روس میں کورونا کی وجہ سے اہم آئینی ترمیم پر ووٹنگ ملتوی
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اس اہم آئینی ترمیم پر ووٹنگ ملک میں کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی ہے جس کے تحت انھیں مزید دو مرتبہ ملک کا صدر بننے کا موقع مل سکتا ہے۔
دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اس اہم آئینی ترمیم پر ووٹنگ ملک میں کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی ہے جس کے تحت انھیں مزید دو مرتبہ ملک کا صدر بننے کا موقع مل سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ممبئی میں شور نہ پا کر لگتا ہے کہ کسی اور ہی دنیا میں آ گئے ہیں۔
سڑکوں پر ایک عجیب سا سناٹا ہے۔ ایک آدھ چڑیا یا چند گزرتی گاڑیوں کے سوا کسی بھی چیز کی آواز نہیں آ رہی۔
یہ سب اس لیے اور بھی عجیب لگ رہا ہے کیونکہ آج گڈی پڑوا یعنی مراٹھی برادری کا نئے سال کا تہوار بھی ہے۔
ہر سال اس روز شہر میں پریڈ منعقد ہوتی ہے اور لوگ جشن مناتے سڑکوں پر دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا۔ کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر روایتی جھنڈے لگائے لیکن جشن گھروں کے اندر ہی منایا جا رہا ہے۔
عزیزوں سے ملنے کے بجائے زیادہ تر لوگ واٹس ایپ کے ذریعے اپنے پیاروں سے رابطے میں ہیں۔ سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
ان کا پیغام ہے: ’ہم آپ کی خاطر باہر ہیں، آپ ہمارے لیے اندر رہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں بدھ کو 21 روزہ لاک ڈاؤن کا پہلا دن ہے اور لوگوں نے پریشانی کے عالم میں خریداری کرنا شروع کر دی ہے۔
انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق انڈیا میں کووِڈ 19 کے 519 کیسز سامنے آئے ہیں اور نو اموات ہوئی ہیں۔ 1.3 بلین آبادی والے ملک میں ایسا کیوں؟ اس کی وجہ ٹیسٹ کروانے کی کم شرح ہو سکتی ہے جو انڈیا کو عالمی وبا کا ممکنہ مرکز بنا سکتی ہے۔
چین کے صوبہ ہوبائی میں آج تمام قسم کی سفری پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں۔ یہ ان چھ کروڑ لوگوں کے لیے اہم سنگِ میل ہے جو جنوری سے لاک ڈاؤن میں تھے۔ وبا کے ابتدائی مرکز ووہان میں پابندیوں میں نرمی 8 اپریل سے کی جائے گی۔
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ جمعے سے امریکہ سے آنے والے تمام مسافروں کو دو ہفتوں کے لیے خود ساختہ تنہائی اختیار کرنی ہو گی۔ منگل کو جنوبی کوریا میں کیسز 34 سے بڑھ کر 101 ہو گئے۔ یہ ایک دن میں کیسز میں ریکارڈ اضافہ ہے۔ یورپ سے آنے والے افراد کو پہلے ہی خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے اور ٹیسٹ کروانے کا کہا گیا ہے۔
ملائشیا اپنے دو ہفتے کے لاک ڈاؤن میں توسیع کر رہا ہے۔ تقریباً 1800 مصدقہ کیسز اور 17 ہلاکتوں کے ساتھ ملائشیا جنوب مشرقی ایشیا کا متاثرہ ترین ملک ہے۔
وسطی ایشیا کے ملک اُزبکستان میں عوامی جگہوں میں ماسک نہ پہننے پر لوگوں کو جرمانہ کیا جا رہا ہے اور قازقستان کے مرکزی شہر قرنطینہ میں ہیں۔
ترکمانستان کا کہنا ہے کہ وہاں ابھی تک کورونا وائرس کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ لیکن یہ حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ ترکمانستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی ملک سپین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چین سے بڑھ گئی ہے اور اب سپین ہلاکتوں کے لحاظ سے اٹلی کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
سپین میں گذشتہ 24 گھنٹے میں 738 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد وہاں ہلاک شدگان کی کل تعداد 3434 ہو گئی ہے۔
چین جہاں سے سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا، وہاں اس سے ہونے والی ہلاکتیں 3285 تھیں جبکہ اٹلی جو اب اس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے وہیں اب تک 6800 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
سپین کے وزیراعظم بدھ کو پارلیمان سے ملک میں نافذ ہنگامی حالت میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔
اگر یہ مطالبہ منظور کر لیا گیا جس کا قوی امکان ہے تو سپین میں ہنگامی حالت 11 اپریل تک نافذ رہے گی۔
اس پابندی کے تحت لوگوں کو کام پر یا ہسپتال جانے یا پھر انتہائی ضروری اشیا کی خریداری کے سوا گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور نے ایران میں 25 مارچ کو کویڈ - 19 کورونا وائرس کے 2206 نئے متاثرین کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 27017 ہوگئی ہے۔
ایران کے مقبول ٹی وی چینل آئی آر آئ این این پر براہ راست نشر کی جانے والی ایک نیوز کانفرنس میں جہان پور نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں 143 کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد 2077 ہو چکی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وائرس سے مرنے والے 68 فیصد افراد کی عمر 60 برس سے زیادہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ملک میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 9625ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی شہزادے اور ملکہ الزبتھ دؤم کے صاحبزادے شہزادہ چارلس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
71 سالہ ولی عہد کی سرکاری رہائش گاہ کلیرنس ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق شہزادہ چارلس میں اس بیماری کی علامات ابھی معمولی نوعیت کی ہیں۔
بیان کے مطابق ان کی اہلیہ کامیلا پارکر کا بھی ٹیسٹ کیا گیا ہے تاہم ان میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔
بی بی سی کے جانی ڈائمنڈ کے مطابق شہزادہ چارلس نے آخری بار 12 مارچ کو ایک سرکاری تقریب میں شرکت کی تھی۔ شاہی خاندان کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے شہزادے سے کسی اور کو وائرس لگنے کا خطرہ 13 مارچ کے بعد ہی پیدا ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی حکومتوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ لیکن خدشات ہیں کہ ابھی بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ یہ وبا پورے براعظم میں پھیل رہی ہے۔
یورپ کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
سپین میں وزیر اعظم پیڈرو سانچز آج پارلیمنٹ سے ملک کی ہنگامی صورتحال میں مزید دو ہفتوں کے لیے 11 اپریل تک کی توسیع کے لیے کہیں گے۔
سپین میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کی تعداد میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ اٹلی کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ یورپی ملک بن گیا ہے۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ اس کے40000 تصدیق شدہ متاثرین میں 5000 سے زیادہ طبی عملے کے افراد شامل ہیں۔
فرانس کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ایک ہزار سے زیادہ اموات کا شکار بننے والا پانچواں ملک بن گیا ہے۔ اور اس کے صحت کے اعلیٰ عہدیدار ، جیروم سالومن نے متنبہ کیا ہے کہ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ سائنسی مشیروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے سخت اقدامات ہی ایک موثر حل ہیں اور چاہتے ہیں کہ ابتدائی 15 دن کی مدت سے اس کو چھ ہفتوں تک بڑھایا جائے۔
اٹلی نے ملک میں لاک ڈاؤن کے دوران کیے گئے اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اگر کوئی شخص کورونا وائرس سے متاثرہ ہو اور وہ قرنظینہ کی مدت کے دوران اس کو توڑے گا تو اس کو ہزاروں یورو جرمانے اور پانچ سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
اٹلی دنیا میں سب سے زیادہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا ملک ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جاپان میں یہ سوالات اب زور پکڑتے جا رہے ہیں کہ اولمپک گیمز کو ایک سال کے لیے مؤخر کرنے کا نقصان کون بھرے گا۔ کچھ جاپانی اخباروں کے مطابق یہ نقصان چھ ارب ڈالر تک کا ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں ہوٹلز کی ہزاروں بکنگز بھی ختم ہو جائیں گی۔
تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے سارا نقصان خود جاپان کو اٹھانا پڑے گا اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو ایک دھیلے کا بھی فرق نہیں پڑے گا۔
یہ بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایسا کیونکر ہوا کہ سوموار کے روز جاپان کی اولمپک کمیٹی کا کہنا تھا کہ اولمپک کی مؤخری کے حوالے سے مزید ایک ماہ تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جبکہ اگلے ہی دن یہ اعلان کر دیا گیا کہ اولمپک گیمز کو مؤخر کیا جا رہا ہے۔
کیا یہ فیصلہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے جاپان پر تھوپا گیا؟
عام جاپانی شہریوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ اس حوالے سے مؤخری ناگزیر تھی۔ اس حوالے سے کیے جانے والے پولز کے مطابق 70 فیصد افراد اولمپک کی مؤخری کے حق میں تھے۔
تاہم سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کچھ افراد اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیا صرف ایک برس کی مؤخری کافی ہو گی اور کیا یہ فیصلہ سائنسی اعداد و شمار کی بنیاد پر لیا گیا یا سیاسی بنیادوں پر۔
کچھ افراد نے تو یہ بھی کہا ہے کہ شنزو ایب کو ستمبر 2021 میں بطور وزیرِاعظم اپنے عہدے سے ہٹنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہreuters
ملیشیا کی حکومت نے ملک میں جاری دو ہفتے کے لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس وقت ملیشیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1800 کے قریب ہے۔ حکومت نے پچھلے ہفتے اپنی سرحدیں بند کر کے تمام سکول اور بزنس بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ملیشیا میں اب تک کورونا وائرس سے 17 ہلاکتیں ہو چکیں ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق گذشتہ ماہ منعقد ہونے والے مذہبی اجتماع سے تھا جس میں تقریباً 16 ہزار لوگوں سے شرکت کی تھی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ مسیحی تہوار ایسٹر تک کورونا وائرس سے نمٹ لے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل نیویارک کے گورنر نے خبردار کیا تھا کہ یہ بیماری 'بلٹ ٹرین' سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے۔
ایسٹر کا تہوار رواں سال اتوار 12 اپریل کو ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی نیوز بریفنگ میں عندیہ دیا کہ امریکہ کو اگلے ماہ کے اوائل میں دوبارہ کھولا جانا اچھا رہے گا۔ اس بریفنگ کے کچھ ہی گھنٹے بعد سینیٹ نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ مل کر دو کھرب ڈالر کے ایک ہنگامی اقتصادی منصوبے پر اتفاق کر لیا جس کے بعد سینیٹ اس ڈیل کی بدھ کو منظوری دے گی۔
سینیٹ میں اکثریتی رہنما مِچ مک کونل نے کہا، 'بالآخر منصوبہ بن چکا ہے'۔ اس پیکج میں ٹیکسوں کی چھوٹ، قرضے، ہسپتالوں کے لیے امداد اور کاروباروں کے لیے ریسکیو پیکج ہوں گے۔
لیکن اس سے پہلے کے یہ قانون امریکی صدر کو منظوری کے لیے بھیجا جائے، امریکی ایوانِ نمائندگان کو اس کی منظوری دینی ہوگی۔
امریکہ میں اب تک کورونا وائرس کے 55 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ اب تک 800 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس کے چار لاکھ 20 ہزار تصدیق شدہ کیسز ہیں جبکہ تقریباً 19 ہزار لوگ اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا وائرس کے 519 تصدیق شدہ کیسز ہیں جبکہ نو ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ملک میں اس عالمی وبا سے پہلی ہلاکت 12 مارچ کو ہوئی تھی۔
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ملک میں یہ اعداد و شمار کم کیسے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ بہت کم ہوئی ہے کیونکہ لوگوں کی ایک محدود تعداد کو ٹیسٹنگ کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔
پیر کی صبح تک انڈیا نے 18 ہزار 282 نمونے حاصل کیے۔ محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ پانچ دنوں میں اوسطاً 1338 نمونوں کی ٹیسٹنگ فی دن ہوتی رہی ہے۔
انڈیا کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ ایک دن میں 12 ہزار نمونوں کی ٹیسٹنگ ہوسکتی ہے۔ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ انڈیا میں لوگوں کی ٹیسٹنگ ملکی صلاحیت سے کم کیوں ہو رہی ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومت کو لگتا ہے کہ فی الحال مقامی سطح پر شہریوں میں وائرس کی منتقلی نہیں ہوئی۔ لیکن اس عالمی وبا سے متعلق بعض اندازے کافی خوفناک ہیں۔
ایک حیرت انگیز تحقیق میں کہا گیا کہ انڈیا میں اس وقت 30 کروڑ کیسز موجود ہیں جن میں سے 40 سے 50 لاکھ کیسز سنگین ہوسکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر مون جئے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے جنوبی کوریا سے کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس فراہم کرنے کا کہا ہے۔
انھوں نے یہ بات دارالحکومت سیول میں کوویڈ 19 ٹیسٹ کٹ بنانے والے ایک ادارے کے دورے کے موقع پرکہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت پوری دنیا میں ٹیسٹنگ کٹس برآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر مون نے کہا کہ ’کل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیسٹ کٹس اور قرنطینہ کے لیے ضروری مصنوعات کی فوری فراہمی کے لیے ہم سے درخواست کی۔‘
صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ اگر ملک میں ضرورت سے زیادہ سامان دستیاب ہوا تو ان کی انتظامیہ بھیجنے پر تیار ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی تبدیلی کی سرگرم کارکن، گریٹا تھنبرگ کا کہنا ہے کہ یہ بہت ممکن ہے کہ انھیں’کووڈ 19 وائرس‘ نے متاثر کیا تھا لیکن وہ اب ’ٹھیک ہو گئی ہیں‘۔
انسٹاگرام پر پوسٹ میں 17 سالہ گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ وہ اور ان کے والد یورپ کے سفر پر گئے تھے مگر گھر واپس آنے کے بعد سے وہ خود کو بیمار محسوس کر رہی ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ انھیں ’سردی، گلے میں درد اور کھانسی‘ محسوس ہو رہی ہے اور اس کے بعد انھوں نے خود کو تنہائی میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور اب وہ ’ٹھیک ہو گئی ہیں۔‘
گریٹا نے واضح کیا کہ انھوں نے کووڈ 19 کے لیے خود کو ٹیسٹ نہیں کرایا تھا کیونکہ سویڈن میں یہ سہولت صرف ان کے لیے ہے جو نہایت بیمار ہوں۔
انسٹا گرام پوسٹ میں انھوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ اس وائرس کے خطرے کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ اس میں لا پرواہی ’دوسروں کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ بن سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیس بک کا کہنا ہے کہ ان ممالک جن میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کیا گیا ہے وہاں ان کی ویڈیو سروس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اٹلی جہاں سب سے زیادہ پابندیاں نافذ ہیں وہاں اس سروس کے استعمال میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں گذشتہ ماہ ویڈیو کال کی تعداد میں 1000 فیصد اضافہ ہوا۔
سوشل میڈیا کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے سبھی پلیٹ فارمز پر میسجنگ ٹریفک میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں اوسطا 50 اضافہ ہوا ہے۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے بعد عوام کو اپنے ٹوئٹر کے ذریعے پیغام میں کہا کہ وہ گھبرائیں نہیں۔
’ میرے شہریوں، گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ تمام ضروری اشیا خورد و نوش اور ادویات عوام کے لیے موجود ہوں گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
منگل کی رات وزیر اعظم نریندر مودی کے انڈیا میں 21 روزہ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔
انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی، گلوکارہ شریا گوشال سمیت کئی مشہور شخصیات میں سے ایک تھے جنھوں نے عوام کو وزیر اعظم کی بات سننے اور گھر ہی رہنے کی تائید کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب نے کووڈ 19 وائرس کی وجہ سے ملک میں پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ سعودی وزارت صحت کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص 51 سالہ افغان تھا۔
مشرق وسطی کے تمام ممالک سب سے زیادہ کورونا وائرس کے کیسز سعودی عرب میں سامنے آئے ہیں جہاں منگل کو 205 نئے کیسز کے بعد کل تعداد 767 تک پہنچ گئی ہے۔
سعودی عرب نے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک بھر میں اگلے تین ہفتوں کے لیے کرفیو کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ عوامی مقامات بشمول مساجد بھی بند کر دی گئی ہیں۔ مکہ اور مدینہ میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی مکمل طور پر بند نہیں کی گئی ہیں لیکن ان پر پابندیاں ہیں اور ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کی کوشش میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔
یہ 21 روزہ لاک ڈاؤن منگل کے شب رات 12 بجے سے نافذ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم مودی کا ٹی وی خطاب میں کہنا تھا کہ ’لوگوں کو گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘ انھوں نے لوگوں سے نہ گھبرانے کی اپیل کی مگر دارالحکومت دہلی اور دیگر شہروں میں لوگوں نے تیزی سے گراسری سٹوروں کا رخ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد چار لاکھ سترہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18,615 ہو چکی ہے۔
یہ اعداد و شمار جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
سب سے زیادہ 6,820 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں جبکہ چین میں 3,160، سپین میں 2,808، ایران میں 1,934، فرانس میں 1,100، برطانیہ میں 422، نیدرلینڈز میں 276، جرمنی میں 157 جبکہ نیویارک میں اب تک 131 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
اگرچہ ہلاکتوں میں اٹلی سرِفہرست ہے مگر کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز اب بھی چین میں زیادہ ہیں۔
چین میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 81,591، اٹلی میں 69,176، امریکہ میں 53,740، سپین میں 39,885، جرمنی میں 32,986، ایران میں 24,811، فرانس میں 22,622، ساؤتھ کوریا 9,037، سوئزرلینڈ میں 9,877 جبکہ برطانیہ میں مصدقہ کیسز کی تعداد 8,164 ہے۔
اس وائرس کا شکار ایک لاکھ سے زائد افراد اب تک صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے 169 ممالک میں کورونا کے مریض موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس سے جہاں کھیلوں کے میدان سنسان ہوئے ہیں وہیں کھیلوں کے کئی مشہور عالمی مقابلے بھی وبا کے پھیلاؤ سے بچاؤ کی غرض سے ملتوی، منسوخ یا معطل کرنے پڑے ہیں۔
حال ہی میں ٹوکیو میں سنہ 2020 میں ہونا والے اولمپیک مقابلے ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کھیلوں کا سب سے بڑا بین الاقوامی مقابلہ ہے جو ملتوی کرنا پڑا ہے۔
متاثر ہونے والے دیگر بڑے عالمی مقابلے ذیل میں درج ہیں: