چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا نام لیے بغیرترجمان الیکشن کمیشن ہارون شنواری نے ٹوئٹر پرکمیشن پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیاہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے چند فیصلوں اور واقعات کے حوالے سے گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے جبکہ حقائق کچھ یوں ہیں۔
ترجمان کے مطابق اوورسیز ووٹنگ سے متعلق جو سسٹم نادرا نے بنایا تھا اس کی رپورٹ سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت الیکشن کمیشن پارلیمان میں جمع کرا چکا ہے مگر ابھی تک اس رپورٹ پر بحث کا آغاز ہی نہیں ہو سکا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس رپورٹ پر تحریک انصاف کی حکومت نے ایک عالمی ہسپانوی فرم سے آڈٹ بھی کرایا، جس کے بعد اس فرم کے نمائندوں اور اس وقت کے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکریٹری نے یہ کہا کہ یہ بات واضح ہوگئی کہ نادرا نے جو سسٹم متعارف کرایا ہے اس کے تحت ووٹنگ مشکوک اور متنازع ہو گی۔
ترجمان نے وضاحت میں پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن کو ایسا سسٹم اختیار کرنا چاہیے جس کے بارے میں بین الاقوامی ماہرین اور خود حکومتی نمائندے کی یہ رائے ہوکہ وہ الیکشن متنازع کر دے گا۔
ترجمان کے مطابق دنیا کے دو ہی ممالک ایسے ہیں جہاں ای وی ایم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک انڈیا اور دوسرا برازیل۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے اس سسٹم کو اختیار کرنے میں 22 سے 25 سال صرف کیے ہیں جبکہ انڈین ریاستوں میں مختلف مراحل میں انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ای وی ایم سے متعلق جب الیکشن کمیشن نے برازیلین سفیر سے ملاقات کی توانھوں نے ایک قابل غور جملہ کہا کہ اگر ای وی ایم کا سسٹم اکتوبر 2023 کے الیکشن تک پاکستان میں استعمال ہونا ایک معجزہ ہوگا۔
سینیٹ کے الیکشن میں سیکرٹ بیلٹنگ کا معاملہ
الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے الیکشن میں سیکرٹ بیلٹنگ، یوسف رضا گیلانی کے کامیابی کے نوٹیفکیشن کو روکنے سے انکار اور علی موسی گیلانی کے خلاف کارروائی سے متعلق بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سب قانون کے تحت کیا گیا ہے۔
الیکشن کمشین کی ضمنی انتخابات سے متعلق وضاحت
الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں 20 نشستوں پرانتخابات شفاف کرائے اور حکومت وقت کو کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کرنے دی۔ ترجمان کے مطابق جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں ان میں 80 فیصد کامیاب امیدوار حکومتی جماعت سے نہ تھے۔
ترجمان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی بھی حکومت کو الیکشن کے عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی۔
ڈسکہ میں ری پول کا آرڈر کیوں دیا؟
الیکشن کمیشن کے مطابق ری پول کا آرڈ اس لیے دیا کہ وہاں جو کھلی دھاندلی کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ترجمان کے مطابق اعلی سطح پر کی جانے والی انکوائریاں یہ بات ثابت کر چکی ہیں۔
اغوا ہونے والے پریزائیڈنگ افسران، پولیس اور انتظامیہ جو الیکشن کے عمل میں شامل تھے انھوں نے اپنے بیان میں دھاندلی کے حوالے سے حیران کن حقائق کا انکشاف کیا۔
ترجمان نے سوال اٹھایا کہ 'کیا اب بھی ری پول کا آرڈر نہ دیا جاتا'؟