آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نیوٹرلز نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں جب چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہوا تو نیوٹرلز نے سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی۔ ’اسے تسلیم کرنا ہماری بڑی حماقت تھی۔‘

لائیو کوریج

  1. آئی ایم ایف کی مالی امداد کے لیے امریکہ سے بات کرنا آرمی چیف کا کام نہیں: عمران خان, فراز ہاشمی، بی بی سی اردو، لندن

    پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مالی امداد کے جلد اجرا کے لیے امریکی حکام سے رابطہ کرنے کی اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ 'آرمی چیف کا کام نہیں تھا۔'

    پاکستان کے ایک ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز پر جمعے کے روز نشر ہونے والے انٹرویو میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ کی طرف سے امریکی ڈپٹی سکریٹری آف سٹیٹ وینڈی شرمن سے رابطہ کرنے کی خبروں کے بارے میں عمران خان سے تبصرہ کرنے کو کہا گیا تھا۔

    جمعے کے روز بعض غیر ملکی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی ڈپٹی سکریٹری آف سٹیٹ وینڈی شرمن سے رابط کیا اور آئی ایم ایف سے قریب ایک اعشارہ دو ارب ڈالر کی مالی امداد کے جلد اجرا کے بارے میں بات کی۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعے کو جنرل باجوہ اور وینڈی شرمن کے درمیان رابطے کے بارے میں خبروں کی تصدیق کی ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دفتر خارجہ اس بارے میں آگاہ نہیں ہے کہ جنرل باجوہ نے ونڈی شرمن سے پاکستان کی اقتصادی صورت حال پر بات کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کا شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر اس بارے میں تبصرہ کرے گا۔‘ تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے تاحال ان اطلاعات پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جنرل باجوہ نے ’پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے آئی ایم ایف سے قرض کی جلد فراہمی میں تعاون کے لیے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے۔‘ اس خبر میں سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا کہ ’آرمی چیف نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے فون پر بات کی تھی۔۔۔ پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے آرمی چیف واشنگٹن کی توجہ مبذول کروانے پر مجبور ہوئے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کا آئی ایم ایف سے سٹاف کی سطح پر ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ساتویں اور آٹھویں مشترکہ پروگرام میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو جو چھ ارب ڈالر فراہم کرنے ہیں، اس کی قریب ایک اعشارہ دو ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری ہونی ہے۔

    یہ رقم جس کی پاکستان کو اپنی موجودہ معاشی صورت حال میں اشد ضرورت ہے وہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو سطح پر معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے نہیں مل پا رہی۔ اطلاعات کے مطابق ایگزیکٹیو سطح پر معاہدہ اگست کے آخر تک تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔

    ’امریکہ ہماری مدد کرے گا اور ہم سے مطالبہ نہیں کرے گا؟‘

    آرمی چیف کے امریکہ سے رابطے کے سوال پر تبصرے سے قبل عمران خان نے اپنے مخصوص انداز میں ایک دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا کہ جب امریکہ مدد کرے گا تو کیا وہ کچھ مطالبہ نہیں کرے گا؟‘

    عمران خان نے کہا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت پر نہ تو ملک میں کسی کو بھروسہ ہے، نہ ہی آئی ایم یف کو بھروسہ ہے اور نہ ہی ملک کے باہر ان پر کوئی اعتماد کرتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسی صورت حال میں آرمی چیف نے یہ ذمہ داری ادا کی ہے۔

    عمران خان نے ان کی حکومت کی طرف سے دی گئی قومی سلامتی پالیسی کا ذکر کیا اور کہا کہ اس پالیسی میں ملک کی سلامتی کے ساتھ ساتھ ملکی کی معاشی سلامتی پر بھی زور دیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر جنرل باجوہ نے امریکی حکام سے بات کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان معاشی طور پر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ آرمی چیف کا تو کام نہیں ہے اور اگر اس طرح ملک کمزور ہوتا چلا گیا تو آپ کا کیا خیال ہے کہ امریکہ ہماری مدد کرے گا اور ہم سے مطالبہ نہیں کرے گا؟‘

    عمران خان نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ آپ کے خیال میں امریکہ کیا مطالبہ کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ جس طرح کے مطالبے پاکستان سے کیے جاتے ہیں اگر وہ اس حد تک گیے تو پاکستان کی سکیورٹی کمزور ہو گی۔ عمران خان نے اس ضمن میں پاکستان کی مخلوط حکومت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ معاشی بحران اس سے نکلنے کا واحد راستہ صاف اور شفاف عام انتخابات ہیں۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انتخابات کے بعد پانچ سال کے لیے ایک حکومت قائم ہو گی جس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور معیشت کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

    صوبہ پنجاب میں حال ہی میں 20 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود عوام نے اتنی بڑی تعداد میں ووٹ تحریک انصاف کے حق میں ڈال کر اس کو جو کامیابی دلائی ہے اس نے بقول ان کے ’آپریشن رجیم چینج کو پلٹ کر رکھ دیا ہے۔‘

  2. بریکنگ, پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار سبطین خان سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

    پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار سبطین خان سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں۔ سبطین خان 185، سیف الملوک کھوکھر 175 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ چار ووٹ مسترد بھی ہوئے ہیں۔ نتائج کے مطابق سپیکر کے انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 364 ووٹ کاسٹ ہوئے۔

    پینل آف چیئرمین وسیم بادوزئی نے سبطین خان کی کامیابی کا اعلان کیا۔ پینل آف چیئرمین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے سبطین خان ایوان کے نئے کسٹوڈین ہوں گے۔

    ن لیگ اوراتحادی جماعتوں کے امیدوار سیف الملوک نے سبطین خان کو کامیابی پر مبارک باد دی۔ سبطین خان کی کامیابی پر تحریک انصاف کے اراکین نے ایوان میں نعرے بازی کی۔

    بعد ازاں سبطین خان نے بطور سپیکر پنجاب اسمبلی حلف اٹھایا۔ پینل آف چیئرمین وسیم خان بادوزئی نے ان سے حلف لیا۔

  3. سپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ تحریک انصاف اور ق لیگ نے سپیکر کے لیے سبطین خان کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ مسلم ن نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سیف الملوک کھوکھر کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

  4. سپیکر کا انتخاب: پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے، جس میں سپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔ دونوں اطراف سے اکثریت کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ سپیکر کی نشست پرویز الٰہی کے سپیکر بننے سے خالی ہوئی تھی۔

    وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ان کے پاس اکثریت ہے اور ان کا نامزد کردہ امیدوار سبطین خان سپیکر بن جائیں گے۔

    دوسری طرف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا، اللہ کو پتا ہے، ہم جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق ہمارے ارکان کی تعداد اتنی ہے جتنی پہلے تھی، ہم اسمبلی کے وزیر اعلیٰ، وہ عدالتی وزیر اعلیٰ ہیں۔

  5. پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے قبل تحریک انصاف اور ق لیگ کا مشترکہ اجلاس

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت تحریک انصاف اور مسلم لیگ قائداعظم کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔

    شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چودھری، عمر سرفراز چیمہ، عون عباس بپی، راجہ بشارت، میاں محمود الرشید اور اراکین پنجاب اسمبلی نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں 186 اراکین اسمبلی کا سپیکر پنجاب اسمبلی کے حکومتی امیدوار سبطین خان کو کامیاب کرانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    پارلیمانی پارٹی کا سپیکر کے انتخاب کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ارکان اسمبلی کو الیکشن طریقہ کار پر بھی بریفنگ دی گئی۔

  6. پندرہ کاروباری دنوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان میں مقامی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت مسلسل پندرہ سو سے ہونے والا اضافہ جمعے کے دن رک گیا جب ایک ڈالر کی قیمت میں 57 پیسے کی کمی دیکھی گئی۔

    ڈالر کی قیمت گذشتہ روز ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 239.94 تک پہنچ گئی تھی، جس میں کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعے کو کمی دیکھی گئی اور ڈالر انٹر بنک میں 239.57 کی سطح پر بند ہوا۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق درآمدات کے لیے جو دباؤ تھا اس میں کچھ کمی آئی، جس نے ڈالر کی قیمت کو بڑھنے نہ دیا۔

  7. سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست کی سماعت

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج نیب ترمیمی قانون کے خلاف عمران خان کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نیب ترامیم کے خلاف درخواست زیر سماعت ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔

    اس پر پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کا اطلاق ایک ہائیکورٹ نہیں پورے ملک پر ہو گا۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہو گئے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے ترامیم پارلیمانی جمہوریت کے منافی ہے، تو بتایا جائے کہ کونسی ترمیم آئین کے برخلاف ہے۔

    ’کیا یہ دلیل قابل قبول ہے کہ کوئی قانون پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہونے پر کالعدم کی جائے؟‘ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ترامیم کیس میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کر چکی ہے۔

    اس کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

  8. فواد چوہدری: جو مرضی کر لیں عمران خان کو آنے سے نہیں روک سکتے

    سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتی اتحاد اُن کی واپسی سے کانپ رہا ہے لیکن ’یہ جو مرضی کر لیں عمران خان کو واپس آنے سے یہ نہیں روک سکتے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اُنھیں پنجاب کا وزیر داخلہ بنایا جا رہا ہے تو اُنھوں نے اس کی تردید کی۔

  9. اسد عمر اور شاہ محمود قریشی پنجاب اسمبلی میں

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر اور شاہ محمود قریشی پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے نمبر پورے ہیں اور ’خرید و فروخت‘ کا وقت گزر چکا ہے۔

    ان کے علاوہ شاہ محمود قریشی نے آج اخبار فنانشل ٹائمز میں پی ٹی آئی کو مبینہ فارن فنڈنک کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ یہ کیس فارن فنڈنگ کا کیس ہے ہی نہیں۔

    ان سے کچھ دیر پہلے پی ٹی آئی رہنما فرّخ حبیب نے بھی ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکنش کمیشن کے پاس اس معاملے کو سننے کا اختیار ہی نہیں ہے۔

  10. پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کا انتخاب آج ہو گا

    پنجاب اسمبلی آج اپنے نئے سپیکر کا انتخاب کرے گی۔ واضح رہے کہ اس عہدے پر چوہدری پرویز الٰہی تھے تاہم اب اُن کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد ہاؤس میں سپیکر کا عہدہ خالی ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف اور اس کے اتحادیوں کی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ہے اور وہ پی ٹی آئی رکن سبطین خان کو سپیکر منتخب کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے سیف الملوک کھوکھر کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

  11. اگر غیرقانونی کام ہوا ہے تو یہ عارف نقوی اور برطانوی حکام کا آپس کا معاملہ ہے: فواد چوہدری

    تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنی جماعت کو ملنے والی فنڈنگ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے یہ فنڈنگ دینے والے شخص 'عارف نقوی نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے بیان حلفی میں فنڈنگ کو قانونی قرار دیا تھا اور انھوں نے ایسا ہی بیان حلفی تحریک انصاف کو بھی جمع کروایا تھا۔'

    ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی غیرقانونی کام ہوا ہے تو یہ عارف نقوی اور برطانوی حکام کا آپس کا معاملہ ہے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 'جس طرح اوورسیز پاکستانی پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں اسی طرح وہ تحریک انصاف کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانیوں کا حق ہے کہ ان کو معلوم ہو کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو کون فنڈ کرتا ہے ابھی تک یہ راز سامنے کیوں نہیں آ رہا؟'

    ان کا کہنا تھا کہ 'فنڈنگ کیس میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ تینوں جماعتوں کی فنڈنگ کا فیصلہ اکٹھا آنا چاہیے، فنڈنگ کے قانون کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کو پتا ہو کہ سیاسی جماعت کی فنڈنگ کون کر رہا ہے تحریک انصاف نے 40 ہزار سے زیادہ ڈونرز کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو دی ہیں۔'

    خیال رہے کہ پاکستان میں حکمران اتحاد پی ڈی ایم الیکشن کمیشن سے مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ تحریک انصاف کو ملنے والی غیرملکی فنڈنگ کے مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ جلد سنایا جائے۔

    فواد چوہدری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاملے کا تعلق اسرائیلی لابی سے ہے اور پاکستانی میڈیا کو لوگوں کو ولن بنا کر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا 'پاکستانی میڈیا سے کہتا ہوں کم از کم اپنے لوگوں کو اس لیے ولن بنا کر پیش نہ کریں کہ امریکہ نے کیس کر دیا ہے۔ عارف نقوی کی ابراج 14 بلین ڈالر کی کمپنی بن چکی تھی جب بھی کوئی مسلمان خصوصاً پاکستانی مسلمان کا اثر و نفوذ ایک حد سے اوپر جاتا ہے اسرائیلی لابی کو پسند نہیں آتا۔'

    ان کے مطابق 'عارف نقوی پر امریکہ نے کیس کیا ہے۔ کیس کیا ہے کہ آپ نے امریکی مالیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی، اس طرح کے الزامات لگا کر بی سی سی آئی کو بند کیا گیا۔ سوال یہ ہے ہم کیوں ایک پروپیگنڈے کا حصہ بنیں جب کہ ہمیں معلوم ہے اس کے پیچھے اسرائیلی لابی ہے۔'

  12. بلاول بھٹو زرداری کی قائم مقام افغان وزیرِ خارجہ سے ملاقات

    وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے۔

    یہ ملاقات تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی سائیڈ لائنز میں ہوئی۔ پاکستانی سرکاری اعلامیے کے مطابق بلاول بھٹو نے افغانستان میں حالیہ زلزلے کے تناظر میں افغان عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال اور عالمی دنیا سے منسلک افغانستان کے عزم پر قائم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان معیشت اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔

    امیر خان متقی نے بلاول بھٹو کا انسانی بنیادوں پر امداد بھجوانے اور چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ذریعے وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے پر غور کر سکتا ہے جس سے علاقائی استحکام اور سکیورٹی صورتحال بہتر ہو گی۔

  13. شیخ رشید: ’نئے الیکشن پر معاملات طے پا گئے ہیں‘

  14. ایس اینڈ پی کریڈٹ ریٹنگ نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کر دیا, تنویر ملک، صحافی

    بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ادارے ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگ نے پاکستان کی طویل مدتی ریٹنگ کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا ہے۔

    ادارے کی جانب سے پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کے شعبے میں خراب صورتحال کی بنیاد پر ریٹنگ منفی کی گئی جس کی وجوہات میں مقامی کرنسی کی کم ہوتی ہوئی قدر، دنیا میں مشکل مالیاتی حالات اور اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔

    ادارے نے کہا کہ اگر پاکستان کے بیرونی شعبے کے اشاریے مزید خراب ہوئے تو پاکستان کی ریٹنگ اور کم کی جا سکتی ہے تاہم اگر ان میں بہتری پیدا ہوتی ہے تو آؤٹ لک کو دوبارہ منفی سے مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہتری کی علامت پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  15. زرِ مبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے میں 82 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 82 کروڑ سات لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرِ مبادلہ ذخائر میں کمی کی وجہ بیرونی قرض کی ادائیگی کو قرار دیا ہے۔

    مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے پاس موجود ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 75 کروڑ چار لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی جو 8.575 ارب ڈالر کی سطح تک گر گئے جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں سات کروڑ تین لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 5.839 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔

    ملک کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 14.416 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ ہے۔

  16. امریکہ کے ساتھ براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے: سلمان صوفی

    وزیر اعظم سٹریٹیجک ریفارمز سیل کے سربراہ سلمان صوفی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے حامی بھری ہے کہ پاکستان سے براہ راست پروازوں کو بحال کیا جائے گا۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ امریکہ ’پاکستان کو براہ راست پروازوں کی اجازت دینے کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے پی آئی اے کی امریکہ پروازیں بحال کرنے کے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  17. حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے: سربراہ پی ڈی ایم

    وفاق میں حکومتی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ’حکومت اپنی مدت پوری کرے گی‘ اور ’الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے۔‘

    انھوں نے مشترکہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’عمران خان کے جھوٹے بیانیے کو شکست دیں گے۔ اس قومی مجرم کے گریبان تک جلد قانون کا ہاتھ پہنچے گا۔‘

    انھوں نے الیکشن کمیشن سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کی جانب سے حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس بھیجے جس کے ذریعے ایک فُل کورٹ ملک کو ’سیاسی و آئینی بحران‘ سے نکال سکے۔

  18. 11 ارکان کے استعفوں کی منظوری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: فواد چوہدری

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’سپیکر قاسم سوری پہلے ہی استعفیٰ منظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوا چکے ہیں۔

    ’آج سپیکر کے 11 استعفے منظور کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ یہ خام خیالی ہے کہ آپ ان حلقوں میں ضمنی الیکشن کرائیں گے۔ ملک عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اور موجودہ حکمراں انتخابات نہیں روک سکتے۔‘

  19. ’کپتان کی ٹیم کا اوپنر بننے پر فخر‘

    تحریک انصاف کے 11 ارکان کے استعفے قبول کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے علی محمد خان طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ انھیں ’کپتان کی ٹیم کا اوپنر بننے پر فخر‘ ہے۔

  20. شجاعت حسین، طارق بشیر چیمہ مسلم لیگ ق کے ’عہدوں سے فارغ‘

    مسلم لیگ ق کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے شرکا کی متفقہ منظوری کے بعد مرکزی صدر پاکستان چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی سیکریٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کو فی الفور ان کے عہدوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 118/119 کے تحت مسلم لیگ ق کے مرکزی صدر اور مرکزی سیکریٹری جنرل کی خالی نشستوں پر دس یوم کے اندر انتخابات کروانے کے لیے کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔