صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑا جو امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا: مائیک پینس

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’میں کابل سے کیسے نکلا‘: مرکزی بینک کے گورنر کی کہانی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    افغانستان کے مرکزی بینک کے سابق گورنر اجمل احمدی نے کابل پر قبضے کی کہانی لکھتے ہوئے اشرف غنی اور افغان حکومت کو طالبان کے غلبے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

    ٹوئٹر پر ایک تفصیلی تھریڈ لکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک فوجی طیارے کے ذریعے ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ اتوار کی صبح تک معمول کے مطابق کام کر رہے تھے تاہم طالبان کی آمد سے قبل انھیں بتا دیا گیا تھا کہ ملک مو مزید ڈالر نہیں فراہم کیے جائیں گے اور افغانی کرنسی میں ریکارڈ گراوٹ دیکھنے میں آئی۔

    ایئر پورٹ پر مچنے والی افراتفری کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے اجمل احمدی نے لکھا کہ ’اس کہانی کا اختتام اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا اور مجھے افغان رہنماؤں کی جانب سے ناقص منصوبہ بندی پر شدید افسوس ہے۔‘

  2. افغان چینلز پر خواتین کی واپسی؟

    tolo

    ،تصویر کا ذریعہTolo News

    افغانستان کے بڑے ٹی وی چینلز میں شمار ہونے والے طلوع نیوز کی سکرین پر خواتین اینکرز دوبارہ نمودار ہوئی ہیں۔

    جب سے طالبان نے اتوار کو کابل پر قبضہ کیا، زیادہ تر چینلز نے خواتین اینکرز کو ٹی وی سکرینوں سے ہٹا دیا تھا۔

    سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ سرکاری چینل پر بھی خبریں ایک باریش مرد پڑھ رہا تھا۔

    تاہم منگل کو طلوع نیوز کے ایک سینیئر عہدیدار کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس میں ایک خاتون اینکر کو طالبان کی میڈیا ٹیم کے نمائندے سے گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    بی بی سی کے خدائے نور ناصر کے مطابق طالبان کے ریڈیو سٹیشن ’شریعت ژغ‘ یا شریعت کی آواز کے ایک اہلکار کا انٹرویو کرنے والی طلوع کی خاتون صحافی بهشتی آرغند ہیں۔

    یہ انٹرویو طلوع پر منگل کی صبح پروگرام ’نیمہ روز‘ میں نشر ہوا۔

  3. بریکنگ, طالبان کی جانب سے سرکاری اہلکاروں کے لیے ’عام معافی‘ کا اعلان

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    طالبان کی جانب سے افغانستان کے تمام سرکاری اہلکاروں اور حکومتی عہدیداروں کے لیے ’عام معافی‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے طالبان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’سب کے لیے عام معافی ہے۔۔۔ اس لیے آپ پوری اعتماد کے ساتھ معامول کی زندگی گزار سکتے ہیں‘

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور دیگر بین الاقوامی افواج کے ساتھ کام کرنے والے افراد بشمول حکومتی عہدیدار اور سرکاری حکام کو طالبان کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے اور ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد کو مختلف ممالک کے طیاروں کے ذریعے ملک سے باہر لے جانے کا کام جاری ہے۔

  4. طالبان کی کابل میں فتح کا امریکی فوج کی ویتنام میں شکست سے موازنہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

  5. افغانستان کی تازہ ترین صورتحال

    کابل ایئر پورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • افراتفری کے بعد بند کیے گئے کابل ایئر پورٹ کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ پیر کے واقعات میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے تین امریکی طیارے کے پہیوں سے لٹکنے کی کوشش میں ہلاک ہوئے۔
    • امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ جنگ ایک پانچویں صدر کو نہیں پکڑا سکتے۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ افغانستان میں حالات توقع سے جلدی خراب ہو گئے۔
    • جرمنی کی اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایسے لوگوں کو نکالنے پر توجہ دے گی جنھوں نے جرمن افواج کے ساتھ کام کیا۔
    • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گٹیریز نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کے لوگوں کو نہ نظر انداز کریں۔
  6. بریکنگ, افغان پناہ گزینوں کا داخلہ روکنے کے لیے ترکی کا سرحد پر دیوار بنانے کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اس وقت افغانستان سے ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین دوسری ملکوں کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم جہاں اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی برادری پر افغانوں کی مدد کرنے کی ضرورت پر زور دیا وہیں کچھ ممالک افغان پناہ گزینوں کی ممکنہ آمد کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سرحد پر 295 کلومیٹر لمبی دیوار بنانے جا رہا ہے جس کے گرد خندقیں بھی کھودی جائیں گی۔

    ترکی کے روزنامہ حریت کے مطابق ملک کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ یہ تاثر برقرار رکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی سرحدیں پار کرنا ناممکن ہے۔

  7. عاصمہ شیرازی کا کالم: طالبان آ گئے، طالبان چھا گئے

  8. انڈیا کا کابل سے اپنے سفارت کار کو نکالنے کا اعلان

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کابل میں نئی دہلی کے سفیر اور ان کے انڈین عملے کو فوری طور پر انڈیا بلا لیا گیا ہے۔

    تاہم افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے انڈین حکومت نے ایک خصوصی ویزے کا اجرا کیا ہے۔

    واضح اس وقت کابل میں پاکستان، چین اور روس کے سفارتخانے کھلے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ وہ اپنے سفارت خانے سے صرف کچھ اہلکاروں کو نکالے گا۔ ماسکو کے سفیر ڈمٹری زھرنوو آج طالبان رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

    کابل میں چینی سفارتخانے کی جانب سے آئندہ حکمت علمی کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم ملک میں رہنے والے چینی شہریوں کو سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

  9. وہ ہتھیار جو طالبان نے افغانستان پر قبضے سے حاصل کیے ہیں, جوشوا چیتھم، بی بی سی نیوز

    taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے رواں سال اپنی پیش قدمی کے دوران ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں ان کے جنگجوؤں کے پاس جدید فوجی اسلحہ دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سامان دراصل افغان حکومت کا ہے اور انھیں قبضے سے ملا ہے۔

    دفاعی تھنک ٹینک آر یو ایس آئی کے مطابق طالبان کے ہاتھ توپ خانے، ڈرون، رائفل، پستول اور نائٹ ویژن گوگلز جیسا سامان لگ چکا ہے۔ اس میں کچھ اسلحہ افغان فوجی اڈوں پر قبضے سے ملا ہے۔ جبکہ بعض سامان فوجیوں نے خود دیا ہے جو حکومت سے الگ ہو کر طالبان میں شامل ہوگئے ہیں۔

    ہیلی کاپٹر جیسی بڑی چیزوں پر قبضے نے ہی اکثر شہ سرخیاں بنائی ہیں۔ مگر آر یو ایس آئی کے ماہر ڈاکٹر واٹلنگ کہتے ہیں کہ ان چیزوں کے استعمال کے حوالے سے طالبان تربیت یافتہ نہیں۔ اور جنگ کے میدان میں ان چیزوں نے زیادہ اثر پیدا نہیں کیا۔

    ماہرین کو زیادہ تشویش تھرمل امیجنگ، آپٹیکل گیئر اور نائٹ ویژن سامان کے حوالے سے ہے۔ اسے بندوقوں کے ساتھ جوڑ کر ہدف کا بہتر تعاقت کیا جاسکتا ہے۔

    ڈاکٹر واٹلنگ کے مطابق ممکنہ طور پر طالبان نے ان میں سے زیادہ تر چُرایا گیا سامان مرکزی ایشیا، مشرقی افریقہ، وسطی ایشیا اور دیگر بیرون ملک فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کا بہت زیادہ اثر ہوسکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کے پاس ہتھیاروں کی ایسی صلاحیت ہو جس سے زیادہ بڑی مسلح لڑائیاں ہوسکیں تو آپ کے پاس بہتر ہتھیاروں سے لیس دشمن بھی ہوتا ہے۔۔۔ آئندہ مہینوں میں شاید ہم یہیں دیکھیں۔‘

    ان ہتھیاروں کی وجہ سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ اگر طالبان اپنے وعدوں کو پورا نہ کرسکیں تو لڑائی کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے۔

    ڈاکٹر واٹلنگ کا کہنا ہے کہ ’کئی لوگ جو افغان فوج کا حصہ تھے، یہ ہتھیار اپنے ساتھ گھر لے گئے ہیں۔ وہ شاید اپنے خاندانوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ’تو آپ کے پاس اب ایسے کئی لوگ ہیں جن کے پاس یہ ہتھیار ہیں اور کچھ ملٹری ٹریننگ بھی ہے۔ وہ شاید یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ طالبان کی مرضی نہیں چلے گی۔‘

  10. بریکنگ, کابل کا ہوائی اڈہ دوبارہ کھول دیا گیا

    کابل کے ہوائی اڈے کو امریکہ کے زیر کنٹرول دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

    افغانستان کے طالبان کے ہاتھوں میں جانے کے بعد کابل ائیرپورٹ پر ہزاروں شہری ملک چھوڑنے کی آس میں جمع ہیں لیکن سوموار کو ہوائی اڈے پر تعینات امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے دو افغان شہری ہلاک ہوئے جبکہ تین شہری امریکی طیارے سے لٹک کر ملک چھوڑنے کی کوشش کے دوران گر کر مارے گئے۔

    اس افراتفری کے پیش نظر ائیرپورٹ کو بند کر دیا گیا تھا تاہم اب اسے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

    امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک افغانستان میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے فوجی جہاز استعمال کر رہے ہیں۔

    کابل ائیرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنکابل ائیرپورٹ کے رن وے کی سیٹلائٹ سے لے گئی ایک تصویر
  11. بریکنگ, جو بائیڈن: ’افغانستان میں امریکہ کی جنگ ختم کرنے کے فیصلے پر پچھتاوا نہیں‘

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے طالبان کو واضح کر دیا ہے کہ اگر انھوں نے ہمارے عملے کو نشانہ بنایا یا امریکی آپریشن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا جواب فوری اور بذریعہ طاقت دیا جائے گا۔

    ’اگر ضرورت پڑی تو ہم تباہ کن قوت سے لوگوں کا دفاع کریں گے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا ’مجھے ان حقائق پر شدید دکھ ہے جن کا ہمیں اب سامنا ہے لیکن مجھے افغانستان میں امریکہ کی جنگ ختم کرنے کے اپنے فیصلے پر پچھتاوا نہیں۔‘

  12. بریکنگ, جو بائیڈن: ’لامحدود فوجی تعیناتی راستہ نہیں‘

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں ’سفارت کاری کے لیے کوشش جاری رکھے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ افغاننستان کے عوام کی حمایت اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے کوشش جاری رکھے گا۔

    ’میں اس بارے میں واضح رہا ہوں کہ انسانی حقوق ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز ہونا چاہیے لیکن ایسا کرنے کا طریقہ لامحدود فوجی تعیناتیوں کے ذریعے نہیں۔‘

  13. بریکنگ, ’افغانستان میں حالیہ بحران ان امریکی فوجیوں کے لیے ’قابل تکلیف‘ ہے، جنھوں نے وہاں جنگ لڑی‘

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والا حالیہ بحران امریکہ کے ان سابق فوجیوں کے لیے ’قابل تکلیف‘ ہے جنھوں نے وہاں گزشتہ 20 سال جنگ لڑی۔

    ’یہ ان کے لیے بہت زیادہ ذاتی ہے اور میرے لیے بھی یہ ایسا ہی ہے۔ میں نے ان مسائل پر ایک لمبے عرصے تک کام کیا ہے۔‘

    ’کابل سے قندھار تک میں نے لوگوں سے بات کی۔ میں نے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ میں نے اپنی افواج سے بات کی۔‘

  14. بریکنگ, جو بائیڈن: ’امریکی وہ جنگ نہیں لڑ سکتے، جو افغان اپنے لیے لڑنے کو تیار نہیں‘

    جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی مہم کا مقصد ’قوم کی تعمیر نہیں‘ بلکہ ’امریکی سرزمین پر ایک دہشت گرد حملے کو روکنا تھا۔‘

    افغانستان کی حالیہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر قائم ہیں تاہم طالبان نے جس سرعت سے پیش قدمی کی اس کا انھیں اندازہ نہیں تھا۔

    ’میں نے ہمیشہ امریکی عوام سے وعدہ کیا ہے کہ میں ان کے ساتھ ہوں لیکن میں تسلیم کرتا ہوں کہ طالبان کی حالیہ پیشرفت سے صورتحال ہماری توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے کھل کر سامنے آئی ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’امریکی اس جنگ میں لڑتے اور مرتے نہیں رہ سکتے جس میں افغان اپنے لیے لڑنے کے لیے تیار نہیں۔‘

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ افغان حکومت طالبان کے ساتھ سیاسی تصفیہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ’اشرف غنی نے اس بات پر اصرار کیا کہ افغان فورسز لڑیں گی لیکن ظاہر ہے کہ وہ غلط تھے۔‘

  15. بریکنگ, ’750 افغان فوجی ازبکستان پہنچے ہیں‘

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ازبکستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں تقریبا 750 افغان فوجی اہلکار ان کے ملک پہنچے ہیں۔

    ان میں سے تقریبا 600 افغان فوجی طیارے پر سوار تھے، جبکہ مزید 158 فوجی اتوار کو سرحد پار کر کے ان کے ملک میں داخل ہوئے۔

    افغانستان کے شمال میں ایک تنگ سرحد ازبکستان کے ساتھ لگتی ہے۔

    ازبک حکام نے کہا کہ انھوں نے جنوبی شہر ترمیز میں 46 فوجی طیاروں کو لینڈ کرنے پر مجبور کیا۔

    ازبک پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق ایک افغان طیارہ اور ازبک لڑاکا طیارہ جو ساتھ ساتھ جا رہے تھے آپس میں ٹکرا گئے تاہم دونوں پائلٹ باہر نکلنے مںی کامیاب ہو گئے۔

    سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک افغان بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایک ازبک فارم میں اترا ہوا ہے، جس میں تقریبا افغان فضائیہ کے دس اہلکار سوار ہیں۔

  16. بریکنگ, برطانیہ کا انخلا میں مدد کے لیے 200 فوجی کابل بھیجنے کا فیصلہ

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ کابل ہوائی اڈے سے لوگوں کے انخلا میں مدد کے لیے برطانیہ مزید 200 فوجی بھیجے گا۔

    وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جلد ہی وہاں 900 برطانوی فوجی اہلکار ہوں گے۔

    وزرات دفاع کے مطابق آر اے ایف طیاروں کی ایک قلیل تعداد کو بھی دیگر آپریشنز میں مدد کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے فوجیوں کی تعداد 1000 سے بڑھا کر 7000 کر ہا ہے۔

  17. ’امید ہے نئی افغان حکومت میں خواتین بھی شامل ہوں گی‘

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی مفاہمت کے لیے کوشش کر رہا ہے اور اسی لیے افغانستان کے سیاسی نمائندوں کا وفد اسلام آباد میں آج ہمارے قائدین سے ملا ہے۔

    یہ بات انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔ گفتگو کے آغاز میں انھوں نے پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس کے بعد ان کا کہنا تھا پاکستان ان کے ساتھ کام کررہا ہے اور طالبان کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان نے تسلیم کیا ہے کہ وہ مفاہمتی حکومت کو قبول کریں گے اور ہم نے اسی لیے افغانستان کی پارٹیز کو بات چیت کے لیے دعوت دی ہے۔‘

    ’افغانستان کے لوگ ہی انتخاب کریں گے کہ انھیں کیسا نظام مملکت چاہیے۔ انھیں ہی اپنا آئین بنانا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں موجود پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود کسی بھی ملک کے ’تمام تر سفارتی عملے، غیر ملکی امدادی اداروں کے اہلکاروں اور تمام ایسے افراد جو خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں، انھیں افغانستان سے نکلنے میں مدد کر رہا ہے۔‘

    منیر اکرم

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    منیر اکرم کا کہنا تھا ’پاکستان کے سفارتخانے میں ویزے پر کام کیا جا رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی نکالے جانے کے لیے حالات ساز گار ہوتے ہیں پروازوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔‘

    نئی افغان حکومت میں خواتین

    خواتین کے نئی افغان حکومت میں ممکنہ کردار کے بارے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’یہ اہم ہے کہ افغان خواتین ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ طالبان اور حکومت انھیں یہ کردار ادا کرنے دیں گے۔ اسلام میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ امید ہے ان حقوق کا احترام کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ خواتین بھی نئی افغان حکومت کا حصہ ہوں گی۔

    انسانی امداد میں پاکستان کا تعاون

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ منیر اکرم کا کہنا تھا پاکستان چاہتا ہے کہ اس طویل تنازع کے باعث انفراسٹرکچر کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی بحالی کے لیے کام کیا جائے۔

    انھوں نے کہا ’ہم نے افغانستان میں فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو انسانی امداد تک رسائی فراہم کی جائے۔‘

    سامتی کونسل کے کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کو افغانستان میں اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے اور افغان عوام کے لیے انسانی امداد کے لیے کام کرنا چاہیے۔ پاکستان اس میں پوری طرح تعاون کرے گا۔

  18. عبداللہ عبداللہ: طالبان سے مثبت بات چیت ہوئی ہے

    طالبان سے مثبت بات چیت ہوئی ہے

    سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے ان کے ساتھ گلبدین حکمتیار اور عبداللہ عبداللہ پر مشتمل کونسل صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ طالبان سے رابطے میں ہیں اور ان کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ ’پائیدار امن، سلامتی اور خوشی ہمارے ملک ضرور واپس آئے گی۔‘

    عبداللہ عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ شہر میں لوگ خون ریزی کے بغیر امن کی زندگی بسر کریں۔ ’ہمیں معلوم ہے کہ اس پیش رفت کے بعد لوگ مشکل میں ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ رابطے موثر ثابت ہوں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کوششوں کے پیچھے ’ہمارے کوئی ذاتی مقاصد نہیں اور ہم ملک میں دیگر رہنماؤں اور قبائلی عمائدین سے بھی رابطے میں ہیں۔ اور افغان شہریوں کے بہتر مستقبل کی امید کرتے ہیں۔‘

  19. ’ہم افغان شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے‘, اقوام متحدہ کے سربراہ

    اقوام متحدہ کے سربراہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ زندگیوں کے تحفظ کے لیے طالبان کو خود پر قابو رکھنا ہوگا۔

    اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے خطاب میں انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ انھیں ’ملک بھر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘

    ’مجھے خاص کر افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم افغانستان کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ کونسل کو اپنے پاس دستیاب تمام طریقوں کو استعمال کرنا ہوگا تاکہ افغانستان میں عالمی دہشت گردی کو روکا جاسکے اور انسانی حقوق کو یقینی بنایا جاسکے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ تمام ملکوں کو افغان پناہ گزین کے داخلے کی اجازت دینی چاہیے۔

    انھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے دفاتر اور عملہ اب طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں بھی کام کر رہا ہے۔ ’سکیورٹی کی صورتحال کے مطابق وہ اپنی موجودگی وہاں جاری رکھیں گے۔‘

  20. بریکنگ, پینٹاگون: کابل ایئر پورٹ پر تمام پروازیں معطل ہیں

    کابل ایئر پورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پینٹاگون کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ کابل ایئر پورٹ جانے اور وہاں سے آنے والی تمام فوجی اور سویلین پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان پروازوں کی بحالی کب ہوگی یہ ابھی واضح نہیں۔

    امریکی فوجی دستے فی الحال ایئر پورٹ پر سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔

    پینٹاگون کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی اقدام کے نتیجے میں دو مسلح افراد کی ہلاکت ہوئی ہیں۔

    ’مزید 500 امریکی فوجی بھیجے جا رہے ہیں‘

    پینٹاگون کے ترجمان نے مزید بتایا کہ کابل ایئر پورٹ میں سویلین حصے میں خلاف ورزیوں کے بعد امریکی فوجی وہاں ’سکیورٹی بحال کرنے کی کوشش‘ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ پر فی الحال 2500 امریکی فوجی تعینات ہیں اور اضافی 500 فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔

    پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق ’ہمیں توقع ہے کہ آئندہ گھنٹوں میں ہم فضائی آپریشنز کو بحال کر سکیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد پروازوں کی بحالی کے بعد ایک دن میں کئی ہزار لوگوں کی واپسی ہے۔