کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس کتنا خطرناک ہے؟, جیمز گلیگہر، بی بی سی

    کورونا وائرس خطرناک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کورونا وائرس کو آئے بہت وقت گزر چکا ہے لیکن ہمیں اس کے بارے میں دستمبر 2019 یعنی چند ماہ پہلے ہی پتا لگا تھا۔

    سائنسدان اسے سمجھنے کی انتھک کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن اب بھی کچھ باتیں واضح نہیں، جیسے:

    یہ کتنا خطرناک ہے؟

    اموات کی شرح کے بارے میں مکمل یقین سے کہنا ممکن نہیں۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ایک فیصد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    اگر ایسے زیادہ لوگ موجود رہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں تو اموات کی شرح مزید کم ہوسکتی ہے۔

    کیا وقت کے ساتھ اس کا اثر کم ہوجائے گا؟

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ موسم گرما آنے سے متاثرین کی تعداد کم ہو جائے گی، جیسے بخار یا فلو کی صورت میں ہوتا ہے۔

    لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ آیا گرمیوں کا موسم آنے سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ رک جائے گا۔ حکومت برطانیہ کے مطابق یہ بات غیر واضح ہے کہ موسم بدلنے سے یہ کتنا اثر کرے گا۔

    اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ موسم گرما آنے سے کورونا کے متاثرین کم ہو جائیں گے تو سردیاں آنے سے اس کے متاثرین دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔

  2. کورونا وائرس کی وبا کے دوران لوگ کیا ذخیرہ کر رہے ہیں؟

  3. انڈیا: لاک ڈاؤن کی وجہ سے فضائی آلودگی میں کمی

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    انڈیا میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ ایسے میں فضائی آلودگی گذشتہ دنوں میں اپنی سب سے کم سطح پر آگئی ہے۔ لیکن اس صاف ہوا میں باہر سانس لینے والا اب کوئی نہیں۔

    ملک میں لاک ڈاؤن کا چھٹا دن چل رہا ہے اور اس کا ایک مثبت اثر سامنے آیا ہے۔

    دارالحکومت نئی دہلی، جو دنیا بھر میں فضائی آلودگی کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ شہریوں میں شمار ہوتا ہے، میں لوگوں نے پیر کی صبح اٹھ کر صاف آسمان کے نظارے کیے۔

    موبائل فونز میں ہوا کا معیار بتانے والی ایپس کے مطابق شہر کا اے کیو آئی 50 سے کم ہے یعنی ’ہوا صاف ہے‘۔ دلی جیسے شہر کے لیے یہ ایک چھپی ہوئی نعمت یا نایاب واقعے سے کم نہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈیا کے 90 شہروں میں فضائی آلودگی کم ہوئی ہے۔

    کوارٹز کے مطابق ذرات کی آلودگی بھی بڑے شہروں میں معمول کے مقابلے کم سطح پر ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے فضائی آلودگی بہت کم ہے اور ہوا کا معیار سانس لینے کے لیے نقصان دہ نہیں۔

    ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے سبق حاصل کریں اور فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے کوئی پالیسی تشکیل دیں۔

    لیکن یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ آیا انڈیا لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی فضائی آلودگی کی کمی کو برقرار رکھ سکے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  4. جرمنی میں مصدقہ متاثرین 57 ہزار سے زیادہ

    کورونا، جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی کے قومی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں کورونا وائرس کے 57 ہزار 298 متاثرین ہیں۔

    ملک میں سب سے زیادہ متاثرین جنوبی ریاست بواریا میں ہیں جہاں سب سے پہلے اس بیماری کے مریضوں کی شناخت ہوئی تھی۔

    جرمنی میں اب تک 455 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ صرف اتوار کو 66 اموات ہوئی تھیں۔ ادارے نے یہ اعداد و شمار مقامی حکام کی مدد سے اکٹھے کیے ہیں اور جان ہاپکنز کے عالمی اعداد و شمار کے مقابلے ان کی رفتار کچھ کم ہوتی ہے جنھیں مُستند مانا جاتا ہے۔

    جرمنی کے وزیر خزانہ تھامس شیفر کے حوالے سے ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ انھوں نے کورونا وائرس کے بحران پر قانو نہ پانے کے ڈر سے خودکشی کر لی تھی۔ تاہم خودکشی کی اس وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    ریاست کے گورنر وولکر بوفیئر کے مطابق تھامس شیفر اس بات سے پریشان تھے کہ آیا وہ عوام کی توقعات کو مالی مدد سے اعتبار سے پورا کر سکیں گے۔

    ’مجھے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ پریشانیاں اُن پر حاوی آگئیں۔‘

  5. برطانیہ میں ’کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کچھ کمی آ رہی ہے‘

    کورونا وائرس، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں ایک سائنسدان، جن سے حکومت بھی مشاورت کرتی ہے، نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا اب کم تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    امپریئل کالج کے پروفیسر نیل فرگیوسن نے کہا ہے کہ لوگوں کو سماجی دوری اختیار کرنے سے متعلق حکومتی ہدایت ملنے کے بعد کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا سلسلہ پہلے کی نسبت کم ہوگیا ہے۔

    ان کے مطابق ’برطانیہ میں کمی کی ابتدائی نشاندہی کچھ علامات سے ہوسکتی ہے جن میں ہلاکتیں شامل نہیں کیونکہ اقدامات نافذ ہونے تک ہلاکتیں رکنے میں دیر ہو چکی ہوتی ہے۔‘

    ’لیکن اگر ہم ہسپتال میں نئے مریضوں کے داخلے کا جائزہ لیں تو اسے کچھ کم ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ یہ بالکل رکا نہیں ہے کیونکہ روز تعداد بڑھ رہی ہے لیکن تعداد بڑھنے کی رفتار کم ہوگئی ہے۔‘

  6. دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں کہاں؟

    دنیا بھر میں کورونا کی وبا سے ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 34 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ جن دس ممالک میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ درج ذیل ہیں

    اٹلی - 10,779

    سپین - 6,803

    چین - 3038

    ایران - 2640

    فرانس - 2611

    امریکہ - 2493

    برطانیہ - 1228

    ہالینڈ - 772

    جرمنی - 541

    بلیجیئم - 431

    یہ ڈیٹا جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ڈیٹا سنٹر سے حاصل کیا گیا ہے۔

  7. بریکنگ, تیل کی قیمت 18 سال بعد سب سے کم سطح پر

    تیل، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سنہ 2002 میں اپنی قدر میں مندی سے بھی زیادہ گِر چکی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران خام تیل کی مانگ میں ریکارڈ کمی آئی ہے۔

    خام تیل کی قیمت اس وقت 23.03 ڈالر فی بیرل ہے۔ یہ نومبر 2002 کی مندی سے بھی کم ہے۔

    دوسری طرف امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 18 سالہ تاریخ کی کم ترین سطح، 20 ڈالر فی بیرل، پر ہے۔

    گذشتہ ایک ماہ میں تیل کی قیمتیں نصف سے زیادہ گِر چکی ہیں۔ تیل کی کمپنیوں نے اپنی پیداوار کم کر دی ہے۔

    اس ماہ تیل کی مانگ میں کمی کے سلسلے میں سعودی عرب اور روس کے درمیان قیمت طے کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی تھی۔

    یہ تب شروع ہوا جب سعودی عرب روس کو اس کی پیداوار کی کمی کے لیے رضا مند کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنطیم اوپیک کے تمام اراکین نے اس پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی مانگ میں کمی کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ ہے۔

  8. ایسا آلہ تنفس جو وینٹی لیٹر کی ضرورت ختم کر سکتا ہے, فرگس والش، بی بی سی

    کورونا، آلہ تنفس

    ،تصویر کا ذریعہJAMES TYE/UCL

    برطانیہ میں ماہرین نے ایک ایسا آلہ تنفس تیار کیا ہے جس کی مدد سے کورونا وائرس کے مریضوں کو اب آئی سی یو یعنی انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    یونیورسٹی کالج لندن کے انجینئرز نے ادارے کے ہسپتال کے ساتھ کام کرتے ہوئے مرسڈیز فارمولا ون ریسنگ ٹیم کے تعاون سے صرف ایک ہفتے میں ایک ایسا آلہ بنایا جو سانس لینے میں مدد کرتا ہے اور جس کی وجہ سے مریض کو وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

    سی پی اے پی نامی یہ آلہ پہلے سے ہسپتالوں میں استعمال ہوتا رہا ہے لیکن اس کی تعداد بہت کم ہے۔

    چین اور اٹلی نے کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے یہی آلہ استعمال کیا تھا۔

  9. کورونا وائرس: غلط معلومات کو وائرل ہونے سے کیسے روکا جائے

  10. ایران: کورونا کی دوا بنانے کے دعووں میں کتنا سچ کتنا جھوٹ

  11. برطانیہ میں مصدقہ متاثرین کتنے

    کورونا، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت کورونا وائرس کے کل 19522 مصدقہ متاثرین ہیں۔

    ملک میں مزید 209 ہلاکتیں ہوئی ہیں جنھیں کورونا وائرس سے جوڑا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر برطانیہ میں 1228 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    سنیچر کو برطانیہ میں 260 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  12. چین: نئے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی، اب توجہ معیشت پر مرکوز

    ووہان، چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنووہان، چین

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین میں مسلسل چوتھے دن کے دوران کورونا وائرس کے نئے مریضوں میں کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ سے درآمد شدہ متاثرین کم ہوگئے ہیں۔

    چین میں پالیسی ساز اب دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کو اس کی اصل حالت میں لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    ووہان شہر، جسے وبا کا مرکز قرار دیا جاتا ہے، میں مسلسل چھٹے دن کے دوران کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا ہے۔ کاروبار واپس کھل رہے ہیں اور شہریوں کی زندگی دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ معمول پر آرہی ہے۔

    اتوار کے اعداد و شمار کے مطابق 31 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی۔ ان میں سے صرف ایک میں انفیکشن کی مقامی منتقلی ہوئی تھی۔ قومی صحت کی کمیشن کے مطابق اس سے پچھلے روز یہ تعداد 45 تھی۔

    چین کی معیشت کئی ماہ تک کورونا وائرس سے متاثر ہوتی رہی ہے اور اب حکام اس فلو جیسی وبا کا پھیلاؤ روکنے کے بعد اپنی توجہ اقتصادی معاملات پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

  13. جنوبی ایشیا میں کیا صورتحال ہے؟

    کورونا، جنوبی ایشیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • انڈیا کی مرکزی وزارت صحت نے کہا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1071 ہوگئی ہے جبکہ اسی کے ساتھ ہی ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوگئی ہے۔
    • پاکستان خطے میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ہے اور یہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 1650 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ تاہم حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔ ملک میں چین کی طرف سے امدادی سامان اور معاون ڈاکٹروں کی ٹیم پہنچ چکی ہے۔
    • سری لنکا میں کورونا سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔ ملک میں 113 مصدقہ متاثرین ہیں اور غیر معینہ مدت کے لیے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔
    • نیپال میں وائرس دیگر ملکوں کے مقابلے کم رفتار سے پھیل رہا ہے۔ ملک میں متحدہ عرب امارات سے آئے شخص میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جس کی عمر 34 برس ہے۔ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے دو ہزار افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
    • بنگلہ دیش میں فوج نے کہا ہے کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کی مہم میں وہ سماجی دوری جیسے حکومتی اقدامات نافذ کرانے میں مدد جاری رکھے گی۔ ملک میں 48 مصدقہ متاثرین اور پانچ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
  14. کورونا وائرس اگر شامی پناہ گزین کیمپوں میں پھیل گیا تو کیا ہو گا؟

  15. فائیو سٹار ہوٹل کے قرنطینہ میں بھی کچھ لوگ ناخوش؟

    آسٹریلیا، لاک ڈاؤن،

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ہم اب یہ جان چکے ہیں کہ بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کو وطن واپسی پر 14 دن کے لیے قرنطینہ مراکز میں رہنے کا کہا جاتا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلنے کے امکان کم کیے جا سکیں۔

    اسی لیے آسٹریلیا میں بھی حکام نے وطن واپس آنے والے شہریوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ 14 دن کے لیے خود ساختہ تنہائی اختیار کریں۔ لیکن ساتھ میں انھیں اس کام کے لیے کسی اچھے ہوٹل میں رہنے کی پیشکش بھی کی گئی۔

    اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کئی مسافروں نے حکومت کے خرچے پر سڈنی اور میلبورن کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں کمرے لیے ہیں۔

    آئسولیشن میں موجود افراد کو ایک دن میں تین مرتبہ کھانا دیا جاتا ہے اور ان کے لیے تمام آسائشیں موجود ہیں۔ سننے میں شاید یہ اتنا بُرا نہ لگے۔

    لیکن اس قرنطینہ کے اصولوں کے مطابق لوگ کمروں سے باہر نہیں آسکتے۔ پولیس اور سکیورٹی اہلکار باہر جانے کے دروازوں پر موجود رہتے ہیں۔

    بند کھڑکیاں، باورچی خانے کی عدم موجودگی اور کئی کمروں میں کپڑے اندر ہی دھونے کی وجہ سے بعض لوگ اس ’فائیو سٹار ماحول‘ می اتنے خوش نہیں۔

    اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ میں ثاقب اعوان نامی مسافر نے لکھا: ’تازہ ہوا ہر کسی کا حق ہوتا ہے۔ آپ کو قید خانے میں بھی تازہ ہوا مل جاتی ہے۔‘

    آسٹریلیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے 4100 متاثرین اور 17 عمر رسیدہ افراد کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  16. لاک ڈاؤن کے دوران مودی کی لوگوں کا دل لبھانے کی کوشش

    نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہNarendra Modi

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو اپنی ایک ایسی تھری ڈی ویڈیو ٹوئٹر پر پوسٹ کی جس میں وہ یوگا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد شاید یہ تھا کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو یہ دکھا سکیں کہ وہ کیسے تندرست رہتے ہیں۔

    لیکن اس ویڈیو میں انڈین وزیر اعظم خود کہاں ہیں؟ کئی زبانوں میں پوسٹ کی جانے والی ان ویڈیوز کے ذریعے دراصل وزیر اعظم مودی اپنی ورزش کا طریقہ دکھانا چاہتے تھے۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ان کے ریڈیو پر ماہانہ خطاب ’من کی بات‘ کے دوران کسی نے ان سے پوچھا کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران ورزش کیسے کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وجہ سے انھوں نے اپنی یوگا کی ویڈیوز شیئر کرنے کے بارے میں سوچا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ آپ بھی باقاعدگی سے یوگا کریں گے۔‘

    وزیراعظم مودی نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ’یوگا کے کوئی استاد نہیں بلکہ صرف اس پر عمل کرنے والوں میں سے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ یہ مشورے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کے کام آئیں گے۔ گذشتہ سال جون میں نریندر مودی نے بین الاقوامی یوگا کے دن پر لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسی ہی ویڈیوز شیئر کی تھیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. جاپان: ایک دن میں متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ

    japan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں 68 نئے مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے این ایچ کے کے مطابق یہ ایک دن میں جاپان میں وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    اب تک جاپان میں امریکہ اور کئی یورپی ممالک سے کم کیس سامنے آئے ہیں لیکن حکام کو اس واہ سے پریشانی لاحق ہے کیونکہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ نئے مریضوں میں وائرس کیسے منتقل ہوا۔

    اب تک جاپان میں 1800 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور 55 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  18. وال سٹریٹ کے بعد ایشیائی مارکیٹوں میں بھی مندی

    وال سٹریٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو امریکہ کی وال سٹریٹ کے بعد اب ایشیائی مارکیٹوں کو بھی مندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ ہفتے دیے گئے امدادی پیکیج کے اثرات ختم ہونے کے بعد سرمایہ کاروں نے اپنا دھیان دوبارہ کورونا وائرس کے بڑھتے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات کی جان راغب کیا۔

    جمعے کو صدر ٹرمپ نے دو کھرب ڈالر کا امدادی پیکیج منظور کیا تھا۔ لیکن کمپنیوں کے حصص کی قیمت، جو پورے ہفتے بڑھتی رہی، آخر میں اچانک کم ہوگئی اور اس سب سے ڈیلروں نے منافع کمایا۔

    صدر ٹرمپ کو امید ہے ملک 1 جون سے بہتری کی طرف گامزن ہوجائے گا۔ انھوں نے پہلے اپریل کے وسط کو اپنا ہدف بنا رکھا تھا۔

    امریکی سائنسدان ڈاکٹر انتھونی کے اندازوں کے مطابق کووڈ 19 کی وجہ سے امریکہ میں دو لاکھ ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔

  19. کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں کتنے مریض صحتیاب ہوئے؟

    کورونا وائرس، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں اب تک کووڈ 19 سے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 722289 ہوگئی ہے۔ ان میں سے کم از کم 151901 صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    • امریکہ 142106 متاثرین (4767 صحتیاب)
    • اٹلی 97689 متاثرین (13030 صحتیاب)
    • چین 82122 متاثرین (75583 صحتیاب)
    • سپین 80110 متاثرین (14709 صحتیاب)
    • جرمنی 62095 متاثرین (9211 صحتیاب)
    • فرانس 40723 متاثرین (7226 صحتیاب)
    • ایران 38309 متاثرین (12391 صحتیاب)
    • برطانیہ 19784 متاثرین (151 صحتیاب)
    • سوئٹزرلینڈ 14829 متاثرین (1595 صحتیاب)
    • نیدرلینڈز 10930 متاثرین (252 صحتیاب)
  20. پاکستان میں آن لائن ذرائع سے تدریسی عمل جاری مگر طلبا کو مسائل کا سامنا