کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ میں بیروزگاری: 1982 اور اب

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث کاروبار بند پیں اور بیروزگاری ریکارڈ سطح کو پہنچ گئی ہے۔

    ڈپارٹمنٹ آف لیبر کے اعداد و شمار کے مطابق 21 مارچ تک بیروزگاری کی وجہ سے معاوضے کی درخواستیں دینے والے افراد کی تعداد کم از کم 30 لاکھ ہے۔

    اس سے پہلے ایسا ریکارڈ 1982 میں قائم ہوا تھا جب تقریباً 7 لاکھ افراد نے معاوضوں کے لیے درخواستیں دی تھیں۔

    ملک کے مختلف ریاستوں میں ریستوران، بارز، سنیما، ہوٹل اور جِم بند ہیں۔ گاڑیاں بنانے والی فیکٹریوں نے پروڈکشن بند کر دی ہے اور فضائی کاروبار میں انتہائئ کمی آئی ہے۔

  2. بریکنگ, امریکہ میں بیروزگاری میں ’ریکارڈ اضافہ‘

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ میں گذشتہ ایک ہفتے میں بیروگاری کی وجہ سے معاوضے کی درخواستیں دینے والوں کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔

  3. تنقید کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت برقرار

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کورونا وائرس کو شروع سے ہی سنجیدگی سے نہ لینے اور عالمی وبا کی تیاری کرنے کے بجائے قیمتی وقت ضائع کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اس تنقید کا صدر کی مقبولیت کے معیار پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    پولسٹر گیلپ سروے کے مطابق 49 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کے کام سے خوش ہیں جبکہ 45 فیصد ناخوش ہیں۔ سروے کا ڈیٹا 13 مارچ سے 22 مارچ تک اکٹھا کیا گیا اور یہ گیلپ سروے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دی گئی بلند ترین ریٹنگز کے برابر ہے۔

    کورونا وائرس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں 60 فیصد لوگوں صدر ٹرمپ کے اقدامات سے خوش تھے جبکہ 38 فیصد متفق نہیں تھے۔

    امریکہ میں کورونا وائرس کے شکار مریضوں میں تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خبردار کیا جا رہا ہے کہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشے نظر صحت کا نظام بیٹھ جائے گا۔

  4. فکر نہ کریں، آپ کی بلّی کو کورونا وائرس نہیں ہوگا, لورن پوٹس، بی بی سی نیوز

    cato

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پالتو بلیاں رکھنے والے کچھ افراد پریشان ہیں اور وہ ان بلیوں کو کسی نئے گھر بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ان کو کہیں کورونا وائرس نہ لگ جائے۔

    لیکن عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کورونا وائرس کا بلیوں پر کوئی بھی اثر ہوتا ہے۔

    برطانیہ کے ایک فلاحی ادارے کے مطابق انھیں کئی ایسے لوگوں کی کالز موصول ہوئی ہیں جنھیں خدشہ ہے کہ انھیں اپنی پالتو بلیوں سے یہ بیماری نہ لگ جائے۔

    تاہم ماہرین کے مطابق ایسے خدشات زیادہ تر معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔

    لہذا اپنی پالتو بلّی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ ان تنہائی کے دنوں میں شاید وہ ہی آپ کا دل بہلانے میں کامیاب ہو جائیں!

  5. سماجی دوری کیوں ہے ضروری

    سماجی دوری
  6. نگاہیں جنوبی اٹلی پر کیوں ٹکی ہیں؟, مارک لوون، بی بی سی نیوز، روم

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    عالمی وبا کے پھوٹنے کے بعد سے اب تک اٹلی میں 7500 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے اطالوی عوام کو امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی۔

    لیکن اس سب کے باوجود امید کی ایک کرن ہے کیوں کہ نئے متاثرہ افراد کی شرح میں کمی آئی ہے۔ ادھر حکومت کی نیشنل ریسرچ کونسل کا کہنا ہے کہ تقریباً نصف صوبوں میں وبا عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    حالانکہ متاثرہ ترین علاقے لومبارڈی میں کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات کام کرتے نظر آ رہے ہیں مگر وسطی اور جنوبی اٹلی کے پسماندہ علاقوں میں شرح اموات میں تشویش ناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    نیپلز کے قریب واقع علاقے کیمپینیا کے صدر نے تنبیہ کی ہے کہ لومبارڈی کا سانحہ اب جنوب کا سانحہ بننے کے امکانات ہیں۔

    یورپی یونین کی تیسری بڑی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم جیوسیپ کونٹے نے 25 بلین یورو کے دوسرے ریلیف پیکج کا وعدہ کیا ہے۔

  7. بریکنگ, سپین میں ہلاکتیں 4000 سے زیادہ ہو گئیں

    ہسپانوی حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 655 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں کوورونا سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 4089 ہو گئی ہے۔

    سپین میں اب اس وائرس کے 56 ہزار سے زیادہ مصدقہ مریض ہیں اور میڈرڈ سب سے متاثرہ علاقہ ہے جہاں ان میں سے ایک تہائی مریض موجود ہیں۔

    اس کے علاوہ کاتلونیہ میں بھی ساڑھے 11 ہزار سے زیادہ مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    سپین نے ملک میں نافذ ہنگامی حالت کی مدت میں 12 اپریل تک اضافہ کر دیا ہے تاکہ کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. کورونا کے نئے مریض کہاں سامنے آ رہے ہیں؟

    امریکہ اور یورپ میں جہاں کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے وہیں چین میں جہاں اس وبا کا آغاز ہوا، نئے مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

    بی بی سی کے اس گراف میں جانیے کہ کووڈ-19 کے نئے مریض کہاں کہاں زیادہ تعداد میں سامنے آ رہے ہیں۔

    کورونا کے نئے مریض
  9. امریکہ میں ’پرتشدد انتہاپسند‘ پولیس مقابلے میں ہلاک, ایف بی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے شخص کا ہسپتال کو بم سے اڑانے کا منصوبہ تھا

    FBI

    ،تصویر کا ذریعہFBI symbol

    امریکی ریاست میسوری میں ایک 36 سالہ شخص پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا جس پر الزام تھا کہ اس نے ایک ہسپتال کو بم سے اڑانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    ٹموتھی ولسن نامی شخص کے بارے میں کہا گیا کہ وہ شاید ’پرتشدد انتہا پسند‘ تھا اور ماضی میں اس نے نسل دشمن اور مذہب دشمن تاثرات کا اظہار کیا تھا اور حکومت مخالف جذبات بھی رکھتا ہے۔

    ایف بی آئی کے حکام کے مطابق اس شخص نے کئی مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس کے اہداف میں سیاہ فام طلبہ کا گروپ، کنیسا اور مسجد شامل تھے۔

    لیکن اس نے ہسپتال کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ’موجود حالات کو دیکھتے ہوئے‘ اسے ’زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے‘ کی امید تھی۔

    ایف بی آئی کے مطابق اس نے اشیا جمع کر لی تھیں جس کی مدد سے وہ بم بنا سکتا تھا۔

    ریاست میسوری کے قصبے بیلٹن مں ولسن کو ایف بی آئی نے منگل کو حراست میں لینے کی کوشش کی جب وہ اس مقام پر پہنچا جہاں اس سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے ایک ’بم ملے گا‘ لیکن وہاں پر ایسا کچھ نہیں تھا۔

    این بی سی نیوز کے مطابق ولسن کو اس بات پر شدید غصہ تھا کہ مقامی حکومت نے کورونا سے نپٹنے کی لیے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے۔

  10. امریکہ میں وائرس کیسے پھیلا ہے؟

    عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں متاثرین کی تعداد میں انتہائی تیزی سے اضافے کے بعد امریکہ کورونا کی عالمی وبا کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔

    نیویارک اس وقت ملک میں سب سے متاثرہ ریاست ہے لیکن درج ذیل نقشے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کورونا کے مریض امریکہ کے طول و عرض میں موجود ہیں۔

    امریکہ میں کورونا
  11. حفاظتی لباس میں کیا کیا ہوتا ہے؟

    حفاظتی لباس
  12. برطانوی جیل میں کورونا سے پہلی ہلاکت

    برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ایک 84 سالہ قیدی ملک کی جیلوں میں قید ایسا پہلا شخص بن گیا ہے جو کورونا سے ہلاک ہوا ہے۔

    کیمبرج شائر کی جیل میں قید یہ شخص اتوار کو جیل کے ہسپتال میں ہلاک ہوا۔

    بدھ تک برطانیہ میں 19 قیدیوں میں کووڈ-19 کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ جیلوں کے عملے کے چار ارکان میں بھی کورونا پایا گیا ہے۔

  13. بریکنگ, ایران میں کووڈ 19 سے ہلاکتوں کی تعداد 2234، کل متاثرین کی تعداد 34 ہزار سے زیادہ

    ایران نے 26 مارچ کو ملک میں 2389 مزید کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ایران میں متاثرین کی مجموعی تعداد 29 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں مںی ملک بھر سے 157 افراد کی وائرس سے موت ہوئی ہے اور اب ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 2234 ہو گئی ہے جبکہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔

  14. فرانس میں ہلاکتیں کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس میں اب تک کورونا سے 1331 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے تاہم یہ خدشات موجود ہیں کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    طبی حکام اس وقت صرف ایسی ہلاکتوں کا شمار کر رہے ہیں جو ہسپتالوں میں ہوئیں اور وہ غیرمصدقہ ہلاکتوں کا شمار اور ان کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کر رہے۔

    فرانس میں محکمۂ صحت کے انچارج جیروم سالومن کا کہنا ہے کہ ’ہسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد مجموعی ہلاکتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔‘

    خبروں کے مطابق نرسنگ ہومز میں بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں اور وہ تعداد تاحال سرکاری اعدادوشمار میں شامل نہیں۔

  15. بریکنگ, انڈیا میں کورونا سے 13 ہلاکتیں

    انڈیا میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 13 ہوگئی ہے جبکہ ملک میں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 649 تک پہنچ گئی ہے۔

    مرکزی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اس وقت بھارت میں 593 افراد کورونا کے مریض ہیں جبکہ 42 افراد صحت یاب ہو کر گھر چلے گئے ہیں۔

    ملک میں ریاست مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔ ریاستی محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ ممبئی اور تھانہ میں مزید دو افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد ریاست میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 124 ہوگئی ہے۔

    ریاست میں اس وائرس کے چار مریضوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

  16. امریکہ کے سب سے متاثرہ علاقے

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں دن بدن کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد اور اس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    اب تک امریکہ کی 50 ریاستوں میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم کچھ ریاستوں میں صورتحال باقی جگہ سے زیادہ خراب ہے۔

    اس وقت امریکہ میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ پانچ ریاستیں یہ ہیں

    نیویارک: 368 ہلاکتیں

    واشنگٹن: 133 ہلاکتیں

    لوئزیانا: 67 ہلاکتیں

    نیو جرسی: 65 ہلاکتیں

    جارجنا: 47 ہلاکتیں

  17. امریکی شہریوں کے لیے فی کس 1200 ڈالر کی امداد

    واشنگٹن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینیٹ نے دو کھرب ڈالر کے جس کورونا امدادی بل کی منظوری دی ہے وہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی بل ہے۔ اگر یہ قانون بن جاتا ہے تو اس کا اثر لاکھوں امریکیوں کی زندگیوں پر پڑے گا۔ ذیل میں اس بل کے چیدہ چیدہ نکات دیے جا رہے ہیں۔

    • ایسے امریکی جو سالانہ 75 ہزار ڈالر تک کماتے ہیں انھیں 1200 ڈالر دیے جائیں گے۔ 75 ہزار ڈالر سالانہ سے زیادہ کمائی کرنے والوں کے لیے یہ رقم کم ہو گی۔ یہ امداد 99 ہزار ڈالر سالانہ تک آمدن رکھنے والے افراد کو ہی مل سکے گی۔
    • ملک میں کاروباری اداروں، شہروں اور ریاستوں کی مدد کے لیے 500 ارب ڈالر کے قرضے دیے جائیں گے۔
    • چھوٹے کاروباری اداروں کو ملازمین کو ملازمت پر برقرار رکھنے کے لیے 367 ارب ڈالر دیے جائیں گے۔
    • قومی سلامتی کے لیے ضروری اداروں کی مدد کے لیے 17 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔
    • مسافر فضائی کمپنیوں کو 25 ارب ڈالر امداد کے طور پر جبکہ 25 ارب قرضوں کی شکل میں ملیں گے جبکہ مال بردار فضائی کمپنیاں آٹھ ارب ڈالر حاصل کریں گی۔
    • 100 ارب ڈالر ملک بھر میں ہسپتالوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
  18. دنیا میں مالٹے کے جوس کی قیمت کیوں بڑھنے لگی ہے؟

    جیسے جیسے صارفین کورونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر ثحت مند خوراک کے ذرائع پر توجہ دینے لگے ہیں، مالٹے کے جوس کے فیوچرز کی قیمت میں اس ماہ 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ایک طرف تو اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری جانب جوس بنانے والوں کے لیے اپنی اشیا کو مارکیٹوں تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بہت سے علاقوں میں آمد و رفت پر پابندیاں ہیں۔

    اب تک اس سال میں مالٹے کا جوس بہترین فیوچرز میں سے ایک رہا ہے۔

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. بریکنگ, ٹوکیو میں میں بھی دکانوں کے شیلف خالی ہونے لگے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہErina McNelis

    ٹوکیو کے گورنر نے عوام کو ہدایت ہی ہے کہ کورونا کے ’تباہ کن پھیلاؤ‘ کو روکنے کے لیے اس اختتامِ ہفتہ پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    تاہم اس اعلان کے بعد لوگوں نے فوراً دکانوں کا رخ کر لیا اور کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا اور تھوڑی ہی دیر میں فکانوں کے شیلف خالی ہوگئے۔ اگرچہ دنیا کے مختلف شہروں میں خالی دکانوں کا منظر سامنے آ چکا ہے ٹیوکیو میں اب سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔

    جاپان کے 1200 تصدیق شدہ متاثرین میں سے 212 ٹوکیو کے علاقے میں ہیں۔

  20. سنگاپور کی معیشت پر کورونا کا اثر

    کورونا وائرس کی وبا کے دنیا کی معیشت پر اثرانداز ہونے کی نشانیاں سامنے آنے لگی ہیں اور سنگاپور کا کہنا ہے کہ اس کی مجموعی قومی پیداوار میں 2.2 فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ جی ڈی پی میں 10.6 فیصد کمی آئی ہے۔

    یہ 2009 میں عالمی اقتصادی بحران کے بعد آنے والی سب سے بڑی کمی ہے۔

    سنگاپور میں دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ کساد بازاری کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images