کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. دو کھرب ڈالر مالیت کا بیل آؤٹ امریکی کانگریس سے منظور

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی تاریخ کے سب سے بڑا مالیاتی بل کی کانگریس سے منظوری کے بعد اس پر دستخط کر دیے ہیں۔

    اس بل میں دو کھرب ڈالر کی امداد کی منظوری دی گئی ہے جسے سینیٹ میں پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔

    ایسے افراد جن کی آمدنی سالانہ 75 ہزار ڈالر سے کم ہے انھیں 1200 ڈالر کے چیک دیے جائیں گے جبکہ 500 ڈالر کے چیک ہر بچے کے والدین کو دیے جائیں گے۔

    اس بل کے مطابق ریاستی حکومتوں کو براہ راست پیسے دیے جائیں گے اور بے روز گار افراد کی امدار کے لیے امدادی پروگرامز کا اعلان کیا جائے گا۔

    اس قانون کے مطابق ان بے روز گار افراد کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا جو عام طور پر نظر انداز ہو جاتے ہیں جیسا کہ فری لانسرز۔

    ایک ایسے وقت میں جب ہر چار میں سے ایک امریکی کو گھر پر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، اس بل کے ذریعے ایسی کمپنیوں کو قرضے اور ٹیکس میں چھوٹ بھی دی گئی ہے جو بند ہونے کے قریب ہیں۔

  2. برطانیہ کے چیف میڈیکل افسر میں بھی کورونا کی علامات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    برطانوی حکومت کے چیف میڈیکل افسر پروفیسر کرس وٹی نے کہا ہے کہ ان میں گدشتہ رات سے کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی تھیں جس کے بعد انھوں نے خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پروفیسر وٹی کورونا وائرس کے خلاف برطانیہ کے دفاع کی سربراہی کر رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ معلومات ویڈیوز کا حصہ بھی رہے ہیں۔ خیال رہے کہ وائرس کی علامات میں سوکھی کھانسی اور درجہ حرارت زیادہ ہونا شامل ہیں۔

    یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن اور سیکرٹری صحت میٹ ہینکاک میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔

  3. بریکنگ, اٹلی: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 900 سے زائد اموات

    italy

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 969 مزید اموات کی تصدیق کی ہے جو ایک دن میں ملک ہلاکتوں کی میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

    یہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک دن میں سامنے آنے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    تاہم امید کی ایک چھوٹی سی کرن بھی نظر آئی ہے: نئے مریضوں کی تعداد میں جمعرات کی نسبت کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 590 لوگ صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    اس طرح ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 9134 ہو گئی ہے۔

  4. کورونا وائرس کی علامات میں فرق کیوں؟, ربیکا میوریل، سائنس نامہ نگار

    سائنس دان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سائنسدان اس وقت اس حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے اور اس کی علامات مختلف افراد میں مختلف کیوں ہوتی ہیں؟

    سائنسدانوں کے مطابق اس حوالے سے ’وائرل لوڈ‘ کا اہم کردار ہے۔ وائرل لوڈ سے مراد انفیکشن کے دوران کسی بھی وقت آپ کے جسم میں وائرس کی مقدار ہے۔ جتنا زیادہ وائرل لوڈ ہو گا، اتنا زیادہ وائرس آپ اپنے جسم سے دوسرے تک منتقل کریں گے جس سے آپ میں وائرس کی منتقلی کا اندیشہ زیادہ ہو گا۔

    کورونا وائرس کے مریضوں میں علامات ظاہر ہونے کے پانچ دنوں بعد وائرل لوڈ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

    کچھ سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ آغاز میں وائرس کی کتنی مقدار آپ میں جاتی ہے، یہ اہم ہوتا ہے۔ اگر آپ میں وائرس کی کم مقدار جائے گی، تو آپ میں اس بیماری کی علامات سنگین نہیں ہوں گی تاہم اگر آپ میں اس وائرس کی زیادہ مقدار جاتی ہے تو آپ میں سنگین علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

    یہ صحت کے عملے کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ان کا بہت سے متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی میل جول ہوتا ہے جس کے باعث جب کسی مریض کا وائرل لوڈ عروج پر ہوتا ہے تو کسی دوسرے کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ حفاظتی لباس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

  5. آئی ایم ایف: ’موجودہ معاشی بحران 2009 کے عالمی بحران سے بدتر ہو گا‘

    کرسٹلینا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی چیف کرسٹلینا جارجیوا نے جمعہ کےروز ایک آن لائن پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث عالمی معیشت کو شدید نقصان ہوا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو وسیع پیمانے پر امداد دینا پڑے گی.

    انھوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ عالمی معیشت بہران کا شکار ہو چکی ہے جو سنہ 2009 کے عالمی اقتصادی بحران سے بھی بدتر ہو گا۔

    جارجیوا کا کہنا تھا کہ دنیا کی معیشت کے ’اچانک رک جانے‘ سے عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے لگائے جانے والے تخمینوں کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو دو اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔

    تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’ہمارے مطابق یہ محتاط تخمینے ہیں۔‘

    اب تک 80 سے زائد ممالک نے عالمی مالیاتی ادارے سے امداد کی اپیل کر رکھی ہے۔

  6. بریکنگ, کورونا: برطانیہ میں ایک دن میں 181 ہلاکتیں، تعداد 759 ہو گئی

    boris and queen

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں ایک دن میں اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    جمعے کے روز برطانیہ کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 181 مزید ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 759 ہو گئی ہے۔

    ہلاک ہونے والوں کی عمریں 29 سے 98 برس کے درمیان تھیں۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق 82 سے 91 برس کی عمر کے افراد میں چار کے علاوہ باقی سب کو کو پہلے سے کوئی بیماری لاحق تھی۔

    برطانیہ دنیا میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔ اب تک اٹلی میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں جس کے بعد سپین، چین، ایران، فرانس اور امریکہ کا نمبر آتا ہے۔

    خیال رہے کہ برطانیہ میں کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 14579 ہے جس میں وزیرِ اعظم بورس جانسن بھی شامل ہیں۔

    گراف
  7. بریکنگ, انڈیا: ’وسیع پیمانے پر وائرس پھیلانے والے شخص‘ کے باعث 40 ہزار افراد قرنطینہ میں

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب میں حکام نے ایک 70 سالہ شخص کی کووڈ 19 سے ہلاکت کے بعد تقریباً 40 ہزار افراد کو قرنطینہ میں رکھ دیا ہے۔

    حکام نے بی بی سی پنجابی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص نے اٹلی اور جرمنی کا سفر کرنے کے بعد حکام کی جانب سے از خود قرنطینہ میں رکھے جانے کی ہدایت پر عمل نہیں کیا تھا

    حکام کے مطابق انڈیا واپسی کے بعد انھوں نے ہولا محلہ میں ہولی کی چھ روزہ تقریب میں بھی شرکت کی جس میں ہر روز تقریباً 10 ہزار لوگ شریک ہوئے تھے۔

    ان کی وفات کے ایک ہفتے بعد ان کے 19 رشتہ داروں میں بھی کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔

    سینیئر حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک ’ایسے 550 افراد جن کا ان سے براہ راست میل جول رہا ہے ان کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔‘

    پولیس نے اس علاقے کے اردگرد موجود 20 کے قریب گاؤں سیل کر دیے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    انڈیا میں اب تک صرف 640 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی جن میں سے 30 کا تعلق پنجاب سے ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ انڈیا نے اب تک وسیع پیمانے پر لوگوں کو ٹیسٹ نہیں کیا۔

  8. کورونا: دنیا میں کنڈوم کی قلت کا خدشہ

    کنڈوم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں کنڈوم بنانے والے سب سے بڑی کمپنی کو کورونا وائرس خدشات کے باعث بند کرنے کے بعد دنیا بھر میں آنے والے دنوں میں کنڈوم کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ملائیشیا میں کیرکس بیرہیڈ کی تین فیکٹریوں کو پہلے ہی 10 روز کے لیے بند کیا جا چکا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو گومیا کیاٹ نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ 10 روز کی بندش کا مطلب ہے 10 کروڑ کم کنڈومز بنیں گے۔

    یہ کمپنی دنیا میں ہر پانچ میں سے ایک کنڈوم بناتی ہے اور اب ان کی جانب سے ملائیشیا کی حکومت سے اپیل کی جا رہی ہے کہ اس ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران انھیں اس حوالے سے استثنا دیا جائے۔

    خیال رہے کہ ملائیشیا جنوب مشرقی ایشیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اب تک یہاں 2161 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر انھیں دوبارہ کام شروع نہ کرنے دیا گیا ’تو ہم کنڈومز میں عالمی قلت دیکھ سکتے ہیں جس کے باعث اانسانی حقوق کے لیے کیے جانے والے متعدد اقدامات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کل ڈیمانڈ بھی بہت زیادہ ہے جو بری بات نہیں ہے کیونکہ لوگ فی الحال مزید بچے نہیں پیدا کرنا چاہتے۔

    ’اتنی غیر یقینی صورتحال میں یہ اس کا وقت بھی نہیں ہے۔‘

    کیرکس کے کنڈوم ڈیوریکس جیسی کمپنیوں اور برطانوی ادارہ صحت این ایچ ایس اور اقوامِ متحدہ کے آبادیاتی فنڈ کو بھی سپلائی کیے جاتے ہیں۔

  9. بورس جانسن کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اور کس کے ٹیسٹ ہونے چاہییں؟, نک ایئرڈلی، سیاسی نامہ نگار

    بارس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بورس جانس کا کہنا ہے کہ ان میں کووڈ 19 کی علامات معمولی ہیں اور وہ حکومت کی کورونا وائرس کی حکمت عملی کی سربراہی کرتے رہیں گے۔

    حکومت کی جابنب سے پہلے ہی اس حوالے سے تصدیق کی جا چکی ہے کہ اگر وزیرِ اعظم کام نہ کر سکے تو سیکرٹری خارجہ ڈامنک راب ان کی جگہ لے لیں گے تاہم اس وقت ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

    اس وقت سوال یہ ہے کہ وزیرِ اعظم اب تک کس کس کے ساتھ قریبی میل جول رہا ہے اور کتنے لوگوں کا اس حوالے سے ٹیسٹ کرنا ضروری ہے۔

    چانسلر رشی سناک کا بھی ابھی تک ٹیسٹ نہیں کیا گیا کیونکہ ان میں ابھی تک کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

    اس سے قبل حکومتی عملے نے قریبی میل جول کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے جن میں میٹنگز کانفرنس کالز کے ذریعے کرنا اور روزانہ کی بریفنگ انٹرنیٹ کے ذریعے دینا۔

    تاہم وزیرِ اعظم پارلیمان میں بھی آتے رہے ہیں اور انھوں نے کابینہ کے سینیئر افراد کے ساتھ ملاقاتیں بھی کی ہیں اور چیف میڈیکل افسر سے بھی ملے ہیں۔

  10. پوتن حکومت کے رکن میں کووڈ 19 کی تشخیص

    روس کے صدر ولادمر پوتن کی انتظامیہ کے ایک رکن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق صدر کے پریس سیکرٹری دمتری پیسکاو نے کہا ہے کہ 67 برس کے روسی صدر کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

    روس کی جانب سے آج ایک دن میں سب سے زیادہ 196 کیسز رپورٹ کیے گئے جس کے بعد ملک میں مجموعی طور پر اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1036 ہو گئے ہیں جبکہ تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  11. بورس جانسن: ’ہم مل کر اسے شکست دیں گے‘

    برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد قوم کے نام پیغام میں کہا کہ وہ تمام حفاظتی اقدامات اٹھائیں اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی تمام ہدایات پر عمل کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہی واحد طریقہ ہے کہ ہم اس وائرس کو شکست دے سکیں گے اور ہم اسے مل کر شکست دیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. بریکنگ, برطانوی ہیلتھ سیکریٹری کا بھی کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت

    ہیلتھ سیکرٹری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد برطانیہ کے ہیلتھ سیکریٹری میٹ ہینکاک میں بھی کووڈ 19کی تشخیص ہو گئی ہے۔

    ان میں اس وائرس کی معمولی علامات سامنے آئی ہیں جس کے بعد وہ بھی اپنی رہائش گاہ میں قرنطینہ میں رہیں گے۔

  13. اسرائیل کی موبائل فون کے ذریعے جاسوسی

    جاسوسی کی نئی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے، اسرائیل ان افراد کی جاسوسی کر رہا ہے جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود ہسپتال سے بھاگ رہے ہیں۔بیماری پر قابو پانے کی کوشش کرنے کے لیے یہ نگرانی کے نئے اقدامات کا ایک حصہ ہے۔

  14. بریکنگ, برطانوی وزیرِ اعظم بارس جانسن میں کووڈ 19 کی تشخیص

    برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن میں بھی کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔

    حکومت کے ترجمان کے مطابق بارس جانسن میں علامات کی نوعیت سنگین نہیں ہے اسی لیے وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے اور قرنطینہ میں رہیں گے۔

  15. سپین میں 24 گھنٹوں میں مزید 769 افراد ہلاک

    طبی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سپین میں 769 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی کُل تعداد 4858 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ روز ملک میں 655 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    مجموعی طور پر سپین میں گذشتہ روز متاثرین کی تعداد میں 7871 کا اضافہ ہوا جس کے بعد وہاں متاثرین کی کُل تعداد 64 ہزار 59 ہوگئی۔

    سپین میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 9357 ہے۔

  16. برطانیہ میں فائر فائٹرز کا ایمبولینسیں چلانے، اشیائے ضرورت کی ترسیل کا اعلان

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے فائر فائٹرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے جنم لینے والے ’انسانی المیے‘ کے دوران دوسرے شعبوں کا بوجھ بانٹنے میں مدد کریں گے۔

    فائر بریگیڈ یونین کے جنرل سیکریٹری میٹ ریک نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے کو بتایا کہ ویسے تو ایمرجنسی خدمات پہلے ہی دباؤ میں ہیں لیکن ’ہم سب مل کر اس صورتحال کا سامنا کریں گے۔‘

    فائر سروس تنظیموں کے درمیان ایک نئے معاہدے کے تحت فائر فائٹرز دیگر خدمات کا کام بانٹ سکیں گے، جن میں ایمرجنسی گاڑیاں چلانا، دوائیں پہنچانا، لاشیں نکالنا اور خطرے کی زد میں موجود لوگوں کو اشیائے ضرورت فراہم کرنا شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’خدشہ ہے کہ اس وبا کے دوران جانوں کا بہت زیادہ نقصان ہو سکتا ہے اور فائر فائٹرز جو اکثر انتہائی خوفناک صورتحال اور حادثات کا سامنا کرتے ہیں، لاشوں کو نکالنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فائر فائٹرز نے ہمیشہ خطرے کے وقت عوام کی مدد کی ہے اور یہ موقع بھی مختلف نہیں ہے۔‘

    یہ معاہدہ دو ماہ کے لیے قائم رہے گا اور اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب میٹروپولیٹن پولیس نے ریٹائر افسران سے کہا ہے کہ وہ بحران کے دوران سروس میں دوبارہ شمولیت اختیار کریں۔

  17. ’تیز تر اور کڑے اقدامات تین کروڑ جانیں بچا سکتے ہیں‘

    ایک تازہ تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ اگر دنیا کے مختلف ممالک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر سخت ترین اقدامات کریں تو عالمی طور پر تین کروڑ جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

    امپیریئل کالج لندن کے محققین کے مطابق اگر کچھ نہ کیا گیا تو رواں سال چار کروڑ اموات ہو سکتی ہیں مگر سماجی دوری اس تعداد کو نصف کر سکتی ہے۔

    اگر ممالک کی جانب سے اوائل میں ہی ٹیسٹنگ، متاثرین کو الگ تھلگ کرنے اور وسیع پیمانے پر سماجی دوری کا نفاذ کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں تو تین کروڑ 87 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

    مگر تحقیق میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک ممکنہ طور پر اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

    محققین نے 202 ممالک میں اس وبا کے طبی اثرات کا جائزہ لیا اور اپنے اندازوں کے لیے انھوں نے چین اور دیگر بلند آمدنی والے ممالک کے ڈیٹا پر انحصار کیا۔

  18. برطانیہ میں تشدد کی شکار خواتین کو ہوٹل کے کمرے فراہم کرنے کا مطالبہ

    برطانیہ میں دو ارکانِ پارلیمنٹ اور خواتین کے حقوق کی 33 تنظیموں نے ملک کے بڑے ہوٹلوں کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران پھنسی ہوئی گھریلو تشدد کی شکار خواتین کو رہنے کے لیے کمرے فراہم کریں۔

    اپنے خط میں انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خود ساختہ تنہائی، گھر سے کام کرنے اور کام کے اوقات میں کمی کی وجہ سے تشدد کی شکار زیادہ تر خواتین کو گھروں میں رہنا پڑ سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ چین میں جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے، تب سے وہاں گھریلو تشدد کی شرح میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’وہ خواتین جو تحفظ، آرام اور امداد کے لیے کہیں نہیں جا سکتیں، ہوٹل ان خواتین کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔‘

    اس خط پر لیبر پارٹی کے ارکان جیس فلپس اور کیرولن ہیرس نے جبکہ غیر سرکاری تنظیموں ساؤتھ ہال بلیک سسٹرز اور جو کوکس فاؤنڈیشن سمیت کئی گروہوں نے دستخط کیے ہیں۔

  19. انڈیا میں کورونا کے پیشِ نظر ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ

    انڈیا میں گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی جیلوں میں کورونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیشِ نظر حکومت نے کئی قیدیوں کو رہا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    مغربی ریاست مہاراشٹر نے ان 11 ہزار قیدیوں کی پیرول پر رہائی کا فیصلہ کیا ہے جنھیں سات سال یا اس سے کم کی سزا سنا گئی تھی۔ دوسری جانب دلی کی سخت ترین سیکیورٹی والی تہاڑ جیل سے بھی تقریباً تین ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے۔

    ان میں وہ قیدی شامل ہیں جنھیں پیرول پر رہا کیا جائے گا اور وہ بھی جن کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں جنھیں عارضی ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔

    انڈیا کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہیں جس کی وجہ سے وہ وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز بن سکتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی تیرہ سو سے زیادہ جیلوں میں تقریباً چار لاکھ کے قریب قیدی موجود ہیں اور ان میں سے زیادہ تر تفتیش یا ٹرائل کے منتظر ہیں۔

    رواں ہفتے انڈیا کی سپریم کورٹ نے ریاستوں سے کہا تھا کہ وہ ان تمام قیدیوں کی رہائی پر غور کریں جنھیں سات سال تک کی قید کی سزا سنائی گئی ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جیلوں میں رش کم کیا جا سکے۔

  20. انڈیا، 23 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کے بعد شرحِ سود میں بھی کمی کا اعلان

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    انڈیا کے وزیرِ خزانہ کی جانب سے 23 ارب ڈالر کے معاشی پیکج کے اعلان کے ایک ہی دن بعد انڈیا کے مرکزی بینک نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔

    ریزرو بینک آف انڈیا نے 75 بیسز پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے شرح سود کو 4.4 فیصد پر مقرر کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ بینکوں کے لیے اپنی رقم مرکزی بینک میں جمع کروانا فائدہ مند نہ رہے تاکہ وہ اسے قرضے دینے کے لیے استعمال کریں۔

    ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اس سے بینک اپنے قرضوں کی شرحِ سود میں مزید کمی کریں گے۔

    ایل اینڈ ٹی فنانس کمپنی میں چیف اکنامسٹ روپا نتسورے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ فی الوقت قرضوں کی طلب بہت کم ہے کیونکہ پوری معیشت بند پڑی ہے۔ چنانچہ جب طلب بحال ہونی شروع ہوگی تب بھی ریزرو بینک کو جارحانہ اقدامات کرنے ہوں گے۔‘

    اس کے علاوہ ریزرو بینک نے بینکوں کو یہ بھی اجازت دی ہے کہ وہ فکس مدت کے تمام کمرشل قرضوں کی ادائیگی تین ماہ کے لیے مؤخر کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے ادائیگی نہ کرنے والی کمپنیوں کی کریڈٹ ریٹنگ خراب نہیں ہوگی۔

    یاد رہے کہ انڈین حکومت کے اعلان کردہ معاشی پیکج پر تنقید کی جا رہی تھی کہ یہ مبینہ نقصان سے نمٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہوگا۔