آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نیوٹرلز نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں جب چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہوا تو نیوٹرلز نے سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی۔ ’اسے تسلیم کرنا ہماری بڑی حماقت تھی۔‘

لائیو کوریج

  1. ’سب سے بات کرسکتے ہیں لیکن چوروں سے ڈیل کی تو معاشرہ تباہ ہوگا‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس خطاب کے دوران مزید کہا کہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ شفاف انتخابات ہیں، ورنہ انتشار بڑھے گا کیونکہ حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’حالات مشکل ہیں، جتنی دیر یہ حکومت رہے گی، مزید مشکل ہوگی۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ ایک بااعتماد الیکشن کمیشن کی ضرورت ہے جس پر سب کو اعتماد ہو۔

    عمران خان نے الزام لگایا کہ ایک سے ایک بڑا ڈاکو بیٹھ کر عدالتوں کو دھمکیاں دے رہا تھا۔ ’یہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ قانون صرف عام لوگوں کے لیے ہے۔ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ان سے بات کیوں نہیں کرتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب سے بات کرسکتے ہیں لیکن چوروں سے ڈیل کرلیں تو معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔‘

  2. عمران خان: ’قوم کی توہین کی گئی، ان لوگوں کو مسلط کیا گیا جو 30 برس سے کرپشن کر رہے تھے‘

    سابق وزیراعظم اور سربراہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام ایک قوم بننے کی طرف جا رہی ہے۔

    پاکستان کے مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے یوم تشکر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قوم کی توہین کی گئی اور ہم پر ان لوگوں کو مسلط کیا گیا جو 30 برس سے کرپشن کر رہے تھے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت ہٹانےکے بعد ہماری جماعت کو دبانےکا پروگرام بنایا گیا۔

    ’25 مئی کو بیرونی سازش اور امپورٹڈ حکومت کے خلاف پر امن احتجاج کی کال دی لیکن اس دن ظلم کیا گیا اور لوگوں پر تشدد کیا گیا۔

    عمران خان نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں جس طرح لوگ ووٹ ڈالنے نکلے، اس نے ثابت کر دیا کہ عوام ایک قوم بن رہی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارے پاس ملک کو بحران سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے صاف اور شفاف الیکشن اور اس کے لیے ایسا الیکشن کمیشن بنانے کی ضرورت ہے، جس پر سب کو اعتماد ہو۔

    عمران خان نے کہا کہ ہم حکومت میں آ کر بیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ جمع کریں گے اور ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔

    سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ’جب تک ہم ملک میں انصاف قائم نہیں کریں گے، بڑح بڑے مافیاز کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔‘

  3. عطا اللہ تارڑ کو وزیر اعظم کا معاون خصوصی مقرر کر دیا گیا

    رہنما پاکستان مسلم لیگ نون عطا اللہ تارڑ کو وزیراعظم شہباز شریف کا معاون خصوصی مقرر کر دیا گیا ہے۔

    یہ عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا۔

  4. بریکنگ, عدالتی اصلاحات کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور کرلی گئی۔

    سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی قرارداد رہنما پاکستان مسلم لیگ نون اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

  5. بریکنگ, بلاول بھٹو: ’19ویں آئینی ترمیم کو منظور کرنا پیپلز پارٹی حکومت کی غلطی تھی‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ایک وقت پر پاکستان کے صدر کے پاس یہ اختیار ہوتا تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے ذریعے اپنی مرضی سے حکومتیں گھر بھیج دے لیکن ہم نے وہ اختیار لے لیا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ 58 ٹو بی اب صدر کے پاس نہیں لیکن نیا 58 ٹو بی عدالت کے پاس چلا گیا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط اس لیے کیے تھے تاکہ یہ ادارہ (پارلیمان) چلے، تاکہ سپریم کورٹ آزاد ہو، تاکہ تمام صوبوں کو ان کا حق ملے اور پاکستان کے عوام آزاد ہوں۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 19 ویں آئینی ترمیم کو منظور کرنا پیپلز پارٹی حکومت کی غلطی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں دھمکی دی گئی کہ 19 ویں ترمیم پاس کرو ورنہ اٹھارہویں ترمیم کو اڑا کر رکھ دیں گے۔‘

    بلاول نے کہا کہ اس وقت ہماری حکومت کو دھمکی دینے والوں کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے تھا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمارے لیے ایک آئین اور لاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا کردار متنازع نہیں ہونا چاہیے۔

  6. بریکنگ, فائز عیسیٰ ریفرنس: حکومت کا نظر ثانی کی درخواست واپس لینے، ریفرنس بنانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں نظرثانی کی درخواست (کیوریٹو ریویو) واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جھوٹا ریفرنس بنانے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے کابینہ کی سب کمیٹی قائم کر دی ہے جو ذمہ داران کے خلاف کارروائی پر رپورٹ دے گی۔

    رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ قاضی فائزعیسیٰ ایک معزز جج ہیں اور یہ کیوریٹو ریویو انھیں دباؤ میں رکھنے کے لیے دائر کیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ شہزاد اکبر جیسے غنڈوں نے فائزعیسیٰ کے ساتھ زیادتی کی۔

  7. وزیر اعظم شہباز شریف: ’آٹھ سال ہو گئے فارن فنڈگ کا فیصلہ نہیں آیا، کیا کسی نے سو موٹو لیا‘

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آٹھ سال ہو گئے لیکن تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں آیا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اس معاملے کا فیصلہ کیوں نہیں کرتے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کیا کسی نے اس معاملے پر سوموٹو لیا۔‘

    عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ’فیصلے حق اور انصاف پر ہونے چاہیے۔‘

  8. فرخ حبیب: ’عمران خان کل لاہور کا دورہ کریں گے اور پنجاب سے متعلق اہم فیصلے کریں گے‘

    رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب نے کہا ہے کہ عمران خان آج کے خطاب میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

    میڈیا سے گفتگو میں فرخ حبیب نے بتایا کہ عمران خان کل لاہور کا دورہ بھی کریں گے اور پنجاب سے متعلق اہم فیصلے کریں گے۔

    مسلم لیگ نون پر تنقید کرتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ 13 جماعتوں کے اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ پر حملہ کر کے بدترین مثال قائم کی۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’رانا ثنا اللہ کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ نون کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔‘

  9. پرویز الٰہی کی تقریبِ حلف برداری ’مکمل اہتمام سے‘ پی ٹی وی پر کیوں نشر نہ ہو سکی؟

  10. چوہدری شجاعت حسین: ’صاحبان اختیار ایک ایجنڈے یعنی معیشت ٹھیک کرنے کے لیے کام کریں‘

    پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ اس وقت ملکی حالات کو سدھارنے کی سب سے بڑی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔

    چودھری شجاعت حسین نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے سارے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ اس کی سیاسی وجوہات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’سیاسی وجوہات ضرور ہوں گی لیکن غریب آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں۔‘

    چودھری شجاعت حسین نے یہ بھی کہا کہ اختیارات رکھنے والے تمام لوگ ایک ایجنڈے یعنی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے سوچ بچار اور عملی طور پر اسے حل کرنے پر غور کریں۔

  11. شہباز شریف کی نااہلی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر

    پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عندلیب عباس نے شہباز شریف کی نا اہلی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں پیٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔

    ڈپٹی سیکرٹری پبلک ریلیشنز پنجاب کے مطابق اس پیٹیشن میں تمام ثبوت کے ساتھ جج صاحبان سے گزارش کی گئی ہے کہ بطور وزیر اعظم شہباز شریف نے اہم ملکی راز ایک مفرور اشتہاری مجرم نواز شریف کے سامنے رکھے۔

    پیٹیشن کے مطابق حسین نواز اور سلمان شہباز بھی بطور مجرم اہم سفارتی ملاقاتوں میں شامل رہے۔

  12. عطا اللہ تارڑ: ’انصاف کے ترازو میں عمران خان کا خط بھاری چوہدری شجاعت کا خط ہلکا‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے میں سپریم کورٹ کو فل کورٹ بٹھانے میں آخر کیا ممانعت تھی۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران عدلیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے والے سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل کچھ جج نواز شریف کو پارٹی لیڈر شب کے عہدے سے ہٹانے والے فیصلے میں بھی شامل تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انصاف کے ترازو میں عمران خان کا خط بھاری جبکہ چوہدری شجاعت کا خط ہلکا ہے۔

  13. سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ: کیا پارلیمان ایسا کر سکتی ہے؟

  14. سپریم کورٹ کے فیصلے پر مریم نواز کا ردِ عمل

  15. عمران خان فیصلے کے حق میں نکلنے پر قوم کے شکر گزار

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ گذشتہ رات سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت میں فوری طور پر باہر نکلنے پر قوم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    اُنھوں نے اعلان کیا کہ وہ آج رات 10 بجے عوام سے خطاب کریں گے اور خود مختار پاکستان کے حصول کا راستہ پیش کریں گے۔

  16. عمران خان کی پرویز الٰہی سے ملاقات

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی سے ملاقات کی ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں عمران خان نے چودھری پرویز الٰہی کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

    چودھری پرویز الٰہی نے عمران خان کے اعتماد کے اظہار کا شکریہ ادا کیا۔

  17. ان ہی ججز کے فیصلے پر عمران خان کو گھر جانا پڑا، فواد چوہدری

    فواد چوہدری نے کہا کہ انھی تین ججز پر مشتمل بینچ نے وہ فیصلہ کیا تھا جس کی بنیاد پر عمران خان کو جانا پڑا تھا۔ ’ہمیں اس فیصلے پر تحفظات ہیں مگر ہم نے عدلیہ کے فیصلوں کو ماننے سے کبھی انکار نہیں کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں شہباز شریف سے کہتا ہوں کہ حوصلے کا مظاہرہ کریں، دباؤ میں ان کی ٹیم اور حکومت منتشر نظر آتی ہے۔ حکومتی عملے اور حکومتی چینل کو پرویز الٰہی کے حلف کی کوریج سے روکا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت سے زیادہ الیکشن میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ’سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ فریم ورک طے کریں کہ الیکشن کیسے ممکن ہو پائے گا۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ موجود الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔

  18. بریکنگ, رانا ثنا اللہ پڑھ لیں کہ گورنر راج کن حالات میں لگایا جاتا ہے: فواد چوہدری

    پی ٹی آئی کے رہنما اس وقت میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ رانا ثنا اللہ پڑھ لیں کہ گورنر راج کن حالات میں لگایا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ کچھ دیر قبل رانا ثنا اللہ نے عندیہ دیا تھا کہ پنجاب میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہو گا کہ وفاقی حکومت کو کب گرانا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ صدرِ مملکت عارف علوی وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیں۔

    فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اتحاد کے پاس اس کے لیے نمبر پورے نہیں ہیں۔

  19. بریکنگ, کل کے فیصلے کو دیکھیں تو 25 لوگ غلط ڈی سیٹ ہوئے: رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ کل کے فیصلے کے تناظر میں پنجاب اسمبلی سے 25 لوگ غلط ڈی سیٹ ہوئے ہیں۔ یہ پیچیدگی در پیچیدگی ہے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ آئین کی شق 63 اے کی تشریح اُن کی رائے میں پائیدار نہیں رہے گی۔ اُنھوں نے سوال کیا کہ کیسے ممکن ہے کہ ووٹ کاسٹ بھی نہ ہو، گنا بھی نہ جائے اور رکن ڈی سیٹ بھی ہو جائے۔

    اُنھوں نے کہا کہ یہ بات وہ نہیں بلکہ تمام وکلا برادری کہہ رہی ہے۔ ’اسی بینچ کے پانچ میں سے دو ججز نے کہا کہ یہ آئین دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے۔ پارلیمنٹ کے علاوہ کسی ادارے کو اختیار نہیں دیں گے کہ وہ آئین میں ترمیم کرے۔‘

  20. ہماری حکومت صرف اسلام آباد میں نہیں ہے، وزیر داخلہ

    رانا ثنا اللہ سے سوال پوچھا گیا کہ ملک بھر میں اُن کی وفاق کے علاوہ کہیں بھی حکومت نہیں، تو اُنھوں نے صحافی کو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کہنے پر ٹوک دیا اور کہا کہ سندھ میں اور بلوچستان میں اتحاد کی حکومت ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا اپنا ایک اختیار اور دائرہ کار ہے، اس کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اس کی حکومت صرف اسلام آباد میں ہے۔