کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ میں خطرے کے شکار لوگوں کو اشیائے ضرورت کی ترجیحی ڈیلیوری

    کورونا وائرس، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں سپرمارکیٹس خطرے کی زد میں موجود 15 لاکھ لوگوں کی سرکاری فہرست کا استعمال کریں گی تاکہ ان لوگوں کو سامان ترجیحی بنیادوں پر ڈیلیور کیا جا سکے۔

    سینسزبری اور ویٹروز نامی سٹورز کا کہنا ہے کہ وہ فہرست میں موجود لوگوں کو اگلے ہفتے مطلع کرنا شروع کریں گے۔

    خدشات ہیں کہ خطرے کے شکار لوگ آن لائن شاپنگ میں ڈیلیوری کے اوقات ختم ہوچکے ہیں۔

    زیادہ خطرے کی زد میں موجود گھرانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر علاج حاصل کرنے یا خریداری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

  2. انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تقریباً 50 لاکھ ٹرک ڈرائیور پھنس گئے

    کورونا وائرس، انڈیا،

    انڈیا میں اس وقت 21 روزہ لاک ڈاؤن جاری ہے جبکہ صرف ضروری خدمات فراہم کرنے والوں کو ہی کام کرنے دیا جا رہا ہے۔

    مگر ٹرانسپورٹ ماہر ایس پی سنگھ کے مطابق ضروری خدمات کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً ’50 لاکھ ٹرک ڈرائیور ملک کی شاہراہوں پر غذا اور صفائی کی بنیادی سہولیات کے بغیر پھنس کر رہ گئے ہیں۔‘

    کئی ڈرائیوروں کو اپنے ٹرکوں کے پیچھے سونا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ٹرک فیکٹریوں کے باہر بھی پھنسے ہوئے ہیں اور وہ بیش قیمت سامان اتار نہیں پا رہے کیونکہ مقامی حکام نے پابندی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔

    ٹرانسپورٹ لابی سے تعلق رکھنے والے بالملکیت سنگھ کہتے ہیں کہ ’اگر حکومت نے مداخلت نہ کی تو یہ فوراً امن و امان کا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ڈاکوں کا خدشہ موجود ہے۔‘

    انھوں نے حکومت کو ان بے یار و مددگار ٹرک ڈرائیوروں کو کھانا اور سائبان فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔

    اس صورتحال کی وجہ سے کھانے اور خراب ہونے والی دیگر اشیا کی رسد بھی متاثر ہو رہی ہے مگر اس صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے کیونکہ مختلف ریاستوں کی جانب سے ضروری اشیا کی ترسیل پر پابندی اٹھائی جا رہی ہے۔

    مگر اس بیماری کی وجہ سے انڈیا میں انسانی المیہ بھی جنم لے رہا ہے کیونکہ کئی ہزار مزدوروں کو دیگر ریاستوں میں واقع اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرنا پڑ رہا ہے۔

  3. جنوبی افریقہ میں کورونا سے پہلی دو اموات

    جنوبی افریقہ میں کورونا سے پہلی دو اموات

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جنوبی افریقہ نے تصدیق کی ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں ملک میں پہلی دو اموات واقع ہوچکی ہیں۔

    وزیر صحت کا کہنا ہے کہ دونوں ہلاکتیں مغربی کیپ میں ہوئی ہیں جن میں سے ایک نجی ہسپتال جبکہ دوسری سرکاری ہسپتال میں ہوئی۔

    ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز کے مقابلے جنوبی افریقہ میں کورونا کے ایک ہزار سے زیادہ متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    سکیورٹی اہلکاروں نے ملک بھر میں تین ہفتوں کا لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

    نئے اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چھ ماہ تک کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

  4. غلط معلومات روکنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟

    غلط معلومات روکنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں، فیک نیوز، غلط معلومات

    کورونا وائرس کے حوالے سے غلط اور جھوٹ پر مبنی معلومات سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر عام ہوتی جا رہی ہیں۔

    ماہرین نے ایسے میں یہ مشورہ دیا ہے کہ لوگ ’معلومات کی بھی صفائی‘ رکھیں۔

    لیکن ایسا کرنے کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

    • رُک کر ایک مرتبہ سوچیں
    • معلومات کے ذرائع کی جانچ کریں، ایسی معلومات مُستند لگنے کے باوجود غلط ہوسکتی ہیں
    • اگر آپ کو ان پر مکمل یقین نہ ہو تو انھیں شیئر مت کریں
    • جذبات سے بھری پوسٹ، یا ایسے پیغام جن میں ممکنہ تعصب ہوسکتا ہے، سے ہوشیار رہیں
  5. ’وائرس سے لڑنے کے لیے امریکہ اور چین کو اکٹھا ہونا پڑے گا‘

    چین کے صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بات چیت ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس کی وجہ سے درپیش خطرات سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔

    چینی میڈیا کے مطابق صدر شی نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ اور چین کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔

    صدر شی نے زور دیا ہے کہ ابتدائی وبا پھیلنے پر بیجنگ نے شفاف طریقے سے سب کو آگاہ کیا۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردید ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ چین نے دنیا کو بتانے میں دیر کی تھی۔

    صدر شی نے امریکہ کو مدد کی پیشکش کی ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرے گا۔

    چین کئی یورپی، ایشائی اور افریقی ممالک کی مدد کے لیے امدادی سامان بھیج رہا ہے۔

  6. کورونا: سب سے کم وقت میں نتائج دینے والا ٹیسٹ بنانے کی دوڑ

    کورونا: سب سے کم وقت میں نتائج دینے والا ٹیسٹ بنانے کی دوڑ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سائنسدان کووڈ 19 کا ایک ایسا ٹیسٹ ڈھونڈ رہے ہیں جس کے نتائج سب سے کم وقت میں مل سکیں۔

    سنگاپور کے قومی ادارے میں سائنسدانوں نے کورونا وائرس کا ایک ایسا ٹیسٹ بنایا ہے جو 15 منٹ میں نتائج دے سکتا ہے۔ وہ اسے ایک ماہ میں منظوری کے لیے جمع کروا دیں گے۔

    لیکن مقابلہ سخت ہے۔ ایک برطانوی کمپنی مولوجک لمیٹڈ نے کہا ہے ان کی لیب میں ایک ایسا ٹیسٹ بنایا گیا ہے جو 10 منٹ میں یہ بتا سکتا ہے کہ آیا کسی شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    فی الحال یہ صرف ایک پروٹوٹائپ ہے اور کمپنی کا خیال ہے اس کی قیمت صرف ایک ڈالر ہوگی۔ اس کی منظوری کے بعد یہ ممکن ہے کہ اسے جون میں عام استعمال کے لیے متعارف کروایا جاسکے گا۔

    جرمن کمپنی بوش نے حال ہی میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ تشکیل دیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے نتائج حاصل کرنے میں ڈھائی گھنٹے سے کم وقت لگتا ہے اور اپریل میں یہ ٹیسٹ جرمنی بھر میں دستیاب ہوگا۔

  7. چین میں غیر ملکی افراد کی آمد پر پابندی

    چین میں غیر ملکی افراد کی آمد پر پابندی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین نے دوسرے ممالک سے لوگوں کی آمد پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوگا جن کے پاس ویزا یا رہائش کی اجازت (پرمٹ) موجود ہیں۔

    تمام چینی اور بیرون ممالک کی پروازوں کو ایک پرواز فی ہفتے پر محدود کر دیا گیا ہے اور یہ حکم جاری کیا گیا ہے کہ پرواز کی کم از کم 25 فیصد سیٹیں کھالی رکھی جائیں گی۔

    چین میں مقامی سطح پر کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جبکہ اکثر نئے کیسز کی تصدیق بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں میں ہوتی ہے۔

    جمعرات کو چین بھر میں 55 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جن میں سے صرف ایک مقامی شہری تھا۔

    وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے غیر ملکی شہریوں کی آمد معطل رہے گی۔

    اس کا اطلاق صرف سفارتخانے کے اہلکاروں، جہاز کے عملے اور ایسے لوگوں پر نہیں ہوگا جنھیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چھوٹ دی گئی ہے۔

  8. دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے 24 ہزار سے زیادہ اموات

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے 24 ہزار سے زیادہ اموات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پوری دنیا میں اب تک 24 ہزار سے زیادہ افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

    امریکہ میں 85 ہزار جبکہ چین میں 82 ہزار افراد اس انفیکشن سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    اٹلی میں کورونا وائرس سے آٹھ ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔

    جنوبی افریقہ میں تین ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اشیائے ضرورت کی دکانیں کھلی رہیں گی جبکہ شراب کی خرید و فروخت پر پابندی ہوگی۔

    برطانیہ میں ایک دن میں 100 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔

    آسٹریلیا میں گذشتہ ہفتے کے دوران کیسز کی تعداد 700 سے بڑھ کر 3000 سے زیادہ ہوچکی ہے۔

    انڈیا کی حکومت نے کورونا کی روک تھام کے لیے تقریباً 23 ارب کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں اب تک 640 تصدیق شدہ کیسز اور 17 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  9. ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر سے ’اچھی بات چیت ہوئی ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی اپنی بات چیت کے حوالے سے ایک ٹویٹ شیئر کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ: ’چینی صدر شی جن پنگ سے اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ ہم نے کورونا وائرس سے دنیا میں ہونے والے نقصان پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔‘

    ’چین نے کافی تجربہ حاصل کیا ہے اور وائرس کو سمجھ لیا ہے۔ ہم ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے چین کے لیے احترام بھی ظاہر کیا۔

    امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز 85 ہزار سے بڑھ گئے ہیں اور چین میں کیسز کی تعداد سے تجاوز کر چکے ہیں۔

  10. باکسر عامر خان کی کورونا متاثرین کے لیے 4 منزلہ عمارت کی پیشکش

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہا ہے کہ انھوں نے برطانیہ میں قومی ادارۂ صحت، نیشنل ہیلتھ سروس (یا این ایچ ایس) کو پیشکش کی ہے کہ وہ ان کی ایک 4 منزلہ تعمیر شدہ عمارت کو کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

  11. آسٹریلیا: دوسرے ممالک سے آنے والے شہریوں کو ہوٹل میں قرنطیہ کیا جائے گا

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام آسٹریلوی شہری جو کسی دوسرے ملک سے اپنے واپس اپنے لوٹ رہے ہیں انھیں 14 دنوں کے لیے اپنے گھروں کی جگہ کسی ہوٹل یا رہائش گاہ پر قرنطینہ کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ملک میں دوتہائی کیسز دوسرے ممالک سے آنے والے مسافروں کے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران آسٹریلیا میں کیسز کی تعداد 700 سے بڑھ کر 3000 سے زیادہ ہوچکی ہے۔

  12. انٹرنیٹ کے ذریعے کمزور طبقے کی مدد کیسے کی جارہی ہے؟, گیتا پانڈے، بی بی سی نیوز دلی

    انٹرنیٹ کے ذریعے کمزور طبقے کی مدد کیسے کی جارہی ہے، انڈیا، ماہیتا نگراج

    ،تصویر کا ذریعہCaremongers India

    انڈیا میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو سماجی دوری اختیار کرنے کا کہا گیا ہے۔

    ایسے میں انٹرنیٹ پر ’کیئرمونگرز‘ نامی ایک فلاحی گروہ عمر رسیدہ اور کمزور طبقے کی مدد کے لیے ان سے ربطہ کر رہا ہے۔

    یہ تب شروع ہوا جب ماہیتا نگراج کو ان کے ایک دوست نے برطانیہ سے کال کی اور اپنے والدین کے لیے ضروری طبی سامان اور ادویات پہنچانے کو کہا۔

    اس طرح کئی لوگوں نے ماہیتا سے مدد مانگی اور پھر یہ طریقہ فلاحی گروہ میں تبدیل ہوگیا۔

    وہ کہتی ہیں کہ ان دنوں بہت سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ ’ہم کمزور افراد کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ ڈر پھیلانے کے بجائے محبت پھیلائیں۔‘

  13. شام: بے گھر افراد کے کیمپوں میں وائرس سے اموات کا خدشہ

    کورونا وائرس، کیمپ، شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ، ڈاکٹروں اور امدادی کارکنان نے متنبہ کیا ہے کہ شمال مغربی شام میں بے گھر افراد کے کیمپوں میں کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

    یہاں اب تک کسی کیس کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم محکمہ صحت کے حکام کے مطابق طبی سامان کی فوری فراہمی نہ ہونے کی صورت میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔

    کورونا وائرس، کیمپ، شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. روس نے تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کر دیں

    کورونا وائرس، ہوائی سفر، روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس نے جمعے سے تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کردی ہیں۔ اس کا اطلاق صرف ان خصوصی پروازوں پر نہیں ہوگا جو دوسرے ممالک سے روسی شہریوں کو ان کے وطن واپس پہنچا رہی ہیں۔

    تمام روسی شہری، جو کسی دوسرے ملک میں موجود ہیں، سے کہا گیا ہے کہ حکام سے رابطہ کریں۔ لیکن کچھ شہری ان ممالک میں پھنس چکے ہیں جنھوں نے اپنی سرحدیں بند کر لی ہیں۔

    سنیچر سے روس میں تمام دکانیں اور کاروبار بند ہو کردیے جائیں گے، سوائے دوا خانوں اور کریانے کی دکانوں کے۔

    صدر پوتن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ’کام بند کیا جا رہا ہے۔‘

    ماسکو کے میئر نے شہر میں تمام بار، ریستوران اور پارک بند کر دیے ہیں۔ ایک ہفتے قبل غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    بین لاقوامی ریل اور سمندری راستوں کو بھی بند رکھا گیا ہے۔

  15. لندن لاک ڈاؤن میں کیسا لگتا ہے؟

    لندن

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے عوام سے گھر پر رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے لوگ صرف انتہائی ضروری کام کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔

    حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کے بعد برطانیہ کے طول و عرض میں کئی ایسے مقامات خالی پڑے ہیں جہاں عام دنوں میں لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔

  16. عالمی سطح پر کورونا کی تازہ ترین صورتحال, مصدقہ متاثرین 531,708، ہلاکتیں 24,053

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے لائیو پیج پر آنے کا بہت شکریہ۔

    عالمی سطح پر کورونا کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • چند گھنٹے قبل امریکہ دنیا کا وہ ملک بن چکا ہے جہاں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہیں
    • جان ہاپکنز یونیورسٹی کورونا وائرس ریسوس سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اس وقت مصدقہ متاثرین کی تعداد 85,505 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 1,288 ہو چکی ہے
    • سب سے زیادہ ہلاکتوں کو بات کی جائے تو 8,215 اموات کے ساتھ اٹلی بدستور سرِفہرست ہے۔ اٹلی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 80,589 ہے
    • دنیا کے 175 ممالک میں اس وقت کورونا کے 531,708 مصدقہ متاثرین موجود ہیں جبکہ دنیا بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 24,053 ہے
    • چین میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 81,782 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 3,291 ہے۔ چین میں 74 ہزار سے زائد متاثرین اب تک صحتیاب بھی ہو چکے ہیں
    • گذشتہ 24 گھنٹوں میں بہت سے یورپی ممالک میں وائرس کے باعث ہلاکتوں میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
    • سپین میں ہلاکتوں کی تعداد 4,365، ایران میں 2,234، فرانس میں 1,698، برطانیہ میں 580 جبکہ جرمنی میں 267 افراد اس وبا کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں
    • متاثرین کی بات کی جائے تو سپین میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 57,786 ہے جبکہ جرمنی میں 43,938، فرانس میں 29,566 ، ایران میں 29,406 جبکہ برطانیہ میں متاثرین کی تعداد 11,812 ہے
  17. بریکنگ, امریکہ متاثرین کی فہرست میں چین سے بھی آگے, امریکہ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 82,404

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہJohns Hopkins

    امریکہ کورونا وائرس کے متاثرین کی فہرست میں چین اور اٹلی کو پیچھے چھوڑتا ہوا سب سے اوپر آ گیا ہے۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کورونا وائرس ریسوس سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اس وقت مصدقہ متاثرین کی تعداد 82,404 ہو گئی ہے۔ مصدقہ متاثرین کی اتنی کثیر تعداد سامنے آنے کے بعد امریکہ اس وبا کا نیا عالمی مرکز بن گیا ہے۔

    تازہ اعداد و شمار کے مطابق 81,782 متاثرین کے ساتھ چین اس فہرست میں دوسرے جبکہ 80,589 مصدقہ متاثرین کے ساتھ اٹلی تیسرے نمبر پر ہے۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب سے کچھ دیر قبل ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا مصدقہ متاثرین کی فہرست میں امریکہ کے چین سے بھی اوپر آنے پر وہ حیران ہیں؟ اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ درحقیقت یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ بہت وسیع پیمانے پر اپنے لوگوں کی ٹیسٹنگ کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین میں متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنے چینی حکام نے بتائے ہیں۔

    اس سے قبل نیویارک، امریکہ کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست، کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا تھا کہ ان کی ریاست میں وبا پھیلنے کی رفتار ’بلٹ ٹرین‘ کی رفتار سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم بعدازاں ان کا کہنا ہے کچھ اشارے ایسے ملے جو ظاہر کرتے ہیں کہ شاید وبا کا پھیلاؤ کم ہو جائے۔ امریکہ میں اب تک کورونا وائرس سے 1178 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

  18. کہیں آپ اِن اچھی خبروں کو نظر انداز تو نہیں کر رہے؟

    کورونا وائرس کے بارے میں خوفناک خبروں کے درمیان یہ کچھ مثبت پیشرفت ہیں جن کو آپ نے شاید نظرانداز کر دیا ہو۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  19. برطانیہ: ایک دن میں 100 سے زیادہ اموات

    برطانیہ میں پہلی مرتبہ 24 گھنٹوں میں 100 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

    ڈیٹا

    محکمہ صحت کے مطابق جمعرات 9 جی ایم ٹی تک کل ایک لاکھ 4866 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 93 ہزار 208 میں بیماری کی تشخیص نہیں ہوئی جبکہ مصدقہ متاثیرن کی تعداد 11 ہزار 568 ہے۔

    ڈیٹا
  20. بریکنگ, فرانس: اموات میں تیزی سے اضافہ

    فرانس نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ ملک میں 365 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ملک میں ہلاکتوں کی کل تعداد اب 1696 ہوگئی ہے۔

    بدھ کو ملک میں 231 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔