دنیا کے بڑے اور ویران شہر
دنیا کے مختلف شہر لاک ڈاؤن میں ہیں اور ویران ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہEPA
دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔
دنیا کے مختلف شہر لاک ڈاؤن میں ہیں اور ویران ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہEPA

ویلش موجد کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے نئے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں۔
نقاب کی طرح دِکھنے والے ماسک کو بڑے پیمانے پر بنایا جا رہا ہے۔ ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ یہ ماسک کورونا وائرس کا خاتمہ کر سکتا ہے اور مشکل حالات میں کام کرنے والوں اور کم مدافعت رکھنے والے افراد کی ممکنہ طور پر مدد کر سکتا ہے۔
ماسک بنانے والی کمپنی امید کر رہی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں تقریباً 10 لاکھ ماسک بنائے گی۔
ماسک پر کام کرنے والی اینا رابرٹس کا کہنا ہے کہ ’ہم سنہ 2011 سے اینٹی وائرس کوٹننگ پر کام کر رہے ہیں لیکن ہم نے یہ نقاب نما ماسک گذشتہ پانچ ہفتوں میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر بنایا ہے۔‘
ویلش حکومت کے تعاون سے تین دن میں ایک نیا وینٹی لیٹر بنایا گیا ہے جس کو استعمال کر کے کامیابی سے ایک کورونا وائرس کے شکار مریض کا علاج کیا گیا ہے۔
ٹوکیو اولمپکس کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ 24 جولائی سے شروع ہونے والے اولمپکس 2020 انٹرنیشنل اولمپکس کو ملتوی کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔
منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا کہ جاپان نے ایک سال تک گیمز ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی اور آئی او سی نے اس فیصلے کی مکمل تائید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا ’ہم علاج کو مسئلے سے زیادہ بدتر نہیں ہونے دے سکتے۔ 15 دن کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کس سمت میں جانا ہے۔‘
اس سے پہلے صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکی شہریوں کو 10 سے زیادہ افراد کے گروہ میں اکٹھا نہیں ہونا چاہیے اور 15 دن تک کلبوں، ریستورانوں، فوڈ کورٹ، جم اور ہجوم سے بچنا چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
صدر کی اس ٹویٹ پر ماہرین نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
جان ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سکیورٹی کے ڈائریکٹر ٹام انگلزبی کہتے ہیں کہ ایشیا میں سماجی میل جول کم کرنے کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھلاؤ کو روکا گیا۔ اگر وائرس کے سلسلے میں کچھ نہ کیا جائے تو یہ ایک انسان کی وجہ سے 2.5 لوگوں کو لگ سکتا ہے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بیماری کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شخص اوسطاً وائرس کو ایک سے کم شخص تک پھیلائے۔
ٹام کے مطابق سماجی تنہائی صحت عامہ کے نظام پر سے بوجھ بھی اتار سکتی ہے۔ انھوں نے تنبیہ کی کہ سماجی تنہائی نہ اختیار کرنے کی وجہ سے وائرس بڑے پیمانے پر تیزی سے پھیل سکتا ہے جس کی وجہ سے اگلے سال ممکنہ طور پر لاکھوں اموات ہو سکتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے کورونا کے پھیلاؤ کے بعد پابندیاں سخت کر دی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے
انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 446 ہو گئی ہے جبکہ اب تک نو افراد اس بیماری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہلاکتوں کے تازہ واقعات مغربی بنگال اور ہماچل پردیش کی ریاستوں میں پیش آئے جہاں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پیر کی شب برطانیہ میں وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے لاک ڈاؤن کے اعلان کے باوجود منگل کی صبح لندن کی زیرِ زمین ٹرینوں کے کچھا کھچ بھرے ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صرف ’محدود مقاصد‘ کے لیے سفر کریں۔ وزیراعظم کی صرف سے جن پابندیوں کا اعلان کیا گیا، ان میں صرف ضرورت کے تحت دفتر آنے جانے کا حکم شامل ہے۔
لندن کے میئر صادق خان نے کام کرنے والے افراد کو گھروں پر رہنے کی تلقین کی ہے اور کہا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ صرف ان لوگوں کو استعمال کرنی چاہیے جنھیں شدید ضرورت ہو ورنہ لوگ مر جائیں گے۔
کچھ مسافروں نے کہا ہے کہ کم ٹرینیں چلنے کی وجہ سے ٹرینوں میں رش زیادہ ہے۔
ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 514 مریضوں کی ہلاکت ہوئی ہے جو اب تک ملک میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق سپین میں اب تک مجموعی طور پر 2696 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مصدقہ مریضوں کی تعداد 39637 ہو چکی ہے۔
سپین میں اب تک سب سے زیادہ مریض میڈرڈ اور تین دیگر شمالی علاقوں میں سامنے آئے ہیں۔
سرینگر میں حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے واپس آنے والے مزید دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے بعد کشمیر میں متاثرہ افراد کی کل تعداد تین ہوگئی ہے۔ جموں اور کشمیر اور لداخ میں کل تعداد 19 ہوگئی ہے اور اس میں زیادہ تر متاثرین چین سے متصل علاقے لداخ سے ہیں۔
چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگایا گیا لاک ڈاؤن 8 اپریل سے جزوی طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ صحت مند لوگوں کے لیے ہوبائی صوبے میں سفری پابندی بھی آج رات سے ختم کر دی جائے گی۔
ووہان شہر ہی وہ شہر ہے جہاں سے کورونا وائرس کووڈ 19 کی عالمی وبا کا آغاز ہوا تھا۔
افریقہ کے معروف ترین موسیقاروں میں سے ایک سیکسوفون بجانے والے مانو ڈبانگو کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کا تعلق کیمرون سے تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تھائی لینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کے روز سے ملک می ہنگامی حالت نافذ کی دی جائے گی۔ اس اقدام کے بعد ملک حکومت کے پاس وسیع تر اختیارات آ جائیں گے۔
تھائی لینڈ میں سینکڑوں لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم پرایوتھ چن اوشا کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامی صورتحال ایک ماہ تک رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹیسلا کمپنی کے سربراہ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ انھوں نے لاس ایجنلس کی انتظامیہ کو 1255 وینٹیلیٹر عطیہ کیے ہیں تاکہ وہ کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ ک سکیں۔
ایک ٹوئیٹ میں انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے انھوں نے چین سے یہ مشینیں منگوائی تھیں اور انھیں امریکہ لانے کے خصوصی انتظامات کروائے تھے۔
ارب پتی ایلون مسک کئی بار کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کے ردِعمل میں حکومتی اقدامات کی تنقید کرتے رہے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ یہ ردعمل ضرورت سے زیادہ سنگین ہے۔
دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والے ہلاکتوں میں روزانہ اضافے کی خوفناک خبروں کے درمیان کچھ ایسی مثبت خبریں بھی ہیں جو شاید آپ کی نظر سے نہیں گزریں۔ وہ خبریں کیا ہیں جاننے کے لیے دیکھیے یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جاپان کے شہر ٹوکیو میں 2020 کے اولمپکس مقابلوں کے التوا کا اعلان منگل کو ممکن ہے۔
عالمی اولمپک کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آئی او سی اس بارے میں جاپانی وزیراعظم، ٹوکیو 2020 کی منتظم کمیٹی اور عالمی اولمپک کمیٹی کے ایگزیکیٹو بورڈ سے کھیلوں کے التوا سمیت ممکنہ صورتحال پر بات کر رہی ہے۔
جاپانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیراعظم شنزو آبے منگل کو ٹوکیو 2020 اولمپک مقابلوں کے حوالے سے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے سربراہ تھومس باخ سے ٹیلی فون پر بات کریں گے۔
جاپان کے اولمپک مقابلوں کے وقت پر انعقاد کروانے کے اصرار پر شدید تنقید کی گئی ہے کیونکہ متعدد قومی اولمپک کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان مقابلوں کے لیے نہ تو فلحال تیاری کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جولائی تک کورونا وائرس کی وبا پر مکمل قابو پا لیا جائے گا۔
ٹوکیو 2020 مقابلوں نے 24 جولائی کو شروع ہونا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ملک گیر لاک ڈاؤن کے پہلے روز کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے سینکڑوں افراد کو پولیس نے کچھ انوکھی سزائیں دی ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق پنجاب اور مہاراشٹرا میں پولیس نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو پش آپ کرنے پر مجبور کیا۔
اخبار ہندوشتان ٹائمز کے مطابق راجھشتان اور اتر پردیش میں پولیس نے ایسے افراد کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کر کے انھیں شرمندگی کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔
دیگر کچھ ریاستوں میں لوگوں کی گاڑیاں بند کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
50 روز تک بند رہنے کے بعد بیجنگ کا چڑیا گھر پیر کے روز سے لوگوں کے کھول دیا گیا ہے۔
ریاستی میڈیا کے مطابق چڑیا گھر کے جانور کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران صحت مند رہے ہیں اور کچھ کو تو بظاہر چند خاموش دنوں میں مزہ آیا ہے۔
خبر رساں ادارے چائنا ڈیلی نے چڑیا گھر کے ڈائریکٹر کے حوالے سے بتایا کہ کچھ جانور جیسے کہ پانڈا وغیرہ نے خاموش دنوں میں قدرے زیادہ ورزش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث اب تک 16572 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 381,293 ہے۔
سب سے زیادہ 6,077 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں جبکہ چین میں 3,153، سپین میں 2,311، ایران میں 1,812، اور فرانس میں 860 افراد مارے جا چکے ہیں۔ اگرچہ ہلاکتوں میں اٹلی سرِفہرست ہے مگر کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز اب بھی چین میں زیادہ ہیں۔
ہم نے یہ اعداد و شمار امریکہ میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے خصوصی کورونا ریسورس سنٹر سے لیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
داخلی سطح پر نئے کیسز کے سامنے آنے کی رفتار میں کمی کے بعد اب چین کی توجہ ملک سے باہر سے آنے والے مسافروں پر ہے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق بیجنگ شہر میں ملک سے باہر سے آنے والوں کے لیے قوانین اور بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔
بیرونِ ملک سے بیجنگ آنے والے تمام مسافروں کو 14 روز کے مرکزی قرنطینہ میں رہنا ہوگا اور کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا ہوگا۔
کورونا وائرس کی عالمی وبا کا آغاز چین میں ہی ہوا تھا اور اس سے ملک میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔