گذشتہ رات آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ماہرین کی رائے بھی تقسیم ہے۔
اس کی وجہ اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کے متعلق سنہ 2015 میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں آٹھ جج صاحبان کا ایک فیصلہ ہے جو جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا تھا۔ اس فیصلے پر جسٹس عمر عطا بندیال کے بھی دستخط ہیں۔
اس فیصلے میں جہاں اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم کے خلاف پٹیشنز کو خارج کیا گیا، وہیں پیراگراف نمبر 112 اور 113 میں کہا گیا کہ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے شق 63 اے تحت پارٹی کے ووٹ کا فیصلہ پارٹی کے سربراہ کو تفویض کیا گیا ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی کی سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن کے خلاف سیاسی جماعتوں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ درست ہے۔
حالیہ بینچ نے سپریم کورٹ کے اس پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جسٹس شیخ عظمی سعید کے تحریر کردہ فیصلے سے سات دیگر ججز نے اتفاق کیا تھا اور چونکہ یہ مقدمہ فل کورٹ کے سامنے تھا، اس لیے عدالتی اکثریت کم از کم نو ججز پر مشتمل ہونی چاہیے تھی۔
پیراگراف نمبر 112 کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ فیصلے میں کہا گیا کہ وہ فل کورٹ کے حساب سے اکثریتی فیصلہ نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کو مسترد کرنے والے چھ مزید ججز کے فیصلوں میں بھی اس نکتے پر بات نہیں کی گئی کہ کیا پارٹی سربراہ آئین کی شق 63 اے (1)(بی) کے تحت ایسی کوئی ہدایات جاری کر سکتا ہے یا نہیں، چنانچہ وہ فیصلہ عدالتی نظیر نہیں بن سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ اس فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز آئین کی شق 63 اے کی حقیقی شرائط سے مطابقت نہیں رکھتیں چنانچہ اگر یہ آبزرویشنز عدالتی نظیر ہوتیں بھی، تب بھی یہ عدم توجہی کی وجہ سے ہوتیں۔
اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ اگر کسی جج نے لاشعوری طور پر قانون کی غلط تشریح کی ہے تو بعد میں اُنھیں شعوری طور پر درست تشریح کرنے کی آزادی ہے۔