کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. اٹلی: چوبیس گھنٹوں میں اموت 662 نہیں بلکہ 712

    اٹلی میں اب کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد 712 ہے اور ملک میں اموات کی کل تعداد 8215 ہے۔

    اس سے پہلے رپورٹ کیا گیا تھا کہ اموات کی تعداد 662 ہے لیکن سول پروٹیکشن ایجسنی کے اعداد و شمار میں ملک کے خطے پیڈمونٹ میں ہونے والی 50 اموات کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    یہ بدھ کو رپورٹ کی جانے والی 683 اموات سے زیادہ ہے۔

    ملک میں 21 مارچ کے بعد متاثرین کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور یہ 74386 سے بڑھ کر اب 80539 ہوگئی ہے۔

  2. بریکنگ, دنیا میں متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹیکے ڈیٹا کے مطابق دنیا بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

    کووِڈ-19 کی وجہ سے دنیا بھر میں 23 ہزار کے قریب افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں تاہم ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

    جنوبی یورپ اس وقت دنیا میں وبا کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک اٹلی ہے جہاں اب تک 8165 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا کی ایک چوتھائی آبادی اس وقت لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہی ہے۔

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہJohns Hopkins University

  3. بریکنگ, برطانیہ میں 578 اموات

    برطانیہ کے صحت کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 578 ہو گئی ہے۔

    ان کے مطابق صبح 9 جی ایم ٹی تک برطانیہ میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 11 ہزار 658 تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. فیشن برانڈ آرمانی کا طبی اہلکاروں کے لیے حفاظتی لباس بنانے کا اعلان

    armani

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    مشہور فیشن برانڈ آرمانی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی اٹلی میں واقع فیکٹریاں طبی اہلکاروں کے لیے حفاظتی لباس بنانا شروع کر رہی ہیں۔

    امپوریو اور جورجیو آرمانی جیسے برانڈز سے وابستہ آرمانی گروپ نے کہا ہے کہ یہ حفاظتی ملبوسات ’کورونا وائرس سے لڑائی میں حصہ لینے والے طبی کارکنان کی انفرادی حفاظت کے لیے‘ استعمال ہوں گے۔

    کمپنی کے مطابق گذشتہ ہفتوں میں آرمانی گروپ کے بانی جورجیو آرمانی اٹلی کے مختلف ہسپتالوں کو کُل 22 لاکھ ڈالر عطیہ کر چکے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ آرمانی کے اٹلی میں کتنے کارخانے ہیں۔ دیگر کمپنیوں کی طرح آرمانی نے بھی گذشتہ برسوں میں بڑھتی قیمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی فیکٹریاں اٹلی سے باہر منتقل کر لی تھیں۔

  5. ایک ہلاکت کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں متعدد مریضوں کی تصدیق, نام بیٹ مین، بی بی سی نامہ نگار

    فلسطین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فلسطینی اتھارٹی کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں متعدد افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد فلسطینی علاقوں میں مصدقہ متاثرہ لوگوں کی تعداد 84 ہو گئی ہے۔

    بدھ کو حکام نے کووِڈ-19 کے نتیجے میں ہونے والی پہلی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ ہلاک ہونے والی 60 سالہ خاتون مغربی کنارے کے علاقے بدو کی رہائشی تھیں۔ اب وہاں 15 مزید افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے بیٹے کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا ہے کیونکہ وہ حال ہی میں اسرائیل سے کام کر کے واپس آیا جہاں آٹھ اموات اور 2600 مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

    فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل میں کام کرنے والے اپنی شہریوں کو مغربی کنارے واپس بلایا مگر یہ بات لوگوں میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

    اسرائیل سے واپس آنے والے ایک اور شخص میں وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ علاقے کے فلسطینی گورنر نے کہا ہے کہ جو بھی شخص اسرائیل سے واپس آنے کے بعد خود ساختہ تنہائی اختیار نہیں کرے گا اسے گرفتار کیا جائے گا اور ’اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا جیسے اس پر سوچ سمجھ کر قتل کرنے کی فردِ جرم ہو۔‘

    عالمی وبا سے پہلے روزانہ 150000 فلسطینی چیک پوائنٹ پار کر کے اسرائیل کام کرنے کے لیے جاتے تھے۔

    وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 30000 کارکنوں کو اسرائیل میں رکنے کی اجازت دے دی گئی بشرطیکہ وہ کم از کم دو مہینے کے لیے اپنے آجر کی جانب سے فراہم کی گئی جگہ پر رہیں۔

  6. بریکنگ, اٹلی: 24 گھنٹوں میں 662 اموات

    اٹلی سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 662 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ملک میں اموات کی کل تعداد 8165 ہوگئی ہے۔ اٹلی میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 80 ہزار 539 ہے۔

  7. کیا کورونا کے شدید علیل مریضوں کا علاج صحت یاب مریضوں کے خون سے ممکن ہے؟

    ڈاکٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد معمولی سے درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کی ایک مخصوص تعداد ایسی ہے جن میں بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے اور مریض ہلاک ہو جاتا ہے۔

    امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔

  8. کورونا وائرس: سب سے زیادہ نئے مریض کس ملک میں ہیں؟

    کورونا کے نئے مریض کہاں کہاں
  9. ووہان کے شہریوں کا محتاط رویہ اور تعصب کا ڈر, گریس سوئی، بی بی سی ورلڈ سروس

    چین میں کورونا وایرس کے مرکز ووہان کے شہریوں کو دو ماہ لاک ڈاؤن میں رہنے کے بعد بلآخر امید کی کرن نظر آئی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ 10 لاکھ افراد پر سے سفری پابندیاں آٹھ اپریل کو ہٹا دی جائیں گی۔

    زندگی پھر سے معمول کی طرف جا رہی ہے۔ سکول ابھی تک بند ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ بحال ہو گئی ہے اور شہری ماسک پہن کر پارکوں میں جا رہے ہیں۔

    ووہان کے 53 سالہ رہائشی لی کہتے ہیں ’میں خوشی محسوس کر رہا ہوں کیونکہ ہم نے کم از کم 60 روز تک گھومنے پھرنے کی آزادی کھو دی تھی۔‘

    تعمیرات کے کام سے وابستہ لی دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ تعمیراتی کاموں کو روک دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بچائے ہوئے پیسے ہوئے خرچ کر کے گزارہ کر رہے تھے۔ اب وہ اپنے عزیز و اقارب سے بھی ملنے کے خواہاں ہیں۔

    لیکن ووہان کے رہائشی جشن کے موڈ میں نہیں ہیں۔

    مسٹر لی

    ،تصویر کا ذریعہMr Li

    وائرس کے نتیجے میں کئی اموات ہوئیں مگر ان کی صحیح تعداد اب تک نہیں پتا۔ لی کے مطابق ووہان اور دنیا اب بھی درد سے گزر رہی ہے۔

    کچھ لوگ پریشان ہیں کہ ووہان کے لوگوں کو طرح طرح کی باتیں سننی پڑیں گی۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک وکیل نے بتایا ’یہاں کے لوگوں کو ہمارے ملک میں ہی تعصب کا سامنا ہے۔ لیکن لوگوں اور شہر کا کیا قصور ہے؟‘

    ایک اور رہائشی شیو لونگ پریشان ہیں کہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد شہری دوبارہ سے وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ہم محتاط رہیں گے۔ میرا خیال ہے کہ ووہان کے لوگ وائرس سے لمبی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘

  10. چین میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی

    چین کا کہنا ہے کہ وہ عارضی طور پر ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ ان میں وہ غیر ملکی شامل ہوں گے جن کے پاس ویزا یا وہاں قیام کی اجازت ہے۔

    یہ اقدامات ملک میں کورونا وائرس کے کیسز آنے سے روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

    یہ احکامات 28 مارس سے لاگو ہوں گے۔

    ویزے کے بغیر ٹرانزٹ جیسی سہولتیں بھی اس سے متاثر ہوں گی۔

    اقتثصادی، تجارت، سائنسی یا تکنیکی اور ہنگامی انسانی بنیادوں پر چین کا رخ کرنے والے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں چینی سفارت خانوں یا قونصل خانوں سے رابطہ کریں۔

    سفارت کاروں پر ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ’یہ معطلی ایک عارضی اقدام ہے جو چین کو وبا کے پھیلتی ہوئی صورتحال اور دیگر ممالک کے اقدامات کی روشنی میں لینا پڑ رہا ہے۔‘

    اس سے پہلے جمعرات کو ہی چین نے بین الاقوامی اور مقامی پروازوں میں بھی کمی کا اعلان کیا تھا جس کا اطلاق 29 مارچ سے ہوگا۔

  11. پینگولین میں کووڈ-19 نما وائرس کی تصدیق

    پینگولیئن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین میں سمگل کیے جانے والے پینگولیئن میں کووڈ۔19 نما وائرس کی تصدیق ہوئی جو کہ پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔

    ایک بین الاقوامی ٹیم نے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں کی منڈی میں ان کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    پینگولیئن ان دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ایک ہے جن کو زیادہ تر غیر قانونی طریقے سے سمگل کیا جاتا ہے اور انھیں روایتی دوائیوں اور خوراک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چمگادڑوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اصل میں ان سے یہ بیماری شروع ہوئی تھی۔

  12. شینگن کے قیام کے 25 برس بعد آج سرحدیں بند ہیں

    26 مارچ 1995 کو شینگن کا وجود عمل میں آیا تھا۔ اس کے تحت یورپ کے ایک بڑے حصے میں لوگ بغیر پابندیوں کے نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔

    لیکن آج 25 برس بعد کورونا وائرس کی وجہ سے تقریباً تمام یورپی ممالک نے اپنی سرحدوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس نے ایک نقشہ ٹویٹ کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ براعظم یورپ کے مختلف ممالک نے کیا اقدامات کیے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. کورونا وائرس سے متعلق بی بی سی اُردو سروس کا خصوصی بلیٹن, جمعرات، 26 مارچ 2020

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  14. اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ مریض ہیں تو کیا کریں

    کورونا مدد
  15. بریکنگ, جی 20 ممالک: عالمی معیشت میں 5 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری

    جی 20 ممالک نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے ہونے والے نقصان سے نمٹنے کے لیے عالمی معیشت میں 5 کھرب کی سرمایہ کاری کریں گے۔

    یہ اعلان سعودی عرب کی صدارت میں ہونے والی ورچوئل سمٹ کے اختتام پر کیا گیا۔

  16. شاہ سلمان: ’خدا انسانیت کو ہر طرح کے نقصان سے بچائے‘

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ٹویٹ کیا ’دنیا کووِڈ-19 عالمی وبا اور نظامِ صحت اور عالمی معیشت کو دیپیش مسائل کا سامنا کر رہی ہے، ایسے وقت میں عالمی کوششوں کو متحد کرنے کے لیے ہم جی-20 سمٹ اجلاس طلب کر رہے ہیں۔ خدا انسانیت کو ہر طرح کے نقصان سے بچائے۔‘

    سعودی عرب جی 20 کی ورچوئل سمٹ کی صدارت کر رہا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کووِڈ-19 سے دو اموات اور متاثرہ مریضوں کی تعداد 900 ہونے کے بعد سعودی عرب میں جعمرات کو کرفیو میں سختی کی گئی اور دارالحکومت ریاض، مکہ اور مدینہ میں لوگوں کے آنے جانے پر پابندی لگا دی گئی۔

    مشرق وسطیٰ میں دیگر ممالک کی صورتحال:

    • لبنان میں عسکریت پسند جماعت حزب اللہ کا کہنا تھا کہ وہ 25000 ڈاکٹروں، نرسوں اور سماجی کارکنوں کو متحرک کر رہی ہے اور وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہسپتالوں میں تیاری کر رہی ہے۔ لبنان میں چھ اموات اور 333 کیسز رپورٹ کیے گئے۔
    • یمن میں عالمی وبا پر قابو پانے کی تیاری کرنے کے لیے مخالف جماعتوں نے جنگ کو فوری ختم کرنے کی اقوامِ متحدہ کی اپیل کا خیرمقدم کیا۔ یمن میں فی الحال کووِڈ-19 سے متاثرہ افراد کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں لیکن ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے۔
    • ایران میں 2234 افراد ہلاک جبکہ 29406 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ان حالات کے پیشِ نظر حکومت نے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے پر پابندی عائد کی ہے جبکہ سکول اور یونیورسٹیاں بند رہنے کے دورانیے میں بھی توسیع کر دی ہے تاکہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی دوسری لہر کو روکا جا سکے۔
  17. ہاتھ تو دھو لیے، اب اپنے پل پل کے ساتھی کی بھی صفائی کر لیجیے!

    ،ویڈیو کیپشنکورونا وائرس: فون کو جراثیم سے پاک کرنے کا صحیح طریقہ
  18. چین: بین الاقوامی اور مقامی پروازوں میں کمی کرنے کا اعلان

    چین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کو دوبارہ پھوٹنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی اور مقامی پروازوں میں انتہائی کمی کر رہا ہے۔

    حکام کو خدشہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ کرنے سے وائرس دوبارہ باہر سے ملک کے اندر آنے لگے۔

    چین کے سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جن احکامات کا اعلان کیا گیا ہے ان پر 29 مارچ سے عمل شروع ہو جائے گا۔

    اس تاریخ سے ہر چینی ایئر لائن صرف ہفتے میں ایک مرتبہ کسی ایک ہی ملک جائے گی۔ یین الاقوامی ایئر لائنز چین کے اندر ایک روٹ پر ہفتے میں صرف ایک مرتبہ آ سکیں گی۔

    چین آنے والی اور جانے والی پروازوں میں 75 فیصد سے زیادہ مسافر نہیں ہوں گے۔

    کمرشل پروازوں کو اب کارگو پروازوں کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ انھیں بین الاقوامی پروازوں میں مزید کمی لانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

  19. امریکہ: بیروزگاری سے متعلق اعداد و شمار ’حقائق کی مکمل عکاسی نہیں‘, مشیل فلری، بزنس نامہ نگار

    امریکہ کے سینٹرل بینک کے سربراہ جیروم پاؤل کو ایک ٹی وی پر یہ کہتے دیکھا گیا کہ امریکہ ’کساد بازاری کا شکار ہے‘ اور خبرادر کیا کہ اس بات کا انحصار وائرس پر ہوگا کہ معیشت کب بحال ہو سکے گی۔

    انھوں نے یہ ایسے وقت میں کہا ہے جب ریکارڈ 30 لاکھ سے زیادہ افراد نے گذشتہ ہفتے بیروزگاری کی وجہ سے معاوضوں کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

    یہ اعداد و شمار بہت زیادہ ہیں لیکن حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتے کیوں کہ کئی افراد اس معاوضے کے لیے درخواستیں دینے کے اہل نہیں اور نوکریوں کے بحران کی شدت کو دیکھتے ہوئے یہ بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ کئی افراد تو درخواستیں جمع ہی نہیں کرا پا رہے کیوں کہ رش کی وجہ سے ویب سائٹیں کریش کر رہی ہیں اور فون لائنیں مل نہیں رہیں۔

    اعداد و شمار
  20. بی بی سی اردو کا پروگرام سیربین, جمعرات، 26 مارچ

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام