عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. تحریک عدم اعتماد کے پیچھے کوئی سازش نہیں، بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عمد اعتماد کے پیچھے کوئی سازش نہیں ہے۔

    بلاول بھٹو نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کر رہے تھے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بھرپور کوشش ہے کہ انگلی کٹا کر خود کو شہید ثابت کریں۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے مبینہ دھمکی آمیز خط عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا؟

    انھوں نے کہا ہمارا مطالبہ تھا کہ خط عدالت میں پیش کرو، وزیراعظم نے عدالت میں خط پیش کیا نہ قومی اسمبلی میں لارہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے جو انتخابی اصلاحات کیں، وہ یکطرفہ تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات میں اپوزیشن سمیت حکومت نے اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت نہیں کی۔ بلاول نے کہا کہ نئی حکومت انتخابی اصلاحات کا عمل مکمل کرے گی اور پھر الیکشن کی جانب بڑھے گی۔

  2. عمران خان سے آئین و قانون کی فتح ہضم نہیں ہو رہی، حمزہ شہباز

    مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل میں کہا ہے کہ ’عمران خان سڑکوں پر نکلیں گے تو ان کو پتا چلے گا کہ انھوں نے ساڑھے تین سالوں میں عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔‘

    ایک بیان میں حمزہ شہباز نے کہا کہ ’عمران خان کا قوم کو آخری لیکچر تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور قوم کو مزید تقسیم و گمراہ کرنے کی بھونڈی کوشش تھی۔‘

    ’عمران خان اقتدار کی ہوس میں ملک کی خارجہ پالیسی پربھی ڈرون حملہ کر رہے ہیں۔‘

    حمزہ کا کہنا تھا کہ ’عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلنے آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے کی سازش کی گئی تھی۔‘

  3. عمران خان کی عوام کو اتوار کو احتجاج کی کال

    عمران خان نے کہا کہ آپ سب نے اتوار کو نمازِ عشا کے بعد نکلنا ہے اور پرامن احتجاج کرنا ہے اور زور دیا کہ وہ احتجاج میں تصادم اور توڑ پھوڑ نہیں کریں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ قوم نے اپنی خود مختاری اور جمہوریت کی حفاظت کرنی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، کون کیا کردار ادا کرتا ہے، سامنے آ جاتا ہے، عدالت کے کون سے فیصلے اچھے ہیں اور کون سے نہیں، تاریخ موجود ہے، لیکن ایک زندہ قوم ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. عمران خان: اپوزیشن سب سے پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ختم کرے گی

    عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن نے کبھی بھی نیوٹرل امپائر کے ساتھ میچ نہیں کھیلا۔

    اُنھوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں کہا کہ اپوزیشن سب سے پہلے اسے ختم کرے گی کیونکہ اس سے دھاندلی ممکن ہو پائے گی۔

    عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ حقوق کے بارے میں کہا کہ اگر وہ پیسے نہ بھیجیں تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا تو اُنھیں ووٹ کا حق کیوں نہیں ہونا چاہیے۔

  5. ’امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کروں گا، عوام میں نکلوں گا‘

    اُنھوں نے کہا کہ وہ امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے اور عوام کے پاس جاؤں گا۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اتنی بڑی پبلک جمع نہیں ہوئی جتنی کہ پریڈ گراؤنڈ میں ہوئی۔

    عمران خان نے کہا کہ اُنھیں عوام ہی لے کر آئے تھے اور وہ دوبارہ ان کے پاس جائیں گے۔

  6. عمران خان: اپنے لوگوں کو کسی اور کے لیے قربان نہیں کر سکتا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    عمران خان نے کہا کہ میرا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ مغرب نے میری پروفائلز دیکھی ہیں کہ اس نے ڈرون حملوں اور عراق جنگ کی مخالفت کی اور افغان جنگ کے بارے میں کہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ چونکہ عمران خان اُن کے حکم کی تعمیل نہیں کر سکتا اس لیے اسے ہٹانے کے لیے یہ سارا ’ڈرامہ‘ ہو رہا ہے۔

    عمران خان نے روس اور یوکرین جنگ اور انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کے مخالف نہیں ہیں مگر وہ اپنے لوگوں کو کسی اور قوم کی خاطر قربان نہیں کر سکتے۔

    عمران خان نے کہا کہ جمہوریت کی حفاظت عوام نے کرنی ہے، نہ فوج نے اور نہ کسی غیر ملکی نے۔

    اُنھوں نے کہا کہ کسی کی جرات نہیں ہے کہ انڈیا کے بارے میں ایسی بات کرے۔

  7. عمران خان: مراسلہ 22 کروڑ لوگوں کی توہین ہے

    عمران خان نے مراسلے کے بارے میں کہا کہ وہ مراسلہ میڈیا کو کیوں نہیں دے سکتے، اس لیے کیونکہ اس پر جو کوڈ ہوتا ہے اگر وہ پبلک کر دیا تو لوگوں کو کوڈ پتا چل جائے گا اور حساس معلومات لیک ہو جائیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ہوا یہ کہ ہمارے امریکہ میں سفیر تھے، ان کی امریکی عہدیدار سے ملاقات ہوئی۔ اُن عہدیدار نے کہا کہ عمران خان کو روس نہیں جانا چاہیے۔

    سفیر نے بتایا کہ یہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ عہدیدار نے کہا کہ اگر پاکستان عدم اعتماد سے بچ گیا تو پاکستان کو ’نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اگر وہ ہار جاتا ہے تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا۔

    عمران خان نے کہا کہ یہ 22 کروڑ لوگوں کے لیے توہین آمیز بات ہے۔

  8. سپریم کورٹ کو کم از کم سازش کے الزام کو دیکھنا تو چاہیے تھا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ سے ایک دن قبل قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ 26’ سال پہلے تحریک انصاف کا آغاز کیا تو اس کے اصول خود داری، انصاف، فلاحی ریاست اور انسانیت یہی میرے اصول تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج کے خطاب میں وہ خود داری اور انصاف پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا ’سپریم کورٹ اور پاکستان کی عدلیہ کی عزت کرتا ہوں۔ میں ایک دفع جیل گیا وہ بھی آزاد عدلیہ کی تحریک کے لیے، میرے خیال میں عدالتیں انصاف کے رکھوالا ہوتی ہیں۔ ‘

    ان کا کہنا تھا ’مجھے افسوس اس لیے ہوا کہ جو ڈپٹی سپیکر نے آرٹیکل پانچ کی وجہ سے عدم اعماد کو مسترد کیا۔ میں چاہتا تھا سپریم کورٹ کو کم از کم سازش کے الزام کو دیکھنا تو چاہیے تھا۔ ‘

    ’سپریم کورٹ کم از کم اس دستاویز کو دیکھ تو لیتی، اور یہ کہ کیا ہم سچ بول رہے ہیں یا نہیں۔ اتنا بڑا ایشو ہے اور اس پر سپریم کورٹ نے غور نہیں کیا۔‘

    وزیر عظم عمران خان کا کہنا تھا ’دوسرا جو کھلے عام ہارس ٹریڈنگ ہوئی ، بچے بچے کو پتا ہے کون کتنے میں ضمیر بیچ رہا ہے، یہ کون سی جمہوریت ہے۔ ؟‘

    سپریم کورٹ سے چاہتے تھے کے وہ اس کا بھی از خود نوٹس لے۔ اتنے کھلے عام کہیں سیاستدان نہیں بکتے۔

  9. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    پاکستان کی تیزی سے تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کے عمل میں تو ایک ہی دن بچا ہے لیکن سنیچر کو توجہ کا مرکز پنجاب کا صوبہ ہے جہاں کی اسمبلی اپنے نئے قائدِ ایوان کا انتخاب کر رہی ہے۔

    پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد مستعفی ہو گئے تھے اور ان کی جگہ تحریکِ انصاف نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے پرویز الٰہی کو وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔

    ادھر متحدہ اپوزیشن نے اس عہدے کے لیے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز کا انتخاب کیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران پاکستان کی سیاسی صورتحال کیسے تبدیل ہوتی رہی یہ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  10. عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد