کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یورپ میں اب تک کی صورتحال

    یورپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین میں کورونا سے نمٹنے کے لیے لیے گئے اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں اور ہنگری میں ایک متنازعہ کورونا وائرس قانون پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔

    سپین میں نئے احکامات کا اعلان کیا گیا ہے جن کے تحت اگلے دو ہفتوں کے لیے وہ تمام لوگ بھی جو غیر ضروری شعبوں میں کام کرتے ہیں گھر سے نہیں نکل سکیں گے۔ سپین میں پیر کو مزید 812 افراد کی کورونا سے موت کا اعلان کیا گیا اور اب ملک میں اس وبا سے کل 7340 لوگ جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

    ہنگری میں پارلیمان نئے قانون پر ووٹنگ کرے گی جس کے تحت وزیر اعظم وکٹر اوربن کے پاس بہت سے نئے اختیارات آ جائیں گے۔ حکومت کہتی ہے کہ کورونا وائرس کی وباہ سے نمٹنے کے لیے یہ اختیارات ضروری ہیں جبکہ اس پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ حکومت ان اختیارات کو اظہار رائے کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے اور صحافیوں کو گرفتار کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔

    اس کے علاوہ جرمنی میں اقتصادی ماہرین کورونا وائرس کے معیشت پر اثرات کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کرے گی۔ جرمنی میں اس بیماری کا شکار ہونے والوں کی تعداد 62000 ہے اور ہلاک ہونے والوں ی تعداد 541 ہے جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت ہے اور یہ چیز ماہرین کو بھی کنفیوز کر رہی ہے۔

  2. فلاحی ادارے آکسفیم کا 160 ارب ڈالر کی امداد کا مطالبہ

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلاحی ادارے آکسفیم نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قرضوں کی چھوٹ اور امداد کی مد میں تقریباً 160 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔

    فلاحی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے دی جانے والی امداد سے غریب ممالک میں ممکنہ لاکھوں اموات سے بچاؤ ہو سکے گا اور ان ممالک کے پاس وائرس کے پھلاؤ کو روکنے اور صحت کے نظام بہتر بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

  3. محمد حنیف کا ولاگ: جنگ کورونا سے، لڑائی صحافیوں سے۔۔۔

  4. سینیگال میں گرافیٹی فنکاروں کی دلکش کورونا آگاہی مہم

    آگاہی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر کے ممالک جہاں لوگ کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کا سہارا لے رہے ہیں، وہیں لوگوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔

    افریقی ملک سینیگال میں چند گرافیٹی فنکاروں نے آگاہی فراہم کرنے کے لیے ایک دلکش طریقہ ڈھونڈا اور دارالحکومت ڈاکار میں اہم مقامات کی دیواروں پر مختلف تصاویر بنائیں۔

    وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان تصاویر میں ہاتھ دھونے کی اہمیت، چھینک مارتے وقت کن طریقوں پر عمل کرنا ضروری ہے شامل ہیں۔

    گرافیٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. کورونا وائرس: سپین کے وزیرِ خارجہ پر امید

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین کے وزیرِ خارجہ ارانچا گونزالیز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم وائرس کے تیزی سے بڑھتے پھیلاؤ کو دبانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    سپین میں حکام نے آج 6398 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے جس سے ان کیسز کی مجموعی تعداد 85195 ہو گئی ہے جو کہ چین سے بھی زیادہ ہے جہاں سے یہ وبا شروع ہوئی تھی۔

    سوموار کے روز 812 مزید اموات سامنے آئی ہیں جس کے بعد ملک میں اموات کی کل تعداد 7340 ہو گئی ہے۔ سپین اب اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔

    میڈرڈ، کیٹالونیا اور باسک کے علاقے اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    تاہم اس حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ ملک میں نئے کیسز کی تعداد میں بتدریج کمی آئی ہے۔

    وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ملک میں صحت کے نظام پر بڑھتا دباؤ ان کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہا ہے اور نئی پابندیوں سے اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سپین پر اس حوالے سے تنقید کرنا مناسب اس لیے نہیں ہے کیونکہ دیگر ممالک جیسے امریکہ اور اٹلی بھی بہت زیادہ کیسز سے نمٹ رہے ہیں۔

  6. ٹوکیو اولمپکس اب جولائی 2021 میں منعقد ہوں گے

    وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ ٹوکیو اولمپکس 2020 جو رواں برس جولائی میں منعقد ہونا تھے، اب اگلے برس 23 جولائی سے آٹھ اگست کے درمیان ہوں گے۔

    گذشتہ ہفتے اولمپکس کے انعقاد کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر غیر معینہ مدت تک موخر کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب پیرالمپکس اب اگلے برس 24 اگست سے پانچ ستمبر کے درمیان کھیلے جائیں گے۔

    تاہم ان مقابلوں کا نام ٹوکیو اولمپکس 2020 ہی رہے گا باوجود اس کے کہ یہ 2021 میں منعقد ہوں گے۔

  7. بریکنگ, شہزادہ چارلس سیلف آئسولیشن سے باہر

    شہزادہ چارلس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے کورونا وائرس کی معمولی علامات اور تشخیص کے نتیجے میں سکاٹ لینڈ میں سات دن کا عرصہ تنہائی میں گزارنے کے بعد دوبارہ معمول کی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

    شہزادہ چارلس کا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد ان کی اہلیہ ڈچز آف کورنوال کمیلا پارکر کا بھی ٹیسٹ کیا گیا تھا تاہم اس کا نتیجہ منفی آیا تھا۔

    شاہی محل کے ایک عہدیدار کے مطابق شہزادے کی صحت اچھی ہے اور وہ حکومتی ہدایات کی پیروی کر رہے تھے۔

    محل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کلیئرنس ہاؤس نے آج (سوموار کو) تصدیق کی ہے کہ اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بعد شہزادہ چارلس نے خود ساختہ تنہائی ترک کر دی ہے۔

    شہزادہ چارلس نے خود ساختہ تنہائی کا عرصہ شاہی بلمورل میں واقع اپنے گھر میں گزارا۔

  8. بریکنگ, قریبی ساتھی میں کووڈ 19 کی تشخیص، اسرائیلی وزیرِاعظم بھی قرنطینہ میں

    بن یامن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامن نتن یاہو کے قریبی ساتھی میں کووڈ 19 کی تشخیص کے بعد انھیں بھی قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی اخبار ہارتز کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم کے دیگر مشیروں کو بھی قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

    پیر کو بنیامن نتن یاہو کی مشیر برائے پارلیمانی امور میں کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ حفاظتی اقدام ہے اور یہ وزیرِ اعظم کا طبی معائنہ کرنے سے قبل ہی لے لیا گیا ہے۔

  9. جرمنی اموات کی تعداد کم رکھنے میں کیسے کامیاب رہا ہے؟

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگر آپ اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو جرمنی میں اموات کی شرح دیگر بڑے یورپی ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ ملک میں اب تک 62 ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں لیکن صرف 541 اموات سامنے آئی ہیں۔

    اب تک ماہرین کو ان اعداد و شمار کی وجہ یہی معلوم ہوئی ہے کہ جرمنی میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کی گئی ہے۔ جرمنی میں اس وبا کے پھیلنے کے آغاز میں ہی وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کا آغاز کر دیا گیا تھا جس سے جن افراد میں ابھی کووڈ 19 کی معمولی علامات سامنے آئی تھیں ان میں بھی اس وائرس کی تصدیق ممکن ہو سکی تھی۔

    اس سے یہ فائدہ ہوا کہ جرمنی میں مصدقہ متاثرین اور ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہے جیسا دوسرے ممالک میں دیکھنے میں آیا ہے۔

    تو اگر سپین، برطانیہ اور اٹلی میں بھی ایسے افراد کی ٹیسٹنگ شروع کی جائے جن میں ابھی کووڈ کی معمولی علامات ظاہر ہوئی ہیں تو یقیناً وہاں بھی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے گی۔

    اس کی ایک اور وجہ جرمنی میں صحت کا مضبوط نظام اور سہولیات کی موجودگی ہے۔ جرمنی میں صحت کا نظام برطانیہ، فرانس اور اٹلی سے بہتر اور وسیع ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کا طبی نظام اس وقت شدید بیمار افراد کا بہتر علاج کر پا رہا ہے۔

    اٹلی اور فرانس کے متعدد مریضوں کو بھی علاج کے لیے جرمنی لے جایا جا رہا ہے۔ تاہم جب ملک میں شدید بیمار افراد کی تعداد بڑھے گی تو جرمنی میں بھی صحت کے نظام پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔

  10. وینٹیلیٹر کیسے کام کرتا ہے؟

    وینٹیلیٹر
  11. کورونا کی بلا ٹلنے کے بعد آپ کے کیا ارادے ہیں؟

  12. یورپ کی تازہ ترین صورتحال

    یورپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ میں اس وائرس کے باعث متعدد ممالک متاثر ہوئے ہیں اور اموات کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے۔

    سپین جو کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، نے شہریوں پر مزید سخت پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ہنگری میں ایک متنازع کورونا وائرس قانون پر آج ووٹنگ ہو گی۔

    • سپین میں مزید کڑی پابندیاں لگا دی گئی ہیں جن کے مطابق اگلے دو ہفتوں تک عوام کو غیرضروری گھر سے نکلنے اور کام پر جانے سے روکا جائے گا۔ ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 812 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد ملک میں کل اموات 7340 ہو گئی ہیں۔
    • ہنگری میں پارلیمان آج کورونا وائرس کے حوالے سے ایک قانون پر ووٹ کرے گا جس کے تحت وزیرِ اعظم وکٹر اوربن کو تمام اختیارات سونپ دیے جائیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایسا اس لیے ضروری ہے تاکہ کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ردِعمل دیا جائے سکے۔ تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قانون سے آزادی اظہار رائے کو محدود کیا جا سکے گا اور حکام کے پاس صحافیوں کو جیلوں میں بند کرنے کا اختیار آ جائے گا۔
    • جرمنی میں معاشی معاونین ایک رپورٹ شائع کریں گے جس میں وائرس کے باعث معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اب تک ملک میں 62 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تاہم اموات کی تعداد 541 ہے جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔
  13. کورونا وائرس: نئی دہلی کے بس اڈے پر مسافروں کا رش

  14. ایران: تقریباً 42 ہزار نئے مریض، 2700 سے زائد ہلاکتیں

    iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران نے پیر کو اپنی سرزمین پر کورونا وائرس کے تین ہزار سے زائد نئے مریضوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 41495 ہو گئی ہے۔

    وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 117 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ اب تک تقریباً 14 ہزار لوگ صحتیاب ہو چکی ہیں۔

  15. روس میں کورونا کے 300 سے زیادہ نئے مریض

    russia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 302 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جو کہ ملک میں ایک دن میں سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    روسی حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ملک کے 35 علاقوں سے 300 سے زائد مریضوں اور ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ان میں سے 212 کیس دارالحکومت ماسکو کے ہیں۔

    اس طری روس میں کورونا وائرس سے مصدقہ مریضوں کی تعداد 1836 ہوگئی۔

  16. برطانیہ: وزیراعظم کے بعد ان کے مشیر میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص

    dominic

    ،تصویر کا ذریعہPA Wire

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے سینیئر مشیر ڈومنک کمنگز کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد وہ قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

    اس سے قبل برطانیہ کے وزیراعظم، وزیرِ صحت، ہیلتھ سیکریٹری اور چیف میڈیکل آفسر میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

  17. سپین میں 800 مزید ہلاکتیں

    یورپ کے ملک سپین میں اتوار سے 812 نئی اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    حکام کے مطابق اسی عرصے میں 6400 نئے مریض بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ملک میں متاثیرن کی کُل تعداد 80 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

  18. شام میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی اطلاعات

    شام، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    شام میں سرکاری سطح پر کووڈ 19 سے پہلی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ملک بھر میں موجودہ صورتحال اور بے گھر افراد کی بڑی تعداد کی وجہ سے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

    سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک مریضہ دم توڑ گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ کس ہسپتال میں پیش آیا ہے۔

    ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد 5 سے 9 افراد ہوگئی ہے۔ لیکن بعض اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں یہ تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔

    شام نے حال ہی میں وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے ہیں لیکن اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ نو سالہ جنگ کے دوران صحت کے نظام کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ملک کو کووڈ 19 سے خطرات لاحق ہیں۔

    شام میں شیعہ مسلمانوں کے مقدس مقامات پر جانے کے حوالے سے بھی متنبہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف عراق سے بڑی تعداد میں حکومت کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے آنے سے بھی بیماری پھیلنے کا خطرا بڑھ گیا ہے۔

  19. انڈیا میں تارکین وطن کا درخت پر قرنطینہ

    آپ نے خود ساحتہ تنہائی یا آئسولیشن اختیار کرنے کے کئی غیر معمولی طریقے دیکھے ہوں گے۔ اسی طرح کا ایک طریقہ انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں کچھ تارکین وطن نے اپنایا جنھوں نے خود کو اگلے دو ہفتوں کے لیے ایک درخت پر قرنطینہ کر لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ان سات افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ ان کے گھروں میں رہنے کے الگ الگ کمرے نہیں ہیں۔

    یہ ایسے افراد ہیں جو انڈیا میں ملازمت کے لیے آئے تھے۔ اب ان کی تصاویر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر وائرل ہوچکی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    لیکن انڈیا میں لاک ڈاؤن کے بعد ہزاروں مزدور ایسے ہیں جنھیں دلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں سے اپنے گھروں کی طرف پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ نقل و حمل پر پابندی عائد ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک ڈاکٹر نے لکھا ہے کہ سماجی دوری اور لاک ڈاؤن کا اثر امیر اور غریب پر مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔

    ’اس کا مطلب ہے کہ آیا آپ گھر پر رہنے کی اِستطاعت رکھتے ہیں۔ کورونا وائرس سے بچنے کے کئی طریقے صرف صاحب استطاعت کے لیے دستیاب ہیں۔‘

  20. چین: ہوبے سے اندرونِ ملک پروازوں کا سلسلہ شروع

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    چین کے صوبہ ہوبے سے اندرونِ ملک پروازوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

    چین کے سرکاری جریدے گلوبل ٹائمز کے مطابق وہان کے بین الاقوامی ایئر پوٹ کے علاوہ اس خطے میں موجود تمام ہوائی اڈوں سے پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔