شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. وزارت خارجہ اوورسیز پاکستانیوں کو سیلاب فنڈ میں عطیات کے لیے رہنمائی کرے: احسن اقبال, تنویر ملک، صحافی

    احسن اقبال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور وفاقی فلڈ ریلیف کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی سیلاب فنڈ میں عطیات جمع کروانے کے لیے رہنمائی کریں۔

    اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا تمام مشن اپنی ویب سائیٹ پہ معلومات فراہم کریں۔ انھوں نے کہا ’کمیونٹی سے مل کر سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بھرپور مہم شروع کی جائے۔‘

    وفاقی وزیر نے کہا موسمیاتی تبدیلی کی اس آفت سے پوری قوم مل کر نمٹے گی اور وفاقی حکومت مسلح افواج کے ساتھ مل کر صوبائی حکومتوں کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔‘

    ’قوم نے 2005 اور 2010 کی آفات کا بھی بہادری سے مقابلہ کیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا اس وقت پہلی ترجیح ریسکیو اور ریلیف آپریشن ہے اور سیلابی پانی اترنے کے بعد عوام کی دوبارہ آبادکاری کے لیے بھرپور مدد کی جائے گی۔

  2. ’دریائے سندھ میں ابھی سیلاب کا خطرہ باقی ہے، متعلقہ حکام الرٹ ہیں‘

    تونسہ میں سیلاب کے بعد کے مناظر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنتونسہ میں سیلاب کے بعد کے مناظر

    پنجاب میں حکام کا کہنا ہے کہ آج سے ہیلی کاپٹروں سے ریلیف کی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں اور صوبائی حکومت کی طرف سے دو ہیلی کاپٹر انتظامیہ کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

    یہ فیصلہ وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت کی زیر صدارت وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جہاں صوبائی وزیر سردار محسن لغاری اور راجہ منصور علی خان بھی موجود تھے۔

    اس موقع پر راجہ بشارت نے کہا کہ ’سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو کا کام مکمل ہوگیا ہے۔ اب ریلیف اور بحالی پر توجہ ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں اب تک 30 ہزار خیمے مہیا کیے جا چکے۔ دریائے سندھ میں ابھی سیلاب کا خطرہ باقی ہے، متعلقہ حکام الرٹ ہیں۔‘

    چیئرمین وزارتی کمیٹی نے کہا کہ مویشیوں کے لیے چارے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔

    چیف سیکرٹری کے مطابق امدادی سامان کے ٹرک مسلسل متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں اور مزید بارشیں نہ ہوئیں تو چند روز میں صورتحال مزید بہتر ہوگی۔

  3. پاکستان میں سیلاب: اب تک کی صورتحال

    ndma

    ،تصویر کا ذریعہndma

    پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 982 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں

    • اب تک ملک کے 110 اضلاع میں جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔
    • گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8588 مکانوں اور عمارات جبکہ اب تک مجموعی طور پر کل 802583 عمارتوں اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے
    • دیہی علاقوں میں آٹھ لاکھ سے زائد مویشی بہہ گئے ہیں
    • گذشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کی 79 کلومیٹر طویل سڑکوں اور چار پلوں کو نقصان پہنچا ہے
    • اب تک ملک بھر میں 3161 کلوٹیر طویل سڑکوں اور کل 149 پلوں اور 122 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے
    • صوبہ سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے 16 اضلاع اور49 لاکھ سے زائد افراد متاثرین میں شامل ہیں
    • صوبہ بلوچستان کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثرین میں شامل ہیں
    • پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل 8 اضلاع اور وہاں کی چار لاکھ 45 ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے
    • خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے ہیں
  4. چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ نے 17 ریلیف کیمپس قائم کر دیے

    pdma

    ،تصویر کا ذریعہpdma

    چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ نے 17 ریلیف کیمپس قائم کیے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر ضلع چار سدہ سے 180000 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس وقت 2230 افراد کیمپس میں موجود ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق کیمپس میں متاثرین کی خوراک اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

    pdma

    ،تصویر کا ذریعہpdma

  5. بلوچستان: مستونگ میں باغ اور فصلیں زیر آب آگئے

    کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے دشت کا منظر جہاں باغ اور فصل زیر آب آگئے ہیں۔

    پدمس

    ،تصویر کا ذریعہpdma

  6. ایران اور کوئٹہ کے درمیان شاہراہ پر ایک مرتبہ پھر شگاف پڑ گیا، کئی شہروں سے رابطہ منقطع

    ایران اور کوئٹہ کے درمیان شاہراہ پر ضلع مستونگ میں ایک مرتبہ پھر شگاف پڑ گیا ہے۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ایران اور کوئٹہ کے درمیان پل پر شگاف جدید آباد میں واقع پل کے ساتھ پڑا ہے اور اس شگاف کے باعث کوئٹہ اور ایران کے درمیان شاہراہ پر بھی ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی ہےا

    روڈ نیٹ ورک کے باعث بلوچستان کا تمام اہم شاہراہوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہےآ

    جن شاہراہوں سے رابطہ منقطع ہوا ہے ان میں کوئٹہ کراچی، کوئٹہ جیکب آباد، کوئٹہ ڈیرہ غازیخان شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ژوب دانہ سر روڈ کی بندش کے باعث کوئٹہ کا خیبر پشتونخوا سے بھی رابطہ منقطع ہے۔

  7. وزیراعظم شہباز شریف کا ضلع سجاول کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو گل محمد اپلانو گاؤں کے ریلیف کیمپ میں ضلع سجاول کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر انھیں ضلع میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی جا رہی ہے۔

    PMOffice

    ،تصویر کا ذریعہPMOffice

    PMOffice

    ،تصویر کا ذریعہPMOffice

    PMOffice

    ،تصویر کا ذریعہPMOffice

    PMOffice

    ،تصویر کا ذریعہPMOffice

    PMOffice

    ،تصویر کا ذریعہPMOffice

  8. پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر: اب تک 13 خواتین سمیت 37 افراد ہلاک, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے سٹیٹ ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشن سید شائد آکبر کے مطابق گذشتہ تین ماہ کے دوران بارشوں و لینڈسلائڈنگ کے باعث اب تک 13 خواتین سمیت 37 افراد ہلاک جبکہ 21 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق اب تک بارشوں کے باعث 256 مکانات مکمل جبکہ 175 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    سید شائد اکبر کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق بارشوں کے باعث 782 جانور ہلاک جبکہ 17 دکانیں، دو شیلٹر، 58 گاڑیاں و موٹر سائیکل، ایک موبائیل ٹاور، تین گیسٹ ہاوئس، نو پن چکیاں، ایک نجی پاور ہاوئس، چار نہریں، چار ہائیڈرو پاور سٹیشن، دو مساجد ، تیرہ پیدل چلنے والے پل، ایک گرِڈ سٹیشن، دو پرائمری سکول اور ایک فارم ہاوئس اور چھ جانوروں کے باڑے تباہ ہوئے ہیں۔

  9. کوئٹہ: امدادی اشیا نہ ملنے کے خلاف سیلاب متاثرین کا احتجاج

    bbc

    کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں متاثرین سیلاب کا احتجاج جاری ہے۔ یہ متاثرین امدادی اشیا نہ ملنے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں

    یہ متاثرین کلی کرانی، میاں غنڈی اور دیگر علاقوں میں احتجاج کر رہے ہیں۔

    مشیر داخلہ میر ضیا اللہ کی جانب سے یقین دہانی پر میاں غنڈی میں احتجاج ختم کر دیا گیا ہے۔

    مشیر داخلہ نے متعلقہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے پاس جائیں اور متاثرین کے مسائل کو فوری طور پر حل کریں۔

    BBC
  10. سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مفت وائس کالز کی سہولت

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور موبائل فون آپریٹرز (سی ایم اوز) کا کہنا ہے کہ اس مشکل وقت میں وہ سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور سی ایم اوز سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اپنے تمام صارفین کو زیرو یا صفر بیلنس کے ساتھ (آن نیٹ/ایک ہی نیٹ ورک پر) مفت وائس کالز فراہم کریں گے۔

    کال کنکشن پر کوئی کال سیٹ اپ چارجز لاگو نہیں ہوں گے اور بیلنس نہ ہونے کی صورت میں صارفین آن نیٹ کال کر سکیں گے۔

    پی ٹی اے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی ذرائع کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں رابطوں کو یقینی بنانے اور جہاں ضروری ہو اپ ڈیٹ بھی فراہم کی جائے گی۔

  11. بلوچستان: بھاگ ناڑی میں سیلابی ریلوں کے باعث متعدد دیہات زیر آب آ گئے

    BBC
    BBC
    b
  12. بلاول بھٹو زرداری: ’اپوزیشن جلسہ جلسہ کھیلے، ہم سیلاب سے نمٹیں گے‘

  13. نوشہرہ کے کئی علاقے زیرِ آب: شہریوں کو ایمرجنسی ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے

    ڈی سی نوشہرہ کے مطابق شہر کے کئی علاقے زیرِ آب آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ، فوج اورریسکیو 1122 کے اہلکار نوشہرہ کلاں کےعلاقے سے لوگوں کو ریسکیو کر رہے ہیں۔

    ریسکیو کیے جانے والوں کو ایمرجنسی ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کے لیے کھانے پینے اور رہاٸش کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. نوشہرہ کی موجودہ صورتحال: کئی رہائشی علاقے زیر آب آ گئے

    ڈی سی نوشہرہ کے مطابق اس وقت دریائے کابل سے تین لاکھ 15ہزار کیو سک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے اور کئی رہائشی علاقے زیر آب ا گئے ہیں۔

    فوج، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔

    sajidullah

    ،تصویر کا ذریعہsajidullah

    sajidullah

    ،تصویر کا ذریعہsajidullah

    sajidullah

    ،تصویر کا ذریعہsajidullah

  15. نوشہرہ: غوطہ خور اور میڈیکل ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نکال رہی ہیں

    محب بانڈہ نوشہرہ

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Sajidullah

    ،تصویر کا کیپشنمحب بانڈہ نوشہرہ

    ریسکیو 1122 کے مطابق چارسدہ اور نوشہرہ میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 پشاور کے مطابق ان کی امدادی ٹیموں نے سیلابی علاقوں سے اب تک سینکڑوں افراد کو نکال لیا ہے۔

    غوطہ خور اور میڈیکل ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نکال رہی ہیں۔

    ڈی جی ریسکیو کے مطابق انھوں نے موٹر وے پر میڈیکل کیمپ قائم کر لیا ہے جس میں خواتین میڈیکل ٹیکنشنز طبی امداد فراہم کریں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہشاور میں میاں گجر، جالا بیلا، تختہ اباد، مچنی ورسک روڈ، انگور کورونہ، کالا شاہ بیگ، بیلا مومندان، شاہ بڈہ موٹر وے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    اس کے علاوہ نوشہرہ میں کیمپ کورونہ، گھڑی مومین، محب بانڈہ، پشتون گھڑی، خیشکی پایاں، نوشہرہ روڈ، منا خیل، پیر سباق جبکہ چارسدہ میں شبقدر، چھتی پل، قدرت اباد، کلالئی، فقیر اباد، ماجوکے، گیدڈ کلے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    تبلیغی مرکز نوشہرہ

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Sajidullah

  16. سیلاب زدہ علاقوں کی خواتین کے لیے سینیٹری پیڈز کی امداد

  17. سپیکر قومی اسمبلی اور تمام اراکین قومی اسمبلی کا ایک ماہ اور قومی اسمبلی کے تمام ملازمین کا 2 دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنے کا اعلان

    سپیکر قومی اسمبلی اور تمام اراکین قومی اسمبلی نے ایک ماہ اور قومی اسمبلی کے تمام ملازمین نے دو دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    کینیڈا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان، سندھ، پنجاب، کے پی کے اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے سمیت تمام اراکین قومی اسمبلی کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    سپیکر نے قومی اسمبلی کے تمام ملازمین کی دو دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے عطیہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    سپیکر راجہ پرویز اشرف اس وقت 65ویں کامن ویلتھ پارلیمانی اسمبلی میں شرکت کے لیے کینیڈا میں موجود ہیں۔

    انھوں نے کینیڈا، آسٹریلیا، ملائیشیا کے سپیکرز، انٹر پارلیمانی یونین کے سیکرٹری جنرل اور دیگر کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے دوران پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔

    اس موقع پر سپیکرقومی اسمبلی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔

    انھوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک قوم کے طور پر متحد ہو کر اپنے سیلاب متاثرین بھائیوں اور بہنوں کی مدد کریں۔

    سپیکر راجہ پرویز اشرف کی ہدایات کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی میں سیلاب متاثرین کیلئے عطیات جمع کرنے کے لیے خصوصی کاؤنٹر قائم کیا جا رہا ہے۔

  18. بین الاقوامی برادری کو بلوچستان کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے، میر ضیا لانگو

    کوئٹہ میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال نے بڑے پیمانے پرتباہی مچا دی ہے۔

    صوبائی مشیر داخلہ و پی ڈی ایم اے بلوچستان میر ضیا لانگو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں گذشتہ شب موسلادھار بارش کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کلی ناصران، نواں کلی سمیت دیگر علاقوں میں لوگ پھنسے تھے جنھیں ٹیموں نے ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے کے وئیرہاؤس کا راستہ بھی بند ہوگیا ہے لیکن وہ ریلیف کا سامان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ آرمی، ایف سی، پولیس، لیویز اور پی ڈی ایم اے سمیت سب ریلیف ریسکیو و ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    میرضیا اللہ لانگو نے وفاقی حکومت سے مشکل کی گھڑی میں بلوچستان کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جو تباہی بلوچستان میں ہوئی ہے اس کی بحالی بلوچستان کے مالی وسائل سے ممکن نہیں ہے اور بین الاقوامی برادری کو بھی بلوچستان کے لوگوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔

    میر ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کررہ گیا ہے۔

    تمام ڈپٹی کمشنرز کو وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر فنڈز ریلیز کردیے گئے ہیں اور مشکل کی گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

  19. یہ وقت اختلافات بھلا کر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے کا ہے، پرویز الٰہی

    وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ موجودہ سیلاب کی تباہ کاریوں کوالفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وقت اختلافات بھلا کر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے کا ہے اور اصل سیاست اس وقت دکھی انسانیت کی خدمت ہی ہے۔

    ٹویٹر پر انھوں نے لکھا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے آگے آنا عبادت سے کم نہیں۔ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    ’یقین ہے کہ قوم متاثرین کی بحالی اور آبادی کاری کے کار خیر میں بھرپور حصہ ڈالے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ صاحب ثروت افراد کی دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد کریں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے تمام ممکنہ وسائل مہیا کررہی ہے۔

    پنجاب حکومت کی سیاسی و انتظامی ٹیم ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی نگرانی کے لیے فیلڈ میں موجود ہے مگر جنوبی پنجاب میں غیر معمولی بارشوں و سیلاب سے غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

  20. شمالی سندھ میں دیہات اور قصبے زیر آب: متاثرین نے کراچی کا رخ کر لیا, ریاض سہیل، کراچی

    bbc

    شمالی سندھ میں دیہات اور قصبے زیر آب آنے کے بعد متاثرین نے دارالحکومت کراچی کا رخ کرلیا ہے اور اس وقت شہر کے علاقے سچل گوٹھ اور گلشن حدید و ملیر کے سرکاری سکولوں میں کیمپ قائم کرلیے ہیں۔

    تاحال کہیں کوئی ٹینٹ سٹی قائم نہیں کیا گیا ہے۔ سکولوں میں قائم یہ کیمپ سندھی آبادی والے علاقوں میں موجود ہیں جہاں آس پاس کی آبادی ان کی مدد کر رہی ہے۔

    متاثرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ان متاثرین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو 2010 کے سیلاب سے متاثر ہوکر کراچی آئے تھے اور یہاں تین سے چار ماہ قیام کیا تھا۔

    کراچی میں نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت عطیات کے کیمپ لگائے ہیں جبکہ گذشتہ روز سے سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی عطیات اکٹھے کر رہی ہیں۔