تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کے فیصلے میں سقم کے پہاڑ ہیں جن کے خلاف پی ٹی آئی اپیل کرے گی اور عدالت سے تادیبی کارروائی کے لیے کہیں گے کیوں کہ یہ آئین اور قانون سے ماورا ہیں۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ ’تحریک انصاف پر پابندی لگانا ن لیگ کے بس کی بات نہیں۔ ن لیگ الیکشن سے اس لیے بھاگ رہی ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان جیت جائیں گے۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی پارٹی کو تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ’ہمیں امید ہے کہ عدالت میں یہ فیصلہ کالعدم ہو جائے گا۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے پی ڈی ایم کے بازو کے طور پر کام کیا اور اوورسیز پاکستانیوں کے خلاف مہم کا حصہ بنا۔‘
’کہا گیا کہ فارن نینشلز نے فنڈنگ کی۔ سوال ہے کہ یہ جاننے کا کیا طریقہ تھا کہ یہ واقعی فارن نیشنل ہیں؟ کیا پی ٹی آئی کو موقع دیا گیا کہ وہ بتائے کہ یہ لوگ کون تھے؟ ان میں بہت سے اوورسیز پاکستانی ہیں۔‘
’19 نمبر پر بینش فریدی کا نام ہے جو پاکستانی ہیں اور برطانیہ کی شہری ہیں۔‘
فواد چوہدری نے ان کا ویڈیو پیغام چلا کر دکھایا اور دیگر افراد کے نام بھی گنوا کر دعوی کیا کہ الیکشن کمیشن کی فہرست میں بہت سے نام ایسے لوگوں کے ہیں جو اوورسیز پاکستانی ہیں۔
’ریتا سیٹھی انڈین نہیں، امریکن ہیں جن کے شوہر ناصر حسین نے جوائنٹ اکاوئنٹ سے پیسے دیے۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے سنی سنائی باتوں پر کارروائی کی۔ صرف ہمیں نوٹس دینا تھا، ہم تفصیلات دے دیتے۔
جن 16 اکاوئنٹس کو چھپانے کی بات کی جا رہی ہے، ان کی تمام تفصیلات دی گئیں۔‘