کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. آسٹریلیا میں مزید سختی، نئے اقدامات کا اعلان

    آسٹریلیا، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے 4100 متاثرین اور 17 عمر رسیدہ افراد کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

    گذشتہ ہفتے سے متاثرین کی تعداد دگنی ہوگئی ہے اور حکام نے اس سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات نافذ کیے ہیں۔

    • عوامی اجتماعات میں صرف دو لوگ شریک ہو سکتے ہیں یا اتنے لوگ جو ایک گھر میں رہتے ہیں۔
    • پلے گراؤنڈز، پارکس اور باہر بنے جِمز سمیت مزید عوامی مقامات بند رکھے جائیں گے۔
    • وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ آپ اپنے گھر سے صرف تب نکلیں جب آپ نے 1) ضروری سامان خریدنا ہو 2) طبی یا جذباتی وجوہات سے کسی سے ملتا ہے 3) ورزش کرنی ہو 4) دفتر یا سکول جانا ہو، اگر گھر سے کام ممکن نہیں۔
    • اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    دوسرے ممالک سے آنے والے شہریوں کو ہوٹلوں میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔

  2. امریکہ میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات میں 30 اپریل تک توسیع, ہلاکتیں ایک لاکھ سے کم رہیں تو مطلب ہم نے اچھا کام کیا ہے: ٹرمپ

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکہ بھر میں مختلف اقدامات جیسے سماجی دوری وغیرہ کا اطلاق اب 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    اتوار کو وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کی پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی بھی جیت سے پہلے اس کے اعلان سے بری کوئی چیز نہیں ہوتی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں ماہرین نے بتایا ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں امریکہ میں کووڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد میں بہت اضافہ ہوگا مگر اس کے بعد توقع ہے کہ اموات اور متاثرین کی تعداد میں کمی آئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم ہلاکتوں کی تعداد کو ایک لاکھ سے کم رکھنے میں کامیاب رہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم نے اچھا کام کیا ہے۔‘

    اس سے قبل صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ڈاکٹر انتھونی فوسی جو کہ کورونا وائرس سے نپٹنے والی ٹیم کے سربراہ ہیں، نے کہا تھا کہ اس وبا سے ایک سے دو لاکھ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض امریکہ میں ہیں اور اب تک ان کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں سے 2500 سے زائد افراد کی موت ہو گئی ہے۔

  3. آج دنیا بھر میں کیا ہوا؟, اموات: 33551 متاثرین: 710918

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات 33 ہزار سے زیادہ ہیں۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن میں رہے۔

    • گذشتہ 24 گھنٹوں میں امریکی ریاست نیویارک میں 237 اموات سامنے آئی ہیں جس کے بعد ریاست میں اموات کی کل تعداد 965 ہو گئی ہے۔
    • اٹلی میں یہ دوسرا دن ہے جب اموات کے اعداد و شمار میں بدستور کمی دیکھنے میں آئی ہے اور آج 756 اموات ہوئیں۔
    • برطانیہ کی ڈپٹی چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر جینی ہیریز نے کہا ہے کہ ملک میں لگائی جانے والے پابندیاں نرم ہونے میں شاید چھ ماہ لگ جائیں۔
    • آج ترکی کی قومی فٹبال ٹیم کے مقبول گول کیپر رشٹو ریچبر میں بھی کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔
    • امریکہ میں متعدی امراض کے سرکاری ماہر ڈاکٹر انتھونیو فوسی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے ایک سے دو لاکھ امریکی مر سکتے ہیں۔
    • انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز ریڈیو کے ذریعے خطاب میں قوم کے غربا سے لاک ڈاؤن کے باعث بڑھتی معاشی غیریقینی پر معذرت کی ہے۔
    • سپین کے لیے ایک اور برا دن جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 838 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
  4. کورونا: امریکہ میں اموات کے پریشان کن اندازوں کا مطلب کیا ہے؟

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کچھ دیر قبل، امریکہ میں متعدی امراض کے سرکاری ماہر ڈاکٹر انتھونی فوسی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا ایک سے دو لاکھ امریکیوں کو ہلاک کر سکتی ہے۔

    امریکہ کے قومی ادرہ برائے الرجی کے ڈائریکٹر نے زور دیا کہ یہ اندازہ ایک ایسے کمپیوٹر ماڈل کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جو عام طور پر غیر محتاط اندازہ دیتا ہے۔

    تاہم ڈاکٹر فوسی کی جانب سے بتائے جانے والا اندازہ امراض سے بچاؤ اور امریکہ میں کنٹرول کے ادارے سی ڈی سی کی جانب سے لگائے جانے والے اندازوں کے حساب سے انتہائی محتاط ہے۔

    سی ڈی سی کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے دو لاکھ سے 17 لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    تاہم اگر اموات کی تعداد ڈاکٹر فوسی کی جانب سے لگائے گئے اندازے کے قریب بھی ہوئی تو کووڈ 19 امریکہ کی تاریخ کی سب سے تباہ کن بیماریوں میں سے ایک ہو گی۔

    سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کینسر سے سالانہ چھ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں جبکہ دل کی بیماری سے ساڑھے چھ لاکھ۔

  5. کورونا: ماسکو میں پابندیوں میں اضافہ

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر روس کے دارالحکومت ماسکو میں حکام کی جانب سے پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ان پابندیوں کے مطابق اب شہریوں کو صرف کسی ضروری کام کے سلسلے میں ہی گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔

    ماسکو کے میئر سرجی سوبیانن نے اپنے بلاگ کے ذریعے یہ ہدایات جاری کیں اور کہا کہ کہ لوگ اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ اپنے گھر سے 100 میٹر کے فاصل تک ٹہل سکتے ہیں۔

  6. بریکنگ, فرانس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 292 اموات

    یورپی ملک فرانس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 292 اموات سامنے آئی ہیں جس سے ملک مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 2606 ہو گئی ہے۔

    فرانس کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پانچوں نمبر پر ہے۔

  7. بریکنگ, نیویارک میں ایک دن میں 237 اموات، 7195 نئے متاثرین

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں امریکی ریاست نیویارک میں 237 اموات سامنے آئی ہے جس کے بعد ریاست میں اموات کی کل تعداد 965 ہو گئی ہے۔

    یہ پورے ملک کی کل اموات کا 40 فیصد ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والے اموات کی تعداد پہلے ہی 2000 سے تجاوز کر چکی ہے اور ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ ہے۔

    نیو یارک کے گورنر اینڈریو کوؤمو نے ایک دن میں کووڈ 19 کے 7195 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے جس سے نیویار میں متاثرہ افراد کی تعداد 59313 ہو گئی ہے۔

    نیویارک اب امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز بن چکا ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں سامنے آنے والے کیسز کا تقریباً 50 فیصد نیو یارک میں ہے۔

    نیویارک کے گورنر کا کہنا تھا کہ صحت کے عملے کے 76019 افراد اس نیویارک میں رضاکارانہ طور پر اس بحران کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اموات میں اضافہ ہوتا رہے گا لیکن اس حوالے سے دگنی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جو ایک اچھی خبر ہے۔

  8. کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

  9. بریکنگ, اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 756 اموات

    اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 756 اموات کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 10779 ہو گئی ہے۔

    یہ اٹلی میں دوسرا دن ہے جب اموات کے اعداد و شمار میں بدستور کمی دیکھینے میں آ رہی ہے۔ سنیچر کے روز اس یورپی ملک میں 889 جبکہ جمعہ کے روز 919 اموات ہوئیں۔

    ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 97689 ہو گئی ہے اور یہ اضافہ بھی گذشتہ بدھ سے سب سے کم ہے۔

    اب تک اٹلی میں کووڈ 19 کے 13030 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  10. بریکنگ, کورونا: شام میں پہلی ہلاکت کی تصدیق

    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے باعث اتوار کے روز پہلی ہلاکت سامنے آئی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی خبردار کر رکھا ہے کہ ملک میں جاری جنگ جس سے اب تک تین لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، نے ملک کا صحت کا نظام کمزور کر دیا ہے۔

    ملک میں سنہ 2011 سے قبل موجود صحت کی بنیادی ڈھانچے میں سے صرف 64 فیصد ہسپتال اور 52 فیصد صحت عامہ کے سینٹرز اس وقت کام کر رہے ہیں۔

  11. بریکنگ, ’اگر ہم ابھی رک گئے تو ہماری ساری محنت ضائع ہو جائے گی‘

    ہیریز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی ڈپٹی چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر جینی ہیریز نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ملک میں لگائی جانے والی پابندیوں کو ابھی ایک ہفتہ ہوا ہے اور وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ ہر تین ہفتوں بعد ان پابندیوں کی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

    انھوں نے یہ بات برطانیہ میں کورونا وائرس کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی پریس بریفنگ میں کہی۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ دوبارہ سے عام زندگی میں فوری واپسی ’بہت خطرناک‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم ابھی رک گئے تو ہماری ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ پابندیوں کو آہستہ آہستہ کم کیا جا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر ہیریز کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتائج ہمیں دو سے تین مہینوں میں نظر آئیں گے اور تقریباً چھ ماہ لگیں گے یہ جائزہ لینے کے لیے کے ’ہم کب تک معمولات زندگی بحال کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اس سے بھی زیادہ وقت تک رہیں۔‘

    ڈاکٹر ہیریز نے واضح کیا کہ ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ پابندیاں چھ ماہ تک رہ سکتی ہیں، یہ ہدف تبدیل ہوتا رہے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سائنسدانوں کے مطابق برطانیہ میں روزانہ ہونے والی اموات میں اگلے ایک سے دو ہفتوں میں ’مزید اضافہ‘ ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلوں کا وقت بہت اہم ہے اور لوگوں کو چاہیے کے وہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ پابندیاں تب تک رہیں گی جب ہمیں اس حوالے سے یقین ہو جائے گا کہ اب یہ پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں۔

  12. ترکی کے مقبول گول کیپر رشٹو میں بھی کووڈ 19 کی تشخیص

    رشٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کی فٹبال ٹیم کے سابق گول کیپر رشٹو ریچبر میں بھی کووڈ 19 کی تشخیص ہو گئی ہے۔

    اتوار کے روز رشٹو کی اہلیہ اشل ریچبر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ ان کے شوہر کو ہسبتال لے جایا جا چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہر چیز معمول کے مطابق چل رہی تھی اور ہم ابھی بھی صدمے میں ہیں کہ ان کی علامات اتنی جلدی سنگین کیسے ہو گئیں۔‘ تاہم اشل اور ان کے بچوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

    رشٹو نے 120 بین الاقوامی مقابلوں میں ترکی کی نمائندگی کی اور ان کے کریئر کا عروج اس وقت آیا جب سنہ 2002 کے ورلڈ کپ میں ترکی نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔

    انھیں ترکی کے کلب فینرباچے میں لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے اور انھوں نے اس کلب کی ایک دہائی تک نمائندگی کی۔

    46 برس کے رشٹو ایک مختصر عرصے کے لیے بارسیلونا فٹبال کلب کا بھی حصہ رہے تاہم انھوں نے 2012 میں فٹبال سے ریٹائرمنٹ اختیار کر لی۔

  13. ووہان میں زندگی کیسی ہے؟

    ووہان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ووہان، جہاں سے کورونا وائرس کی عالمی وبا کا آغاز ہوا تھا، میں آج بھی ہمسائیوں کو علیحدہ کرنے اور دوکانوں کو بند کرنے کے لیے لگائی جانی والی رکاوٹیں موجود ہیں۔

    چینی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیشِ نظر ایک کروڑ 10 لاکھ کی آبادی والے شہر کو رواں برس جنوری میں لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔

    ووہان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک خاتون جس نے اپنا نام ژینگ بتایا نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب یہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی، تو یہ ثابت ہو گا کہ ہم نے ووہان میں اس وائرس کو شکست دے دی ہے۔‘

    یہ لاک ڈاؤن آٹھ اپریل تک جاری رہے گا تاہم رواں ہفتے لوگوں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی لیکن شہر سے نکلنے پر آج بھی پابندی ہے۔

    ووہان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ووہان دراصل ہوبائی کا صوبائی دارالحکومت ہے۔ صوبے میں کورونا وائرس کے 50 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جبکہ کم از کم تین ہزار افراد کووڈ 19 کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس دوران ہوبائی کی عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور کڑی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ یہ رکاوٹیں اس لیے لگائی گئی تھیں تاکہ عوام قواعد پر عمل کریں۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان رکاوٹوں کو کب ہٹایا جائے گا۔

  14. ’دنیا کو پہلے سے ہی عالمی وبا کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا‘

    گرو ہارلم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہ صحت کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر گرو ہارلم برنٹلینڈ نے بی بی سی ریڈیو 4 سے عالمی وبا کے نتیجے میں ’دنیا کی تیاری‘ کے حوالے سے بات کی ہے۔

    برنٹلینڈ ناروے کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں اور اب وہ عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک کی گلوبل پریپئرڈنیس مانیٹرنگ بورڈ کی شریک چیئرمین ہیں۔ انھوں نے ستمبر 2019 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں ’انتہائی موذی عالمی وبا‘ کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سانحے کے حوالے سے پہلے سے ہی خبردار کیا جا چکا ہے۔ ہم نے دنیا بھر میں کسی عالمی وبا کے حوالے سے تیاری میں متعدد نقائص دیکھے اور اس حوالے سے مضبوط شواہد بھی ڈھونڈے جس سے یہ پتا چلا کہ خطرہ ناگزیر ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ابھی بھی دیر نہیں ہوئی لیکن اب ہمیں اس حوالے سے بھی خیال کرنا ہے کہ ہم اس عالمی وبا کا سامنا کر رہے ہیں اور ہمیں ضروری امداد اور آلات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

  15. بریکنگ, ایک سے دو لاکھ امریکی مر سکتے ہیں: ڈاکٹر فوسی

    فوسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں متعدی بیماریوں کے سرکاری ماہر ڈاکٹر انتھونی فوسی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا ایک سے دو لاکھ امریکیوں کو ہلاک کر سکتی ہے۔

    امریکہ کے قومی ادارہ برائے الرجی اور متعدی امراض کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فوسی نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وائرس سے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

    تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ایک تیزی سے بدلنے والا عدد ہے جس کے بارے میں آپ کا اندازہ غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے۔‘

    خیال رہے کہ ڈاکٹر فوسی صدر ٹرمپ کی کورونا ٹاسک فورس کے رکن بھی ہیں۔

  16. بریکنگ, ’ایک ہفتے میں نیویارک کو طبی سامان کی قلت کا سامنا ہو گا‘

    نیو یارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی شہر نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا ہے کہ شہر میں پانچ اپریل تک ضروری طبی سامان جیسے وینٹی لیٹرز کی قلت ہو جائے گی۔

    انھوں نے امریکی ٹی وی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نیویارک شہر میں اس وقت جنگ کا سا سماں ہے۔‘

    خیال رہے کہ نیویارک امریکہ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی ہے۔ پوری ریاست میں سنیچر تک تقریباً 52 ہزار افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے جو پورے ملک میں سامنے آنے والے متاثرین کا ایک تہائی ہے۔

    اب تک امریکہ میں 728 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 672 نیویارک میں ہوئے ہیں۔

    ڈی بلاسیو کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک طویل بحران ثابت ہو گا۔ ہمیں اس تیزی سے بدلتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

  17. بریکنگ, کورونا: برطانیہ میں ایک دن میں 209 ہلاکتیں

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں اب تک کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1228 ہو گئی ہے۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 209 اموات ہوئی ہیں۔ یہ تعداد سنیچر کے روز ہونے والی 260 اموات سے کم ہے۔

    ان اموات میں 190 انگلینڈ میں ہوئیں۔ ویلز میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 اموات ہوئیں جنکہ شمالی آئرلینڈ میں چھ اور سکاٹ لینڈ میں ایک ہلاکت ہوئی۔

    برطانیہ کے محمکہ صحت کے مطابق اس وقت یہاں 19522 مصدقہ کیسز ہیں۔

  18. بریکنگ, نیدرلینڈز میں مزید 132 ہلاکتیں

    نیدرلینڈز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی ملک نیدرلینڈز میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 132 ہلاکتوں کے بعد ملک میں کل اموات کی تعداد 771 ہو گئی ہے۔

    ایک کروڑ 70 لاکھ کی آبادی والے ملک میں اس وقت 10 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہیں جن میں گذشتہ ایک دن میں 1104 کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  19. پوپ فرانسس نے عالمی جنگ بندی کی حمایت کر دی

    پوپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اتوار کے روز پوپ فرانسس نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریز کے جانب سے گذشتہ ہفتے عالمی جنگ بندی کرنے کے تجویز کی حمایت کی ہے تاکہ اقوامِ عالم کورونا وائرس سے مقابلہ کر سکیں۔

    ہفتہ وار دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ کا کہنا تھا کہ ’ہر قسم کی جارحیت کو ختم کر کے انسانی مدد کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے بین الاقوامی اقدامات اٹھائے جائیں اور ایسے افراد کی مدد کی جائے جو اس وقت سب مشکل صورتحال میں ہیں۔

  20. مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں کورونا وائرس سے 123 مزید اموات سامنے آئی ہیں جس سے ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 2640 ہو گئی ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک میں اس سے متاٰثر ہونے والے افراد کی تعداد 38309 ہو گئی ہے۔

    ایران ان ممالک میں سے ہے جسے کورونا وائرس سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ادھر سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جدہ کے خارجی اور داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں اور یہاں مقامی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے سے کرفیو کا نفاذ عمل میں آئے گا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں شام سات بجے سے صبح چھ بجے تک ملک گیر کرفیو کا اعلان کیا گیا تھا۔

    سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے ریاض، مکہ اور مدینہ میں یہی اقدامات اٹھائے تھے۔ خلیج ممالک میں ایران کے بعد سعودی عرب اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔