بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ لسبیلہ کے مقامی لوگوں سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ہیلی کاپٹر کی تلاش کریں جس میں کورکمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خان سمیت چھ فوجی اہلکار سوار تھے۔
ضلع لسبیلہ جام کمال خان کا آبائی ضلع ہے اور وہ اسی ضلع سے رکن بلوچستان اسمبلی بھی ہیں۔
ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خان کی ایک بچے کو گود اٹھانے والی تصویر پر مشتمل ایک ٹویٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ ’تمام مقامی افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ لسبیلہ میں ساکران، سسی پنوں اور پبنی کے علاقے میں ہیلی کاپٹر کو تلاش کریں‘۔
دریں اثنا لسبیلہ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ساکران سمیت دیگر علاقوں میں لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کو تلاش کیا جارہاہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے والا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر نے کہاں سے اڑان بھری تھی؟
لاپتہ ہونے والا ہیلی کاپٹر جس میں کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خان اور دیگر فوجی حکام سوار تھے، ضلع لسبیلہ کے ہیڈکوارٹر اوتھل سے اڑان بھری تھی۔
خیال رہے کہ ضلع لسبیلہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بُری طرح سے متائثر ہوا ہے۔
ضلع کے مخلتف علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں جہاں انتظامیہ، پاکستان فوج، ایف سی اور نیوی کے اہلکار ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
لسبیلہ میں انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ پیر کولیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خود وہاں ریلیف کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے پہنچے تھے تاکہ ان سرگرمیوں میں تیزی لائی جاسکے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر اوردیگر فوجی اہلکار شام پانچ بجے کے قریب اوتھل سے ہیلی کاپٹر میں روانہ ہوئے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے یہ ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوا۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے ساتھ ہی جہاں دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے تلاش کا سلسلہ شروع کی وہیں پولیس کو بھی موبلائز کیا گیا لیکن رات گئے تک ہیلی کاپٹر کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر مشکلات کے علاوہ موبائل فون نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
لسبیلہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب میں اندازاً سات سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جنوب میں لسبیلہ کی سرحد حب سے لگتی ہے جو کہ بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے جبکہ حب پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی سے متصل ہے۔
کراچی کے علاوہ اس ضلع کی سرحدیں خضداراور آواران سے بھی لگتی ہیں اور خضدار اور آواران کے ساتھ اس کے سرحدی علاقوں میں سنگلاخ پہاڑی سلسلے بھی موجود ہیں۔
آواران کا شمار ان اضلاع میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متائثر ہیں۔ خضدار کے پہاڑی علاقوں سے بارش کا پانی لسبیلہ میں داخل ہوتا ہے اور بعض اوقات وہاں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
کراچی اور بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں کے درمیان آمدورفت اسی ضلع سے ہو تی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل اس ضلع کو ریاست کی حیثیت حاصل تھی اور جام کمال خان کے آباﺅ اجداد اس کے سربراہ رہے۔