٹروں اور پادریوں کے لیے دعا کی کہ انھوں نے مریضوں کی خدمت کر کے بہادری کی مثال قائم کی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. ’امریکہ کورونا وائرس کا اگلا عالمی مرکز بن سکتا ہے‘

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کورونا وائرس کا عالمی مرکز بن سکتا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جنیوا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئےعالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیریس نے کہا کہ امریکہ میں کورونا بڑے پیمانے پر اور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے یہ دنیا میں کورونا کا اگلا گڑھ بن سکتا ہے۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کی اعدادو شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک کورونا کے 46000 سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 593 اموات ہو چکی ہیں۔ ابھی یورپ بحران کا شکار ہے اور اٹلی میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

  15. بریکنگ, مودی: حکومتیں کوشش کر رہی ہیں کہ لوگوں کو روز مرہ زندگی میں پریشانیاں نہ ہوں

    اکیس دن کے لاک ڈاوٴن کے اعلان کے ساتھ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’مرکز اور ریاستی حکومتیں تیزی سے کام کر رہی ہیں تاکہ روز مرہ کی زندگی میں لوگوں کو پریشانی نہ ہوں۔ تمام بنیادی سہولیات کی سپلائی جاری ہے، اس کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ غریبوں کے لیے بھی مشکل وقت ہے۔ وفاقی حکومت ریاستی حکومیتوں اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ غریبوں کی مدد کے لیے لوگ ہمارے ساتھ آ رہے ہیں۔ اس وبا سے مقابلہ کرنے کے لیے حکومت طبی سہولیات پر توجہ دے رہی ہے۔’

  16. بریکنگ, مودی: 21 دنوں میں نہیں سنبھلے تو ملک اکیس برس پیچھے چلا جائے گا

    وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں آپ لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ اس وقت آپ جہاں بھی ہیں وہیں رہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ملک میں لاک ڈاوٴن 21 دنوں کا ہوگا۔ یہ تین ہفوں تک برقرار رہے گا۔’

    انہوں نے کہا کہ ’میں ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے نہیں آپ کے گھر کے ایک فرد کے طور پر بات کر رہا ہوں۔ 21 دنوں کے لیے بھول جائیے کہ باہر نکلنا کیا ہوتا ہے۔ گھر میں رہیے اور ایک ہی کام کیجیے، اپنے گھر میں ہی رہیے۔’

  17. بریکنگ, انڈیا میں تین ہفتوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان

    انڈیا کے وزیراعظم مودی نے ملک میں منگل کی رات سے تین ہفتوں کے لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اکیس دنوں کے لیے بھول جائیے کہ گھر سے باہر نکلنا کیا ہوتا ہے۔ آج کا یہ اعلان آپ کے، آپ کے گھر والوں اور ملک کے تحفظ کے لیے بہت اہم ہے۔ آپ کا ایک غلط قدم کورونا جیسے گمبھیر مرض کو آپ کے گھر کے اندر لا سکتا ہے۔ کئی بار کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کا کئی دنوں تک پتا ہی نہیں چلتا۔ اس لیے گھروں کے اندر رہیے۔‘

  18. بی بی سی اردو سیربین: منگل کا پروگرام

  19. کورونا وائرس: سعودی عرب میں پہلی ہلاکت

    خانہ کعبہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سعودی عرب نے کورونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والی پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے 51 سالہ شخص کا تعلق افغانستان سے ہے۔

    ایران کے بعد خلیجِی ممالک میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    منگل کو 205 نئے کیسز کے ساتھ ملک میں کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 767 ہو گئی ہے۔

    ملک میں کڑی پابندیوں کا نفاذ کیا گیا ہے جس میں وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے اگلے تین ہفتوں تک کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

    ملک میں عوامی مقمات کو بند کر دیا گیا ہے جس میں مسجدیں بھیں شامل ہیں سوائے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے مگر وہاں پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

    تمام پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل کر دی گئی ہے۔

  20. سپین میں ایک دن میں ریکارڈ 514 اموات

    سپین میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 6582 کیسز کی تصدیق کے ساتھ ملک میں کیسز کی کل تعداد 39763 ہو گئی ہے۔ ملک میں اب تک 2696 اموات ہوئی ہیں۔

    ملک کا دارالحکومت میڈرڈ کورونا وائرس کا مرکز ہے جہاں 1535 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ تشویش کی بڑی وجہ بننے والے سپین کے شمال مشرقی علاقے کیٹالونیا میں گذشتہ روز 1939 کیسز ریکارڈ کیے گئے جو میڈرڈ سے زیادہ ہیں۔

    ہیلتھ ایمرجنسی چیف فرنینڈو سائمن کے مطابق 3800 لوگ صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 2636 کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

    طبی عملے میں انفیکشن کی بڑھتی شرح بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ وائرس سے متاثرہ 39763 لوگوں میں سے 5400 لوگ یعنی 14 فیصد افراد ہیلتھ ورکرز ہیں۔

    حکومت نے پارلیمان کے ممبران کو الرٹ رہنے کی تاریخ کو 11 اپریل تک بڑھانے کا حکم دیا ہے۔