’میں کابل سے کیسے نکلا‘: مرکزی بینک کے گورنر کی کہانی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان کے مرکزی بینک کے سابق گورنر اجمل احمدی نے کابل پر قبضے کی کہانی لکھتے ہوئے اشرف غنی اور افغان حکومت کو طالبان کے غلبے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ٹوئٹر پر ایک تفصیلی تھریڈ لکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک فوجی طیارے کے ذریعے ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اتوار کی صبح تک معمول کے مطابق کام کر رہے تھے تاہم طالبان کی آمد سے قبل انھیں بتا دیا گیا تھا کہ ملک مو مزید ڈالر نہیں فراہم کیے جائیں گے اور افغانی کرنسی میں ریکارڈ گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
ایئر پورٹ پر مچنے والی افراتفری کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے اجمل احمدی نے لکھا کہ ’اس کہانی کا اختتام اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا اور مجھے افغان رہنماؤں کی جانب سے ناقص منصوبہ بندی پر شدید افسوس ہے۔‘











