کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, امریکہ میں ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ڈیٹا بیس کے مطابق امریکہ میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

    تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک امریکہ میں ایک ہزار 50 افراد ہلاک جبکہ 69 ہزار سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں

  2. بریکنگ, جرمنی میں کورونا وائرس سے 50 مزید اموات, کل اموات 198، کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 36508

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں پچاس مزید اموات کے بعد کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 198 ہو چکی ہے۔

    یورپی ملک میں تقریباً پانچ ہزار نئے کیسز سامنے آنے کے بعد تصدیق شدہ کورنا پازیٹو مریضوں کی تعداد 36 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    germany

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. امریکہ دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک

    امریکہ میں کورونا وائرس کے انفیکشن سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 69 ہزار 18 ہوچکی ہے جو کہ دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تیسری سب سے بڑی تعداد ہے۔

    امریکہ کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق چین اور اٹلی کے بعد امریکہ وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جونز ہوپکنز یونیورسٹی کی جانب سے اعداد و شمار کو مسلسل لائیو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ کا سینٹر فار ڈزیز کنٹرول (سی ڈی سی) دن میں ایک مرتبہ اعداد و شمار جاری کر رہا ہے۔

    امریکہ، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  4. اٹلی کے بعد سپین بھی کورونا سے ہلاکتوں میں چین سے آگے

    امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافے کے باوجود جنوبی یورپ اب بھی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔

    اٹلی کے بعد سپین اب وہ دوسرا ملک بن چکا ہے جہاں اموات کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ یہاں 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 738 اموات ہوئیں جس کے بعد کُل اموات 3434 ہوچکی ہیں۔

    اس سے پہلے اٹلی میں ایک دن میں 683 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اس کے مقابلے میں چین نے سرکاری طور پر 3285 اموات رپورٹ کی ہیں جبکہ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں اموات کی تعداد 6820 ہے۔

    سپین میں انفیکشن کی شرح میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تقریباً 27 ہزار لوگ اس وقت ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ مزید متاثر ہونے والے دیگر یورپی ممالک میں جرمنی، فرانس، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ ہیں۔

    سپین، کورونا وائرس،

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. بریکنگ, امریکہ میں ایک دن میں کورونا کے دس ہزار نئے مریض

    امریکہ میں ایک دن میں کورونا کے دس ہزار نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 54453 ہوگئی ہے۔

    امریک میں وبائی امراض کے نگران ادارے سی ڈی سی کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد میں بھی 193 کے اضافے کے بعد کل تعداد 737 ہوگئی ہے۔

    امریکہ میں سامنے آنے والے نصف سے زیادہ 30800 مریض ریاست نیویارک میں ہیں

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

    سرینگر کے چیسٹ ڈزیز ہسپتال میں جمعرات کر رات کو کورونا وائرس سے متاثرہ ایک 65 سالہ شخص ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ کشمیر میں اس بیماری کے سبب ریکارڈ کی گئی پہلی موت ہے۔

    ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو اس سے پہلے شوگر، بلڈ پریشر اور موٹاپے کے عوارض لاحق تھے۔ ہسپتال انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود چیسٹ ڈزیز ہسپتال میں کووِڈ 19 کے پازیٹیو مریض دل کے دورے کے باعث ہلاک ہوگئے۔‘

    بتایا جا رہا ہے کہ یہ مریض سرینگر کے علاقے حیدرپورہ کے رہائشی اور سوپور سے تعلق رکھتے تھے اور حال ہی میں نئی دہلی، اترپردیش اور جموں میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے بعد واپس آئے تھے۔ اس اجتماع میں انڈونیشیا اور ملائیشیا سے لوگ بھی شریک تھے۔

    اب تک انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد آٹھ ہے جبکہ مجموعی طور پر جموں اور کشمیر میں 11 کیسز ہیں۔ رواں ماہ ہی جموں سے تین کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔

  7. دنیا بھر میں مجموعی ہلاکتیں 21,276، مصدقہ متاثرین ساڑھے چار لاکھ سے زائد

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 468,523 ہو گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21,276 ہو چکی ہے۔

    یہ اعداد و شمار جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ 7,503 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں جبکہ سپین میں 3,647، چین میں 3,163، ایران میں 2,077، فرانس میں 1,331، امریکہ میں 1,031، برطانیہ میں 465، نیدرلینڈز میں 356، جرمنی میں 206 جبکہ بلجیئم میں 178 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اگرچہ ہلاکتوں میں اٹلی سرِفہرست ہے مگر کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز اب بھی چین میں زیادہ ہیں۔

    چین میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 81,667، اٹلی میں 74,386، امریکہ میں 68,572، سپین میں 49,515، جرمنی میں 37,323، ایران میں 27,017، فرانس میں 25,600، سوئزرلینڈ میں 10,897، برطانیہ میں 9,640 جبکہ ساؤتھ کوریا میں مصدقہ کیسز کی تعداد 9,137 ہے۔

    اس وائرس کا شکار ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد اب تک صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے 173 ممالک میں کورونا کے مریض موجود ہیں۔

  8. کورونا: فرانس عراق سے اپنے فوجی واپس بلائے گا

    عراق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر فرانس نے عراق میں موجود اپنے 200 فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

    عراق میں کورونا کے باعث اب تک 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عراق کے صدر نے کہا ہے کہ کورونا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ملک میں طبی سہولیات مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

    ایک بیان میں فرانسیسی فوج نے کہا ہے کہ امریکہ کی زیر قیادت فوجی اتحاد نے فرانس کے فوجی دستے کی تعیناتی کو ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فوجی دستہ عراقی فوجیوں کی تربیت اور بغداد میں اتحادی افواج کے صدر دفتر میں امور سرانجام دے رہا تھا۔

  9. فلوریڈا اور ٹیکساس ’بڑی تباہی‘ کی زد میں

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو امریکی ریاستوں فلوریڈا اور ٹیکساس کو کورونا وائرس کے باعث ’بڑی تباہی‘ کی زد میں قرار دے دیا ہے۔

    اگرچہ ’بڑی تباہی‘ جیسی اصطلاح کافی ڈراؤنی ہے مگر امریکی قوانین کے تحت اگر کسی ریاست کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو وہ وفاق کی جانب سے ملنے والی امداد کی مستحق ہو جاتی ہے۔

    ان دو ریاستوں کے علاوہ یہ اصطلاح اب تک نیویارک، واشنگٹن، کیلیفورنیا، لووا اور لوزیینا کے لیے استعمال کی جا چکی ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 62086 ہے جبکہ اب تک 894 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سب سے زیادہ 192 ہلاکتیں امریکی ریاست نیویارک میں ہوئی ہیں جبکہ یہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 30 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

  10. مزید دو امریکی ریاستوں نے ’گھر پر رہنے‘ کے احکامات جاری کر دیے, امریکہ میں مصدقہ متاثرین 62,086، ہلاکتوں کی تعداد 894

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاستوں مینیسوٹا اور ایڈاہو کے گورنرز نے شہریوں کو ’گھر پر رہنے‘ کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ان احکامات کے ذریعے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سرگرمیوں کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    ریاست منیسوٹا میں یہ احکامات آئندہ دو ہفتوں تک نافذ العمل رہیں گے اور اس دوران تمام ریستوران اور شراب خانے بند رہیں گے۔ منیسوٹا کے گورنر ٹِم والز نے کہا ہے کہ ’جب دو ہفتوں کا وقت ختم ہو گا تو وائرس پھر بھی موجود ہو گا مگر ان احکامات کے ذریعے ہم زیادہ بہتر طور پر ہر صورتحال کے لیے تیار رہیں گے۔‘

    ریاست ایڈاہو میں یہ احکامات آئندہ 21 روز تک نافذ رہیں گے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ریاست کے شہری ورزش کے لیے گھروں سے باہر جا سکیں گے مگر انھیں اپنے درمیان کم از کم دو میٹر کی دوری قائم رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ان دو ریاستوں کی جانب سے اس نوعیت کے احکامات جاری کرنے کے بعد اب امریکہ میں مجموعی طور پر ایسی 16 ریاستیں ہو چکی ہیں جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شہریوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    امریکہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 62,086 ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 894 ہے۔

  11. امریکہ میں ’سب اچھے‘ کی خبر تھی پھر سب بدل گیا؟, ونیت کھرے، بی بی سی نامہ نگار، واشنگٹن

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چار فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونیں خطاب میں کہا تھا کہ ’نوکریاں عروج پر ہیں، آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے، غربت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جرائم کی شرح کم ہو رہی ہے، اعتماد بڑھ رہا ہے اور ہمارا ملک ترقی کر رہا ہے۔‘

    ٹرمپ21.44 ٹریلین ڈالر کی مضبوط امریکی معیشت کے بارے میں پُرجوش تھے۔ یاد رہے کہ چین کا جی ڈی پی 14.4 ٹریلین ڈالر، انڈیا کا 2.8 ٹریلین اور پاکستان کا جی ڈی پی 320 بلین ڈالر ہے۔

    لیکن یہ وہ دور تھا جب رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ چین میں پہلے ہی کورونا وائرس سے ہزاروں افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے اور لاکھوں افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اس وقت تک امریکہ میں اس بحران کے سنگین اثرات نمودار ہونا شروع نہیں ہوئے تھے۔

  12. یورپ کی تازہ ترین صورتحال

    سپین کی ڈپٹی وزیراعظم کارمین کیلوو

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یورپ میں ایک اور ڈرامائی دن گزرا اور کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    • سپین میں اموات کی کل تعداد چین سے زیادہ ہو گئی ہے اور اٹلی کے بعد سپین وہ دوسرا ملک بن گیا ہے جہاں اتنی زیادہ ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔ سپین میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 738 نئی اموات کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 3,434 ہو گئی ہے۔ ملک کے ڈپٹی وزیراعظم کارمین کیلوو بھی متاثرہ افراد میں شامل ہیں اور انھیں اتوار کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔
    • اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 683 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ مزید 5,210 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اموات کی یہ تعداد منگل کو ہونے والی 743 اموات سے تھوڑی کم ہے تاہم ملک میں اب اموات کی مجموعی تعداد 7,503 ہو گئی ہے۔عام طور پر اعدادوشمار روزانہ ہونے والی پریس کانفرنس کے ذریعے بتائے جاتے ہیں لیکن اٹلی کے سول پوٹیکشن کے سربراہ اینجلو بوریلی کو ہلکا بخار ہے۔
    • روسی صدر ولادمیر پوتن نے آئینی تبدیلیوں پر پبلک ووٹ کو منسوخ کر دیا ہے تاکہ وہ دفتر میں رہ سکیں لیکن انھوں نے دوبارہ ووٹنگ کی تفصیلات نہیں جاری کی ہیں۔ انھوں نے ضروری کام کرنے والوں کے علاوہ باقی تمام افراد کو ایک ہفتے تک گھر رہنے کی تاکید کی ہے۔ ماسکو حکام کے مطابق کورونا وائرس کے شکار دو عمر رسیدہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاکت کی وجہ وائرس ہے۔ روس نے فی الحال کووِڈ 19 سے ہونے والی کسی بھی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
    • جرمنی کی پارلیمان نے ملک کی معیشت کو بچانے کے لیے بھاری ریسکیو پیکج کا اعلان کیا ہے۔ 813 بلین ڈالر پر مشتمل پیکج میں کام کرنے والوں کی امداد، چھوٹے بزنس اور نجی کاروبار چلانے والوں کے لیے نقد گرانٹ اور خاندانوں کے لیے مالی امداد شامل ہے۔ بہت عرصے سے قرضہ نہ لینے والے جرمنی نے اس پروگرام کے لیے ایک نیا قرضہ لیا ہے۔
    • پولینڈ نے 20 دن کی توسیع کرتے ہوئے اپنی سرحدیں 13 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اشیا باآسانی بارڈر کے آر پار آ جا سکیں گی۔
  13. مشرق وسطیٰ: فلسطین میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

    یروشلم چرچ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    فلسطین میں کورونا وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت واقع ہو گئی ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ رام اللہ کے قریبی علاقے بدو کی رہائشی خاتون 60 کے پیٹے میں تھیں۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں 62 جبکہ غزہ میں دو افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

    خطے کے دیگر ممالک میں صورتحال:

    • اسرائیل میں پانچ ہلاکتیں جبکہ 2030 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ لوگوں کو گھروں کی 330 فٹ کے حدود میں رہنا ہو گا۔ صرف کھلی جگہ پر عبادت کرنے کی اجازت ہو گی اور پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک چوتھائی حصہ فعال رہے گا۔
    • وائرس کی روک تھام کے لیے یروشلم میں واقع چرچ آف دا ہولی سیپلچر کو بدھ کے روز بند کر دیا گیا تھا۔
    • عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 300 کٹس ملنے کے بعد اپوزیشن کے زیرِ انتظام شمال مغربی شام میں وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ شروع ہو گئے ہیں۔ ایک مصدقہ کیس سامنے آنے کے ایک دن بعد حکومت نے اپنے زیر علاقوں میں رات بھر رہنے والا 12 گھنٹے کا کرفیو لگا رکھا ہے اور تمام سرحدیں بند کر دی ہیں۔
    • سعودی عرب میں دوسری ہلاکت کے بعد پیر سے 21 دن تک ملک گیر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو اب دارالحکومت ریاض، مکہ اور مدینہ آنے اور جانے سے روکا جائے گا۔
    • مصر میں شام سات بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک دو ہفتے کے لیے جزوی کرفیو لگایا گیا ہے۔ اب سکولوں کو اپریل کے وسط تک بند رکھا جائے گا۔ مصر میں وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 402 جبکہ 20 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
  14. بریکنگ, کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20000 سے تجاوز کر گئی

    Johns Hopkins

    ،تصویر کا ذریعہJohns Hopkins

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے اعداد و شمار اکٹھی کرنے والی امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

    ساتھ ہی کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد بھی ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

  15. سودے سلف کی ڈیلوری اور ریستوران سے کھانا پیک کروانا کتنا محفوظ؟, وِکٹوریہ گِل، سائنس رپورٹر، بی بی سی نیوز

    ڈیلوری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا کھانے یا پیکج کے ذریعے سے کورونا وائرس لگنے کا خطرہ ہے یا نہیں؟

    تاہم، کھانے کے ذریعے سے کووِڈ 19 پھیلنے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

    لیکن لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی پروفیسر سیلی بلومزفیلڈ کہتی ہیں کہ بلاشبہ ’صفر رسک‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہے لیکن کسی چیز کے پیکٹ سے وائرس کی منتقلی کا ممکنہ خدشہ موجود ہوتا ہے کیونکہ لوگ پیکٹ کو ہاتھ لگائیں گے اور ہاتھ سے وائرس پیکٹ پر منتقل ہو سکتا ہے۔

    ریستوران سے پیک کروائے گئے کھانے کے پیکٹ سے وائرس کی منتقلی کا خدشہ کم کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر سیلی تاکید کرتی ہیں کہ کھانا نکال کر پیکٹ کو کچرے میں پھینک دیں اور کھانا کھانے سے پہلے 20 سیکنڈ تک صابن اور پانی سے اچھی طرح سے ہاتھ دھوئیں۔

    گھر پہنچایا جانے والا سودا سلف کتنا محفوظ ہے؟

    گھر سودا سلف منگوانا بازار جا کر سودا سلف خریدنے سے کہیں کم پُرخطر ہے کیونکہ منتقلی کا خدشہ کسی سطح پر ہاتھ لگانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب کوئی متاثرہ شخص کسی سطح کو چھوتا ہے تو وہ سطح پر وائرس منتقل کر سکتا ہے۔

    کم قوتِ مدافعت والے افراد کے لیے خریداری کرنے اور کھانا ان تک پہنچانے کا مطلب ہے کہ وہ پُرخطر ماحول سے بچ سکتے ہیں۔

    پروفیسر سیلی کے مطابق ’ہمیں پتا ہے کہ کورونا وائرس کی جسم سے باہر افزائش نہیں ہو سکتی تو جب تک کھانا آپ تک پہنچتا ہے تو وائرس کی آپ کو متاثر کرنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے کیونکہ جیسے ہی وائرس متاثرہ شخص کے جسم کو چھوڑتا ہے، اس کی طاقت کم ہونے لگتی ہے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کو گھر میں صفائی کے لیے استعمال کرنے والی بلیچ کو پانی میں ملا کر پلاسٹک اور شیشے کے برتن دھونے چاہییں۔

    ’ایسی تازہ چیزیں جو پیکٹ میں نہ ہوں اور ان پر کسی کے بھی ہاتھ لگ سکتے ہوں، انھیں پانی سے دھوئیں اور خشک ہونے کے لیے رکھ دیں۔‘

    ان کے مطابق فی الحال اگر ہو سکے ہو کچی اشیا کی بجائے تازہ پکی ہوئی غذا کھائیں تاکہ موجودہ وائرس کا خاتمہ ہو جائے۔

  16. کیا بھیلواڑہ ’انڈیا کا اٹلی‘ ثابت ہوگا؟, سوتک بسواس، بی بی سی نیوز

    بھیلواڑہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آٹھ مارچ کی صبح پانچ بجے انڈیا کی شمالی ریاست راجستھان میں ایک نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک 68 سالہ شخص نمونیہ جیسی علامات کے ساتھ زیر علاج تھا اور اس شخص کو سانس لینے میں بھی دشواری پیش آ رہی تھی۔

    بھیلواڑہ علاقے کے برجیش میموریل ہسپتال میں 58 سالہ ڈاکٹر آلوک متتل ااور ان کی ٹیم ایک اور مریض کا معائنہ کر رہی ہے۔ اس مریض سے نہ تو یہ پوچھا گیا کہ آیا حال ہی میں انھوں نے کوئی سفر کیا ہے یا نہیں اور نہ ہی مریض نے خود سے کوئی تفصیل بتائی۔ اس وقت آئی سی یو میں مزید چھ مریض زیر علاج ہیں۔

    68 سالہ شخص کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی اور دو روز بعد مریض کو خصوصی علاج کے لیے تقریباً 250 کلومیٹر دور جے پور شہر کے ایک نجی ہسپتال پھیج دیا گیا۔

    ہسپتال کی نرس کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔

  17. انڈیا میں لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ خدمات میں اضافہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. دنیا کی ایک چوتھائی آبادی لاک ڈاؤن میں

    london

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنلندن میں سیاح ماسک پہنے لندن آئی کے سامنے سے گزر رہے ہیں
    • انڈیا نے اپنی ایک ارب تین کروڑ کی آبادی پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ دنیا کی کل آبادی سات ارب اسی کروڑ کا لگ بھگ ایک چوتھا حصہ اب سخت پابندیوں اور سماجی رابطوں کے زیرِ اثر زندگی گزار رہا ہے۔
    brussels

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنبیلجیئم کے شہر برسلز میں ہو کا عالم
    • روانڈا سے کیلیفورنیا تک اور نیویارک سے نیوزی لینڈ تک کورونا وائرس جکی وجہ سے کرہ ارٰض پر پیشتر علاقے بند ہیں۔ ایسی تمام سڑکیں کچھا کھچ بھری ہا کرتی تپی اب ویران ہیں اور دفاتر پر مبنی بلند عمارتیں خالی۔
    sydney

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے شہر سڈنی کی سڑکیں سنسان پڑی ہیں
    • ابھی مزید آنے کو ہے، امریکہ کی نصف آبادی گھروں میں رہنے کے حکم کی پابند ہے۔ اور یہ احکامات مزید ریاستوں میں بھی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ جمعرات کو نصف شب کے بعد سے جنوبی افریقہ میں بھی لوگ 21 دن کے لیے گھروں میں بند ہو جائیں گے۔
    manila

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفلپائن کے شہر منیلا میں بھی مکمل لاک ڈاؤن ہے
    • گذشتہ چند ہفتوں میں آپ یہ سن رہے ہوں کہ کورونا وائرس کے بحران نے دنیا کو بدل دیا ہے۔ آپ میں بیشتر یہ سب اپنے گھروں سے پڑھ رہے ہوں گے۔ کیونکہ آپ سے بھی کہا گیا ہے کہ گھروں میں رہیں۔ یہ شاید اس چیز کی سب سے اہم مثال ہے کہ یہ کیسے ہم سب کو متاثر کر ہا ہے۔
  19. امریکہ میں اس وقت کیا صورتحال ہے؟

    NYC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں دن کا آغاز ہو چکا ہے۔ ملک بھر سے خبروں کا مختصر جائزہ

    • وائٹ ہاؤس اور سینیٹ نے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں معیشت پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے 1.8 ارب ڈالرکے پیکج پر اتفاق کیا ہے۔
    • اس معاہدے کی مکمل تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں تاہم بتایا جا رہا ہے کہ اس میں بالغ امریکیوں کے لیے 1200 ڈالر اور کاروباروں کو ان کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم شامل ہے۔
    • اس میں ٹیکس پر چھوٹ، قرضے، ہسپتالوں کے لیے رقوم اور ریسکیو پیکجز شامل ہیں۔
    • اس ڈیل کا اعلان امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس امید کے اظہار کے فوری بعد کیا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ ایسٹر تک کورونا وائرس سے نجات حاصل کر لے گا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں یہ ٹائم لائن ایک انتباہ ہے۔
    • نیویارک امرکہ میں اس وائرس کا مرکز بن گیا ہے۔ وہاں کے گورنر نے خبردار کیا ہے کہ یہ بیماری ریاست میں بلٹ ٹرین سے بپی زیادہ رفتار سے پھیل رہی ہے۔
    • امریکہ میں 55225 افراد متاثر ہیں جبکہ 802 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں وآئرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 15 دن کی سماجی دوری کا نصف وقت گزر چکا ہے۔
    • اس سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ یہ وائرس کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔
  20. انڈیا کے کونے کونے میں لاک ڈاؤن

    ہریانہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بی بی سی کی رجنی ودیاناتھن کے مطابق انڈیا کے کئی حصوں میں پہلے سے ہی سخت انتظامات کیے جا چکے تھے اور ممبئی اور دلی جیسے بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے۔

    تاہم یہ نیا اقدام ملک کے کونے کونے پر لاگو ہوتا ہے۔

    اتوار کو ہونے والا ایک روزہ کرفیو زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا تھا اور کئی لوگ گھروں سے باہر گھومتے نظر آئے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا کے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ تالیاں بجا کر جان بچانے والے شعبوں میں کام کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ تاہم کئی جگہوں پر اس کال کا غلط مطلب لیا گیا اور لوگ ناچتے گاتے سڑکوں پر نکل آئے۔

    وزیراعظم نے خبر دار کیا کہ اگر انڈین قوم نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو ملک کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا: ’سماجی دوری ہی کورونا وائرس سے نمٹنے کا واحد طریقہ ہے۔‘