عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔
لائیو کوریج
پارلیمنٹ ہاؤس کا پریس لاؤنج
صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس کے پریس لاؤنج میں موجود ہیں۔
یہ صحافی صبح سے یہاں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کی خبر کے لیے جمع ہوئے تھے تاہم اب تک اس پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی ہے۔ پریس لاؤنج میں اس وقت صحافی پارلیمنٹ ہاؤس کی صورتحال اور ٹی وی چینلز کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ صحافیوں میں موضوع گفتگو یہی ہے کہ وزیراعظم قومی اسمبلی میں آئیں گے یا نہیں اور وہ بھی اسمبلی سے خطاب کریں گے یا نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بھی کھول دی گئی ہے, شہزاد ملک، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی اسلام آباد ہائی کورٹ بھی کھول دی گئی ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کے عملے کو بھی عدالت پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سپیکر نے آٹھ بجے ووٹنگ کروانے پر اتفاق کیا تھا: رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
رانا ثنا اللہ نے بی بی سی کی فرحت جاوید سے پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کہا کہ اُنھیں تقریریں کرنے دی جائیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس پر ہم نے کہا کہ اُن کی تقریریں بنتی نہیں ہیں، سو کیسے کرنے دی جائیں۔
اس پر اپوزیشن کو بتایا گیا کہ خان صاحب بھی ایسا چاہتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق پھر طے یہ ہوا کہ ’افطاری تک آپ تقریریں کریں، پھر آٹھ بجے ووٹ ہو۔‘
اُن کے مطابق ’سپیکر کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر اس پر بات ہوئی، پھر ہم واپس آئے اور متحدہ اپوزیشن کی قیادت کو بتایا، ہم نے انھیں بتایا کہ اس اس طرح بات ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے پر فی الوقت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا مؤقف دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق اپوزیشن قیادت نے کہا کہ ’ویسے اتنی دیر پوائنٹ آف آرڈر پر تقاریر تو نہیں کروانی چاہییں، لیکن چلیں ٹھیک ہے۔‘
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد پھر سپیکر صاحب سے بات ہوئی کہ جب آپ اجلاس شروع کریں گے تو آپ رولنگ دیں گے کہ یہ طے ہوا ہے کہ افطار تک تقریریں لیں گے پھر آٹھ بجے ووٹ کروائیں گے۔
اس پر اُن کے مطابق اسد قیصر نے اتفاق کیا مگر جب اجلاس شروع ہوا تو دیکھا کہ امجد خان نیازی آ گئے ہیں۔
’تو ہم نے پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ (عمران) خان صاحب نہیں مانے۔‘
آئین کا آرٹیکل 190 کیا ہے؟
اس وقت پاکستان میں ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ Article 190 ٹرینڈ کر رہا ہے۔
آرٹیکل 190 کے مطابق ملک کے تمام انتظامی ادارے اور عدلیہ پر لازم ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے سلسلے میں عدالتِ عظمیٰ کا ساتھ دیں۔
بریکنگ, سپریم کورٹ کے سکیورٹی عملے کو عدالت پہنچنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سکیورٹی عملے کو عدالت پہنچنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
عدالتی ذرائع نے بی بی سی کو اس حوالے سے تصدیق کر دی ہے۔
بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس جاری ہے۔
دوسری جانب قوسمی اسمبلی میں اس وقت وقفہ ہے۔ اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے ساڑھے نو بجے کا وقت دیا گیا ہے۔
اجلاس صبح دس بجے سے جاری ہے اور تحریک عدم اعتماد پر اب تک ووٹنگ شروع نہیں کروائی گئی جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے سخت رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ فوری از خود نوٹس لے: مریم نواز
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اب تک شروع نہ کروانے پر سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی چاہیے۔
ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے فیصلے کی ڈھٹائی سے خلاف ورزی کا فوری از خود نوٹس لے اور عمران خان، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی گرفتاریوں کا حکم دے اس سے پہلے کہ وہ سب تباہ کر دیں۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بیوروکریسی/انتظامیہ کو حکومت کی طرف سے آنے والے کسی بھی قسم کے احکامات کی تعمیل کرنے سے انکار کرنا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پارلیمنٹ ہاؤس سے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو
قومی اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دیا گیا ہے اور تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہو سکی ہے۔
اس وقت پارلیمنٹ میں کیا صورتحال ہے، جانتے ہیں ہماری نامہ نگار حمیرا کنول اور فرحت جاوید سے جو آج صبح سے اجلاس دیکھ رہی ہیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ ملتوی، آج کیا کیا ہوا؟
اگر آپ ہماری لائیو کوریج میں ابھی ابھی شامل ہوئے ہیں تو آج کے دن کا خلاصہ پیش ہے
قومی اسمبلی کا اجلاس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق صبح ساڑھے 10 بجے شروع تو ہوا تاہم تقریباً 20 منٹ جاری رہنے کے بعد دوپہر ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا
اس وقت شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر شروع ہی کی تھی
اجلاس کی ابتدا میں سپیکر اسد قیصر نے کہا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کریں گے
اس دوران سپیکر کے چیمبر میں اپوزیشن رہنماؤں کی سپیکر سے ملاقات ہوئی اور اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی آپس میں ملاقات بھی ہوئی
اس کے بعد یہ اجلاس دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ شروع ہوا تو شاہ محمود قریشی، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں نے تقریریں کی
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مبینہ بین الاقوامی سازش کے معاملے پرحکومت واشنگٹن میں سابق امریکی سفیر اسد مجید کو بلا کر پارلیمان کا ان کیمرا اجلاس کروانے لیے تیار ہے
بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں اجلاس کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ووٹنگ نہ کروا کر توہینِ عدالت اور آئین شکنی کر رہے ہیں
اسی دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس رات نو بجے طلب کر لیا
،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office
اُن کے بعد خواجہ سعد رفیق، اسد عمر، آصف علی زرداری، مولانا اسعد محمود، شیریں مزاری نے خطاب کیا۔
اس کے بعد اجلاس چھ بجے سے لے کر شام کو ساڑھے سات بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
اس دوران پی ٹی آئی نے اپنے منحرف ارکان کی نااہلی کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس پیش کیا
اجلاس ساڑھے سات بجے کے کچھ بعد دوبارہ شروع ہوا تو شہباز شریف، خواجہ آصف اور حماد اظہر کی تقاریر کے بعد اجلاس کو ایک مرتبہ پھر ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دیا گیا
بریکنگ, اجلاس ایک بار پھر ساڑھے نو بجے تک ملتوی
قومی اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اسمبلی میں عشا کی اذان ختم ہوتے ہی حزب اختلاف کی جانب سے ایک بار پھر ووٹ ووٹ کے نعرے بلند ہوئے تاہم سپیکر نے اجلاس ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع، ووٹنگ پر ارکان پارلیمان شش و پنج کا شکار, فرحت جاوید، بی بی سی اردو
پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ اب تک شروع نہیں ہوئی ہے اور پارلیمنٹ بھی طرح طرح کی افواہوں کی زد میں ہے۔
بی بی سی نے اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں سے بات کی، کچھ نے بتایا کہ انہیں امید ہے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ووٹنگ ہوگی جبکہ بعض کو یقین ہے کہ اسپیکر ووٹ نہیں ہونے دیں گے۔
کچھ نے یہ بھی کہا کہ انہیں علم ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
منحرف ارکان کا مستقبل: صدارتی ریفرنس پر سماعت 12 اپریل کو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
منحرف ارکان اسمبلی کے مستقبل کے حوالے سے دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت 12 اپریل کو دن ایک بجے ہو گی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا۔
اس لارجر بینچ میں وہی ججز شامل ہیں جنھوں نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تھا۔
ان میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری: قومی اسمبلی کی بحث غیر قانونی ہے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے بلائے جانے والے اجلاس میں جاری بحث غیرقانونی ہے کیونکہ یہ تین اپریل کو طلب کیے گئے اجلاس کے ایجنڈے پر نہیں تھی۔
انھوں نے کہا یہ واضح بدنیتی ہے کہ صبح ساڑھے دس بجے سے شروع ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے پر کارروائی کا آغاز نہیں ہو سکا۔
بلاول کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے مطالبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور آج رات نو بجے وفاقی کابینہ کی میٹنگ طلب کرنا اس بات کا واضح اظہار ہے کہ حکومت عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں کروانا چاہتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سپیکر اور وزیراعظم کے درمیان گٹھ جوڑ واضح ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, نیازی اور ان کے ساتھی ووٹنگ کی اجازت نہ دے کر توہین عدالت کرنے پر تلے ہیں: شہباز شریف
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ابھی تک نہیں ہو پائی ہے۔
اسمبلی میں اراکین کی تقاریر جاری ہیں اور حزب اختلاف کا الزام ہے کہ یہ سب ووٹنگ میں تاخیر کے لیے کیا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کی جانب سے بار بار ووٹنگ کا مظالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس وقت اجلاس کے دوران نماز مغرب اور افطار کا وقفہ ہو گیا۔ اجلاس دوبارہ ساڑھے سات بجے شروع ہو گا۔
قائد حزب اختلف شہباز شریف کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا ’ایسا لگتا ہے کہ نیازی اور
ان کے ساتھی ووٹنگ کی اجازت نہ دے کر توہین عدالت کے مرتکب ہونے پر تلے ہوئے ہیں۔ تاریخ
انہیں ایک شرمناک کردار کے طور پر یاد رکھے گی جس نے بار بار آئین کی خلاف ورزی کی۔
کیا اس کی انا پورے ملک سے بڑی ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ہمیں پارلیمان کی خودداری کا دفاع کرنا ہے: شیریں مزاری
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا قومی اسمبلی میں کہنا تھا کہ ’جب
وار آن ٹیرر ہو رہی تھی ہمارے ملک کی معیشت تباہ ہو رہی تھی ، فوجی مر رہی تھے تو کسی
نے اعتراض نہیں کیا۔ ڈرون حملے ہوتے رہے، واحد عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف
احتجاج کیا۔ کسی اور کو پاکستان کا خیال نہیں آیا۔ ‘
ان کا کہنا تھا عمران خان جو اقتدار میں نہیں تھے تب بھی انھوں نے امریکہ کی
جنگ کے خلاف بات کی۔ کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔
ان کا کہنا تھا ’جو ملک امریکہ کے نیچے لگتے ہیں ان کا حال دیکھ لیں، افعانستان،
عراق، لیبیا جو دیکھ لیں۔ سب کو انھوں نے تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘
شیری مزاری کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا
یہ فرض بنتا تھا کے وہ اس خط کو دیکھتی تو سہی۔
سپریم کورٹ کیسے کہہ سکتا کہ ’ساڑھے دس بجے پارلیمان میں ملیں۔ ہمیں پارلیمان کی
خودداری کا دفاع کرنا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ چلا تو، کل کو جو بھی سپیکر کی رولنگ ہو گی اسے کوئی نہ کوئی چیلنج کر دے گا۔‘
پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے خلاف ریفرینس سپیکر قومی اسمبلی کو پیش
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف میں پارٹی لائن پر ووٹنگ یقینی بنانے کے ذمہ دار (چیف وہپ) عامر ڈوگر نے سپیکر قومی اسمبلی کو اپنے 20 منحرف ارکان کے خلاف ریفرینس جمع کروا دیا ہے۔
ریفرینس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ارکان اپنے خلاف وفاداری کی تبدیلی کے الزامات پر اظہارِ وجوہ نوٹس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے ہیں۔
ریفرینس میں سپیکر سے کہا گیا ہے کہ آئین کی شق 63 کی ذیلی شقوں کے تحت ان کی نشستوں سے نااہل کرنے کی کارروائی شروع کی جائے۔
،تصویر کا ذریعہPTI
،تصویر کا ذریعہPTI
’ووٹنگ کرواؤ‘
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ میں تاخیر پر اپوزیشن جماعتوں میں بے چینی کی فضا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں جلد از جلد ووٹنگ کروانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے بھی ایک ٹویٹ میں یہی مطالبہ دہرایا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, وفاقی کابینہ کا اجلاس آج رات نو بجے طلب, فرحت جاوید، نمائندہ بی بی سی
،تصویر کا ذریعہPMO
وزیر
اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج (ہفتہ) رات نو بجے طلب کر لیا ہے۔
حکومتوں کی تبدیلی امریکہ کی پالیسی کا حصہ ہے: شیریں مزاری
،تصویر کا ذریعہPID
شیریں مزاری نے مبینہ بین الاقوامی سازش کے بارے میں اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ریاستی قیادت کو جھوٹا کہہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دستاویز جعلی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ آپ آ کر وہ اِن کیمرا میں دیکھ لیں لیکن ہمیں پتا ہے کہ آپ نہیں آئیں گے کیونکہ آپ اس سازش میں شریک ہیں۔
شیریں مزاری نے کہا کہ حکومتوں کی تبدیلی امریکہ کی پالیسی کا حصہ ہے اور ہمارے رہنما اس کا حصہ بنتے رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ جب سے پاکستان بنا ہے امریکہ ہمارے لیڈروں کو خریدتا اور دھمکاتا رہا ہے۔
اُنھوں نے مولانا اسعد محمود کی جانب سے بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے تذکرے پر اُنھیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھٹو کے خلاف تو یہ خود پاکستان قومی اتحاد میں شامل تھے۔
آپ کے پاس مینڈیٹ نہیں کہ اس خط کے باعث پارلیمان کا وقت ضائع کریں: مولانا اسد محمود
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا اسد محمود اسمبلی سے خطاب میں کہنا تھا کہ ووٹنگ کو لے کر سپیکر اب بھی مبہم باتیں کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ’آپ نے تین اپریل کو بھی خط کا بہانہ بنایا، آپ اس خط کی آڑ میں آئین، پارلیمنٹ کو زمین بوس
کرنا چاہتے ہیں۔ اس خط کو پہلے پارلیمان میں پیش نہیں کیا۔ اب آپ کے پاس مینڈیٹ نہیں کہ اس خط کے باعث
پارلیمان کا وقت ضائع کریں۔ ووٹ کروایا جائے۔‘
’میری قیادت کو آپ دلیل سے شکست نہیں دے سکتے تو انہیں گالی دیتے ہیں۔ ‘
مولانا اسد محمود اسمبلی نے بھی اپنی تقریر میں شاہ محمود قریشی کو تنقید کا
نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا
کہ ’ہم آپ سے آئئنی حق مانگ رہے ہیں۔ آپ کے پاس اب اور کوئی بہانہ نہیں ہے۔ آج صرف ووٹ کروایا جائے، اس کے علاوہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو ایوان کی کارروائی میں مخل ہو۔‘