عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. نہیں چاہتا کہ کل ہم آپ کے خلاف بھی سپریم کورٹ جائیں: آصف زرداری

    آصف زرداری نے کہا کہ وہ ذاتیات پر حملہ نہ کرتے ہیں نہ ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک لیڈر کہتا ہے کہ میں اس کی بندوق کی نالی کے سامنے ہوں۔

    آصف زرداری نے کہا کہ برآمدات کی جو بات حکومت کر رہی ہے، وہ روپے کی قدر میں 100 فیصد کمی کے بعد ہوئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنے دورِ حکومت کے اختتام پر چھوڑ کر گئے تھے۔

    سابق صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ انھیں (پی ٹی آئی کو) بہت سی چیزیں سمجھانے کی ضرورت ہے اور یہ لوگ سمجھیں گے، کیونکہ سیاسی یونیورسٹی صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ کل ہم آپ کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں جائیں کہ انھوں نے ووٹ کی توہین کی ہے۔ سیاست ہے، پاکستان میں رہنا ہے، تعلقات بھی بنا کر رکھنے ہیں، سوائے ایک شخص ہے۔‘

    تاہم اُنھوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔

  2. ابھی بھی وقت کے ان کیمرہ بریفنگ بلائی جائے۔: اسد عمر

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم تریم موڑ ہے، ابھی بھی وقت کے ان کیمرہ بریفنگ بلائی جائے۔ ہ سپیرم ہاؤس ہے یہاں آ کر تمام ارکان سنیں، لیکن اگر یہ نہیں مانتے تو ان کا اپنا فیصلہ ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’تمام قوم اور ممبران سے کہوں گا کہ یہ جد و جہد پاکستان کی بقا، پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کی جد و جہد ہے، یہ ایک عدم اعتماد کے ووٹ کی مرہون منت نہیں ہے، عمران خان نے 25 سال سے زیادہ یہی جد و جہد کی ہے اور کرتا رہے گا۔‘

    اسد عمر کا تقریر کے اختتام پر کہنا تھا ’تمام تحریک انصاف کے سپورٹرز ، ورکز پاکستانیوں کے لیے پیغام ہے کہ ’ڈٹ کے کھڑا ہے اب عمران، نیا بنے گا پاکستان۔‘

  3. کیا سپریم کورٹ کے سارے فیصلے اچھے ہوتے ہیں؟ اسد عمر

    اسد عمر نے اس کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پارلیمان کی سپریم کورٹ کے کام میں مداخلت ٹھیک نہیں، اسی طرح پارلیمان کے کام میں سپریم کورٹ کی مداخلت ٹھیک نہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ مان لیتے ہیں کہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا تین اپریل کا فیصلہ اچھا نہیں تھا ’مگر کیا سپریم کورٹ میں سارے فیصلے اچھے ہوتے ہیں؟‘

    اسد عمر نے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس عدالت (سپریم کورٹ آف پاکستان) کے فیصلوں کو عدالتی قتل نہیں کہا گیا؟

    اُنھوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ یہ بھی فیصلہ کرے گی کس دن اجلاس ہو گا کتنے بجے ہوگا تو اس پارلیمان کا کیا فائدہ۔

  4. حل ووٹ سے نکلے گا، تقریروں سے نہیں: اسد عمر

    وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ مسئلہ تقریروں سے حل نہیں ہو گا بلکہ حل ووٹ سے نکلے گا مگر ووٹ وہ جو پاکستان کے عوام کا ہو گا، بکنے والوں کا نہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ بلاول کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ووٹ کے ذریعے حل نکالیں، لیکن اُن کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ جمہوری طریقے سے جمہوریت کی راہیں کھلی ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ سپیکر صاحب آپ اس بات کو یاد رکھیے، شاید ہم یہاں ہوں یا نہ ہوں، لیکن یہ روایت جو شروع کی گئی ہے یہ رکنے والی نہیں ہے۔

    اسد عمر نے کہا کہ مبینہ طور پر رقم کے ذریعے حکومت تبدیلی کی یہ سیاست جو شروع ہوئی ہے اس کا اختتام کچھ اچھا نہیں ہوگا۔

  5. ایسی جمہوریت چاہیے جس کے لیے آواز سات سمندر پار سے نہ اٹھے: اسد عمر

    اسد عمر

    الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری 90 دن میں انتخابات کروانا ہے جبکہ وہ کہتے ہیں کہ اُنھیں سات ماہ چاہییں۔

    اسد عمر نے کہا کہ یہ ’بھان متی کا کنبہ‘ جب حکومت بنائے گا تو یہ سات ماہ تک کیسے چل سکیں گے۔

    اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں ایسی جمہوریت چاہیے جس کے لیے آواز سات سمندر پار سے نہ اٹھے۔

  6. قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر ایوان میں واپس آ گئے

    قومی اسمبلی
  7. , آج ہی ووٹنگ کروائیں اور توہین عدالت کے مرتکب نہ ہوں: سعد رفیق

    سعد رفیق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے لیے بلائے جانے والی قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’آج ہی ووٹنگ کروائیں اور توہین عدالت کے مرتکب نہ ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سپیکر صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آج ووٹنگ کروائیں گے، لمبی لمبی تقریریں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آج افطار کے بعد ووٹنگ ہوگی، اب آپ نے کہا کہ اپنی ہی بات کو عزت نہیں دے سکتے۔ ووٹنگ کروائیں۔‘

    اپنی تقریر کے دوران حکومتی بینچز پر احتجاج پر ناراض ہو کر سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’ان کو بند نہیں کر سکتے، انہیں بند کریں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کرتا۔ اس ریاست کو جنگل نہ بنائیں۔ آئین کو بار بار پامال نہ کریں۔ ‘

    انھوں نے کہا ’خط سازش کے الزام کو ہم فیس کریں گے، ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں۔‘

  8. بلاول کا انداز جارحانہ ہے: شیری رحمان

    پاکستان قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے اجلاس جاری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے تقریر کی جس میں ان کا موقف تھا کہ تحریک پر فوری ووٹنگ کروائی جائے۔

    اپنی تقریر کے دورن انھوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے ٹوئٹر پر اپنے رد عمل میں کہا کہ بلاول کا انداز آج جارحانہ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. جنگ نیوٹرل اور پیچھے سے کھیلنے والوں کے درمیان ہے: بلاول

    بلاول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف کوئی سازش ہو رہی تھی تو اسی وقت اُن کو اپنے اتحادیوں کو کہنا چاہیے تھا کہ ہمیں نہ چھوڑیں اور عدم اعتماد کا حصہ نہ بنیں۔

    بلاول نے کہا کہ اُنھیں اس کا خیال اس وقت آیا جب وہ اپنی اکثریت کھو بیٹھے۔ اصل سازش یہ ہے کہ خان صاحب صاف و شفاف انتخابات سے ڈرتے ہیں کیونکہ جیسے سارے ضمنی الیکشنز میں اُنھیں شکست ہوئی، اسی طرح اُنھیں صاف و شفاف (عام) انتخابات میں بھی شکست ہو گی۔

    اُنھوں نے کہا کہ انھوں (عمران خان) نے سپیکر کی قربانی دینی پسند کی تاکہ اُن کا اقتدار چند روز مزید چل سکے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں بظاہر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ان کے درمیان ہے جو نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں اور جو پیچھے رہ کر کھیلنا چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان ہزار کوششیں کر لیں مگر وہ نہ بھٹو بن سکتے ہیں اور نہ سیاسی شہید۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو کوششیں کی جا رہی ہیں وہ عمران خان کو واپس لانے کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کو لپیٹنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

  10. بلاول بھٹو زرداری: ’سپیکر صاحب، آپ توہین عدالت اور آئین شکنی کر رہے ہیں‘

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی باری آنے پر کہا کہ عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے حکم دیا ہے، آپ اس ایجنڈے کے علاوہ اور کسی چیز پر بحث نہیں کروا سکتے۔

    اُنھوں نے سپیکر کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ توہینِ عدالت اور آئین شکنی کر رہے ہیںگ‘

    سپیکر نے اس پر اُن کو جواب دیا کہ عدالت کا احترام ان پر لازم ہے لیکن عدالت پارلیمان کے دائرہ کار میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ اس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ توہینِ عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں کیونکہ عدالت اس سے پہلے بھی ایک سپیکر کی رولنگ کو غلط قرار دے چکی ہے۔

    ’اگر آپ آج کے ایجنڈے پر نہیں آتے تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ اپوزیشن یہاں سے کہیں جا رہی ہے، اور عدالت بھی یہیں ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنا آئینی حق چھین کر لیں گے۔

  11. ’ووٹ ہو جائے گا، ہو جائے گا!‘

    شاہ محمود

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شاہ محمود قریشی کے خطاب کے دوران اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب اپوزیشن ارکان ووٹنگ کا مطالبہ کرتے رہے۔

    شاہ محمود قریشی نے پہلے پہل تو اس کو نظرانداز کیا مگر پھر آخر جھنجھلا کر کہنے لگے، ’بھائی ووٹ ہو جائے گا، ہو جائے گا، جہاں نوٹ لگ گئے وہاں ووٹ بھی ہو جائے گا۔‘

    مبینہ بین الاقوامی سازش کے معاملے پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن میں سابق امریکی سفیر اسد مجید کو بلا کر پارلیمان کا ان کیمرا اجلاس کروانے لیے تیار ہیں۔

    اُنھوں نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ ’سات ماہ میں انتخابات کروانا آئینی ذمہ داری ہے، قوم تقاضہ کرتی ہے کہ آپ اس میں غفلت نہیں کریں گے۔‘

  12. شاہ محمود قریشی کی اپوزیشن کو سفیر کے ساتھ اِن کیمرہ اجلاس کی دعوت, ’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا‘

    شاہ محمود قریشی کی تقریر جاری ہے۔۔۔۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے سنا بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ یہ مراسلہ فیک ہے اور مریم نواز نے کہا کہ یہ مراسلہ وزارتِ خارجہ میں تیار کیا گیا۔۔۔ یہ بہت بڑا الزام ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’میں روزے سے ہوں اور جھوٹ نہیں بول رہا یہ مراسلہ اصلی ہے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے سفیر کے ساتھ اِن کیمرہ اجلاس کی دعوت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آئیے ان کیمرہ سیشن کرتے ہیں اور سفیر کو بلاتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘

  13. ’آپ غلامی قبول کرنا چاہتے ہو، ہم نہیں کرنا چاہتے‘

    قریشی

    شاہ محمود قریشی کی تقریر جاری ہے۔۔۔۔

    انھوں نے شہباز شریف کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ غلامی قبول کرنا چاہتے ہو، ہم نہیں کرنا چاہتے۔

    ان کا کہنا ہے پاکستان چھوٹا سہی مگر خود مختار ملک ہے۔

  14. ’امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے کہا روس مت جائیں‘

    شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ دورۂ روس کی دعوت آئی اور وزیر اعظم عمران خان نے جانے کا فیصلہ مشاورت سے کیا مگر اس دوران امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے ہمیں روس جانے سے روکا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ابھی یوکرین پر چڑھائی نہیں ہوئی تھی۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر (جیک سلوون) نے فون کر کے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر (معید یوسف) سے کہا کہ روس مت جائیں۔‘

    ’کون سی خودمختار ریاست کو یہ کہا جاتا ہے اور کون ایسا قبول کرتا ہے؟‘

  15. ’جو آئین کی پاسداری کی بات کر رہے ہیں وہ بتائیں کیا ہارس ٹریڈنگ آئینی کوشش تھی؟‘, شاہ محمود قریشی

    قومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے اور شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریرکا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔۔۔

    وہ کہتے ہیں کہ عمران خان حکومت کے خلاف لکھے جانے والے سازشی مراسلے پر بات کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ سے انکار نہیں کیا تھا۔ ’قوم اس بات کی گواہ ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کا ماحول بنایا گیا، وفاداریاں تبدیلی کی گئی، ضمیر فروشی کا بازار لگا، سنہری خواب دکھائے گئے۔‘

    ’سوال یہ ہے کہ جو آئین کی پاسداری کی بات کر رہے ہیں وہ بولیاں لگنے اور وفاداریاں بدلنے کی کوشش کو کیا نام دیں گے کیا وہ آئینی کوشش تھی؟‘

    شاہ محمود پُرجوش انداز میں اپنے پاس موجود لکھے نوٹس سے پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ حکومتی بینچز پر شیم شیم کے نعرے لگائے گئے ہیں۔

    قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایک سال تک تحریکِ انصاف ان کی ہارس ٹریڈنگ کے ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکٹاتی رہی تھی اور ’ایک سال ہو گیا تمام حقائق کے باوجود فیصلہ ریزرو پڑا ہے اور ابھی تک ہمیں انصاف نہیں ملا۔‘

  16. بریکنگ, قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع

    قومی اسمبلی

    اس وقت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تقریر کر رہے ہیں۔ ایوان میں حکومتی ارکان کی تعداد جو اس سے قبل کم تھی اس میں اضافہ ہوا ہے۔

  17. ’ووٹنگ کے لیے کوئی حتمی وقت طے نہیں ہو سکا‘

    بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی نشست کے پاس جا کر ان سے بات چیت کی ہے۔

    بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ابھی ووٹنگ کے لیے کوئی حتمی وقت طے نہیں ہو سکا۔

    بلاول بھٹو اس کے بعد مہمانوں کی گیلری میں گئے اور مشاہد حسین اور چند دیگر سینئر سیاسی رہنماؤں سے مختصرا بات چیت کی۔

  18. ’اپوزیشن نے کوئی شرط نہیں مانی، بحث کے دن ختم‘

    مریم اورنگزیب

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوبارہ آغاز میں تاخیر کے بعد حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔ تاہم اس میں ہونے والے کسی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات چل رہی ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رات آٹھ بجے ووٹنگ کرانے پر اتفاق ہوا ہے۔ مگر اس سوال پر مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’یہ پونے چار سال جھوٹ بول کر یہ تھکے نہیں۔ اپوزیشن نے کوئی شرط نہیں مانی۔ شرط صرف ایک ہے جو سپریم کورٹ کا آرڈر ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’بحث کے دن ختم ہوچکا ہے۔۔۔ بہت سی تجاویز ہم سنتے آ رہے ہیں۔ اب کوئی بھی چیز کسی دفتر یا بیک ڈور میں نہیں ہوگی۔ پوری قوم کا ایک ہی فیصلہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے اور یہی سپریم کورٹ کے احکامات ہیں۔‘

    ’اس میں جتنی تاخیر ہو رہی ہے وہ آئین، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اس کی سزا تین سال قید اور پانچ سال نااہلی ہے۔ جو جو اس میں حصہ ڈال رہے ہیں چاہے وہ سرکاری افسران ہیں یا پی ٹی آئی کے ارکان۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. ’پی ٹی آئی ارکان خود حکومت کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے‘, عظمیٰ بخاری کا دعویٰ

    عظمیٰ بخاری

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    پنجاب میں مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی عظمی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو انھی کے اتحادیوں اور لوگوں نے نکالا ہے کیونکہ وہ ’نااہلی غرور و تکبر کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہتے۔‘

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت پی ٹی آئی کا ’ٹرمپ کارڈ جیب میں رہ گیا۔ پی ٹی آئی ممبرز نے استعفوں سے انکار کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کو پیغام دیا ہے کہ ’پارلیمانی پارٹی بکھر چکی ہے۔ ہم سے ایک روپے کا کسی نے تقاضا نہیں کیا۔ آپ کے لوگ حمزہ شہباز کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ پرویز الہی اپنی غلط فہمی دور کر لیں فیملی کی طرح ہوٹل میں رہ رہے ہیں۔‘‘

    عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کے وزارت اعلیٰ پنجاب کے امیدوار حمزہ شہباز کا نوٹیفکیشن ’پنجاب اسمبلی میں ہونا چاہیے تھا۔ ہم نے اپنے نمبرز سامنے رکھ دیے ہیں۔ حمزہ شہباز کے وزیر اعلی بننے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج، فائلیں اور فرح باجی کے کارنامے بزدار کے کارنامے سامنے لائیں گے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ قومی اسمبلی میں منحرف لوگوں کے علاوہ اپوزیشن کی نمبرنگ پوری ہے۔ ’سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا فیصلہ درست ہے۔ ممبرز خود ہی پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے۔‘

  20. ’آئین کی خلاف ورزی اور سپریم کورٹ کی حکم عدولی کا انجام بُرا ہو گا‘, مریم نواز کا ٹویٹ

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے سے ڈر رہے ہیں اور انھوں نے پورے ملک کا نظام روک دیا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ 22 کروڑ کی آبادی والا ملک کئی ہفتوں سے کسی حکومت کے بغیر ہے۔ ’آئین کی خلاف ورزی اور سپریم کورٹ کی حکم عدولی کا انجام بُرا ہو گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    ’عمران خان نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے‘

    انھوں نے مزید کہا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم یا سابق وزیر اعظم نہیں بلکہ ایک سائیکوپیتھ سمجھا جانا چاہیے جس نے خود کو بچانے کے لیے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ایک شخص جو اپنے حواس میں نہیں اسے تباہی مچانے اور پورے ملک کو زوال پذیر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2