آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نیوٹرلز نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں جب چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہوا تو نیوٹرلز نے سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی۔ ’اسے تسلیم کرنا ہماری بڑی حماقت تھی۔‘

لائیو کوریج

  1. اختیارات محدود نہیں، ریگولیٹ کرنے کی بات کی گئی، رانا ثنا اللہ

    گذشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں بلاول بھٹو زرداری اور فرحت اللہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کے بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اختیارات کم یا محدود کرنے کی نہیں منضبط کرنے کی بات کی گئی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ سو موٹو اور بینچز کی تشکیل سے متعلق معاملات ریگولیٹ کیے جا سکتے ہیں کہ سو موٹو تمام ججز کی مشاورت سے لیے جائیں اور ’بینچ فکسنگ‘ کا راستہ رکے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس سے عدالت کی تکریم میں اضافہ ہو گا۔

  2. بریکنگ, رانا ثنا اللہ: میں نے پنجاب میں گورنر راج کی سمری پر کام شروع کر دیا ہے

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ اس وقت پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ کسی صوبے میں گورنر راج کی سمری وزارتِ داخلہ نے پیش کرنی ہوتی ہے اور اُنھوں نے اس پر کام شروع کر دیا ہے۔

  3. پنجاب میں سرکاری افسران کی تبدیلی

    حکومتِ پنجاب نے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب عبدالجبار کو اُن کے عہدوں سے ہٹا کر واپس انٹیلیجنس بیورو بھیج دیا ہے۔ اُن کے علاوہ ڈی پی او جھنگ سردار غیاث گُل خان کی خدمات وفاق کو واپس کر دی گئی ہیں۔

  4. ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مستعفی ہو گئے

    پنجاب حکومت کی تبدیلی کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    اُنھوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ نئی حکومت کو اپنی مرضی کا ایڈووکیٹ جنرل تعینات کرنے کا اختیار ہے اس لیے وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

  5. ایک ڈالر کی قیمت 236 روپے ہو گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والا اضافہ بدھ کے روز بھی جاری رہا جب ایک ڈالر کی قیمت کاروبار کے دوران 236 تک پہنچ گئی۔ کرنسی ڈیلرز کے مطابق اس وقت انٹر بینک میں ایک ڈالر 236 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جو گذشتہ روز 232.93 پر بند ہوا تھا۔

    بدھ کے روز ڈالر کی قیمت میں تین روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا پے۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد لگتا ہے حکومت اور تحریک انصاف میں مزید سیاسی کشیدگی بڑھے گی جو سیاسی بے چینی کو بڑھا رہی ہے، اور مستقبل قریب میں سیاسی فضا میں بہتری کے کم امکان کی وجہ سے روپے کی قدر گر رہی ہے۔

    اس شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق بیرونی امداد موصول ہونے میں تاخیر بھی اس کی وجہ بن رہی ہے۔

  6. سیاسی بے یقینی آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کا سبب بنی: گورنر سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی

    قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضی سید نے کہا ہے کہ سیاسی بے یقینی کی وجہ سے فیصلہ سازی میں نقصان دہ تاخیر اور مالیاتی سطح پر پالیسی کے حوالے سے کوتاہیاں آئی ایم ایف سے معاہدے کی بحالی مہم میں تاخیرکا سبب ہیں۔

    سٹیٹ بینک کے ایک اعلامیے کے مطابق اُنھوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں بیرونی رقوم کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ بیرونی قرضے کی واپسی کی رقوم بڑھتی رہیں اور فروری سے اب تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 ارب ڈالر کی بھاری کمی آئی۔

    گورنر سٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ یہ مشکلات ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں تاہم اس معاشی طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی پوزیشن دیگرممالک کی نسبت بہتر ہے۔

    ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ عالمی معیشت میں کئی بحران بیک وقت ابھرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور پاکستان بھی اس طوفان کی زد میں ہے۔

    اُنھوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ دباؤ زیادہ تر عالمی وجوہات کی وجہ سے ہے تاہم اس میں ملکی عوامل بھی شامل ہو گئے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ، 15 برسوں کی بلند ترین مہنگائی، زر مبادلہ ذخائر میں کمی، روپے کی قدر میں کمی اور ہمارے بین الاقوامی بانڈز کے پریشان کن حد تک بڑھ جانے والے منافعے اس طوفان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

  7. بریکنگ, وفاقی کابینہ کا اجلاس دوپہر تین بجے

    وزارتِ اطلاعات نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور ملکی سیاسی و داخلی صورتحال پر غور کرنے کے لیے آج دوپہر تین بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو گا۔

    بتایا گیا ہے کہ کابینہ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق بھی کی جائے گی۔ ۔

  8. اٹھارہویں ترمیم سے متعلق فیصلے کے بارے میں حالیہ فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟

    گذشتہ رات آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ماہرین کی رائے بھی تقسیم ہے۔

    اس کی وجہ اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کے متعلق سنہ 2015 میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں آٹھ جج صاحبان کا ایک فیصلہ ہے جو جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا تھا۔ اس فیصلے پر جسٹس عمر عطا بندیال کے بھی دستخط ہیں۔

    اس فیصلے میں جہاں اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم کے خلاف پٹیشنز کو خارج کیا گیا، وہیں پیراگراف نمبر 112 اور 113 میں کہا گیا کہ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے شق 63 اے تحت پارٹی کے ووٹ کا فیصلہ پارٹی کے سربراہ کو تفویض کیا گیا ہے۔

    چوہدری پرویز الٰہی کی سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن کے خلاف سیاسی جماعتوں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ درست ہے۔

    حالیہ بینچ نے سپریم کورٹ کے اس پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جسٹس شیخ عظمی سعید کے تحریر کردہ فیصلے سے سات دیگر ججز نے اتفاق کیا تھا اور چونکہ یہ مقدمہ فل کورٹ کے سامنے تھا، اس لیے عدالتی اکثریت کم از کم نو ججز پر مشتمل ہونی چاہیے تھی۔

    پیراگراف نمبر 112 کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ فیصلے میں کہا گیا کہ وہ فل کورٹ کے حساب سے اکثریتی فیصلہ نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کو مسترد کرنے والے چھ مزید ججز کے فیصلوں میں بھی اس نکتے پر بات نہیں کی گئی کہ کیا پارٹی سربراہ آئین کی شق 63 اے (1)(بی) کے تحت ایسی کوئی ہدایات جاری کر سکتا ہے یا نہیں، چنانچہ وہ فیصلہ عدالتی نظیر نہیں بن سکتا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ اس فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز آئین کی شق 63 اے کی حقیقی شرائط سے مطابقت نہیں رکھتیں چنانچہ اگر یہ آبزرویشنز عدالتی نظیر ہوتیں بھی، تب بھی یہ عدم توجہی کی وجہ سے ہوتیں۔

    اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ اگر کسی جج نے لاشعوری طور پر قانون کی غلط تشریح کی ہے تو بعد میں اُنھیں شعوری طور پر درست تشریح کرنے کی آزادی ہے۔

  9. بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    اگر تو آپ ہماری لائیو کوریج میں ابھی شامل ہوئے ہیں تو اہم خبروں کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    منگل کی رات کو سپریم کورٹ نے اپنے متفقہ فیصلے میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز شریف کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا۔

    حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹائے جانے کے ساتھ ہی چیف سیکریٹری پنجاب نے چوہدری پرویز الٰہی کی وزارتِ اعلیٰ کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

    آئینی پروٹوکول کے تحت گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے چوہدری پرویز الٰہی سے حلف لینا تھا تاہم اُن کے انکار کے بعد رات دو بجے یہ حلف برداری ایوانِ صدر اسلام آباد میں ہوئی جہاں صدر عارف علوی نے اُن سے یہ حلف لیا۔

    اُن کی تقریبِ حلف برداری کو پی ٹی وی پر نمایاں انداز میں نہ دکھائے جانے پر جہاں سرکاری ٹی وی تنقید کی زد میں ہے وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بات پر معاف نہیں کیا جائے گا۔

    پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد اب مرکز میں اسی جماعت کی حکومت بظاہر خطرات کی زد میں ہے۔

    عوامی مسلم لیگ کے رہنما اور پی ٹی آئی کے اتحادی شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مرکز میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائی جائے گی۔

    مریم نواز شریف نے اس فیصلے کو ’عدالتی آمریت‘ سے تعبیر کیا ہے جبکہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعریف کی ہے۔

  10. پنجاب میں حکومت کے بغیر، حکومتی اتحاد کے لیے وفاق میں حکومت چلانا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟

  11. سپریم کورٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ: کیا حکومتی اتحاد کو اس فیصلے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟

  12. ٹی ٹی پی سے مذاکرات: ’یہ علما طالبان کے استاد رہ چکے ہیں، وہ ان کی بڑی قدر کرتے ہیں‘

  13. پی ٹی وی کی اس حرکت کو معاف نہیں کریں گے: فواد چوہدری

    سابق وزیر اطلاعات اور رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے سرکاری چینل پی ٹی وی کی انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ پرویز الہی کی تقریب حلف برداری براہ راست نشر نہ کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    انھوں نے منگل کی شب اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ صرف 15 دن ہیں، ہم اس حرکت کو معاف نہیں کریں گے۔‘

    ’پی ٹی وی اور وزارت اطلاعات نے بدمعاشی کی ہے۔ (وزیر اطلاعات) مریم اورنگزیب خود جیل جا رہی ہیں۔ آپ بھی جیل جانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس حرکت کو آسانی سے نہیں لیا جائے گا۔ پی ٹی وی پر نہ دکھانے سے فرق نہیں پڑتا مگر کچھ ریاستی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اگلے مہینے یہ لوگ ان عہدوں پر نہیں ہوں گے۔‘

    ادھر رہنما تحریک انصاف شیریں مزاری نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’پی ٹی وی شریفوں کی ذاتی ملکیت نہیں۔۔۔ اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔‘

  14. پرویز الہی کی تقریبِ حلف برداری کی ویڈیو ٹوئٹر پر

  15. مرکز کو شہباز شریف سے پاک کریں گے: شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ’مرکز میں بھی عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ کیا اور اب تحریک انصاف و دیگر کا اتحاد ’کرائم منسٹر کو نکال کر دم لے گا۔‘

    ’مرکز کو شوباز شریف سے پاک کریں گے۔ بوٹ پالشیے کو نکالنا ہے، عدم اعتماد لائیں گے۔‘

  16. پرویز الہی کا سیاسی پس منظر

    • 80 کی دہائی میں وہ مسلسل چار سال چیئرمین ضلع کونسل گجرات منتخب ہوئے
    • اس کے بعد وہ بلامقابلہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے جس کے بعد 1985 میں وہ وزیر بلدیات و دیہی ترقی بنے
    • 1993 میں وہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر بھی رہے اور بطور اپوزیشن لیڈر بھی کام کیا
    • وہ 1997 میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہوئے
    • 2002 کے الیکشن میں وہ مسلسل چھٹی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ پنجاب کے منتخب وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور انھوں نے پانچ سال مکمل کیے
    • پہلی بار 2008 کے الیکشن میں وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انھیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نامزد کیا گیا اور بعد میں انھوں نے اس عہدے سے استعفیٰ دیا۔ وہ 2011 میں سینیئر وفاقی وزیر بنے
    • وہ 2012 سے 2013 تک پاکستان کے نائب وزیر اعظم رہے
    • 2013-18 سے قومی اسمبلی وہ پارلیمانی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما رہے
    • 2018 میں وہ دوسری مرتبہ سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے
    • آج انھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے
  17. بریکنگ, صدر عارف علوی نے پرویز الہی سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف لے لیا

    گورنر پنجاب کے انکار کے بعد اسلام آباد میں ایوان صدر میں رات دو بجے صدر عارف علوی نے پرویز الہی سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف لیا ہے۔

    روایت کے برعکس اس تقریب حلف برداری کو براہ راست سرکاری چینل پی ٹی وی پر نشر نہ کیا گیا۔ تحریک انصاف نے اسے ’شرمناک روایہ‘ قرار دیا ہے۔

  18. محمد خان بھٹی پرنسپل سیکریٹری برائے وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات

    پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق محمد خان بھٹی کو پرنسپل سیکریٹری برائے وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات کیا گیا ہے۔

  19. بریکنگ, نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اسلام آباد پہنچ گئے

    اطلاعات کے مطابق نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ایوان صدر میں تقریب حلف برداری کے لیے لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    ایئرپورٹ پر مونس الٰہی، حسین الٰہی اور دیگر رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا ہے۔

  20. لاہور کے لبرٹی چوک پر تحریک انصاف کے کارکنان کا جشن