لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. افغان اویغور: ’ہمیں خوف ہے کہ طالبان ہمیں پکڑ کر چین کے حوالے کر دیں گے‘

  2. ’افغانستان مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے‘

    graham

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے گذشتہ شب ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ انھوں نے امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے افغانستان کے موضوع پر بات چیت کی۔

    لنڈسے گراہم نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانی حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی شہریوں، اتحادیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو نکالنے میں بہت مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے۔

    ’ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور ایک طالبان کا پاکستانی گروہ ہے جو پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ یہ بہت پیچیدہ خطہ ہے اور یہ پرخطر وقت ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. یکم ستمبر سے کابل ایئرپورٹ کا کیا ہوگا؟

    airport

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کا مستقبل اس وقت واضح نہیں ہے اور اس بارے میں نہ صرف قیاس آرائیاں جاری ہیں بلکہ اس کے بارے میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔

    امریکی افواج کے انخلا کے بعد یکم ستمبر سے طالبان ایئرپورٹ کے امور سنبھال لیں گے اور انھوں نے جمعے کو دعوی کیا کہ ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا انتظام اب ان کے پاس ہے۔

    دوسری جانب جمعے کو ہی امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ 31 اگست تک ملک چھوڑ دے گا اور ایئرپورٹ افغان افراد کے زیر انتظام ہوگا۔

    ’ائیرپورٹ چلانا کوئی بہت پیچیدہ کام نہیں ہے۔ لیکن یہ سمجھنا شاید مناسب نہیں ہوگا کہ بدھ کے بعد سے ایئرپورٹ پر معمول کی کارروائی ہوگی۔‘

    لیکن ائیرپورٹ کے عارضی طور پر بند ہونے کا اشارہ سب سے پہلے امریکی سیکریٹری سٹیٹ انٹونی بلنکن نے ہی دیا تھا جب انھوں نے بدھ کو کہا کہ متعدد علاقائی ممالک اس بارے میں اپنے تئیں پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایئرپورٹ کو یا تو کھلا رکھیں یا اگر یہ کچھ عرصے کے لیے بند ہو جاتا ہے تو اسے بعد میں دوبارہ فعال بنا لیں۔

    انٹونی بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ ائیرپورٹ طالبان کے لیے بہت ضروری ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنے گذشتہ دورِ حکومت کی طرح ایک بار پھر دنیا سے کٹ جائیں۔

    airport

    ،تصویر کا ذریعہre

  4. افغانستان سے انخلا: امریکہ کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے حملوں کے خدشات کے باوجود امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے افغان افراد کے انخلا کا سلسلہ ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا۔

    جمعرات کو شہر کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے اور اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی۔

    امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا کہ ابھی بھی ایئرپورٹ کے خلاف حملہ ہونے کے خدشات ہیں۔

    امریکہ اس وقت افغان افراد کو ملک سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ ناٹو ممالک کی اکثریت اپنے ایمرجنسی آپریشن ختم کر چکی ہے۔

    فرانس نے جمعے کے روز لوگوں کے انخلا کے لیے اپنی آخری پرواز چلائی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اب وہ مزید پرواز نہیں چلا سکتے۔ فرانس کے مطابق انھوں نے افغانستان سے تین ہزار لوگوں کو باہر نکالا ہے۔

    سپین بھی اپنا آپریشن مکمل کر چکا ہے۔

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ اپنے فوج کو 31 اگست کو مکمل طور پر واپس بلا لے گا۔

    طالبان کے ایک ترجمان نے جمعے کی شب کہا کہ طالبان نے ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم پینٹاگون نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق اس وقت پانچ ہزار افراد کابل ایئرپورٹ کے اندر موجود ہیں اور جانے کی پروازوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد کو ملک سے باہر نکال لیا ہے۔

  5. ’طالبان پہلے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئے پھر رات کو ہمارا دروازہ بھی کھکھٹایا‘

  6. کابل ائیر پورٹ حملے کے منصوبے ساز کے خلاف امریکی ڈرون حملہ

    drone

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں دولت اسلامیہ گروپ کے ایک رکن کے خلاف فضائی حملہ کیا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ حملے کا ہدف وہ شخص تھا جس نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے کی منصوبے بندی کی تھی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ننگرہار میں کی گئی اس کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا گیا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہدف کو ہلاک کر دیا ہے۔

  7. کابل ایئرپورٹ حملہ: نام نہاد دولتِ اسلامیہ یا داعش خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

    kabul

    گرچہ مغربی ممالک کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، پھر بھی اس کے حملہ آور کابل کے ہوائی اڈے اور اس کے قریب واقع بیرن ہوٹل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    اس حوالے سے کئی لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ تنظیم کیا ہے اور اگر طالبان کا واقعی پورے ملک پر قبضہ ہے تو دولت اسلامیہ خراسان کابل کی سب سے اپم عمارت یعنی ہوائے اڈے کو نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

    اس سوال کا جواب دینے سے قبل ہمیں اس تنظیم کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  8. طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں: امریکہ

    USA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وائٹ ہاؤس میں بریفینگ کے دوران پریس سیکرٹری جین ساکی نے مستقبل قریب میں افغانستان میں طالبان کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے منصوبوں کو مسترد کردیا۔

    ان کا کہنا تھا ’میں واضح کرنا چاہتی ہوں امریکہ یا اس کا کوئی بھی بین الاقوامی حلیف جس سے ہم نے بات کی ہے کو انہیں تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ۔‘

    حالیہ ہفتوں میں طالبان اور امریکی فوج کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں پوچھے جانے پر پریس سیکرٹری کا کہنا تھا ’یہ دنیا کی واحد جگہ نہیں ہے جہاں ہم مخالفین کے ساتھ کام کررہے ہیں۔‘

  9. لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

  10. بریکنگ, افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد ’170‘ ہے: افغان اہلکار

    افغانستان میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کو کابل کے ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 90 سے بڑھ کر 170 ہو گئی ہے۔ اہلکاراپنا نام نہیں بتانا چاہتے تھے۔

    ہلاکتوں کی تعداد میں یہ اضافہ ابھی غیر تصدیق شدہ ہے لیکن مختلف ذرائع ابلاغ بھی یہی خبر دے رہے ہیں۔ بی بی سی اس کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہداری قبول کی تھی۔

  11. افغانستان میں طالبان: ’طالبان کا رویہ برا نہیں ہے لیکن ہم خطرہ مول لینا نہیں چاہتے‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

  12. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ’دو برطانوی شہری بھی شامل تھے‘

    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کابل میں کل ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو برطانوی شہری بھی شامل ہیں جن میں سے ایک برطانوی شہری کا بچہ ہے۔

    مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  13. افغانستان میں مزید حملوں کی ’توقع‘ ہے: پینٹاگون

    پینٹاگون`

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی اس وقت بریفنگ میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انخلا کی کوششوں میں ’دیر ہوئی‘ لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج مزید حملوں کے لیے تیار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اب بھی یہی خیال ہے کہ مزید حملوں کا خطرہ ہے۔ بلکہ مخصوص اور مصدقہ ذرائع سے یہ خطرات موجود ہیں۔‘

    بریفنگ کے آغاز میں کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے 31 اگست کی ڈیڈ لائن کا احترام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکہ ملک سے مزید پروازوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نئے طریقے سوچے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مرحلے میں ضروری نہیں ہے کہ امریکی فوج بھی شامل ہو۔‘

  14. کابل ہوائی اڈے پر دہشت گردی، طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش؟

  15. ہم آخری لمحے تک افغانستان سے لوگوں کے انخلا کو یقینی بنائیں گے: امریکہ

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ کابل ایئرپورٹ سے لوگوں کے انخلا کا مرحلہ 31 اگست تک جاری رہے گا۔

    خیال رہے کہ 31 اگست امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی ڈیڈلائن ہے۔ جان کربی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ آخری لمحے تک کابل سے لوگوں کے انخلا کے مشن کو جاری رکھے گا۔‘

  16. بریکنگ, اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا افغانستان سے انخلا ممکن ہو سکا ہے: پینٹاگون

    pentagon

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    میجر جنرل ولیم ٹیلر کا کہنا تھا کہ اب تک پانچ ہزار سے زیادہ امریکیوں کی افغانستان سے محفوظ حالت میں واپس منتقلی ممکن ہو سکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے مشن کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا پروازوں کے ذریعے انخلا ممکن ہو سکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب بھی 5400 افراد کابل ایئرپورٹ پر انخلا کے منتظر ہیں۔

    ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت افغانستان میں پانچ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو لوگوں کی امداد میں مصروف ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ مشن کتنا خطرناک ہے لیکن دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکے گا۔‘

  17. زخمیوں کو علاج کے لیے جرمنی بھیجا گیا: میجر جنرل ولیم ٹیلر

    میجر جنرل ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز متعدد زخمیوں کو جرمنی لے جایا گیا جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’دو پروازیں جرمنی اتریں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا: پینٹاگون

    pentagon

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی محمکہ دفاع نے واضح کیا ہے کہ جمعرات کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا تھا، جس میں 90 افراد مارے گئے جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے۔

    مرنے والوں میں 13 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی فوج کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج کے مطابق جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا تھا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ہوٹل کے قریب دوسرا دھماکہ نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ جمعرات کو میڈیا میں یہ خبریں بھی نشر ہوئیں کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد دوسرا دھماکہ ایک قریبی ہوٹل کے باہر ہوا ہے۔

    میجر جنرل ولیم ٹیلر نے کہا کہ وہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک ہی دھماکہ ہوا تھا۔

  19. ’بطور صدر ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے پیاروں کے دکھ بانٹنے سے مشکل کوئی کام نہیں تھا‘

    barack obama

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں پر دلی دکھ پہنچا ہے۔

    اوباما نے سابق صدر جارج ڈبلیو بش سے ورثے میں لی گئی اس جنگ کے دوران افغانستان میں ہزاروں امریکی فوجی تعینات کیے تھے۔ انھوں نے امریکی فوجیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ ہیروز ہیں جو خطرناک مشنز پر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دوسرے کی زندگیاں بچاتے ہیں۔

    اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ ’بطور صدر، ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے دکھ بانٹنے سے مشکل کوئی کام نہیں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ ’ان امریکی اور افغان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔‘

    ’میں ان افغان خاندانوں کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں جن میں سے اکثر امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور وہ بہتر زندگی گزارنے کے لیے سب کچھ ِخطرے میں ڈالنے کے لیے تیار تھے۔‘

    سنہ 2001 سے اب تک امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق افغانستان میں 2400 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  20. ’داڑھی کا پوچھے تو سرٹیفیکیٹ دکھا دینا‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    موجودہ حالات کے پیش نظر بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار آڈیو سٹوریز کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    آج کی قسط میں صحافی اقبال خٹک نے مارچ 2001 کے چند واقعات کا ذکر کیا ہے جب انھیں ایک مغربی میڈیا کی ٹیم کے ساتھ کابل جانے موقع ملا۔ ویڈیو: سعد سہیل اور محمد ابراہیم