دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔
لائیو کوریج
کیا آپ دوبارہ کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چھ مریض ایسے بھی ہیں جن میں صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا وائرس پایا گیا ہے۔ عام نزلہ زکام جیسے انفیکشن کا شکار ہونے والے مریض میں عموماً ایسی بیماریوں کے لیے قوتِ مدافعت بھی پیدا ہو جاتی ہے سو کورونا وائرس کے معاملے میں مختلف کیا ہے۔
کورونا: تائیوان کی صورتحال پر گہری نظر ہے، عالمی ادارہ صحت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سے تائیوان کے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تائیوان کی جانب سے وائرس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے سبق بھی سیکھ رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب تائیوان نے اعتراض اٹھایا ہے کہ ادارے کی جانب سے انھیں جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ تائیوان عالمی ادارہ صحت کا رکن نہیں ہے کیونکہ چین نے اس کی رکنیت پر اعتراضات اٹھا رکھے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ تائیوان دراصل چین کا حصہ ہے۔
تائیوان کی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ اسے عالمی ادارہ صحت سے علیحدہ رکھنا تائیوان کی عوام کی زندگیوں کے ساتھ سیاست کھیلنے کے مترادف ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت اور چین کا کہنا ہے کہ تائیوان کو ضرورت کے تحت امداد دی جا چکی ہے۔
گذشتہ ہفتے تائیوان نے عالمی ادارہ صحت پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز میں ان کے سوالات نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تائیوان کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے اسے عالمی اداروں سے باہر رکھنے کے بعد یہی ہوتا ہے۔
تائیوان نے اب تک کورونا وائرس کے صرف 298 کیسز رپورٹ کیے ہیں جن میں سے اکثر غیر ملکی ہیں اور صحت کے ماہرین نے تائیوان کے اس حوالے سے تیز ردِ عمل اور دیگر اقدامات کی تعریف کی ہے۔
اتوار کے روز تائیوان کے وزیر خارجہ جوزف وو نے ٹویٹ میں عالمی ادارہ صحت پر تنقید کی۔ اس ٹویٹ کا پسِ منظر عالمی ادارہ صحت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بروس ایلوارڈ کا ایک رپورٹر کو تائیوان سے متعلق سوال کا جواب نہ دینا تھا۔
انھوں نے لکھا کہ ’بہت خوب، کیا عالمی ادارہ صحت میں تائیوان کا نام بھی نہیں لے سکتے؟ ہمیں ایک عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے سیاست کو پسِ پشت ڈالنا ہو گا۔‘
عالمی ادارہ صحت نے خبر رساں ادارہ روئٹرز کو ایک ای میل کے ذریعے دیے گئے جواب میں کہا کہ تائیوان کی رکنیت عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک کے ہاتھ میں ہے ان کے سٹاف کے ہاتھ میں نہیں۔
جموں و کشمیر میں 627 افراد گرفتار
جموں وکشمیر پولیس کے چیف دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ خطے میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر 337 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 627 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انڈیا میں 979 متاثرین، 25 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 979 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 25 افراد اب تک اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 106 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ چھ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
اس وقت انڈیا کی 22 ریاستوں کے 75 اضلاع میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی تصدیق ہو چکی ہے اور مہاراشٹر، کرناٹک، کیرالہ، دہلی-این سی آر اور اترپردیش سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔
انڈیا میں ہلاک ہونے والوں میں سے مہاراشٹر میں چھ ، گجرات میں چار ، کرناٹک میں تین اور مدھیہ پردیش میں دو افراد کی موت ہوئی۔
بریکنگ, دنیا میں ہلاکتیں 31 ہزار، متاثرین چھ لاکھ 80 ہزار سے زیادہ
کورونا کی عالمی وبا سے دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر متاثرین اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے کورونا ٹریکر کے اعدادوشمار کے مطابق اتوار کی دوپہر تک دنیا میں چھ لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 31 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
دنیا بھر میں ایک لاکھ 45 ہزار افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
امریکہ ایک لاکھ 24 ہزار سے زیادہ متاثرین کے ساتھ دنیا میں سب سے متاثرہ ملک ہے جبکہ اٹلی 92 اور چین 82 ہزار متاثرین کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔
یورپ میں اٹلی اور سپین اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں جبکہ برطانیہ میں بھی کوورنا تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ایشیا میں چین کے بعد ایران سب سے متاثرہ ملک ہے جہاں 38 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 2600 سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
کورونا: انڈیا میں ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ اعظم نرینرر مودی کی جانب سے رواں ہفتے منگل کے روز 21 روزہ ملک گیر کرفیو کا اعلان کیا گیا جس لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے علاوہ دیگر پابندیوں کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا۔
تاہم اس کے بعد سے انڈیا میں اس فیصلے اور اس حوالے سے کی جانے والی حکمتِ عملی پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ سنیچر کے روز سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہیں جن میں ہزاروں لوگوں کا جھنڈ بس اڈوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ انڈیا میں ٹرانسپورٹ اور ٹرینوں کی بندش کے باعث اکثر افراد کو اپنے آبائی علاقوں تک پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
اس کے علاوہ کاروباری نظام کی بندش کے باعث اکثر افراد بے روزگار بھی ہو گئے ہیں اور انھیں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مودی کی لاک ڈاؤن پر قوم کے غربا سے معذرت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز ریڈیو کے ذریعے خطاب میں قوم کے غربا سے لاک ڈاؤن کے باعث بڑھتی معاشی غیریقینی پر معذرت کی ہے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کو 21 روزہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے بنائی گئی حکمتِ عملی کے بارے میں تنقید کا سامنا ہے۔ سنیچر کے روز ایک ٹویٹ میں حذبِ اختلاف کی جماعت کے رکن راہل گاندھی نے بھی حکومت کی ’ناقص حکمت عملی‘ پر تنقید کی تھی۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے منگل کے روز انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر 21 روزہ ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور عوام کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی تھی۔
تاہم اس فیصلے کے بعد ہزاروں بے روزگار افراد کو اپنے آبائی علاقوں تک پیدل سفر کرنا پڑا اور ملک کے غریب افراد اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’غربا یقیناً یہی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسا وزیرِ اعظم ہے جس نے ہمیں اتنی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا میں اپنی عوام سے معافی چاہتا ہوں۔ لیکن اس وقت لیے جانے والے اقدامات انڈیا کو کورونا وائرس کے خلاف جیت کا سبب بنیں گیں۔
خبر رساں ادارے رؤٹرز کے مطابق اب تک پولیس نے پیدل سفر کر کے اپنے گھروں کو جانے والے افراد میں سے چار کی ایک حادثے کے باعث ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ایسے ہی ایک ورکر نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کورونا کے باعث مرنے سے پہلے ہم ایسے پیدل چلنے اور بھوک سے مر جائیں گے۔‘
جنوبی کوریا میں باہر سے آنے والوں کے لیے نئے قرنطینہ قواعد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ ملک میں باہر سے آنے والوں کو اب لازماً 14 دن کے لیے قرنطینے میں رہنا ہوگا۔
یکم اپریل سے نافذ ہونے والے ان ضوابط کی پاسداری نے کرنے والے غیر ملکی شہریوں کو ملک بدری جبکہ جنوبی کوریائی شہریوں کو جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
باہر سے آنے والے تمام افراد کو اپنے اپنے فونز پر قرنطینے کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنی ہوگی جو ان کی علامات اور نقل و حرکت پر نظر رکھے گی۔
حالیہ دنوں میں جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین میں سے نصف سے زائد بیرونِ ملک سے آئے تھے۔
سپین: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 838 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپین کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 838 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ اب تک سپین میں یومیہ ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
سپین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی کُل تعداد 6528 ہوچکی ہے۔
اس کے علاوہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں متاثرین کی تعداد بھی 72 ہزار 248 سے بڑھ کر 78 ہزار 797 ہوچکی ہے۔
آسٹریلیا میں دو سے زائد لوگوں کے مجمعے پر پابندی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم سکاٹ موریسن نے مزید پابندیوں کا اعلان کیا ہے جس میں عوامی مجمعے کو صرف دو افراد تک محدود کرنا بھی شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی باہر نکلنا چاہیے اور 70 سال سے زائد عمر کے افراد کو گھروں پر رہنا چاہیے۔
پیر سے ملک بھر کے کھیل کے میدان اور کھلی فضا میں موجود جِم بند کر دیے جائیں گے۔
ملک کے چیف میڈیکل افسر نے کہا ہے کہ انھیں بھروسہ ہے کہ آسٹریلیا زیادہ سے زیادہ مشتبہ لوگوں کو ٹیسٹ کر رہا ہے۔
چین میں باہر سے آنے والے متاثرین کی تعداد میں کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین نے اتوار کو کورونا وائرس کے 45 نئے متاثرین کی تصدیق کی ہے جن میں سے ایک کے علاوہ باقی تمام کا تعلق بیرونِ ملک سے ہے۔ اس کے مقابلے میں گذشتہ روز 54 نئے متاثرین سامنے آئے تھے اور ان تمام کا تعلق بیرونِ ملک سے تھا۔
گذشتہ 10 دنوں میں ووہان میں صرف ایک متاثرہ شخص سامنے آیا ہے، حالانکہ چند ہفتوں قبل تک ووہان ہی کورونا وائرس کی وبا کا مرکز تھا۔ اب تقریباً دو ماہ طویل قرنطینے کے بعد یہ شہر آہستہ آہستہ کھل رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہوبائی صوبے سے پروازیں بھی دوبارہ شروع ہو رہی ہیں اور 260 سے زائد ٹرینیں سنیچر کو شہر میں آمد پر پابندی اٹھائے جانے کے بعد شہر میں داخل ہوئی ہیں۔
'اٹلی میں وبا کا عروج قریب ہے'
اٹلی کے نائب وزیرِ صحت پیئرپاؤلو سیلیری کے مطابق انھیں لگتا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا اپنے عروج کے قریب ہے۔
یاد رہے کہ اٹلی اس وائرس سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں اموات کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں گفتگو کرتے ہوئے سیلیری کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے یا 'زیادہ سے زیادہ' 10 دن کے اندر ملک میں نئے متاثرین کی تعداد میں کمی آئے گی۔
انھوں نے اس تنقید کو بھی مسترد کیا کہ اٹلی کی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن کو اتنا جلد نافذ نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے تھا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے 'بروقت اقدامات اٹھائے' اور اس کی 'بدقسمتی' تھی کہ لومبارڈی کے خطے میں کئی جگہ وبا پھوٹی۔
سالگرہ مبارک باب! دنیا کے معمر ترین شخص کی خود ساختہ تنہائی میں 112 ویں سالگرہ
،تصویر کا ذریعہPA Media
دنیا کے معمر ترین شخص آج اپنی 112 ویں سالگرہ خود ساختہ تنہائی میں گزار رہے ہیں۔
باب ویٹن سباق ٹیچر اور انجینیئر ہیں اور ان کا تعلق جنوبی انگلینڈ کے علاقے ہیمپشائر سے ہے۔
وہ 1908 میں پیدا ہوئے تھے، یعنی اس سال جب رائٹ برادران نے پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پرواز کا مظاہرہ کیا تھا۔
باب 1918 میں پھوٹنے والی بیماری ہسپانوی فلو میں بھی محفوظ رہے جس نے تقریباً پانچ کروڑ افراد کی جان لی تھی۔
اب وہ باقی کے برطانیہ کی طرح لاک ڈاؤن میں ہیں۔
گذشتہ سال انھوں نے اپنے ریٹائرمنٹ فلیٹ میں اپنے کئی دوستوں کے ساتھ اپنی 111 ویں سالگرہ منائی لیکن اس مرتبہ ان کی سالگرہ سادگی سے ہی گزرے گی۔
وہ کہتے ہیں: 'سب کچھ منسوخ ہوگیا ہے، نہ کوئی آئے گا نہ کوئی جشن ہوگا۔'
برطانیہ میں لاک ڈاؤن 'جون تک جاری رہ سکتا ہے'
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اب تقریباً ایک ہفتے سے سخت پابندیاں نافذ ہیں لیکن حکومتِ کے ایک صفِ اول کے مشیر نے خبردار کیا ہے کہ یہ پابندیاں جون تک جاری رکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر نیل فرگوسن نے سنڈے ٹائمز کو بتایا: 'میرے خیال میں ہمیں ان اقدامات (مکمل لاک ڈاؤن) کو ایک طویل عرصے تک، شاید مئی کے اختتام یا جون کے اوائل تک جاری رکھنا پڑ سکتا ہے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ اگر لاک ڈاؤن کو اٹھا بھی لیا گیا، تب بھی لوگوں کو آنے والے کئی ماہ تک سماجی دوری اختیار کیے رکھنی پڑ سکتی ہے۔
حکومتی وزیر مائیکل گوو نے سکائے نیوز کو بتایا کہ اقدامات کا دورانیہ 'حتمی طور پر متعین' نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: 'یہ سب ہمارے رویوں پر مبنی ہے۔ اگر ہم ہدایات کی پیروی کریں گے تو ہم اس مرض کے پھیلاؤ سے مؤثر انداز میں نمٹ سکیں گے۔'
نیویارک میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب کا حکم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ریاست نیویارک کو قرنطینہ کرنے کی تجویز واپس لینے کے چند ہی گھنٹوں بعد حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے باز رہیں۔
طبی حکام نے 86 لاکھ آبادی والے نیویارک شہر، اور ریاست نیویارک، نیو جرسی اور کنیکٹیکٹ کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ 14 دن کے لیے غیر ضروری سفر نہ کریں کیونکہ اس سے 'بڑے پیمانے پر مرض کے پھیلنے' کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے انفیکشنز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہاں اب تک ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 2100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ریاست نیویارک کے گورنر نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے کیونکہ ان کے مطابق اس سے امریکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
بریکنگ, ’حالات مزید خراب ہوں گے‘، بورس جانسن کا برطانوی شہریوں کو خط
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ملک کے تمام گھرانوں کو بھیجے گئے ایک خط میں برطانوی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حالات بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہوں گے۔
کورونا وائرس کا مثبت ٹیسٹ آنے کے بعد خود ساختہ تنہائی میں موجود بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو سخت تر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
برطانیہ کے تین کروڑ گھرانوں کو 58 لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے بھیجے جانے والے خط کے ساتھ شہریوں کو گھر سے باہر نکلنے کے حوالے سے قواعد اور طبی معلومات پر مبنی ایک کتابچہ بھی دیا جائے گا۔
برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1019 ہوگئی ہے جبکہ سنیچر کو حکام نے مزید 260 ہلاکتوں کا اعلان کیا۔
ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 17 ہزار 89 ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک کو قرنطینہ کر دینے کے پلان سے پیچھے ہٹ گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیویارک کو قرنطینہ میں ڈالنا ضروری نہیں ہوگا، حالانکہ اس سے چند گھنٹے قبل ہی وہ کہہ چکے تھے کہ وہ پورے نیویارک، کنیکٹیکٹ اور نیو جرسی کو قرنطینہ میں رکھنے کے حوالے سے سوچ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کی سفارشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔
نیویارک میں اب تک کورونا وائرس کے 52 ہزار تصدیق شدہ متاثرین ہیں جو کہ پورے امریکہ کے تصدیق شدہ متاثرین کا تقریباً نصف ہیں۔
ٹرمپ کے فیصلے پر نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو کا کہنا تھا کہ ریاست نیویارک کو قرنطینے میں ڈالنا 'بے عقلی' اور 'امریکہ مخالف' قدم ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ نیویارک میں پہلے ہی 'قرنطینے' کے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں جن میں بڑے اجتماعات پر پابندی اور لوگوں کو گھر پر رہنے کا حکم ہے مگر وہ 'لاک ڈاؤن' کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے۔
امریکہ میں نوزائیدہ بچے کی کورونا وائرس سے موت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں کورونا وائرس نے
نوزائیدہ بچے کی جان لے لی جو کہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
ریاست الے نوائے کے شعبہ صحت
کے عہدے دار ڈاکٹر این گوزی ایزیکے نے بتایا کہ شکاگو شہر میں بچے کی موت ہوئی۔
’اس سے پہلے کسی بھی
نوزائیدہ بچے کی کورونا وائرس سے موت نہیں ہوئی تھی اور ہم اس کی مکمل تحقیق کر
رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔‘
اس سے قبل ایک سال سے کم عمر
کے بچوں میں صرف ایک ہلاکت سامنے آئی تھی جو کہ چین میں تھا لیکن اس بچے کو پہلے
سے بیماریاں تھیں۔
فٹبال سیزن ضائع ہو سکتا ہے: یوئیفا, یورپی فٹبال کے نگراں ادارے نے کہا ہے کہ جولائی سے پہلے سیزن مکمل کرنا ہوگا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کھیلوں کے مقابلے
متاثر ہونے کے بعد یورپی فٹبال کے انتظامی ادارے یوئیفا کے صدر نے خدشے کا اظہار
کیا ہے کہ رواں سیزن شاید مکمل نہ ہو سکے۔
صدر الیکزانڈر سیفرین نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہے کہ فٹبال
لیگز شائقین کے بغیر میچز منعقد کریں لیکن یہ فیصلہ جولائی سے پہلے لینا ضروری ہے۔
’اگر ہم فٹبال سیزن جلد از جلد دوبارہ نہ شروع کر سکے تو
بہت ممکن ہے کہ یہ سیزن ضائع ہو جائے۔‘
کورونا وائرس: آج دنیا بھر میں کیا ہوا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنیچر کے روز دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ چالیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک اس کے باعث 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
دوسری جانب دنیا بھر میں کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 37 ہزار سے زیادہ ہے۔
برطانیہ میں آج 260 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد ملک میں کل ہلاکتیں 1019 ہو گئی ہیں۔
اٹلی میں آج ایک مرتبہ پھر برا دن رہا اور 889 افراد کے ہلاک ہونے کے بعد کل اموات 10 ہزار سے تجاوز کر گئیں۔ ملک میں اب تک 92472 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن 70 ہزار سے زائد تاحال اس کا شکار ہیں جبکہ 12384 صحتیاب ہو چکے ہیں۔
سپین میں بھی آج 832 ہلاکتیں ہوئیں جس سے اس ملک میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتیں 5690 ہو گئی ہیں۔ تاہم یہاں صحتیاب ہونے والے افراد میں 31 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پورے نیویارک، کنیکٹیکٹ اور نیو جرسی کو قرنطینے میں رکھنے کے حوالے سے سوچ رہے ہیں۔ جبکہ نیویارک کے گورنر اینڈریو کوؤمو نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کے ٹرمپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں لیکن انھیں یہ بات پسند نہیں آئی۔
چین کے شہر ووہان، جہاں سے اس وائرس کا آغاز ہوا تھا، کو دو ماہ لاک ڈاؤن میں رکھنے کے بعد جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ ملک میں وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد یہاں اس سے متاثر ہونے والوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔
فرانس کے وزیرِ اعظم ایڈوارڈ فلیپے نے فرانسیسی عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپریل کے پہلے 15 دن گذشتہ 15 دنوں سے زیادہ مشکل ہوں گے۔