کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دبئی میں رجسٹرڈ برسٹل انجینیئرنگ سروسز سے حاصل کردہ 49 ہزار 965 ڈالر، سوئٹزرلینڈ میں رجسٹرڈ ای پلینیٹ ٹرسٹیز سے حاصل کردہ ایک لاکھ ڈالر، اور برطانیہ میں رجسٹرڈ ایس ایس مارکیٹنگ لمیٹڈ سے حاصل کردہ 1741 ڈالر بھی کمپنیوں سے سیاسی جماعت کو فنڈنگ کی پابندی کے زمرے میں آتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی نے امریکہ میں کمپنیوں کے ذریعے امریکی شہریوں اور امریکہ میں قائم کمپنیوں سے عطیات اور چندے وصول کرنے کے لیے چندہ مہم چلائیں۔
کمیشن کے مطابق ان کمپنیوں نے امریکی قانونی تقاضے تو پورے کیے مگر پاکستان میں کام کرنے والی سیاسی جماعتوں سے متعلق پاکستانی قوانین کی پاسداری نہیں کی جس کے تحت کمپنیاں اور غیر ملکی شہری ایسے عطیات نہیں دے سکتے۔
کمیشن کے مطابق امریکہ میں قائم پی ٹی آئی امریکہ ایل ایل سی 6160 نے کُل پانچ لاکھ 49 ہزار امریکی ڈالر منتقل کیے جس میں سے 70 ہزار 960 ڈالر غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے حاصل کیے گئے۔
اسی طرح پی ٹی آئی امریکہ ایل ایل سی 5975 نے 13 غیر ملکی شہریوں اور 231 غیر ملکی کمپنیوں سے اندازاً ایک لاکھ 13 ہزار 948 ڈالر کی رقم پی ٹی آئی پاکستان کو منتقل کی۔
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کی مزید کیا تفصیلات دی ہیں؟
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں ان غیرملکی افراد اور کمپنیوں کے نام بھی درج کیے ہیں جن سے تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز حاصل کیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق تحریک انصاف نے ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی سے 28 فروری 2013 میں 324,000 ڈالر یعنی تین لاکھ 24 ہزار ڈالر وصول کیے۔
14 مارچ 2103 میں 1,300,000 ڈالر یعنی 1 اعشاریہ تین ملین ڈالر لیے اور دو اپریل 2014 میں تحریک انصاف کو 497,500 جو چار لاکھ 97 ہزار پانچ سو ڈالر بنتے ہیں وصول کیے۔
یوں مجموعی طور پر تحریک انصاف نے ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے 2,121,500 فنڈز وصول کیے ہیں جو دو اعشاریہ ایک ملین ڈالر بنتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹن کرکٹ کمپنی کیمن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے، جو دنیا کا پانچواں بڑا بینکنگ سینٹر بنتا ہے اور یہ آئی لینڈ ٹیکس سے مستثنی کمپنیوں کے لیے ٹیکس ہیون کا درجہ رکھتا ہے۔
برسٹل انجنیئرنگ سے حاصل کیے گئے فنڈز
برسٹل انجنئیرنگ سروسز کمپنی دبئی میں رجسٹرڈ ہے۔ دبئی کے قانون کے تحت کوئی شخص یا کمپنی کسی سیاسی جماعت کو فنڈز نہیں دے سکتی۔ تاہم اجازت حاصل کر کے وہ خیراتی مقاصد کے لیے چندہ دے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے قانون کے تحت کسی بھی ملکی اور غیر ملکی کمپنی سے کوئی سیاسی جماعت فنڈز حاصل نہیں کر سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق برسٹل انجنئیرنگ سے تحریک انصاف نے 11 مارچ 2013 میں 49 ہزار 965 ڈالرز کے فنڈز وصول کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے ان فنڈز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔
تحریک انصاف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورک کی ایک نجی کمپنی 'ای پلانٹ ٹرسٹیز' سے ایک لاکھ ڈالر حاصل کیے ہیں۔ یہ کمپنی بھی کیمن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے۔
برطانوی کمپنی سے لیے گئے فنڈز
ایس ایس مارکیٹنگ سے تحریک انصاف نے 1,741 ڈالرز وصول کیے ہیں۔ یہ برطانوی شہر مانچسٹر میں رجسٹرڈ ایک نجی کمپنی ہے۔
امریکی کمپنیوں اور غیرملکی شہریوں سے لیے جانے والے فنڈز
تحریک انصاف نے کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں فنڈز حاصل کرنے کے لیے کمپنیاں بنائی ہیں۔
امریکہ میں 'لمیٹڈ لیابلٹی کمپنی' (ایل ایل سی) کا تصور
الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے چئیرمین کی منظوری سے امریکہ میں دو ایسی کمپنیاں قائم کیں جو کہ پاکستان کے سیاسی جماعتوں سے متعلق قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ میں پی ٹی آئی کی رجسٹرڈ کمپنیوں نے یہ فرق بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا کہ ان کمپنیوں نے صرف پاکستان کی شہریت کے حامل افراد سے ہی فنڈز لیے یا پھر کمپنیوں اور غیر ملکیوں سے بھی چندہ لیا ہے۔
فیصلے کے مطابق جب دستاویزات کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ تحریک انصاف کی امریکہ میں رجسٹرڈ ان دو کمپنیاں انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ سٹینڈرڈ پر عمل پیرا نہیں ہوئیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے امریکہ سے بھی ممنوعہ فنڈز جمع کر کے پالستان میں اپنی جماعت کی اکاؤنٹس میں بھیجے ہیں۔
اپریل 2013 میں پاکستان تحریک انصاف کو امریکہ سے تین لاکھ 84 ہزار ڈالرز ملے۔ مئی 2013 میں ایک لاکھ 65 ہزار ڈالرز ملے۔
یوں امریکہ سے تحریک انصاف کو مجموعی طور پر پانچ لاکھ 49 ہزار ڈالرز کے فنڈز ملے۔
امریکہ میں غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے تحریک انصاف کو 70,960 ڈالرز ملے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل یا کسی بھی ملکی سرکاری و غیر سرکاری کمپنی سے کوئی بھی فنڈ براہ راست یا بلواسطہ نہیں لیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح تجارتی کمپنی اور پروفیشنل ایسوسی ایشن سے بھی فنڈز حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
الیکشن کمیشن نے لکھا کہ قانون کے تحت صرف افراد سے فنڈز لیے جا سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے لکھا کہ جس طرح قانون سازوں نے ملکی کمپنی سے بھی فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دیا ہے ایسے ہی غیر ملکی کمپنیوں سے بھی فنڈنگ لینا ممنوع ہے۔
الیکشن کمیشن نے متعلقہ قانون اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو چیز براہ راست نہیں کی جا سکتی وہ بلواسطہ بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ان افراد اور کمپنیوں کے نام بھی بتائے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں تحریک انصاف کو کینیڈا اور آسٹریلیا سے بھی ملنے والے چندے کے بارے میں تفصیلات درج کی ہیں۔