آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نیوٹرلز نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں جب چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہوا تو نیوٹرلز نے سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی۔ ’اسے تسلیم کرنا ہماری بڑی حماقت تھی۔‘

لائیو کوریج

  1. استعفے اور ان کی منظوری انفرادی عمل ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریک انصاف کی درخواست پر ریمارکس

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست میں پی ٹی آئی کو مستعفی ارکان اسمبلی کو فریق بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ استعفیٰ اور اس کی منظوری انفرادی عمل ہے۔

    کل استعفوں پر فیصلہ آ جائے اور ارکان کہیں ہم نے تو استعفیٰ ہی نہیں دیے تھے۔

    گذشتہ روز رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ رجسٹرار آفس کا اعتراض ہے کہ اتھارٹی لیٹر نہیں لگایا گیا، اعتراض دور کیا جائے، عدالت نے کہاکہ پھر یہ پٹیشن اسد عمر کی جانب سے نہیں ہونی چاہئے تھی، آپ نے ایک چٹھی لینی ہے،

    فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہاکہ اتھارٹی لیٹر کی ضروت نہیں کیونکہ اسد عمر خود بائیو میٹرک کرا کرانے آئے تھے، عدالت نے کہاکہ استعفی اور اس کی منظوری یہ انفرادی ایکٹ ہے،اس لیے اتھارٹی لیٹر ضروری ہے اسی لیے رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا ہے۔

    واضع رہے کہ درخواست میں تمام 123 مستعفی ارکان کو ڈی نوٹیفائی کر کے نشستوں کو خالی قرار دینے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے نیا مینڈیٹ لینے کے لیے قومی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہونے کا مشترکہ فیصلہ کیا تھا۔

    مشترکہ استعفے کا فیصلہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں کھلے عام سنایا۔

    سپیکر نے استعفے منظور کر لیے تھے، موجودہ اسپیکر کی اتھارٹی نہیں کہ معاملہ التوا میں ڈالے۔ سپیکر پابند ہے کہ وہ استعفی ملنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجے۔ الیکشن کمیشن مستعفی ارکان کی نشستوں کو خالی قرار دے کر ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے۔

    تحریک انصاف نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو تمام 123 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کرے۔

  2. اسلام آباد ہائی کورٹ: سابق چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو جبری لاپتہ افراد کے کمیشن سے ہٹانے کی سفارش معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے نیب کے سابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین شپ سے ہٹانے کی سفارش معطل کرتے ہوئےفریقین سیکرٹری قومی اسمبلی اور سیکرٹری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جواب کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔

    اس کے علاوہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو سابق چیئرمین نیب کے خلاف تادیبی کارروائی سے بھی روک دیا۔

    گذشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزارکی جانب سے شعیب شاہین ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیاکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کا خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔

    کمیٹی نے جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین کے عہدہ سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اختیارات کا معاملہ دو دیگر پٹیشنز میں بھی اٹھایا گیا ہے، نیب کے سابق چیئرمین کے وکیل نے کہاکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سات جولائی کے میٹنگ منٹس غیر قانونی قرار دیے جائیں۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ یہ معاملہ اب پی اے سی سے انکوائری کمیشن میں چلا گیا ہے۔

    عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ کیا پی اے سی نے کارروائی ختم کر دی ہے؟

    آئندہ سماعت پر آگاہ کریں، اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کارروائی نہیں چل رہی تو درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی۔ عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ سماعت 11 اگست تک کے لیے سماعت ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سنگین الزامات کے باعث جبری گمشدگیوں کے کمیشن کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا کہا ہے۔

  3. ممنوعہ بیرونی چندے پر کھڑے ’صادق و امین‘

  4. عمران خان نے بیانِ حلفی نہیں سرٹیفیکیٹ دیا تھا: فواد چوہدری

    تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے ارکان بیانِ حلفی اور سرٹیفیکیٹ میں فرق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران نے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس کے بارے میں سرٹیفیکیٹ دیا تھا۔ یہ مس ڈیکلیریشن کا معاملہ نہیں ہے۔

  5. قوم کو غلامی سے نجات کے بھاشن دینے والا خود بیرونی طاقتوں کا غلام ثابت ہوا: مریم نواز

    الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ قوم کو غلامی سے نجات کا بھاشن دینے والا خود بیرونی طاقتوں کا غلام ثابت ہوا۔

    انھوں نے عمران خان پر الزام عائد کیا کہ وہ ان غیر ملکی قوتوں سے پیسے لیتے رہے اور اس پیسے کو ملک میں فتنہ فساد اور بربادی کے لیے خرچ کرتے رہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایک فارن ایجنٹ کو پاکستان کی ترقی کو روکنے اور سی پیک کے خاتمے کےلیے لانچ کیا گیا تھا۔

  6. عدالت الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پہلی ہی سماعت میں اڑا کر رکھ دے گی: شیخ رشید

    پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ممنوعہ فنڈنگ کے فیصلے کو ’عدالت پہلی ہی سماعت میں اڑا کر رکھ دے گی۔‘

    خیال رہے کہ تحریکِ انصاف نے اس فیصلے کو عدالتِ عالیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

    پاکستان کے نجی ٹی وی جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا اس مقدمے میں قوم کے آٹھ سال ضائع کیے گئے اور اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔

    ان کے مطابق ’آج عمران خان کے لیے فتح کا دن ہے، یہ جو مرضی کر لیں، ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘

  7. عمران خان کا جھوٹا ایمانداری اور حب الوطنی کا بت آج اوندھے منہ گر گیا: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ عمران خان ’پاکستان کے واحد سیاستدان ہیں جو ایک ہی فیصلے میں ناقابلِ تردید ثبوتوں کے ساتھ بیک وقت جھوٹے، کرپٹ، منی لانڈرر اور بیرونی قوتوں کے ایما پر کام کرنے والے ثابت ہوئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا اپنا ہی بنایا ہوا جھوٹا ایمانداری اور حب الوطنی کا بت آج اوندھے منہ گر گیا۔

  8. غیر ملکی کمپنیوں، پی ٹی آئی کی غیر ملکی شاخوں سے فنڈنگ غیر قانونی قرار

    کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دبئی میں رجسٹرڈ برسٹل انجینیئرنگ سروسز سے حاصل کردہ 49 ہزار 965 ڈالر، سوئٹزرلینڈ میں رجسٹرڈ ای پلینیٹ ٹرسٹیز سے حاصل کردہ ایک لاکھ ڈالر، اور برطانیہ میں رجسٹرڈ ایس ایس مارکیٹنگ لمیٹڈ سے حاصل کردہ 1741 ڈالر بھی کمپنیوں سے سیاسی جماعت کو فنڈنگ کی پابندی کے زمرے میں آتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی نے امریکہ میں کمپنیوں کے ذریعے امریکی شہریوں اور امریکہ میں قائم کمپنیوں سے عطیات اور چندے وصول کرنے کے لیے چندہ مہم چلائیں۔

    کمیشن کے مطابق ان کمپنیوں نے امریکی قانونی تقاضے تو پورے کیے مگر پاکستان میں کام کرنے والی سیاسی جماعتوں سے متعلق پاکستانی قوانین کی پاسداری نہیں کی جس کے تحت کمپنیاں اور غیر ملکی شہری ایسے عطیات نہیں دے سکتے۔

    کمیشن کے مطابق امریکہ میں قائم پی ٹی آئی امریکہ ایل ایل سی 6160 نے کُل پانچ لاکھ 49 ہزار امریکی ڈالر منتقل کیے جس میں سے 70 ہزار 960 ڈالر غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے حاصل کیے گئے۔

    اسی طرح پی ٹی آئی امریکہ ایل ایل سی 5975 نے 13 غیر ملکی شہریوں اور 231 غیر ملکی کمپنیوں سے اندازاً ایک لاکھ 13 ہزار 948 ڈالر کی رقم پی ٹی آئی پاکستان کو منتقل کی۔

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کی مزید کیا تفصیلات دی ہیں؟

    الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں ان غیرملکی افراد اور کمپنیوں کے نام بھی درج کیے ہیں جن سے تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز حاصل کیے ہیں۔

    فیصلے کے مطابق تحریک انصاف نے ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی سے 28 فروری 2013 میں 324,000 ڈالر یعنی تین لاکھ 24 ہزار ڈالر وصول کیے۔ 14 مارچ 2103 میں 1,300,000 ڈالر یعنی 1 اعشاریہ تین ملین ڈالر لیے اور دو اپریل 2014 میں تحریک انصاف کو 497,500 جو چار لاکھ 97 ہزار پانچ سو ڈالر بنتے ہیں وصول کیے۔

    یوں مجموعی طور پر تحریک انصاف نے ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے 2,121,500 فنڈز وصول کیے ہیں جو دو اعشاریہ ایک ملین ڈالر بنتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹن کرکٹ کمپنی کیمن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے، جو دنیا کا پانچواں بڑا بینکنگ سینٹر بنتا ہے اور یہ آئی لینڈ ٹیکس سے مستثنی کمپنیوں کے لیے ٹیکس ہیون کا درجہ رکھتا ہے۔

    برسٹل انجنیئرنگ سے حاصل کیے گئے فنڈز

    برسٹل انجنئیرنگ سروسز کمپنی دبئی میں رجسٹرڈ ہے۔ دبئی کے قانون کے تحت کوئی شخص یا کمپنی کسی سیاسی جماعت کو فنڈز نہیں دے سکتی۔ تاہم اجازت حاصل کر کے وہ خیراتی مقاصد کے لیے چندہ دے سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے قانون کے تحت کسی بھی ملکی اور غیر ملکی کمپنی سے کوئی سیاسی جماعت فنڈز حاصل نہیں کر سکتی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق برسٹل انجنئیرنگ سے تحریک انصاف نے 11 مارچ 2013 میں 49 ہزار 965 ڈالرز کے فنڈز وصول کیے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے ان فنڈز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ تحریک انصاف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورک کی ایک نجی کمپنی 'ای پلانٹ ٹرسٹیز' سے ایک لاکھ ڈالر حاصل کیے ہیں۔ یہ کمپنی بھی کیمن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے۔

    برطانوی کمپنی سے لیے گئے فنڈز

    ایس ایس مارکیٹنگ سے تحریک انصاف نے 1,741 ڈالرز وصول کیے ہیں۔ یہ برطانوی شہر مانچسٹر میں رجسٹرڈ ایک نجی کمپنی ہے۔

    امریکی کمپنیوں اور غیرملکی شہریوں سے لیے جانے والے فنڈز

    تحریک انصاف نے کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں فنڈز حاصل کرنے کے لیے کمپنیاں بنائی ہیں۔ امریکہ میں 'لمیٹڈ لیابلٹی کمپنی' (ایل ایل سی) کا تصور الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے چئیرمین کی منظوری سے امریکہ میں دو ایسی کمپنیاں قائم کیں جو کہ پاکستان کے سیاسی جماعتوں سے متعلق قانون سے متصادم ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ میں پی ٹی آئی کی رجسٹرڈ کمپنیوں نے یہ فرق بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا کہ ان کمپنیوں نے صرف پاکستان کی شہریت کے حامل افراد سے ہی فنڈز لیے یا پھر کمپنیوں اور غیر ملکیوں سے بھی چندہ لیا ہے۔

    فیصلے کے مطابق جب دستاویزات کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ تحریک انصاف کی امریکہ میں رجسٹرڈ ان دو کمپنیاں انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ سٹینڈرڈ پر عمل پیرا نہیں ہوئیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے امریکہ سے بھی ممنوعہ فنڈز جمع کر کے پالستان میں اپنی جماعت کی اکاؤنٹس میں بھیجے ہیں۔

    اپریل 2013 میں پاکستان تحریک انصاف کو امریکہ سے تین لاکھ 84 ہزار ڈالرز ملے۔ مئی 2013 میں ایک لاکھ 65 ہزار ڈالرز ملے۔

    یوں امریکہ سے تحریک انصاف کو مجموعی طور پر پانچ لاکھ 49 ہزار ڈالرز کے فنڈز ملے۔ امریکہ میں غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے تحریک انصاف کو 70,960 ڈالرز ملے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل یا کسی بھی ملکی سرکاری و غیر سرکاری کمپنی سے کوئی بھی فنڈ براہ راست یا بلواسطہ نہیں لیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح تجارتی کمپنی اور پروفیشنل ایسوسی ایشن سے بھی فنڈز حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

    الیکشن کمیشن نے لکھا کہ قانون کے تحت صرف افراد سے فنڈز لیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے لکھا کہ جس طرح قانون سازوں نے ملکی کمپنی سے بھی فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دیا ہے ایسے ہی غیر ملکی کمپنیوں سے بھی فنڈنگ لینا ممنوع ہے۔

    الیکشن کمیشن نے متعلقہ قانون اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو چیز براہ راست نہیں کی جا سکتی وہ بلواسطہ بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان افراد اور کمپنیوں کے نام بھی بتائے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں تحریک انصاف کو کینیڈا اور آسٹریلیا سے بھی ملنے والے چندے کے بارے میں تفصیلات درج کی ہیں۔

  9. پی ٹی آئی کو ممنوعہ فنڈنگ میں عارف نقوی کا کردار

    الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں ابراج گروپ کے عارف نقوی پر امریکہ میں قائم مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان نے بظاہر جان بوجھ کر مجرمانہ دھوکہ دہی میں ملوث کاروباری شخصیت کے زیرِ انتظام کمپنی سے عطیات وصول کیے۔

    کمیشن نے کہا کہ جماعت کو اس کے لیے اپریل 2018 سے دسمبر 2021 تک کا وقت دیا گیا تھا تاہم پارٹی اپنے فنڈنگ کے ذرائع چھپاتی رہی۔

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ جب کمیشن نے پارٹی کے سامنے ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے پی ٹی آئی پاکستان کو فنڈز کی منتقلی کے بارے میں ثبوت رکھے تو پی ٹی آئی نے عارف نقوی کا دستخط شدہ بیانِ حلفی فراہم کیا جس میں اُنھوں نے تسلیم کیا کہ تھا کہ اُنھوں نے 'متحدہ عرب امارات میں ہوتے ہوئے پارٹی (پی ٹی آئی) فنڈ، عطیات اور چندہ جمع کرنے اور خود بھی حصہ ڈالنے میں رضاکارانہ طور پر حصہ ڈالا' جو کہ کمیشن کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    کمیشن کے مطابق چنانچہ یہ فنڈز (21 لاکھ 21 ہزار 500 ڈالر) ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کے ذریعے منتقل کیے گئے اور یہ فنڈز کس نے دیے، یہ عارف نقوی اور پی ٹی آئی نے نہیں بتایا ہے۔ فیصلے کے مطابق یہ فنڈز پاکستانی قوانین کے تحت کمپنیوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کی پابندی کے دائرے میں آتے ہیں۔

  10. پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے مرکزی کردار اکبر ایس بابر کون ہیں؟

  11. فواد چوہدری کے ن لیگ، پیلز پارٹی اور جے یو آئی پر فارن فنڈنگ کے الزامات

  12. کیا اب کوئی معافی مانگے گا؟ علی محمد خان کا سوال

  13. اکبر ایس بابر کا اظہارِ تشکر

  14. پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے لیے کس قسم کی فارن فنڈنگ ممنوعہ ہے؟

  15. خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں: تحریک انصاف کی سابق رہنما فوزیہ قصوری کا ردعمل

    پاکستان تحریک انصاف کی دیرینہ کارکن فوزیہ قصوری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جلد یا بدیر انصاف ہو گیا ہے۔

    خیال رہے کہ فوزیہ قصوری نے بھی نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

  16. تحریک انصاف کے لیے یہ فنڈنگ اورسیز پاکستانیوں کی ہے: فواد چوہدری

    الیکشن کمیشن کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیے یہ فنڈنگ اوور سیز پاکستانیوں کی ہے، یہ فارن فنڈنگ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے لیے یہ فنڈنگ اوور سیز پاکستانیوں کی ہے، شروع دن سے ہمارا موقف ہے کہ یہ فارن فنڈنگ نہیں ہے، آج الیکشن کمیشن نے بھی کہا کہ فارن فنڈنگ نہیں ہے، اب اگلا مرحلہ شروع ہوگا جس میں ہم بتائیں گے کہ 16 اکاؤنٹس بھی قانونی ہیں۔

    اپنے ردعمل میں انھوں نے مزید کہا کہ سمجھ نہیں آتی ، ن لیگ جے یو آئی نے اورسیز پاکستانیوں کو اپنا دشمن کیوں سمجھ لیاہے۔

    فواد چوہدری نے مزید کہا کہ کسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ اپنی فنڈنگ عوام سے چھپائے۔ الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا فیصلہ آپ نے کر لیا اب دیگر جماعتوں کا فیصلہ بھی جلد کر لیں، آڈیٹر نے کہا کہ یہ اکاؤنٹس کلیئر ہیں، یہ 16 اکاؤنٹس سبسڈری اکاونٹس ہیں۔

    فواد چوہدری نے مزید کہا کہ جماعت کو خطرہ صرف ایک ہوتا ہے کہ عوام میں مقبولیت کھو دیں، ہمیں تو یہ خطرہ نہیں ہے، یہ خطرہ تو ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو ہے۔

  17. پنجاب اسمبلی میں چیف الیکشن کمشنر کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرار داد پیش

    پنجاب اسمبلی میں چیف الیکشن کمشنر کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرار داد پیش کر دی گئی ہے۔ یہ قرارداد پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ، سعدیہ تیمور اور سمیرا کومل نے پیش کی ہے۔ اس قرارداد میں تحریک انصاف کے خلاف صبروتحمل کا مظاہرے کرتے ہوئے اور ہر طرح کے مبینہ دباؤ کو مسترد کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

  18. پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت، ’عمران خان نے پانچ برس الیکشن کمیشن کو غلط معلومات دیں‘

  19. تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ فارن فنڈنگ ثابت نہیں ہوئی ہے البتہ جو فنڈنگ ضبط کرنے سے متعلق فیصلہ دیا گیا ہے، اسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

    فواد چوہدری نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ الیکشن کمشین کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ فارن فنڈنگ نہیں ہوئی ہے اور جہاں تک تعلق ہے 16 اکاؤنٹس کا تو وہ بھی ثابت کریں گے وہ قانونی ہیں۔

    فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ یہ اصول تمام جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے، اب ہم آپ سے امید رکھتے ہیں کہ آپ جلد سے جلد باقی جماعتوں کی تفصیلات سامنے لے کر آئیں گے۔

  20. وزیراعظم اور آرمی چیف کا ٹیلیفونک رابطہ: 'پوری قوم اس حادثے پر انتہائی مغموم اور افسردہ ہے‘

    وزیراعظم شہباز شریف کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے آرمی ایوی ایشن کے لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کیں۔ آرمی چیف نے گزشتہ شب سے جاری تلاش کی کارروائیوں سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے 12 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت آرمی کے 6 افسران اور جوان کی سلامتی سے متعلق اپنی تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ایک بہترین پروفیشنل اور نہایت اچھے انسان ہیں، دعاگو ہوں کہ ہیلی کاپٹر میں سوار تمام لوگ بحفاظت ہوں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے ان بہادر بیٹوں کی بحفاظت واپسی کے لیے خصوصی دعا کریں۔ پوری قوم اس حادثے پر انتہائی مغموم اور افسردہ ہے۔

    وزیراعظم نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدگان کی مدد کرنے والے یہ فرض شناس بیٹے خدمت کی اعلی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ہے اپنے بھائیوں بہنوں، بچوں کی خدمت کا وہ عظیم جذبہ ہے، جو پاکستان کی حقیقی طاقت ہے۔