لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. کابل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے کا خدشہ، امریکی شہریوں کو علاقہ چھوڑ دینے کی ہدایت

    امریکہ نے سنیچر کو کابل ایئرپورٹ کے نزدیک ایک اور حملے کے ’مخصوص اور قابلِ اعتبار‘ خدشے کے تحت اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اُس علاقے سے دور ہو جائیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے ایک سیکیورٹی الرٹ میں شہریوں کو ایئرپورٹ سے دور ہو جانے کی ہدایت کی۔

    اپنے سیکیورٹی الرٹ میں سفارت خانے نے ایئرپورٹ کے جنوبی (ایئرپورٹ سرکل) گیٹ، وزارتِ داخلہ گیٹ اور شمال مغربی جانب واقع پنجشیر پیٹرول سٹیشن گیٹ کے حوالے سے موجود خطرات کا ذکر کیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے صدر جو بائیڈن کہہ چکے تھے کہ اُن کے ملٹری کمانڈرز نے اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں نئے حملے کے خدشے کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ صورتحال اب بھی ’نہایت خطرناک‘ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. ’والد کی ہلاکت سے بھی زیادہ صدمہ افغانستان چھوڑتے وقت ہوا‘

  3. بریکنگ, اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ حملے جیسے ایک اور حملے کا امکان ہے، بائیڈن

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی ملٹری کمانڈرز کے مطابق اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکوں جیسی ایک اور ہلاکت خیز دہشتگردانہ کارروائی کا ’بلند امکان‘ ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملنے والی بریفنگ کے بعد بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے دولتِ اسلامیہ خراسان کے خلاف ہونے والا ڈرون حملہ آخری نہیں تھا۔

    ’زمینی صورتحال اب بھی انتہائی خطرناک ہے اور ایئرپورٹ پر مزید حملوں کا خطرہ بلند ہے۔ ہمارے کمانڈرز نے بتایا ہے کہ اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں ایک اور حملے کا بلند امکان ہے۔‘

    واضح رہے کہ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    سنیچر کو پینٹاگون نے کہا کہ مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک ڈرون حملے میں دو ’اہم‘ افراد ہلاک ہوئیے ہیں جو پینٹاگون کے مطابق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی رسد اور نقل و حمل کے ماہرین تھے۔

  4. ’کمرشل پروازوں کی بحالی کے بعد افغان شہری باعزت طریقے سے بیرون ملک جاسکیں گے‘, طالبان کے ترجمان کا ٹویٹ

    دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ڈپٹی ڈائریکٹر عباس ستانکزئی کا پیغام ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے جس میں ایسے افغان شہریوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’ایسے افغان شہری جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں وہ پاسپورٹ اور ویزے جیسے قانونی دستاویزات رکھ کر باعزت طریقے اور ذہنی سکون کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں جب ملک میں کمرشل پروازیں بحال ہوجائیں گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. طالبان کی افغان سرزمین پر امریکی ڈرون حملے کی مذمت

    طالبان کی امریکی ڈرون حملے کی مذمت

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    طالبان نے مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکہ نے اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ خراسان گروہ کے دو رکن ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ یہ افغان سرزمین پر حملہ ہے۔‘

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ خراسان گروہ کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آئندہ کچھ گھنٹوں میں طالبان کابل ایئرپورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ نئی حکومت کو چلانے کے لیے اہلکاروں کا انتخاب کر رہے ہیں اور جلد ایک مکمل کابینہ کا اعلان کیا جائے گا۔

  6. ’افغانستان سے 117,000 افراد کو امریکہ لایا گیا‘

    ’افغانستان سے 117,000 افراد کو امریکہ لایا گیا‘

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پینٹاگون کی جانب سے پریس بریفننگ کے دوران میجر جنرل ولیم ٹیلر نے اس حوالے سے بھی بتایا کہ اب تک کابل ایئرپورٹ سے کتنے افراد کو امریکہ لایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی شہریوں اور مستحق افغانوں کو کابل سے نکالنے کے لیے ہمارا آپریشن جاری ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ قریب 1400 افراد کو آج سکریننگ کے بعد پروازوں کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔

    ’جیسا کہ میں نے کل کہا، ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ ہم آخر تک افغانستان سے فوجی طیاروں پر لوگوں کو لاسکتے ہیں۔‘

    میجر جنرل ٹیلر کے مطابق امریکہ اب تک ایک لاکھ 17 ہزار لوگوں کو افغانستان سے لاچکا ہے جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔

  7. ’افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان پر امریکی ڈرون حملے کے باوجود خطرہ برقرار ہے‘

    ڈرون، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پینٹاگون کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے ایک پریس بریفننگ میں مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملے سے متعلق مزید تفصیلات دی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے دو ہائی پروفائل اہداف ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی سویلین اس حملے میں زخمی نہیں ہوا ہے۔

    اس سے قبل پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ ان اہداف کا تعلق دولت اسلامیہ خراسان سے تھا۔ ’ان اہداف کو نشانہ بنانا سنگل مشن تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں دولت اسلامیہ خراسان کے ’منصوبہ ساز اور سہولت کار تھے۔۔۔ یہی وجہ کافی تھی۔‘

    جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں 13 امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

    کربی کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔ ’ہم ایک منٹ کے لیے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ کل جو ہوا اس سے ہمارا راستہ صاف ہوگیا ہے۔‘

    کربی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دولت اسلامیہ کے ان اراکین پر ڈرون حملوں کے بعد اس کی جانب سے مزید حملوں کی صلاحیت مثاثر ہوچکی ہے۔

  8. بورس جانسن اور انگیلا میرکل کے درمیان افغانستان کی صورتحال پر بات چیت, انسانی حقوق اور محفوظ راستہ زیر بحث

    بورس جانسن اور انگیلا میرکل کے درمیان طالبان کے زیر اثر افغانستان پر بات چیت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس بارے میں بات چیت کی ہے کہ طالبان کے افغانستان میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان سے کیسے نمٹا جائے۔

    سنیچر کو ایک فون کال میں دونوں رہنماؤں نے تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’نئی افغان حکومت سے نمٹنے کے لیے جی سیون ممالک کی حکمت عملی پر اتفاق کیآ۔‘

    ’برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان کو منظور کرنا یا ان سے رابطہ ان شرائط پر مبنی ہونے چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کو محفوظ راستے دیں گے جو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں گے۔‘

    دریں اثنا ایک طالبان اہلکار، جو امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں شریک تھا، نے کہا ہے کہ طالبان کے زیر اثر ملک کی سرحدیں کھلی رہیں گے اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد جو افغان شہری جانا چاہتے ہیں وہ جاسکیں گے۔

    شیر محمد ستانکزئی نے کہا کہ ’اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔‘

    ’مستند اور قانونی دستاویزات کے ساتھ یہ لوگ کسی بھی وقت ملک سے باہر جا سکیں گے یا واپس آسکیں گے۔‘

  9. افغانستان میں زیر زمین سونا بھرا پڑا ہے، یہ خزانہ اب کس کے ہاتھ آئے گا؟

  10. قریب پانچ ہزار افغان شہری اٹلی پہنچ گئے

    قریب پانچ ہزار افغان شہری اٹلی پہنچنے میں کامیاب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اٹلی میں حکام کا کہنا ہے کہ قریب پانچ ہزار افغان شہریوں کو افغانستان سے اٹلی لایا گیا ہے جو طالبان کے قبضے کے بعد ’یورپی یونین کے کسی بھی ملک کے مقابلے سب سے بڑی تعداد ہے۔‘

    اٹلی کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ’ہم افغان شہریوں، خواتین اور نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم کسی ایسے افغان شہری کو تنہا نہیں چھوڑیں گے جنھوں نے ان تمام برسوں کے دوران انقلاب کی خواہش ظاہر کی ہے اور جو تبدیلی چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد بھی مزید افغان شہریوں کو لانے کی اجازت دی جائے گی اور ایسے میں اقوام متحدہ، فلاحی تنظیمیں اور دیگر ممالک مدد کریں گے۔

    امریکہ، برطانیہ اور جرمنی بھی ہزاروں افراد کو افغانستان سے لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جرمنی قریب چار ہزار افغان شہریوں کو اپنے ملک لایا ہے۔

  11. بریکنگ, برطانیہ کی عام شہریوں کو افغانستان سے واپس لانے والی آخری پرواز کابل سے روانہ

    برطانیہ میں وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے عام شہریوں کو واپس لانے والی آخری پرواز کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوچکی ہے۔ اس طرح سویلینز کے انخلا کا آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔

    تاہم آنے والے دنوں میں برطانوی فوجیوں، سفارتکاروں اور کچھ افغان پناہ گزین کے انخلا کے لیے مزید پروازیں اڑائی جائیں گی۔

    برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر نِک کارٹر کا کہنا ہے کہ وہ تمام مستحق افراد کو ریسکیو نہیں کرسکے جس پر انھیں افسوس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے سینکڑوں افغان شہری جو برطانیہ آنے کے مستحق ہیں وہ اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

  12. ایمانویل میکخواں: ہمیں اپنا تحفظ جاری رکھنا ہوگا, فرانس کے صدر کی عراقی وزیر اعظم سے بغداد میں ملاقات

    فرانس کے صدر کی عراقی وزیر اعظم سے بغداد میں ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے ایک بار پر دولت اسلامیہ کے حوالے سے اپنی تنبیہ دہرائی ہے۔ انھوں نے ایسا عراق پر ایک اجلاس کے دوران کیا۔

    بغداد میں انھوں نے عراقی وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں اپنا تحفظ جاری رکھنا ہوگا کیونکہ (دولت اسلامیہ) اب بھی ایک خطرہ ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف لڑائی آپ کی حکومت کی ترجیح ہے۔‘

    مسلح جنگجوؤں کی جانب سے حملوں نے عراق کو ماضی میں کافی نقصان پہنچایا ہے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

  13. بینکوں کی بندش کے خلاف کابل میں احتجاجی مظاہرہ

    کابل، بینک، معیشت، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں درجنوں افراد بینک اور منی ایکسچینج کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی جاری کردہ ویڈیو میں یہ مظاہرا دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ مظاہرین بینک کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    رواں ماہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے ملک کی معیشت پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ افغانی کرنسی کی قدر تیزی سے گِر رہی ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ملک میں لاکھوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔

  14. افغانستان میں شدید خشک سالی، اقوام متحدہ کی کسانوں کی فوری مدد کی اپیل

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ نے افغانستان کے ستر لاکھ کسانوں کی فوری مدد کی اپیل کی ہے جو ملک میں سخت خشک سالی کا شکار ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری شدید خشک سالی کے باعث کم تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جنھیں شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔

    کورونا وائرس کی وبا سے افغانستان میں ذراعت سے منسلک افراد پہلے ہی بہت متاثر تھے۔

    گذشتہ تین سالوں میں افغانستان دوسری بار شدید خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر تک ملک میں آٹا ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایف اے او نے کہا ہے کہ وہ خود اس وقت فنڈنگ کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں جس کے لیے انھیں ڈیڑھ کروڑ یوروز کی ضرورت ہے تاکہ وہ افغانستان میں اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر سکیں۔

    ادارے کو امید ہے کہ وہ ملک میں کم از کم 15 لاکھ لوگوں تک امداد پہنچا سکے اور سردیوں کے موسم میں ان کی مدد ہو سکے۔ لیکن فنڈنگ میں کمی کا مطلب ہے کہ وہ مطلوبہ ہدف تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

    اقوام متحدہ نے اس ہفتے کے شروع میں بھی تنبیہ کی تھی کہ ملک میں غذائی قلت بڑھتی جا رہی ہے اور ملک بہت بڑے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

  15. طالبان سے تعلقات کا انحصار ان کے رویے پر ہوگا: ایران

    iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مستقبل میں ایران اور افغانستان کے تعلقات کا انحصار طالبان کے رویے پر ہوگا کہ وہ ایران سے کیسے تعلقات چاہتے ہیں۔

    ’ایران کے دیگر ممالک سے تعلقات اُن ممالک کے اپنے رویے پر منحصر ہے کہ وہ ایران سے کیسا رشتہ رکھنا چاہتے ہیں۔‘

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے ایران کے رہبر اعلی کی جانب سے یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بیان ملک کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں دیا۔

    ان سے منسوب بیان میں کہا گیا: ’ہم افغان عوام کے حامی ہیں۔ انتظامیہ، ماضی کی طرح، آتی جاتی رہتی ہیں لیکن افغان قوم یہیں ہے۔‘

    ایرانی رہبر اعلی نے 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے پر اپنے گہرے دکھ کا بھی اظہار کیا۔

    ایران کے رہبر اعلی نے افغانستان کے حالات کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام بحران امریکہ کی وجہ سے ہوا ہے جنھوں نے 20 سال سے ملک پر قبضہ کیا ہوا تھا اور لوگوں پر جبر مسلط کیا ہوا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بیس سالوں میں افغانستان نے ذرا سی بھی ترقی نہیں کی اور امریکہ نے شادیوں اور جنازوں پر بمباری کی، نوجوانوں کو قتل کیا اور ہزاروں افراد کو بلا قصور حراست میں لیا گیا۔

  16. کابل کی شاہراؤں سے اٹھتا تعفن اور سناٹے میں غیر یقینی کی کیفیت

  17. طالبان کا صحت کے شعبے سے منسلک خواتین کو کام پر واپس لوٹنے پر زور

    zabih

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ خواتین جو وزارت صحت کے لیے کام کرتی ہیں وہ اپنی نوکریوں پر دوبارہ جانا شروع کریں۔

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین عملہ کابک اور ملک کے دیگر صوبوں میں ’اپنی معمول کی ذمہ داریاں‘ نبھائے۔

    انھوں نے کسی اور شعبے سے منسلک خواتین کے لیے ایسا پیغام نہیں دیا۔ دو ہفتے قبل کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان خواتین نے اپنے ڈر و خوف کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان طالبان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک اور پیغام میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل شہر کے افراد ’اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سرکاری چیزیں‘ ایک ہفتے کے اندر واپس کر دیں۔

  18. ’ہم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘

    UK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود شہریوں کو 31 اگست سے پہلے باہر نکالنے کے لیے ہم ’آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘۔

    بارس جانسن نے کہا کہ انھیں ب’ہت پشیمانی‘ ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود وہ افغانستان سے ہر کسی کو باہر نہیں نکال سکیں گے۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے کابل میں باہر جانے والے افراد کی دستاویزات جانچنے والے مراکز بند کردیے ہیں اور اب وہ کسی کو ایئرپورٹ نہیں بلا رہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات تمام غیر ملکی فوجی اس مہینے کے اختتام پر واپس چلے جائیں گے۔

  19. ’افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اسی وقت ہوگا جب وہاں مختلف گروہ کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں‘

    UN

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ میں تعینات پاکستانی سفیر منیر اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں شراکت پر مبنی حکومت کا خواہشمند ہے لیکن انھیں تسلیم کرنے کا سوال اسی وقت پیدا ہوگا جب وہاں موجود مختلف گروپس کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں۔

    قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں منر اکرم نے کہا کہ پاکستان علاقائی پڑسیوں سے رابطے میں ہے تاکہ نہ صرف افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کے بارے میں بات چیت کی جائی بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل بھی طے ہو جس کی مدد سے افغانستان کو مستحکم بنایا جا سکے۔

    ’ہماری ترجیح ہے کہ افغانستان کو مستحکم کیا جائے اور اس کے لیے ہمیں امداد کی اشد ضرورت ہے، وہاں کی معیشت کو بحال کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات لینے ہیں اور ایک شراکت پر مبنی حکومت قائم کرنی ہے۔‘

  20. بریکنگ, ’برطانیہ سنیچر کو افغانستان سے انخلا کا آپریشن ختم کر دے گا‘

    London

    ،تصویر کا ذریعہPA

    برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان سے شہریوں کے انخلا کا آپریشن آج یعنی سنیچر کو ختم کر دے گا۔

    بی بی سی کے ریڈیو فور پروگرام سے بات کرتے ہوئے جنرل نک کارٹر نے کہا کہ برطانیہ اب اس آپریشن کی تکمیل کی جانب پہنچ رہا ہے آج شہریوں کے انخلا کا کام مکمل ہوگا اور پھر اس کے بعد وہاں رہ جانے والے فوجیوں کو واپس لے جانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    جنرل نک کارٹر نے کہا کہ کابل سے شہریوں کو لے کر چند پروازیں ابھی بھی برطانیہ آ رہی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کی کم ہے۔

    ’ہم ہر کسی کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ اور وہاں ہمیں بہت مشکل فیصلے لینے پڑے ہیں۔‘

    london

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے جمعے کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں 800 سے 1100 افغان جنھوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا، وہ برطانیہ نہ جا سکیں گے۔

    واضح رہے کہ وزارت دفاع کے مطابق انھوں نے گذشتہ دو ہفتوں میں اب تک 14500 سے زیادہ افغان اور برطانوی شہریوں کو کابل سے نکال لیا ہے۔