کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا: راہل گاندھی کی حکومت کی ناقص حکمتِ عملی پر تنقید

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس اور لوک سبھا کے رکن راہل گاندھی نے حکومت کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر بنائی جانی والی حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

    انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے گھروں کو جانے کے لیے بس اڈوں کا رخ کیے ہوئے ہے۔

    راہل گاندھی نے لکھا کہ غیر یقینی مستقبل کے باعث لاکھوں افراد کو واپس اپنے گھروں تک جانے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ شرمناک کہ ہم اپنے ملک کی عوام کے ساتھ یہ سلوک ہونے دے رہے ہیں اور حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی متبادل حکمتِ عملی نہیں ہے۔‘

  2. ٹرمپ: ’نیویارک کو قرنطینہ میں رکھنا چاہیے‘

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پورے نیویارک، کنیکٹیکٹ اور نیو جرسی کو قرنطینے میں رکھنے کے حوالے سے سوچ رہے ہیں۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ نیو یارک کو قرنطینہ میں رکھا جائے کیونکہ یہ امریکہ میں کورونا وائرس سے متاٰثرہ جگہوں کا مرکز بن گیا ہے۔ نیویارک، نیو جرسی اور ایک دو اور جگہیں بھی جیسے کنیکٹیکٹ کے چند علاقے۔‘

    انھوں نے یہ بیان ورجینیا جاتے ہوئے دیا جہاں وہ ایک امریکی بحریہ کی ہسپتال میں تبدیل کی جانے والی کشتی کو نیو یارک بھیجنے سے قبل دیکھنے جا رہے تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس حوالے سے اس وقت بھی سوچ رہا ہوں۔ ہمیں شاید ایسا نہ بھی کرنا پڑے لیکن اس بات کا امکان موجود ہے اج کسی وقت ہم یہ اعلان کریں کے دو ہفتوں کے لیے نیویارک، شاید نیو جرسی اور کنیکٹیکٹ کے کچھ حصوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے۔‘

    ادھر نیویارک کے گورنر اینڈریو کوؤمو نے کہا کہ انھیں ڈانلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔ انھوں نے کہا ’مجھے نہیں معلوم کہ کیا آئینی طور پر اس کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا طبی نقطہ نظر سے بھی مجھے نہیں معلوم کہ وہ یہ کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’لیکن میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ مجھے یہ بات پسند نہیں آئی، حالانکہ مجھے یہ پتا بھی نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں آئی۔‘

  3. بریکنگ, ’اپریل کے پہلے 15 دن گذشتہ 15 دنوں سے بھی مشکل ہوں گے‘

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے وزیرِ اعظم ایڈوارڈ فلیپے نے فرانسیسی عوام کو خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف مقابلہ ابھی شروع ہوا ہے اور اس حوالے سے اپریل کے پہلے 15 دن گذشتہ 15 دنوں سے زیادہ مشکل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ فرانس میں رواں ماہ کی 17 تاریخ سے لاک ڈاؤن ہے اور ان پابندیوں کو 15 اپریل تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے فرانس کے صحت کے عملے کو سراہا اور کہا کہ ساتھ مل کر کام کرنے کے باعث ہی ہم اس وبا کا سامنا کر پائیں گے۔

    خیال رہے کہ اب تک فرانس میں تقریباً 2000 اموات سامنے آ چکی ہیں جبکہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 33 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

  4. امریکہ میں ٹیسٹ کا نتیجہ جلد دینے والی کِٹ کی منظوری

    ٹیسٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ایک ایسے ٹیسٹ کی منظوری دی ہے جس کی مدد سے پانچ منٹ میں کورونا کا شکار ہونے یا نہ ہونے کا علم ہو سکتا ہے۔

    یہ ٹیسٹنگ کٹ ایبٹ لیبارٹریز نے تیار کی ہے اور اسے امید ہے کہ وہ آئندہ ہفتے سے روزانہ 50 ہزار کٹس فروخت کرے گی۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر کورونا کا ٹیسٹ منفی ہو تو 13 منٹ میں نتیجہ پتا چل سکتا ہے۔

    امریکہ میں ٹیسٹ کے نتائج میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے اور نتائج میں ایک ہفتہ تک لگ رہا ہے۔

  5. ٹوکیو میں چیری بلاسم کے حسین مناظر لیکن پارک بند

    ٹوکیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے مناظر یقیناً دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ موسم بہار کے آتے ہی چیری بلاسم کے درختوں پر پھولوں خوبصورت چادر چڑھ جاتی ہے لیکن ٹوکیو کے باسی اس مرتبہ ان دلکش مناظر سے محظوظ نہیں ہو پائیں گے۔

    اس کی وجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا ہے جس کے باعث شہر میں اب تک 350 زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور اس تعداد میں ہر روز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    ایسے میں ٹوکیو کی گورنر یوریکو کوئیک نے شہر میں چیری بلاسم پارکس کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ شہری چیری بلاسم پارٹیز اور پکنک نہ منا سکیں

    ٹوکیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹوکیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹوکیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے کہا کہ چیری بلاسم کا موسم اگلے برس بھی آئے گا، آپ اسے سے اس وقت بھی محظوظ ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے شہری گھروں کو میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    خیال رہے کہ ٹوکیو میں ابھی تک مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا تاہم گورنر کا کہنا ہے اگر عوام نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل نہ کیا تو اس بارے میں سوچ سکتی ہیں

  6. پرتگال میں یکم جولائی تک تارکینِ وطن شہری تصور کیے جائیں گے

    پرتگال کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک میں یکم جولائی تک ایسے افراد کو شہری تصور کیا جائے گا جن کی شہریت کے لیے دی گئی درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔

    اس اقدام کا مقصد تارکینِ وطن کو حکومتی طبی سہولیات تک رسائی دینا ہے۔

    ان درخواست گزاروں میں سیاسی پناہ کے طالب شامل ہیں جنھیں صرف درخواست دینے کا ثبوت دینا ہو گا جس کے بعد انھیں قومی ہیلتھ سروس، ویلفیئر بینیفٹس، بینک اکاؤنٹس اور دیگر سہولیات تک رسائی ہو گی۔

    پرتگال میں اب تک کورونا کے 5170 متاثرین ہیں جن میں سے 100 کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

  7. بریکنگ, اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی کے لیے سنیچر بھی ایک اور برا دن ثابت ہوا اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 889 ہو گئی۔

    اب تک اٹلی میں مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں جبکے 92472 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    اس وقت 70065 افراد کووڈ 19 کا شکار ہیں جبکہ 12384 صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  8. بریکنگ, ’اگر برطانیہ میں اموات 20 ہزار سے کم ہوئیں تو یہ ہماری کامیابی ہو گی‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے ادارہ صحت این ایچ ایس انگلینڈ کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سٹیفن پووس کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ میں اموات 20 ہزار سے کم ہوئیں تو ’یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہو گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وائرس پر قابو پانا ممکن ہے۔

  9. انڈیا میں ریل گاڑی کی بوگیاں آئسولیشن وارڈ میں تبدیل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@PiyushGoyal

    انڈیا کے وزیرِ ریلوے نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں ایک ٹرین کی بوگی کو آئسولیشن وارڈ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انھو ںے بتایا کہ ہر بوگی میں نو مریضوں کی گنجائش ہو گی۔

  10. کورونا وائرس کے مختلف ٹیسٹ کون سے ہیں؟, مائیکل روبرٹس بی بی سی نیوز آن لائن

    ٹیسٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورنا وائرس کے دو قسم کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔

    • اینٹیجن یا ’کیا مجھے اس وقت کورونا وائرس ہے‘ ٹیسٹ جس کی مدد سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ کسی شخص کو اس وقت کورونا وائرس ہے، اور کیا وہ اسے پھیلا سکتا ہے۔ یہ وہ ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے شدید بیمار افراد کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اور اب سے کچھ دنوں بعد برطانیہ کے ادارہ صحت این ایچ ایس اس سے اپنے سٹاف کے بھی ٹیسٹ کرے گا۔
    • دوسرے ٹیسٹ کو اینٹی باڈی یا ’کیا مجھے حال ہی میں کورونا وائرس ہوا‘ کہتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کو تاحال عوام کے لیے عام تو نہیں کیا گیا لیکن انگلینڈ کی وزارتِ صحت اسے لاکھوں کی تعداد میں آرڈر کر رہی ہے اور اسے اس وقت عام عوام میں تقسیم کیا جائے گا جب اس کے نتائج کی درستی کے حوالے سے یقین ہو جائے گا۔ اس سے ہمیں اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ کتنے ایسے افراد ہیں جنھیں کورونا وائرس ہوا لیکن یا تو ان میں اس کی علامات معمولی تھیں یا ظاہر ہی نہیں ہوئیں۔

    یہ دونوں ٹیسٹ ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم ثابت ہوں گے۔

  11. کورونا وائرس: دنیا بھر کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر کے مختلف ممالک کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متعلق اعداد و شمار جاری کر رہے ہیں۔

    • نیدرلینڈز میں حکام کے مطابق سنیچر کے روز 1159 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 93 افراد کووڈ 19 سے ہلاک ہوئے۔ اب تک ملک میں مجموعی طور پر اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 9762 ہو گئی ہے جبکہ 639 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
    • سوئٹزرلینڈ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 235 ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں میں 40 اموات ہوئی ہیں۔ ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 13213 ہے۔
    • ویتنام کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اب تک ملک میں 174 کیسز سامنے آئے ہیں تاہم وائرس سے اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔
    • روس میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 228 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1264 ہو گئی ہے۔ اب تک ملک میں چار اموات رپورٹ ہوئی ہیں تاہم ان اعداد و شمار پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
    • جمہوریہ چیک میں اب تک 2422 افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ اب تک اس کے باعث نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • ادھر بیلجیئم میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1850 نئے کیسز اور 64 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ اب تک ملک میں 9134 کیسز اور 353 اموات ہو چکی ہیں۔
    • ایران کا کہنا ہے کہ اب تک ملک میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2517 ہو گئی ہے جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہی 139 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
  12. مقبول برطانوی نرس کے نام پر لندن میں عارضی ہسپتال کا قیام

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہUK Government

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر مشرقی لندن کے ایکسیل سینٹر کو ایک عارضی ہسپتال میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہUK Government

    ،تصویر کا کیپشناس کا نام مقبول برطانوی نرس فلورنس نائٹنگیل کے نام پر رکھا گیا ہے
    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہUK Government

    ،تصویر کا کیپشننائٹنگیل ہسپتال کو اگلے چند روز میں مریضوں کے لیے کھول دیا جائے گا
    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہUK Government

    ،تصویر کا کیپشناس ہسپتال میں چار ہزار بستروں کی گنجائش ہو گی
  13. پولیس اہلکار پر کھانسنے کے باعث ایک شخص پر مقدمہ درج

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں گریٹر مانچسٹر پولیس کے مطابق ایک شخص پر اس وجہ سے مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ اس نے ایک پولیس افسر پر یہ کہہ کر کھانسا تھا کہ مجھے کورونا وائرس ہے۔

    اس افسر کو احتیاطاً قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    جمعرات کے روز پولیس اس وقت پکاڈلی گارڈنز میں ہونے والے ایک واقعے پر کارروائی کر رہی تھی اور 33 برس کے متیئس ریجیسکی کو حراست میں لے رہی تھی جب وہ ایک پولیس افسر پر کھانسنے لگا۔

    حراست کے دوران انھیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں رکھا گیا۔ انھیں آئندہ منگل کو مانچسٹر میں میجسٹریٹ کی کورٹ میں پیش کیا جائے گا اور ایمرجنسی سروس کے کارکن پر تشدد اور باہر نکلنے پر پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کے جرائم میں مقدمہ چلے گا۔

  14. بریکنگ, کورونا: برطانیہ میں اموات ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں

    اموات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی محکمہ صحت کے مطابق سنیچر کے روز شام پانچ بجے تک برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد 1019 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ روز اموات کی تعداد 759 تھی، اس طرح آج کے دن اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 260 ہو گئی ہے۔

    این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق اب تک ملک میں 246 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس سے انگلینڈ میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 935 ہو گئی ہے۔

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

      سکاٹ لینڈ میں مزید سات اموات کے ساتھ یہ تعداد 40 ہے۔

      ویلز میں چار مزید اموات کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔

      ادھر شمالی آئر لینڈ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد یہ تعداد 15 ہو گئی ہے۔

      اب تک برطانیہ میں کل 120776 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 17089 کے نتائج مثبت جبکہ 103687 کے منفی آئے ہیں۔

    • کورونا: سب سے زیادہ نئے کیسز کہاں ہیں؟

      امریکا میں اس وقت نئے کیسز کی تعداد پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

      نیچے دی گئی فہرست سے آپ تین دنوں میں کیسز کی اوسط دیکھ سکتے ہیں اور اس وقت امریکہ میں یہ تعداد اٹلی سے بھی زیادہ ہے۔

      اعداد وشمار
    • وینٹی لیٹرز بنانے والی کمپنیاں کریں تو کیا؟, ڈیمیئن مکگینیز بی بی سی نیوز، برلن

      وینٹی لیٹرز

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      شمالی جرمنی میں وینٹی لیٹرز بنانے والی کمپنیوں کو اب زندگی اور موت کے فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔

      دنیا میں وینٹی لیٹرز بنانے والی سب سے بڑی کمپنی کے سربراہ سٹیفن ڈریگر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر کی حکومتیں وینٹی لیٹرز آرڈر کر رہی ہیں۔

      خیال رہے کہ کورونا وائرس براہ راست آپ کے پھیپھڑوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور اس کی سنگین علامات میں سانس لینے میں شدید مشکلات شامل ہیں۔

      یہی وجہ ہے کہ ایسے مریض جنھیں انتہائی نگہداشت میں رکھنا پڑے ان کے وینٹی لیٹرز ناگزیر ہو جاتے ہیں کیونکہ انھیں سانس کے لیے اس مشین کی ضرورت پڑتی ہے۔

      سٹیفن ڈریگر کی کمپنی وینٹی لیٹرز کی پیداوار پہلے ہی دگنی کر دی ہے اور وہ آئندہ چند ماہ میں اسے ایک مرتبہ پھر دگنا کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن مانگ ہے کے کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔

      اس وقت وینٹی لیٹرز کی مانگ ان کی کمپنی کی پیداوار سے 10 گنا زیادہ ہے اور اب انھیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ جان بچانے والی مشین کس کو دیں اور کس کو نہیں۔

      صرف امریکہ نے ہی ایک لاکھ مشینیں آرڈر کر رکھی ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ پوری دنیا میں سالانہ ایک لاکھ وینٹی لیٹرز بنائے جاتے ہیں۔

      ادھر جرمن حکومت نے بھی 10 ہزار وینٹی لیٹرز آرڈر کر رکھے ہیں۔

      تاہم ڈریگر کا کہنا ہے کہ کیونکہ اس مشین کو بنانے کہ لیے پرزے دنیا بھر سے آتے ہیں اس لیے برآمدات کی بندش ان کی پیداوار میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

    • ’اٹلی میں اب تک کورونا وائرس کیسز کا عروج نہیں آیا‘

      اٹلی

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      اٹلی کے قومی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ابھی تک اپنے عروج پر نہیں پہنچی۔

      خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سپیریئر ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کے چیف سلویو بروسافیرو نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’ہم نہ تو اب تک ان کیسز کے عروج تک پہنچے ہیں اور نہ ہی اس سے آگے بڑھے ہیں۔‘

      اٹلی میں گذشتہ روز 919 افراد ہلاک ہوئے تھے جو ایک دن میں کسی بھی ملک میں کورونا وائرس سے سب زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

      تاہم ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ایسی علامات ظاہر ہوئی ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ان کیسز کی تعداد کا عروج کسی بھی وقت سامنے آ سکتا ہے جس کے بعد کیسز کی تعداد میں واضح کمی آ سکتی ہے۔

      انھوں نے کہا کہ ’جب ان کیسز میں کمی آتی ہے تو یہ کتنی واضح ہو گی اس کا دارومدار ہمارے رویوں پر ہو گا۔‘

    • سپین کے مایوس کن اعداد و شمار میں امید کی کرن, صحتیاب ہونے والے افراد میں 31 فیصد اضافہ

      سپین

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      سپین سے آنے والے اعداد و شمار یقیناً مایوس کن ہیں۔ صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں اموات میں 17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

      جبکہ مجموعی کیسز میں 12 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

      تاہم اس سب میں اچھی خبر یہ ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

      گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2928 افراد اس وائرس سے صحتیاب ہوئے جس سے ان کی مجموعی تعداد 12285 ہو گئی ہے۔ یہ صحتیاب ہونے والے افراد میں 31 فیصد اضافہ ہے۔

    • اٹلی میں کورونا کا 101 برس کا مریض صحتیاب

      ڈاکٹر

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      اٹلی میں موجودہ صورتحال انتہائی مایوس کن ضرور ہے لیکن یہاں سے آنے والی بری خبروں میں ایک اچھی خبر بھی ہے۔

      وہ یہ کہ اٹلی کے شمال مشرقی شہر رمینی میں ایک 101 برس کا شخص جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اور اس کی نشاندہی مسٹر پی کہہ کر کی گئی ہے، کووڈ 19 سے مکمل صحتیابی پانے کے بعد جمعرات کے روز ہسپتال سے ڈسچارج کر دیے گئے ہیں۔

      رمینی کی ڈپٹی میئر گلوریا لسی نے کہا کہ ’یہ حیران کن صحیتیابی یقیناً مستقبل میں ہمارے لیے امید کی کرن ہے۔

      انھوں نے کہا کہ ’مسٹر پی نے یہ کر دکھایا اور اب ان کے گھر والے انھیں ان کی رہائش گاہ لے گئے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ 101 برس کی عمر میں مستقبل کے بارے میں ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    • بریکنگ, سپین میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 832 ہلاکتیں, سپین میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی

      سپین

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      سپین میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 832 ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں۔

      اس وقت ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5690 ہو چکی ہے جبکہ 72248 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔

      سپین اس وقت اٹلی کے بعد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

      ملک میں کم از کم 12 اپریل تک ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام دوکانیں اور کاروبار بند کر دیے گئے ہیں اور لوگوں کو نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

      ہسپتالوں اور دیگر تنصیبات کی صفائی کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس وقت ملک کے ہسپتال دیگر ممالک کی طرح شدید دباؤ میں ہیں جبکہ صحت عملے کی جانب سے حفاظتی سامان کی کمی پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔