عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’خان کو باندھ کر ہرایا ہے، باندھ کر‘

    سابق معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عمران خان کو ’باندھ کر ہرایا‘ گیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ان سارے دنوں میں خان کو اکیلے لڑتے دیکھا۔ ایک بہادر کی طرح ۔ بہت کچھ دل میں ہے۔ دل میں ہی رہے تو اچھا ہے۔ بس اتنا ہی کہوں گا۔ خان کو باندھ کر ہرایا ہے باندھ کر۔‘

    انھوں نے ایک دوسرے ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’وزیراعظم نے دفتر سے جانے سے پہلے اپنا آخری حکم اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی درخواست پر انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا کیا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    ’کرپٹ مافیا نے جانے پر مجبور کیا‘

    سابق وزیر تعلیم شفقت محمود نے لکھا کہ یہ پاکستان کے لیے ’المناک دن‘ ہے۔

    وہ ٹوئٹر پر کہتے ہیں کہ ایک بے خوف رہنما کو کرپٹ مافیا نے نشانہ بنایا اور وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹنے پر مجبور کیا۔

    انھیں امید ہے کہ عمران خان ’دوبارہ اٹھیں گے کیونکہ پاکستانی عوام ان کے اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    ’عمران خان کی کال پر پُرامن احتجاج‘

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کہتے ہیں کہ ’بال آخر میں ایک ایسے میدان میں آ گئی ہے جسے نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کے دباؤ میں آتی ہے۔‘

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نے آج کی شب ملک کے بڑے شہروں میں احتجاج کی کال دی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  2. قومی اسمبلی کے 11 اپریل کو منعقد ہونے والے اجلاس کا ٹائم تبدیل, نئے وزیر اعظم کے امیدوار آج کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائیں گے

    قومی اسمبلی کے 11 اپریل بروز پیر کو منعقد ہونے والے اجلاس کا ٹائم تبدیل ہو گیا ہے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق پیر کو ہونے ولا یہ اجلاس دن 11 بجے کے بجائے اب دوپہر 2 بجے منعقد ہو گا۔

    جبکہ آج دوپہر دو بجے تک نئے قائدِ ایوان کے امیدوار کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. ’وزیرِاعظم ہاﺅس میں نہیں رہوں گا‘ سے ’امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں‘ تک

  4. ’دیکھتے ہیں کہ عمران خان اپوزیشن میں بیٹھ کر کیسے مقابلہ کرتے ہیں، گڈ بائے عمران خان‘

  5. اوجڑی کیمپ: جب 36 برس قبل راولپنڈی، اسلام آباد پر قیامت ٹوٹی، مگر ذمہ داروں کا تعین آج تک کیوں نہ ہو سکا؟

  6. نو اپریل، گہما گہمی اور سیاسی ہلچل کا دن

    عمران خان وزیرِاعظم نہیں رہے۔ ہفتے کے دن گہما گہمی اور سیاسی ہلچل عروج پر رہی۔

    تمام دن کیا ہوتا رہا جانیے اس فیس بک لائیو میں

  7. کیا کھویا کیا پایا۔۔۔ عمران خان حکومت کی ناکامیاں اور کامیابیاں

  8. ملک کے نئے وزیراعظم کا انتخاب پیر کی صبح گیارہ بجے

    پارلیمان

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    ملک کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغداتِ نامزدگی اتوار کی دوپہر دو بجے تک جمع کروائے جا سکیں گے جبکہ ان کی جانچ پڑتال کا عمل تین بجے تک مکمل ہوگا۔

    قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر صبح گیارہ بجے دوبارہ ہوگا۔

  9. تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پارلیمان کے باہر سے۔۔۔

  10. تیل کی قیمت نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج: فیصل سبزواری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. مریم نواز کی ٹویٹ: ’نواز شریف صاحب آج آپ کا صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. ’عمران خان نے حکومت قربان کی مگر غلامی قبول نہیں کی‘

    پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں جس آدمی کے ساتھ کھڑا ہوں اس نے حکومت قربان کی ہے، مگر غلامی قبول نہیں کی۔

    انھوں نے مولانا فضل الرحمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس کو آپ یہودی ایجنٹ کہتے تھے، یہ کیسے ہوا کہ امریکہ نے آج اس کے خلاف سازش کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’انشا اللہ میرا لیڈر اس کرسی پر پھر واپس آئے گا۔‘

  13. ’آج ہائی بریڈ حکومت سے چھٹکارا حاصل کیا ہے‘

    قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے اس ہائی بریڈ حکومت سے چھٹکارا حاصل کیا ہے جسے 2018 میں ہم پر مسلط کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اب جو مرحلہ آنے والا ہے وہ بہت کٹھن ہے کیونکہ ہماری عوام کی بہت سی توقعات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ حکومت بیساکھیوں کی مدد سے اقتدار میں آنے کی کوشش کرتی ہیں، ان کا یہی انجام ہوتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا اور سیاسی ورکرز کے لیے گذشتہ تین سال بدترین دور تھا۔ ملک میں لاپتہ ہو جانے والے افراد کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ وہ مسائل ہیں جن کے حل کے لیے عوام کی توقعات ہیں۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ پرانے پاکستان میں علی وزیر اور حنیف پشتن کو قید نہیں کیا جائے گا۔

  14. پارلیمنٹ کا ایوان، آخرِ شب ایک سنگین بحران سے آزاد ہوا: شہباز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. عمران خان تین سال آٹھ مہینے تک کے وزیراعظم رہے

    imran khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان پاکستان کے 22ویں وزیراعظم تھے اور وہ تین سال آٹھ مہینے تک کے وزیراعظم رہے۔ اس دوران انھوں نے ایک مرتبہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ بھی لیا تاہم وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔

    تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 1996 میں اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ 2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت بنائی اور 2018 کے انتخابات میں وہ وفاقی حکومت بنانے میں کامیاب رہے۔

  16. ’تکبر کو زوال ہے، زوال ہے زوال ہے!‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. ’ایک حقیقی مشاورتی جمہوریت کی جانب بڑھیں‘: خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدییقی کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ صرف جشن کا نہیں شکر کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دعا کریں کہ آج یہ تبدیلی صرف چہروں کی تبدیلی نہ ہو بلکہ عوام کی تقدیر کی بھی تبدیلی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ایک حقیقی مشاورتی جمہوریت کی جانب بڑھیں۔

  18. بریکنگ, پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اپنے عہدے سے مستعفیٰ

    resignation

    ،تصویر کا ذریعہGoP

  19. بریکنگ, ’ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان‘

    بلاول

    قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 10 اپریل کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔

    انھوں نے ایوان کو یاد کروایا کہ 10 اپریل کی ہی تاریخ کو ہی اس ایوان نے 1973 کا آئین منظور کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان!‘

  20. کیا پی ٹی آئی کی حکومت کو آئین شکن کے طور پر یاد رکھا جائے گا؟