کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستانی خاتون ایران میں کورونا سے ہلاک

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مشہد سے پاکستان کی سرحد کی طرف جانے والی بس پر سوار ایک پاکستانی خاتون مسافر کا کورونا کی وجہ سے انتقال ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون کی حالت بگڑنے کے بعد بس کو صوبہ نہبندان میں روکا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

    ارنا نے نہبندان کے گورنر ماجد بیکی کے حوالے سے بتایا ہے کہ خاتون کی میت کو مردہ گھر میں رکھا گیا ہے اور قانونی کارروائی کے بعد اسے تفتان کی سرحد پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

  2. ایران میں کورونا وائرس کے 3076 نئے متاثرین

    کورونا وائرس، ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے سنیچر کو اپنے ملک میں کورونا وائرس کے تین ہزار 76 نئے متاثرین کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی کُل تعداد 35 ہزار 408 ہوگئی ہے۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے کہا ہے کہ 3206 مریض تشویش ناک حالت میں ہیں۔

    ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران میں 139 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 2517 ہوگئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب تک 11 ہزار 679 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

  3. مصر کے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات

    کورونا وائرس، مصر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مصر کی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی نئے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں قرنطینے کی مدت کو 28 دن تک بڑھانا بھی شامل ہے۔

    اس سے قبل دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں کے لیے قرنطینے کی مدت 14 دن تھی۔

    نجی نیوز ویب سائٹ المصری الیوم نے صدارتی مشیر برائے صحت کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام ان اطلاعات کے بعد اٹھایا گیا کہ چند ممالک میں وائرس کی نشونما کا دورانیہ 14 دن سے بھی زیادہ ہے۔

    اس دوران مصری طبی حکام نے بالائی مصر میں کورونا وائرس کے آٹھ مشتبہ متاثرین کے سامنے آنے کے بعد وہاں کے دو دیہات کو قرنطینہ کر دیا ہے۔

  4. اردن میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

    عرب میڈیا کے مطابق اردن نے کورونا وائرس سے اپنے ملک میں پہلی ہلاکت کا اعلان کر دیا ہے۔

    83 سالہ خاتون کو اردن کے دارالحکومت عمان کے پرنس حمزہ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

    اردن کی ویب سائٹ المملکۃ ٹی وی کے مطابق اس سے قبل وہ ایک نجی ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔

  5. 50 نئے متاثرین کے ساتھ ٹوکیو میں ایک دن میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

    کورونا وائرس، جاپان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 50 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    یہ اعداد و شمار سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے نے رپورٹ کیے جس کا کہنا ہے کہ جاپانی دارالحکومت میں اب 300 سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین ہیں۔

    ٹوکیو کے گورنر یوریکو کوئکے نے شہر اور مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھر کے اندر ہی رہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اکٹھا کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاپان نے کورونا وائرس کے تقریباً 1500 سے زائد متاثرین اور 49 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

    رواں سال ٹوکیو میں اولمپک اور پیرالمپک کھیل منعقد ہونے تھے مگر وبا کی وجہ سے انھیں 2021 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

  6. چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر عائد پابندیوں میں نرمی

    کورونا وائرس، چین، ووہان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ووہان، جہاں سے گذشتہ سال کورونا وائرس پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا، اسے دو ماہ تک باقی چین سے علیحدہ رکھنے کے بعد اب جُزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔

    اب لوگ ووہان میں داخل ہوسکتے ہیں مگر ووہان چھوڑ نہیں سکتے۔ چین کے صوبے ہوبائی کے اس شہر کو جنوری میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا، سفر معطل اور روز مرہ کی زندگی پر سخت ترین پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

    سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والی تصاویر میں دکھایا گیا کہ باضابطہ منظوری کے بعد پہلی ٹرین نصف شب کے بعد شہر میں داخل ہوئی۔

    ووہان کا زیادہ تر سب وے نیٹ ورک بھی کھول دیا گیا ہے جبکہ چند شاپنگ سینٹر اگلے ہفتے سے کھولے جائیں گے۔

    ایک کروڑ 10 لاکھ آبادی والے شہر کے حکام نے دسمبر میں مطلع کیا تھا کہ وہ ایک پراسرار نمونیا جیسی بیماری کے متاثرین کا سامنا کر رہے ہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ڈیٹا کے مطابق چین میں اب تک تقریباً 3299 اموات ہوچکی ہیں۔

  7. بیلاروس: یورپ کا واحد ملک جو کورونا وائرس سے پریشان نہیں ہے

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ اب کورونا وائرس کی عالمی وبا کا مرکز بن چکا ہے لیکن اسی براعظم پر ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں حکام عوام کو اپنے روز مرہ کی زندگی کے معمولات کو تبدیل نہ کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔

    بیلاروس کئی اعتبار سے ایک انوکھا ملک ہے۔ یہ یورپ کے دیگر ملکوں اور اپنے قریب ترین ہمسایہ ممالک، یوکرین اور روس، سے بہت مختلف رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

    یوکرین ہنگامی حالت نافذ کرنے والا ہے جبکہ روس میں سکول بند کر دیے گئے ہیں، بڑے اجتماعات پر پابندی ہے اور ملک میں آنے اور جانے والی تمام پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بیلاروس میں کئی لحاظ سے زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

    بیلا روس کی سرحدیں کھلی ہیں، لوگ اپنے کاموں پر جا رہے ہیں اور سراسیمگی کے عالم میں کوئی ٹوائلٹ پیپر خرید کر ذخیرہ نہیں کر رہا۔

    بیلاروس کے صدر الیگزیندر لوکاشنکو کہتے ہیں کہ ملک کو کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کوئی احتیاطی اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ملک کے دارالحکومت منسک میں چین کے سفیر کے ساتھ ایک ملاقات میں انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دہشت زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہا ہے کہ ’واقعات ہوتے رہتے ہیں۔‘

    مکمل خبریہاںملاحظہ کیجیے۔

  8. صدر ٹرمپ اپنے اندازوں کے بجائے ماہرین کی بات کب سنیں گے؟: ہلری کلنٹن

    امریکہ کی سابق وزیرِ خارجہ اور سابق خاتونِ اول ہلری کلنٹن نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اندازے لگانے کے بجائے ماہرین کی باتیں کب سنیں گے؟

    انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ 'ایک ماہ قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ ختم ہوجائے گا۔ کل انھوں نے کہا کہ میں نہیں مانتا کہ ہمیں 30 ہزار یا 40 ہزار وینٹیلیٹرز کی ضرورت پڑے گی۔'

    واضح رہے کہ اس وقت امریکہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جہاں اس وقت ایک لاکھ چار ہزار سے زائد متاثرین ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    امریکہ میں مختلف ٹیکنالوجی اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے اپنی معمول کی پیداوار سے ہٹ کر وینٹیلیٹرز بنانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ٹیسلا کی جانب سے نیویارک کو وینٹیلیٹرز عطیہ کیے گئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. روس میں وبائی صورتحال نہ ہونے کے باوجود شٹ ڈاؤن شروع

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اس ہفتے کام نہیں ہوگا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    روسی حکومت لوگوں کو گھروں پر رہنے کی ترغیب دے رہی ہے مگر ملے جلے پیغامات کی وجہ سے زیادہ تر روسی شہری غیر یقینی کے شکار ہیں۔ اب حکام نے یہ عندیہ دیا ہے کہ طبی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے نئی پابندیوں کو پانچ اپریل تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

    جمعے کو کووِڈ-19 سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی تھی جبکہ سب سے زیادہ متاثرین دارالحکومت ماسکو میں سامنے آئے تھے۔ اس کی بنا پر روسی حکومت کے ترجمان نے زور دیا ہے کہ یہاں 'وبائی صورتحال نہیں ہے'۔

    شٹ ڈاؤن کا اعلان ہونے پر روسی شہریوں کی جانب سے چھٹیوں پر جانے کے لیے ہوٹل بکنگز میں اضافہ ہونے لگا جس کے بعد حکومت نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ چھٹیاں نہیں ہیں۔

  10. اٹلی میں ایک روز میں 919 ہلاکتیں، کُل ہلاکتیں 9134

    اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی وجہ سے 919 ہلاکتیں ہوئی ہیں جو کہ اب تک اس کی روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    یوں اٹلی میں کورونا وائرس سے کُل ہلاکتوں کی تعداد 9134 ہوچکی ہے۔

    اٹلی یورپ کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں تقریباً ہر چیز بند ہو چکی ہے اور لوگوں سے گھروں پر رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

    شمالی خطے لومبارڈی میں کووِڈ-19 سے ہلاکتوں میں زبردست تیزی آئی ہے۔

    اس سے پہلے جمعرات کو ہلاکتوں کی تعداد میں کمی ہوئی تھی جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ وبا کا عروج گزر چکا ہے۔

    اٹلی میں اب تک 86 ہزار 500 تصدیق شدہ متاثرین ہیں۔

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  11. کینیڈا: کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد سارس سے ہلاکتوں سے زیادہ

    کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے سنہ 2002 میں پھوٹنے والی سانس کی بیماری سارس کے مقابلے میں زیادہ کینیڈین لوگوں کی جان لی ہے۔

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ڈیٹا کے مطابق اب تک ملک بھر میں وائرس کے 4600 سے زیادہ متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 54 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرکاری ڈیٹا کے مطابق سنہ 2003 میں سارس سے 44 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    سارس کی بیماری 2002 میں چین سے شروع ہوئی تھی اور پوری دنیا میں پھیل گئی تھی۔ اس سے دنیا بھر میں 8000 افراد متاثر ہوئے تھے۔

    سارس سے سب سے زیادہ متاثر ٹورونٹو شہر ہوا تھا جہاں طبی حکام نے 27 ہزار افراد کو قرنطینے میں ڈال دیا تھا، ہسپتالوں نے تمام غیر ضروری سہولیات معطل کر دی تھیں اور شہر کے گہما گہمی والے علاقے چائنہ ٹاؤن میں ہُو کا عالم طاری تھا۔

  12. ٹیسلا کمپنی نے نیویارک کو سینکڑوں وینٹیلیٹر عطیہ کر دیے

    ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا نے امریکی ریاست نیویارک کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سینکڑوں وینٹیلیٹر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    یہ وینٹیلیٹر چین میں امریکی حکومت سے منظور شدہ ایک کمپنی سے خریدے گئے ہیں۔

    نیویارک شہر کے میئر بِل ڈی بلاسیو نے ٹوئٹر پر ایلون مسک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ 'ہم نہایت شکر گزار ہیں۔'

    یہ وینٹیلیٹر نیویارک شہر اور نیویارک ریاست کے ہسپتالوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔

    امریکہ میں کووِڈ-19 کے سب سے زیادہ کیسز نیویارک میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    جمعے تک وہاں کے گورنر کا کہنا تھا کہ ریاست میں 519 لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. امریکی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی بل منظور

    امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی پیکیج منظور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے امدادی بل پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس میں موجود دو کھرب ڈالر کا پیکج عالمی وبا کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے منظور کیا گیا ہے۔

    سینیٹ میں بحث کے دو دن بعد اسے ایوانِ نمائندگان نے منظور کیا۔

    بدھ کو 33 لاکھ امریکیوں نے بے روزگار ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ملک میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔

    اس پیکج پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی پچھلے ریلیف پیکیج سے ’دگنا‘ بڑا ہے۔

    ’یہ پیکیج ہماری قوم کے خاندانوں، کارکنان اور کاروبار کی مدد کرے گا جس کی انھیں فوری ضرورت ہے۔‘

  14. دنیا بھر میں پانچ لاکھ 96 ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین, مجموعی ہلاکتیں 27,333

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر کے 176 ممالک میں کورونا وائرس کے پانچ لاکھ 96 ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین موجود ہیں جبکہ اس وبا کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27,333 ہے
    • امریکہ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر کے 104,007 تک پہنچ چکی ہے جبکہ یہاں ہلاکتوں کی تعداد 1,693 ہے
    • سب سے زیادہ 9,134 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں۔ اٹلی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 86,498 ہے اس وبا کے ابتدائی مرکز یعنی چین میں اس وقت مصدقہ متاثرین کی تعداد 81,905 ہے جبکہ 3,296 چینی باشندے اس وبا کی ہاتھوں اب تک جان گنوا چکے ہیں۔ چین میں اس وبا سے 74,721 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں
    • سپین میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 65,719، جرمنی میں 50,871، فرانس میں 33,402، ایران میں 32,332، برطانیہ میں 14,745، سوئزرلینڈ میں 12,928 جبکہ جنوبی کوریا میں 9,332 مصدقہ متاثرین موجود ہیں
    • 9,134 اموات کے ساتھ اٹلی بدستور سرِفہرست ہے جبکہ سپین میں 5,138، چین میں 3,296، ایران میں 2,378، فرانس میں 1,997، امریکہ میں 1,693، برطانیہ میں 761، جرمنی میں 351، سوئزرلینڈ میں 231 جبکہ جنوبی کوریا میں 139 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
  15. یورپ کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    یورپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کے یورپی ممالک میں پھیلاؤ کی موجود صورتحال کا جائزہ پیش خدمت ہے:

    • خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپ میں کورونا وائرس کے تین لاکھ سے زائد مصدقہ متاثرین موجود ہیں
    • گدشتہ 24 گھنٹوں میں یورپ میں سب سے زیادہ 969 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں۔ اٹلی کے صدر نے دیگر یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وائرس کی روک تھام کے لیے نئے اور سخت اقدامات اٹھائیں
    • ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے ایک خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ سب لوگ یورپ کو درپیش اس نئے خطرے کی سنجیدگی سے اچھی طرح آگاہ ہو جائیں اس سے قبل کہ کہیں بہت زیادہ دیر نہ ہو جائے۔‘
    • گذشتہ 24 گھنٹوں میں فرانس میں 299 نئی ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 1995 ہو چکی ہے۔ فرانس میں حکومت میں لاک ڈاؤن کے دورانیے میں مزید اضافے کا اعلان کیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی مدت بڑھا کر 15 اپریل تک کر دی گئی ہے
    • جمعہ کی شام فرانس کے مشہور ایفل ٹاور پر طبی عملے کی خدمات کو سراہنے کی غرض سے روشن کیا گیا
    پیرس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • اٹلی کے بعد سپین ایسا ملک ہے جہاں ایک دن میں سب سے زیادہ 769 اموات ہوئی ہیں۔ کورونا کے باعث سپین میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 4858 ہو چکی ہے۔ جمعہ کو سپین کی حکومت نے ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کی مدد سے آگ بجھانے والے ادارے کے سرکاری عملے کو کورونا کا نام استعمال کرتے ہوئے چھٹی کرنے کے عمل کو روکا جا سکے
    • بلجیئم نے بھی اپنے ملک میں لاک ڈاؤن کی معیاد بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ بلجیئم میں اب تک کورونا وائرس سے 289 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • آئرلینڈ میں عوام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتے اپنے اپنے گھروں میں گزاریں اور باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔ آج شام سے ایسٹر سنڈے تک عوام کو صرف خوراک اور ادویات کی خریداری اور ایسا دفتری کام کرنے کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہو گی جو گھر سے نہ ہو سکتا ہو۔ ورزش کے لیے لوگ صرف اپنے گھر سے دو کلومیٹر کی دوری تک جا سکتے ہیں۔ ملک میں تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ 70 سال سے بڑی عمر کے گھر سے نکلنے پر بھی پابندی ہے
  16. اٹلی: بہتری کی جانب پیش رفت ’سست اور ناہموار‘ ہے, مارک لوون، بی بی سی نیوز، روم

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی کے شہریوں کے لیے ہر نیا دن ایک نئی جدوجہد کا پیغام لے کر آ رہا ہے۔ اٹلی ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ اپنے ایک چھوٹے گاؤں کی آبادی کے برابر اپنے شہریوں کو کھو رہا ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹلی کے علاقے لومبارڈی میں 541 افراد وبا کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں دہشت زدہ کر دینے والی ہیں۔

    فی الحال امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ہے۔

    اٹلی گذشتہ دو ہفتوں سے مکمل لاک ڈاؤن کی زد میں ہے اور اس دوران بہتری کی جانب ہونے والی پیش رفت بہت سست اور ناہموار ہے۔ خوفزدہ کر دینے والی خبریں لگاتار سامنے آ رہی ہیں۔ جب سے اٹلی میں یہ وبا پھیلی ہے اس وقت سے اب تک 46 ایسے ڈاکٹرز ہلاک ہو چکے ہیں جو وبا کا شکار افراد کا علاج کر رہے تھے۔

    اٹلی کی قومی صحت کونسل کا کہنا ہے کہ ایک بات واضح ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو شاید ممکنہ طور پر آئندہ کئی مہینوں کے لیے طول دینا پڑے۔

    اٹلی کی معیشت کورونا کے باعث زبوں حال ہے اور اس طرح کی خبر نہ صرف اٹلی بلکہ دنیا بھر میں مزید اضطراب کو جنم دے گی۔

    دنیا کے لیے یوں کہ اٹلی میں حکام کی جانب سے لاگو کردہ شہری پابندیوں کو دنیا کے بہت سے ممالک ایک ماڈل کے طور دیکھتے اور پیروی کرتے ہیں۔

    وبا کے پھیلاؤ، اس کے اثرات اور لاک ڈاؤن میں اٹلی باقی یورپ سے ایک یا دو ہفتے آگے ہیں۔ چنانچہ یہاں جو کچھ بھی ہو گا یورپی ممالک اس پر گہری نظر رکھیں گے۔

  17. بریکنگ, امریکہ میں مصدقہ متاثرین ایک لاکھ سے بڑھ گئے

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 100,717 ہو گئی ہے۔

    امریکہ میں کسی بھی دوسری ملک کی نسبت کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین موجود ہیں۔

    امریکہ میں اب تک 1544 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 862 افراد اب تک اس مرض سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    اٹلی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 86498 ہے جبکہ چین میں یہ تعداد 81897 ہے۔

  18. کیا نیویارک میں واقعی جنوبی کوریا سے زیادہ کورونا ٹیسٹ ہوئے ہیں؟

    نیویارک گورنر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعہ کو روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ریاست میں جنوبی کوریا کی نسبت زیادہ افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔

    یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریاست نیویارک میں اب تک مجموعی طور پر 138,376 افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا ہے، یعنی ریاست میں بسنے والے ہر 140 افراد میں سے ایک شخص کا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔

    اگرچہ یہ تناسب امریکہ کی باقی ریاستوں کی نسبت بہت زیادہ ہے مگر اگر بات جنوبی کوریا کی کی جائے تو یہ درست نہیں ہے۔

    جنوبی کوریا کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ہر 136 افراد میں سے ایک شخص کا کورونا ٹیسٹ کی جا چکا ہے۔

  19. دنیا بھر کے سربراہان کی بورس جانسن کے لیے نیک تمنائیں

    بورس

    ،تصویر کا ذریعہge

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر ممالک کے سربراہان نے برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

    امریکی صدر نے بورس جانسن سے فون پر رابطہ کر کے ان کی خیریت دریافت کی ہے۔

    یاد رہے کہ جمعہ کے روز برطانوی وزیرِ اعظم کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کہ ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم بورس جانسن کی جلد صحتیابی کی امید ظاہر کی گئی۔

    ادھر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اکھٹے کام کرنے اور جی 7، جی 20 اور دیگر عالمی اتحاد کی مدد سے کورونا وائرس کی عالمی وبا کو شکست دینے کا اعادہ کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سربیا کے صدر الیکساندر ووجچ پہلے لیڈر تھے جنھوں نے ٹوئٹر کے ذریعے بورس جانسن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    انھوں نے لکھا کہ ’جلد صحتیاب ہوں، اور لڑتے رہیں۔‘

    یورپین کونسل کے صدر چارلس مائیکل نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’پورے یورپ کی طرف سے آپ کے جلد صحتیابی کی تمنائیں ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈراس غیبریسس کا کہنا تھا کہ میں آپ کا آپ اپنا بہت خیال رکھیں اور میں بہت مشکور ہوں کہ آپ نے برطانیہ کے عوام کو این ایچ ایس کی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا ہے۔

  20. لندن: روایتی بریفنگ برطانوی وزیراعظم کے بغیر, وزیر مائیکل گوو کہتے ہیں برطانیہ میں متاثرین کی تعداد ہر تیسرے یا چوتھے دن دگنی ہو رہی ہے

    گوو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج برطانیہ میں حکومت کی جانب سے ملک کورونا وائرس کے حوالے سے دی جانے والی پریس بریفنگ اس لیے مختلف تھی کیونکہ آج وزیرِ اعظم بورس جانسن اور برطانیہ کے سیکرٹری صحت آج اس میں شریک نہیں ہو سکے۔

    اس کی وجہ دونوں میں کووڈ 19 کی تشخیص ہے۔

    کابینہ کے رکن اور وزیر مائیکل گوو، برطانیہ کے قومی ادراہ صحت این ایچ ایس کے چیف ایگزیکٹو سر سائمن سٹیونز اور ڈپٹی چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر جینی ہیریز بریفنگ میں موجود تھے۔

    • وزیرِ اعظم بورس جانسن کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود برطانیہ کی کورونا وائرس کے خلاف ردِ عمل کی سربراہی کریں گے۔
    • برطانیہ میں کیسز ہر تین سے چار سے روز کے بعد دگنے ہو رہے ہیں۔
    • حکومت، تحقیق کرنے والے اداروں اور یونیورسٹیوں کے اتحاد کے باعث صحت کے عملے کے اگلے دو دنوں میں مزید کورونا وائرس ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
    • ہسپتالوں 33 ہزار کے قریب بستروں کی گنجائش پیدا کر لی گئی ہے۔
    • کینسر کے مریضوں کا نجی ہسپتالوں میں علاج جاری رہے گا۔

    گوو کا مزید کہنا تھا کہ جن افراد کا وائرس کے خلاف جنگ میں مرکزی کردار ہے ان کے کورونا وائرس ٹیسٹ کیے جائیں گے۔