شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ کی پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے 15 لاکھ پاؤنڈز کی فوری امداد

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ پاکستان کو فوری طور پر 15 لاکھ پاؤنڈز کی امداد بھیج رہا ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کی جاسکے۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 لاکھ پاؤنڈز کی انسانی ہمدردی کی امداد کے ذریعے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کی جائیں گی۔ برطانوی ہائی کمیشن نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ ہفتے اور اتوار کو سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لے گا اور منگل کو وہاں اپیل متوقع ہے۔

    برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ذریعے بھی پاکستان کی مدد کرے گا۔

  2. نوشہرہ کے سیلاب میں پھنسے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری

    نوشہرہ

    ،تصویر کا ذریعہUGC

    نوشہرہ کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔

    شہر میں پاکستانی فوج، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں جبکہ انتظامیہ، افسران اور پولیس لوگوں کو پانی کے قریب آنے سے روکنے میں مصروف ہیں۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مانا خیل میں بندھ ٹوٹنے کے باعث پھنس جانے والے خاندان بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں مگر جی ٹی روڈ پر عوام کی غفلت اور لاپرواہی سیلابی علاقوں میں پھنسے خاندانوں کی منتقلی میں رکاوٹ بنی ہے۔

  3. ڈوبتے پاکستان میں جنسی تشدد: محمد حنیف کا کالم

  4. سندھ: ’سیلاب سے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 550 ارب روپے، 28 لاکھ ایکڑ سے زیادہ کی فصلیں تباہ‘

    سندھ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنسکھر میں ریلیف کیمپ

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو مندرجہ ذیل بریفنگ دی ہے:

    • صوبے بھر کے بارش متاثر علاقوں میں تشخیص اور امداد کی ضرورت ہے
    • مون سون کی موسلادھار بارشیں جولائی میں اوسط بارش سے 308 فیصد زیادہ ہوئیں
    • اگست کے مہینے میں 784 فیصد سے زیادہ بارشیں ہوئیں
    • 2010 کے سیلاب سے دریا سندھ کا دایاں کنارہ متاثر ہوا اور سنہ 2011 کے سیلاب نے سندھ کے بائیں کنارے کو متاثر کیا تھا جبکہ سنہ 2022 میں شدید بارشوں سے صوبے کے تمام 30 اضلاع متاثر ہوئے ہیں
    • صوبہ سندھ اس وقت اونچے سیلاب کی زد میں ہے۔ گڈو بیراج اور سکھر بیراج سے 550000 کیوسک پانی گزر رہا ہے
    • کچے کے تمام علاقے زیر آب آگئے ہیں اور سندھ بھر میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے
    • آفت زدہ 23 اضلاع کے 101 تعلقہ میں بہت نقصان ہوا ہے
    • نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 550 ارب روپے لگایا گیا ہے، 293 اموات ہوئی ہیں اور 836 افراد زخمی ہوئے ہیں
    • 15 لاکھ مکانات، 9197 مویشی مر گئے ہیں۔ 2,845,046 ایکڑ کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور صوبے بھر کی 570 سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان سڑکوں کا اندازاً تخمینہ 22.8 بلین روپے بنتا ہے
    • کراچی میں سڑکوں، پل، نکاسی آب پر 50 ارب روپے سے زیادہ کی لاگت آئے گی۔ سندھ حکومت کی جانب سے متاثریں کو ریلیف فراہم کیا گیا
    • بے گھر افراد کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے
    • 52000 راشن کے تھیلے تقسیم کیے ہیں۔ 68785 خیمے، 152295 مچھردانیاں، 7556 مویشیوں کے لیے مچھردانیاں فراہم کی گئی ہیں۔ 27210 ترپال، 11380 جیری کین، 451 ڈی واٹرنگ پمپ، 34 بوٹس 3820 فولنڈ بیڈ شامل ہیں
    • این ڈی ایم اے کی طرف سے بھی امداد فراہم کی گئی ہے
  5. ’دریائے کابل میں پانی کی سطح کم ہونا شروع‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ڈی سی نوشہرہ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ دریاٸے کابل میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔

    ’تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پانی کی سطح میں 6000 کیوسک کی کمی کے بعد اس وقت پانی کی سطح 309000 کیوسک ہے۔

    ’اگلے دو، تین گھنٹوں میں مزید کمی آنے کی توقع ہے۔‘

  6. سوات میں ندی نالوں پر تجاوزات کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا: وزیر اعلیٰ محمود خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے سیلاب سے متاثرہ سوات پریس کلب کی عمارت کا دورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دریا کے کنارے تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    انھوں نے پریس کلب سے متصل ہاکی گراونڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینہ قبل آئے سیلاب نے ٹانک اور کرک کو متاثر کیا۔ ’ہم نے بر وقت اقدامات کیے اور ایمرجنسی فنڈز کی فوری منظوری دی۔ بدقسمتی سے ندی نالوں پر تجاوزات کی وجہ سے نقصان بہت زیادہ ہوا۔

    ’ڈی آئی خان اور ٹانک میں ضلعی انتظامیہ اور دیگر ریلیف اداروں نے اچھا کردار ادا کیا۔ بہت افسوس ہوا کہ این ڈی ایم اے سمیت کوئی وفاقی ادارہ ریسکیو سرگرمیوں کے لیے گراونڈ پر موجود نہیں۔ صوبے بھر میں ریلیف سرگرمیاں بلاتعطل جاری ہیں۔ صوبائی حکومت لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔‘

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر ریلیف اور ریسکیو آپریشن سمیت سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں مصروف عمل ہے۔ سیلابی ریلا پچھلے تمام ریلوں سے کئی گُنا زیادہ اور خطرناک تھا۔ صوبائی حکومت کی تمام مشینری سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت موجود ہے۔ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے اگر پورا ترقیاتی فنڈ بھی استعمال کرنا پڑے تو دریغ نہیں کریں گے۔‘

    محمود خان نے کہا کہ ’سوات تا کالام روڈ این ایچ اے کے زیر انتظام ہے لیکن تاحال بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اگر وفاقی حکومت مذکورہ سڑک ایک دو دن تک ٹھیک نہیں کرتی تو میں خود صوبے کے فنڈ سے مرمت کراؤں گا۔ امتحان کی اس گھڑی میں ہر وقت اپنے عوام کے درمیان موجود ہوں۔ اپنی عوام کی مدد کے لیے ہر حد تک جاوں گا۔‘

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’ریسکیو اینڈ ریلیف کے بعد نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے کیا جائے گا۔ جو بھی دریا کے قریب تعمیرات کرے گا اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کوئی بھی ہوٹل یا گھر دریا کے کنارے تعمیر نہیں ہوگا۔ پورے خیبرپختونخوا میں ندی نالوں کے کناروں پر تعمیرات کے سدباب کے لیے پہلے سے ہی قانون سازی کی گئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’فیڈرل گورنمنٹ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک سے باز رہے۔ ایک ارب روپے پہلے ہی ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے لیے مزید دو ارب روپے جلد جاری کریں گے۔ سیلاب سے متاثرہ دیگر اضلاع کے بھی دورے کروں گا۔ سوات کے عوام نے اپنے بھائیوں کی مدد کرکے بھائی چارے کی مثال قائم کردی۔‘

  7. کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں معمولاتِ زندگی مفلوج, جعفر خان کاکڑ، صحافی

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال میں آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نواں کلی حالیہ بارشوں سے شدید متاثر ہوا ہیں۔

    ہم آج دن کو 12 بجے جب وہاں پہنچے تو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت منہدم مکانات سے گھر کے استعمال کا سامان نکال رہے تھے۔ لوگ خوف زدہ تھے، اور سوال کرتے رہے کہ حکومت کی جانب سے ان کی داد رسی نہیں کی گئی۔

    سیلابی ریلے نے جہاں کوئٹہ کے نواحی علاقے سرہ غڑگئی، چشمہ، پشتون آباد، ہنہ اوڑک اور ہزارہ ٹاؤن میں مکانات، باغات اور مال مویشیوں کو نقصان پہنچایا وہیں نواں کلی کا قبرستان بھی منہدم ہوگیا۔ قبروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ کئی لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں۔

    بلوچستان کے تمام اضلاع اس وقت مون سون کے غیر معمولی بارشوں سے متاثر ہیں۔ کوئٹہ شہر اور مضافات میں اس وقت معمول کی زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔

    شہر کے کئی مقامات پر گذشتہ تین دنوں سے نہ بجلی ہے نہ موبائل سگنل اور نہ ہی گیس۔ شہر میں لوگ ایل پی جی گیس کی تلاش میں ہیں اور دکانوں کے باہر لمبی قطاریں لگئی ہوئی ہیں۔

    شہری ایل پی جی گیس اور دیگر اشیا خوردنوش کی قیمتوں میں اضافے کی بھی شکایت کر رہے ہیں۔

  8. نوشہرہ میں سیلاب: حفاظتی بند ٹوٹنے سے رہائشی علاقے زیرِ آب

  9. حقیقی آزادی کی تحریک فلڈ ریلیف ورک کے ساتھ جاری رہے گی: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’حقیقی آزادی کی تحریک فلڈ ریلیف ورک کے ساتھ جاری رہے گی۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی سینیئر قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پیر کی رات سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے بین الاقوامی ٹیلیتھون کیا جائے گا۔

    ’عمران ٹائیگرز کو فعال کیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ثانیہ نشتر کے زیر اثر ٹیم ضرورت کے تحت فنڈز تقسیم کرے گی۔

  10. سیاست انتظار کر سکتی ہے، سیلاب زدگان کی مدد اولین ترجیح ہے: نواز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’سیاست انتظار کر سکتی ہے، اس وقت ہماری اولین ترجیح مشکلات میں گھرے ہمارے بہن بھائی ہیں جن کی تکالیف کے ازالے کے لیے ہمیں ہر ممکن اقدام کرنا ہو گا۔‘

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کے ’ایم این اے، ایم پی اے، ورکرز اور لیڈران جو پاکستان یا بیرونِ ملک مقیم ہیں اپنی تمام تر توانائی سیلاب زدگان کی مدد کے لئیے مختص کر دیں۔‘

  11. سیلاب کی وجہ سے کپاس کی فصل کو شدید نقصان، روئی کے دام بلند ترین سطح پر پہنچ گئے, تنویر ملک ، صحافی

    کاٹن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ملک میں كپاس پیدا کرنے والے تقریباً تمام علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچا۔ خصوصی طور پر سندھ میں اور صوبہ بلوچستان میں کپاس کی کھڑی فصل زیادہ متاثر ہوئی۔

    کئی فیکٹریاں بند رہی جبکہ بعض میں کمر تک پانی بھر گیا تھا۔ کئی فیکٹریوں کی دیواریں بھی گر گئی ہے۔ کھیتوں میں پانی ہونے کی وجہ سے فصل کو ناتلافی نقصان ہوا ہے۔

    حکام کے مطابق بلوچستان میں تقریباً آدھی فصل تباہ ہوچکی ہے۔ صوبہ سندھ میں فصل کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ صوبہ پنجاب میں بھی کپاس پیدا کرنے والے کئی علاقوں میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔

    ڈیرہ غازی خان، راجن پور، فاضل پور اور تونسہ وغیرہ میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ وہاں تقریباً تمام فصل خراب ہو گئی ہے جبکہ دیگر علاقوں میں بارشوں سے نقصان ہوا ہے۔ اس کے باعث مقدار اور معیار زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    کاٹن فورم کی رپورٹ کے مطابق کپاس کی فصل کو نقصان ہونے کی وجہ سے روئی کے بھاؤ میں ہوش ربا اضافہ ہوگیا ہے۔ صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 19500 تا 22000 ہزار روپے گو کہ بارشوں کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے تقریبا کاٹن فیکٹریاں بند ہیں۔ پھٹی کی چنائی بھی نہیں ہو رہی، مقدار کے ساتھ کوالٹی بھی خراب ہو گئی ہے۔

    صوبہ پنجاب میں بھی کپاس کی کوالٹی کا مسئلہ ہے۔ وہاں روئی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی من 22500 تا 24000 روپے رہا۔ پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 8000 تا 13000 روپے رہا۔ صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 18500 تا 19000 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 9000 تا 12000 روپے ہے۔

    بنولہ، بنولہ کھل اور بنولہ تیل میں بھی اضافے کا رجحان ہے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی سپاٹ ریٹ کمیٹی نے سپاٹ ریٹ میں فی من 3000 روپے کا اضافہ کرکے سپاٹ ریٹ فی من 23000 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔

  12. چارسدہ میں امدادی سرگرمیاں جاری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. نواں کلی میں سیلاب کا ’پانی انسان کے قد کے برابر تھا‘

    سیلاب، نواں کلی

    ،تصویر کا ذریعہJaffar Khan Kakar

    ،تصویر کا کیپشنسیلاب میں لاشیں بہنے کے بعد علاقہ مکینوں کی جانب سے اپنے پیاروں کی قبریں بنائی جا رہی ہیں

    نواں کلی کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ بہت سارے گھر تباہ ہوچکے ہیں اور سیلاب بہت سی لاشوں کو بہا لے گیا تھا۔

    ’بہت سی لاشیں ہم نے دوبارہ دفنائیں۔ قبرستان بھی تباہ ہوچکے ہیں۔ بعض خاندان دوبارہ قبریں تعمیر کر رہے ہیں۔

    ’سیلابی ریلہ گھروں اور سامان کو بہا لے گیا۔ بعض گھروں سے افراد نکل گئے اور باقی پانی میں بہہ گئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ریلیف کا کوئی سامان نہیں پہنچایا گیا۔ ’کچھ لوگوں نے علاقوں پر قبضہ کیا اور حکومت نے اس کا نوٹس نہیں لیا تھا۔‘

    مگر اب ’پانی انسان کے قد کے برابر تھا۔‘

    ملک ٹاؤن میں رہائش پذیر ایک دوسرے شہری نے کہا کہ ’ڈیموں سے پانی چھوڑتے وقت ہمیں اطلاع نہیں دی گئی۔ بڑی مشکل سے اپنی اور بچوں کی جان بچائی۔

    ’حکومت کا کوئی شخص نہیں آیا، ان کے پاس جا جا کر ہماری چپل ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔ اتنے اچھے ہیں تو یہاں آکر ہماری امداد کریں۔ بس اتنا بتا دیا کریں کہ پانی چھوڑنے لگے ہیں۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ہمیں سب سے پہلے سکیورٹی دی جائے، جتنا سامان بچا ہے اسے چوری ہونے سے بچایا جائے۔‘

  14. نوشہرہ، چارسدہ کے علاقوں میں ’انتہائی اونچے درجے کا سیلاب‘

    فلڈ رپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGovt of KP

    خیبر پختونخوا کے حکام کی جانب سے جاری کردہ فلڈ رپورٹ کے مطابق آج دریائے کابل اور سوات میں ’انتہائی اونچے درجے کے سیلاب‘ کے باعث چارسدہ، خوازہ خیلہ، آديزئی پُل اور نوشہرہ کے علاقوں میں نقصان کا خدشہ ہے۔

  15. تحریک انصاف کا پشاور جلسہ منسوخ: ’پارٹی قیادت سیلاب متاثرین کی مدد کرے‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پی ٹی آئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر کل پشاور میں ہونے والا جلسہ منسوخ کردیا گیا۔

    ’پارٹی کی تمام لیڈرشپ کو ہدایات جاری کہ آپ سب جا کر سیلاب متاثرین کی مدد کریں اور گراؤنڈ پر موجود رہیں۔‘

  16. اختلافات چھوڑ کر اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونا وقت کا تقاضا ہے: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ اور لوگوں سے ملاقات کے بعد انھیں معلوم ہوا ہے کہ ’تباہی کی شدت اندازوں سے زیادہ ہے۔‘

    ’وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک قوم کے طور پر متاثرین کی حمایت میں اکٹھے ہوں۔ آئیے اپنے اختلافات سے اوپر اُٹھ کر اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں، جنھیں آج ہماری ضرورت ہے۔‘

  17. نوشہرہ: کلاں مانہ خیل کے مقام پر دریائے کابل کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے رہائشی علاقے زیرِ آب

    نوشہرہ

    ،تصویر کا ذریعہAuthorities

    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے نوشہرہ کلاں مانہ خیل کی بڑی آبادی زیر آب آگئی ہے جبکہ علاقہ مکینوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت دریائے کابل سے تین لاکھ کیوسک سے زیادہ کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جو کہ چار لاکھ تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    اطلاعات کے مطابق خیر آباد کے مقام پر پرائیوٹ سکول، ایک دینی مدرسہ اور ہوٹلز زیر آب آ گئے ہیں۔ جھانگیرہ پل کے قریب ایک تفریحی پارک میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے۔

  18. کل عمران خان سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ٹیلیتھون میں شرکت کریں گے: اسد عمر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے خصوصی سیل قائم

    امدادی کارروائیوں میں موثر رابطے کے لیے خصوصی واٹس ایپ گروپ قائم کر دیا گیا ہے۔ یہاں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے اپنی ضروریات شیئر کررہے ہیں۔

    کمشنر ڈیرہ غازی خان کے دفتر میں 0922058 0341، ڈویژنل فلڈ کنٹرول روم میں 9260499 064 اور7409806 0315 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  20. سیلاب کی وجہ سے چشمہ ہائیڈل پاور سٹیشن کی بندش

    چشمہ

    ،تصویر کا ذریعہPWPDA

    چشمہ ہائیڈل پاور سٹیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پلانٹ کو بند کر دیا گیا ہے جس سے ایک سے دو میگا واٹ بجلی کی فراہمی معطل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چشمہ بیراج پر پانی کا بہاؤ بہت تیز ہے اور سیلابی ریلہ گزرنے تک پاور سٹیشن کو بند رکھا جائے گا۔