’ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے‘
مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے مگر قانون اپنا راستہ لے گا۔
انھوں نے متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشاورت کے ساتھ کام کریں گے۔
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔
مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے مگر قانون اپنا راستہ لے گا۔
انھوں نے متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشاورت کے ساتھ کام کریں گے۔
قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے کہا آج آئین اور قانون کا پاکستان دوبارہ بنا چاہتا ہے۔

ایاز صادق کی جانب سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قراردار کامیاب ہونے کے اعلان کے بعد اب شہاز شریف ایوان سے خطاب کر رہے ہیں، جس میں وہ اپوزیشن رہنماؤں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر ایوان میں شدید نعرے بازی کی گئی۔
نون لیگ کے رہنماؤں نے ’شیر‘ شیر‘ کے نعرے لگائے۔
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی ایوان کی گیکری میں تشریف لائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی ہے۔ اس تحریکِ کے حق میں 174 ارکان نے ووٹ دیے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکرٹری دفاع کو مبینہ خط کی تحقیقات کی حکم دینے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ مولوی اقبال حیدر کی درخواست پر پیر کے روز سماعت کریں گے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیکریٹری دفاع کو خط سے متعلق تحقیقات کا حکم جاری کیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ عدم اعتماد کے دوران وزیراعظم نے خط موجود ہونے کا دعویٰ کیا اور خط کے دعوے سے ملکی مفاد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
چیف جسٹس ہاکستان عمر عطا بندیال اور دیگر ججز سپریم کورٹ سے واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے عملے کو بھی گھر واپس جانے کی ہدایت کر دی گئی تھی۔
وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

پارلیمنٹ کا عملہ حکومتی بنچوں پر جو خالی ہیں وہاں ایجنڈے کی کاپیاں رکھ رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے پی ٹی آئی اراکین ایوان سے نکل گئے تھے۔
عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کی کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس وقت تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ عمران خان نے وزیرِ اعظم ہاؤس چھوڑ دیا ہے اور وہ بنی گالہ میں اپنی ذاتی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی اسمبلی کا اجلاس مختصر مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔
ایوان میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے جبکہ حکومتی اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ہیں۔
قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اسد قیصر کے بعد اب نون لیگ کے رہنما ایاز صادق قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
اسد قیصر نے کہا کہ ’زمینی حقائق اور واقعات کے پیشِ نظر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میرے پاس جو دستاویزات پہنچ گئے ہیں، میں اپوزیشن لیڈر سے درخواست کروں گا کہ یہ میرے دفتر میں پڑا رہے گا، سپریم کورٹ میں بھیجوں گا کہ وہ معائنہ کریں۔ ضرورت ہے کہ اس ملک کی خود مختاری کے لیے کھڑے ہوں اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں سپیکر کے عہدے پر مزید نہیں رہ سکتا۔‘
قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
سپیکر ڈپٹی سپیکر چئیر پرسن امجد علی خان، منزہ حسن، عمران خٹک کو سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کا پابند کیا جائے

اس وقت اپوزیشن رہنماؤں کی بڑی تعداد ایوان میں واپس اپنی نشستوں پر آ گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی سینیئر صحافیوں سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ’عوام ملک کے اندر اس طرح کی تبدیلی کے حق میں نہیں۔‘
سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’ہر ہفتے عوام میں جا کر جلسہ کروں گا۔‘
وزیراعظم نے صحافیوں سے ملاقات میں مراسلے کا ذکر کیا اور کہا ملک میں رجیم چینج کرنے کے لیے اپوزیشن کو بیرونی مدد مل رہی ہے۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مراسلے سے متعلق اعلیٰ حکام سمیت اداروں کے سربراہوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر، چیف جسٹس ، چیئرمین سینیٹ کو مراسلے سے آگاہ کر دیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’عالمی سازش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، اسمبلی کی کارروائی میں کسی صورت رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ قوم کے لیے آخری بال تک لڑوں گا۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرلیا ہے۔
رجسٹرار سپریم کورٹ کو سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کی درخواست موصول ہو چکی ہے اور درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گئی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ سماعت کرے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام