عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔
لائیو کوریج
عمران خان اپنی نشست پر نہیں آئے, حمیرا کنول، بی بی سی
عمران خان آج قومی اسمبلی پہنچے اور پارٹی اجلاس کی سربراہی بھی کی تاہم آج انھوں نے میڈیا سے گفتگو سے اجتناب کیا۔
اس وقت ایوان میں اجلاس جاری ہے تاہم عمران خان اپنی نشست پر نہیں آئے۔
عدم اعتماد کی وجہ سے وہ وزیر اعظم نہیں رہے تاہم وہ پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔
آج پارلیمانی پارٹی میں عمران خان کو کہا گیا کہ وہ ایوان میں تقریر کریں لیکن اُنھوں نے ایسا کرنے سے معذرت کر لی۔
شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران جملوں اور نعروں کا تبادلہ
شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے اور دونوں اطراف سے نعروں اور جملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
اس موقع پر قائم مقام سپیکر کی طرف سے خاموش رہنے کی اپیل کی گئی تاہم بظاہر ارکان ان کی بات کو خاطر میں نہیں لا رہے۔
شاہ محمود قریشی: آج کوئی جیت کر بھی ہار گیا، کوئی ہار کر بھی جیت گیا‘
شاہ محمود قریشی اس وقت اسمبلی میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں پر ماضی میں بننے والے مقدمات کا ذکر کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو اپنے سابق رہنماؤں پر سابقہ حکومتوں میں درج ہونے والے مقدمات اور قید کی سزائیں یاد دلائیں۔
اُنھوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل سیاسی جماعتوں پر تنقید کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا اتحاد غیر فطری ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور پاکستان کے عوام نے 27 مارچ کو دکھا دیا کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔
ساتھ ہی اُنھوں نے اتوار 10 اپریل کو ملک کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو بھی اپنی فتح قرار دیا۔
اُنھوں نے کہا کہ آج کوئی جیت کر بھی ہار گیا، اور کوئی ہار کر بھی جیت گیا۔
شاہ محمود قریشی: دو راستے ہیں، قوم کو ایک راستہ لینا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہ محمود قریشی اب تقریر کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ اُنھوں نے مجھے وزیرِ اعظم کے لیے نامزد کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ آج کوئی کامیاب ہو گا اور کوئی آزاد ہو گا، دو راستے ہیں اور قوم کو ایک راستہ لینا ہے۔
شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران
اپوزیشن بنچوں کی جانب سے ’ایجنڈا ایجنڈا‘ کہا جا رہا ہے، یہ کہہ کر وہ سپیکر کی توجہ اجلاس کے ایجنڈے پر مبذول کروا رہے ہیں کیونکہ آج وزیرِ اعظم کے انتخاب کا ذکر ہے۔
ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی تقریر
،تصویر کا ذریعہFacebook
قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے اور اس کی شروعات میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے نشستِ صدارت سنبھالتے ہی عدم اعتماد اور مبینہ غیر ملکی مراسلے پر تقریر کی۔ اُنھوں نے کہا:
میری رولنگ کو غیر آئینی قرار دینے پر بحث ہوئی ہے۔
جن وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا، محبِ وطن کی حیثیت سے اور قومی اسمبلی کے محافظ کے طور پر کیا،
وفاقی کابینہ، قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی میں وہ مراسلہ زیرِ بحث لایا گیا اور اس بات کی تائید کی گئی کہ پاکستانی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بین الاقوامی سازش ہے۔
وفاقی کابینہ کے آخری اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مراسلہ ڈی کلاسیفائی کیا جائے، اس مراسلے میں برملا پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے کہ یہ مراسلہ پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک آنے سے قبل بھیجا گیا ہے اور اس میں لکھا گیا کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوتی تو پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر کامیاب ہوئی تو معاف کر دیا جائے گا۔
یہ مراسلہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو سیل کر کے بھیج رہا ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرتے ہوئے کیا۔
میں نے عدالتِ عظمیٰ کا جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ من و عن تسلیم کیا ہے، میں آپ سے گزارش کروں گا کہ ہم سب کو بحیثیت پاکستانی اس پر سوچنا چاہیے۔
اس کے بعد اُنھوں نے شاہ محمود قریشی کو بولنے کا موقع دے دیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس شروع، نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب کچھ دیر میں
قائم مقام سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ اب سے کچھ دیر بعد نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب ہو گا جس کے لیے شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی امیدوار ہیں۔
سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک دن میں انڈیکس میں اضافے کا نیا ریکارڈ, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کاروباری ہفتے کے پہلے دن پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھی گئی
مارکیٹ کے انڈیکس نے ایک دن میں اضافے کے گذشتہ ریکارڈ توڑ دیے۔
پی ایس ایکس کے انڈیکس میں ایک روز میں 1700 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو ایک دن میں اضافے کا نیا ریکارڈ ہے۔
اس سے پہلے 5 جون 2017 کو ایک کاروباری دن میں انڈیکس میں 1566 پوائنٹس اضافے کا ریکارڈ تھا۔ سٹاک مارکیٹ بروکرز کے مطابق ملک میں تازہ ترین سیاسی پیش رفت کو مارکیٹ نے خوش آئند کہا ہے کیونکہ کئی ہفتوں پر محیط سیاسی غیر یقینی صورتحال ختم ہوئی ہے۔
سٹاک مارکیٹ کیا ہے، کیسے چلائی جاتی ہے اور یہاں پر سرمایہ کاری کرنے کا طریقہ کار کیا ہے، اس حوالے سے بی بی سی اردو کے کچھ خصوصی مضامین:
بازارِ حصص کیا ہے اور نوجوان یہاں سرمایہ کاری کیسے کر سکتے ہیں؟
کیا ایشیا کی ’بیسٹ پرفارمنگ مارکیٹ‘ ملکی معیشت میں بہتری کی غمازی کرتی ہے؟
سیونگز اکاؤنٹس، سٹاک مارکیٹ، سونا یا میوچوئل فنڈز نوجوانوں کے لیے بہتر آپشن کیا ہے؟
مریم نواز قومی اسمبلی کی مہمان گیلری موجود
،تصویر کا ذریعہPML N MEDIA
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف قومی اسمبلی کی مہمان گیلری
میں موجود ہیں۔
وہ نئے وزیر اعظم کے انتخاب
کے موقع پر قومی اسمبلی پہنچی ہیں۔ ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نامزد حمزہ شہباز شریف اور کیپٹن صفدر بھی موجود ہیں۔
بریکنگ, عمران خان کا قومی اسمبلی سے استعفوں اور وزیراعظم کے انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان سمیت تحریک
انصاف کے اراکین اسمبلی نے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
سابق وزیر اعظم کا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ’ہم ان کے ساتھ کسی
صورت اسمبلی میں نہیں بیٹھ سکتے۔‘
اس موقع پر قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد
چوہدری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم استعفے دیں گے اور لڑ کے آزادی
حاصل کریں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’میری مسکراہٹ بتا نہیں رہی، میاں صاحب جلد آ رہے ہیں:‘ ایاز صادق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ نواز شریف
جلد واپس آ رہے ہیں۔
قومی
اسمبلی اجلاس سے قبل صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میری
مسکراہٹ نہیں بتا رہی کہ میاں صاحب جلد آ رہے ہیں۔‘
’اگر یہ امپورٹیڈ حکومت چل گئی تو میرا نام شہباز شریف رکھ دینا‘: شیخ رشید
،تصویر کا ذریعہSocial Media
سابق
وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سیاست اب شروع
ہوئی ہے اور انھیں (متحدہ اپوزیشن) کو پتہ لگ جائے گا کہ کتنے بیس کا سو ہے۔
انھوں
نے قومی اسمبلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے متحدہ اتحاد کے نامزد وزیر اعظم شہباز
شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کرپٹ لوگوں اتوار کو بیورو کریسی کو استعمال
کرتے ہوئے فائلیں بدلتے رہے ہیں تاکہ ان پر فرد جرم نہ لگے۔ ‘
ان کا
کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور فوج کو سوچنا چاہیے کہ جن پر بارہ بارہ
ارب کے کیسز ہیں اور عوام ان چہروں کو دیکھنا نہیں چاہتی وہ فائلیں بدل رہے ہیں۔
پاکستان
تحریک انصاف کے سیاسی لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کل بھی
سابق وزیر اعظم عمران خان کو استعفے دینے کا مشورہ دیا تھا اور ہم تقریباً اس پر
تیار تھے۔‘
انھوں
نے کہا کہ ’اگر یہ امپورٹیڈ حکومت چل گئی تو میرا نام شہباز شریف رکھ دینا۔‘
وزیر اعظم کا انتخاب، متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی اسمبلی آمد شروع
نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے
قومی اسمبلی کااجلاس پیر کی دوپہر دو بجے
طلب کیا گیا ہے۔
اس اجلاس سے قبل متحدہ
اپوزیشن کے اراکین اسمبلی پارلیمان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
متحدہ اپوزیشن کا اجلاس اب سے
کچھ دیر میں قومی اسمبلی کے کمیٹی روم نمبر دو میں شروع ہونے والا ہے۔
یاد رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے شہباز شریف کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا ہے۔
اس موقع پر مسلم لیگ کے چند کارکنوں کو مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی تصاویر تھامے اسمبلی آتے دیکھا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فل کورٹ بنانے کی درخواست
تحریک انصاف نے آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فل کورٹ بنانے کی درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بنچ تحریک عدم اعتماد سے متعلق کیس سن چکا اور اس بارے میں ریمارکس دے چکا ہے
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کو دوسرے ریاستی اداروں سے الگ کرنے کا سوال ہے اور ساتھ ساتھ اس میں پارلیمان کی بالادستی اور پارلیمانی نظام حکومت کے مستقبل کا بھی سوال ہے،
تحریکِ انصاف کا یہ بھی موقف ہے کہ اٹھارویں ترمیم سمیت عوامی مفاد کے متعدد ریفرنس فل کورٹ میں سنے گئے اس لیے اس معاملے پر بھی فل کورٹ معاملے کی سماعت کرے۔
’تحریکِ عدم اعتماد کا مقصد صوبائی اسمبلی کوتحلیل کرنے سے بچانا تھا‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور
خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف نے وزیر اعلی محمود خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے تعلق رکھنے والی رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے کا مقصد صوبائی اسمبلی کوتحلیل کرنے سے بچانا تھا ۔
ثوبیہ شاہد نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس یقین دہانی پر کہ صوبائی اسمبلی تحلیل نہیں کی جائے گی انھوں نے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں مرکز میں جو صورتحال پیدا ہو گئی تھی اس سے یہ تاثر ابھر آیا تھا کہ کہیں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم جاری نہ کردیں، اس لیے حزب اِختلاف کے اراکین نے اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی تھی۔
صوبائی اسمبلی میں کل نشستیں 145 ہیں جس میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 94 ہے اور حزب اختلاف میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 42 ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے چار اراکین بھی حزب اختلاف میں شامل ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر آزاد اراکین اور غیرجانبدار اراکین ہیں جو نہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن میں شامل ہیں۔
قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ انھیں خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی ہے اور وہ جلد خیبر پختونخوا میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دیں گے۔
تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، سابق وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی پہنچ گئے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کرنے قومی اسمبلی پہنچ گئے ہیں۔
عمران خان اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جانے کے بعد آئیندہ کے لائحہ عمل اور آج قومی اسمبلی کے دو بجے شروع ہونے والے اجلاس میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے حوالے سے پارٹی مشاورت کے لیے بلائے گئے اجلاس کی سربراہی کر رہے ہیں۔
سابقہ حکومت کا بیرونی سازش کا بیانیہ ایک ڈرامہ تھا: عطا اللہ تارڑ
مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سپیکر جنرل عطاءاللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کا بیرونی سازش کا بیانیہ ایک ڈرامہ تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ لندن کے میئر کے مسلم امیدوار کے مقابلے میں یہودی کی کمپئین کرنے گئے تھے تب ان کو امربالمعروف یاد نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل،شہزاد اکبر، اعظم خان اور گوہر نفیس کے نام نو فلائی لسٹ میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم کہتے تھے یہ غیر ملکی ایجنڈے کے تحت ملک لوٹنے آئے تھے۔‘
انھوں نے سابق حکومت کے مشیروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل آج بھی امریکہ کی یونیورسٹی سے پیسے لیتے ہیں جبکہ شہزاد اکبر کی اہلیہ ہسپانوی شہری ہیں۔ ہم ان کو ملک سے بھاگنے نہیں دینگے۔
’چیف جسٹس نے دو بجے تک باہمی مشاورت سے حل نکالنے کا حکم دیا ہے‘
،تصویر کا ذریعہlhc.gov.pk
مسلم
لیگ ن کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب پر رائے شماری میں تاخیر اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس
تاخیر سے بلانے سے متعلق دائر درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل
پنجاب،حمزہ شہباز،پرویز الہی اور ڈپٹی سپیکر کے وکلاء کو مل بیٹھ کر معاملے کا حل نکالنے
کا کہا ہے۔
وکیل اعظم
نذیر تارڑ نے لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چیف جسٹس نے کہا
ہے کہ دو بجے تک آپ لوگ مل کر فیصلہ کرلیں، ورنہ میں دو بجے حکم سنا دوں گا۔‘
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے
ایوان میں ایسی کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اجلاس تاخیر کا شکار ہو اور
یہ سب غلط بیانی کی جا رہی ہے۔
ان کا
کہنا تھا کہ اسمبلی کی پرانی بلڈنگ بھی موجود ہے وہاں بھی وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہو
سکتا ہے۔
مبینہ دھمکی آمیز خط پر تحقیقات اور عمران خان سمیت سابق وزرا کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی درخواست مسترد, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام
آباد ہائی کورٹ نے میبنہ دھمکی آمیز خط کے معاملے اور سابق وزیر اعظم عمران خان، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور دیگر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر تحقیقات کرنے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مولوی اقبال حیدر کی درخواست کو مسترد کیا اور درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
واضح رہے کہ اس
مقدمے میں درخواستگزار مولوی اقبال حیدر نے دائر درخواست میں سابق وزیر اعظم
عمران خان سمیت فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور دیگر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے
کی استدعا بھی کر رکھی ہے۔
فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ یہ طے شدہ قانون ہے
کہ ملک کے خارجہ امور سے متعلق معاملات انتہائی حساس ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت
غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال کر کے سماعت نہیں کی جا سکتی۔
عدالت کا کہنا ہے کہ درخواست میں دعوی مبہم ہے جبکہ
تائید میں دستاویز بھی پیش نہیں کی گئی کہ
سفارتی کیبل کے موضوع پر کیس کا جواز پیش کیا جا سکے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار متعلقہ ممالک کے پاکستانی
سفارتکاروں کی طرف سے بھیجے گئے سفارتی کیبل کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہے۔ سفارتی کیبلز
بہت اہمیت کی حامل ہیں اور ان تک رسائی محدود ہوتی ہے۔ سفارت کاروں کو اس بات کی یقین
دہانی ہوتی ہے کہ ان کا تجزیے کو سنسنی خیز یا سیاسی نہیں بنایا جائے گا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے
جائزے، تجزیے اور نتائج کو ان ممالک سے شیئر کریں جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پیر کو اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے
درخواست گزار سے استسفار کیا کہ آپ اس معاملے کو سیاسی کیوں بنا رہے ہیں؟ یہ ریاست
کی ذمہ داری ہے، آپ کیوں عدالت آئے اور آپ کی عدالت سے کیا استدعا ہے؟
جس پر
درخواستگزار مولوی اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیر اعظم کے
خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جس پر عمران خان پہلے خاموش رہے اور پھر ایک خط دکھا
کر یہ دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کی خلاف سازش کی گئی۔
ان کا
کہنا تھا کہ میری عدالت سے استدعا ہے کہ اس خط کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ اس
سفارتی مراسلے کی امریکی حکام نے تردید کی ہے۔
انھوں
نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ پابند ہیں کہ وہ عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے مبینہ دھمکی
آمیز خط کی تحقیقات کرائیں۔ وفاق کی ذمہ داری تھی کہ وہ معاملے کی تحقیقات کراتے اور
معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جاتے۔
درخواست گزار کا عدالت میں کہنا تھا کہ سابق وزیر
اعظم کے الزامات سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لہذا معاملے کی تحقیقات تک سابق
وزیر اعظم عمران خان سمیت فواد چودھری، شاہ محمود قریشی کا نام
ای سی ایل میں شامل کیا جائے جبکہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور امریکہ میں
پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کے نام بھی ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، ڈالر کی قیمت میں کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان
کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچنج میں کاروبار کے
پہلے روز تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے ۔
کے ایس ای 100 انڈیکس میں اب تک 1400
سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری
کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
سٹاک مارکیٹ کے بروکرز کے مطابق ملک
میں سیاسی صورتحال میں تازہ ترین پیش رفت کو بازار حصص میں مثبت انداز میں لیا ہے۔
دوسری جانب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں
بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور کاروبار کے آغاز پر ہی ڈالر کی قیمت میں 1.83 روپے
کی کمی دیکھنے میں آئی۔
’پنک روم‘ میں صدر ممنون سے ملاقات کے بعد جب ’بےچینی کے شکار‘ عمران خان نے حلف اٹھایا