عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔
لائیو کوریج
کاغذاتِ نامزدگی کی پڑتال کا عمل جاری
اس وقت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ہماری نامہ نگار حمیرا کنول اس وقت وہاں موجود ہیں۔
بابر اعوان نے شہباز شریف کے کاغذات پر اعتراض اٹھایا تو شاہد خاقان عباسی نے بابر اعوان کو ٹوک کر کہا کہ رول کیا کہتا ہے وہ کیا جائے یہ تقریریں کرنے کی جگہ نہیں ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رول ۳۳ کیا کہتا ہے آپ قانون کو فالو کریں، پہلے آپ نے ٹائم تبدیل کیا آپ یہ بات کر رہے ہیں۔
سیکریٹری بار بار درخواست کر رہے ہیں کہ ہمیں عمل پورا کرنے دیں۔



شاہ محمود قریشی کے کاغذاتِ نامزدگی
سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے وزارتِ عظمیٰ کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جن پر علی محمد خان اور ملک عامر ڈوگر کے دستخط ہیں۔

’نئی کابینہ کی تشکیل اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت کے ساتھ ہوگی‘, شہباز شریف

وزارت عظمیٰ کے لیے متحدہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف کہتے ہیں کہ قومی ہم آہنگی ان کی پہلی ترجیح ہے۔
میڈیا سے غیر رسمی خصوصی گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ انڈیا کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں مگر مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر امن ممکن نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ نئی کابینہ کی تشکیل اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت کے ساتھ ہوگی۔ ’کوشش ہوگی کہ ملکی معیشت بہتر کر کے عوام کو ریلیف دے سکیں۔
’ملک میں نئے دور کا آغاز کریں گے۔ باہمی احترام کو فروغ دیں گے۔‘
کیوں نکالا؟: آمنہ مفتی کا کالم
’عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جمہوریت محفوظ ہے‘

یومِ دستور پر ایک پیغام میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ قوم کی امنگوں کے عین مطابق اس کے منتخب نمائندوں نے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کردیا ہے جو آئین کو کاغذات کا پلندہ سمجھتی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’نیازی حکومت کے خاتمے کے بعد دستور اور جمہوریت محفوظ ہیں۔‘
’پیپلز پارٹی عوامی حقوق اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے اٹل ارادے کے ساتھ سرگرمِ عمل رہے گی۔ آج ایک بار پھر قوم تاریخی لمحات سے گذر رہی ہے، آج آئین دشمن و عوام دشمن حکومت سے نجات کا دن ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا آئین جمہوری استحکام، معاشرتی مساوات، پائیدار معیشت اور مضبوط ریاست کے حصول کا متفقہ قومی لائحہ عمل ہے۔‘
سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟
بریکنگ, شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی جمع

،تصویر کا ذریعہEPA
نئے قائد ایوان کے انتخاب کے سلسلے میں متحدہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف اور پی ٹی آئی کے امیدوار شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے گئے ہیں۔
شہباز شریف کے تائید کنندہ خواجہ آصف جبکہ تصدیق کنندہ رانا تنویر بنے۔ ادھر شاہ محمود قریشی کے تائید کنندہ عامر ڈوگر اور تصدیق کنندہ علی محمد خان ہیں۔
عمران خان کے خلاف عدم اعتماد پر انڈیا میں ردِعمل: ’پاکستان نے نیٹ فلکس کو پیچھے چھوڑ دیا‘
متحدہ اپوزیشن کا اجلاس طلب

،تصویر کا ذریعہPMLN
نئے قائد ایوان کے سلسلے میں متحدہ اپوزیشن نے ایک اجلاس طلب کر لیا ہے۔
یہ اجلاس اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہو رہا ہے اور اس کی صدارت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کر رہے ہیں۔
اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کی سینئیر قیادت شریک ہے جس میں شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال، عطا تارڑ، خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر شامل ہیں۔
متحدہ اپوزیشن کچھ ہی دیر میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے۔
بریکنگ, نئے قائد ایوان کا انتخاب: پی ٹی آئی کی امیدوار پر مشاورت
تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ملائکہ بخاری نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی جماعت ابھی سوچ رہی ہے کہ نئے قائد ایوان کے لیے کس کا نام دیں اور امیدوار کے حوالے سے عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت جاری ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اعظم تارڑ نے بتایا کہ ابھی کچھ ہی دیر میں قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جائیں گے۔ خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف ہیں۔
قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان یا وزیر اعظم کے انتخاب کے سلسلے میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور جانچ پڑتال کے اوقات میں تبدیلی کی تھی تاہم اسے اب دوبارہ دو بجے مقرر کر دیا گیا ہے۔
’کاغذات نامزدگی کے لیے دو بجے تک کا وقت ہی مقرر ہے‘
سیکریٹری قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ وقت کو چار بجے مقرر کیا گیا تھا تاہم اب اسے دوبارہ دو بجے کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال رابطہ نہیں کیا گیا۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت دوپہر 2 بجے ہے اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سہ پہر 3 بجے کی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا ہے کہ رولز لکھے ہوئے ہیں، ان میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی کے لیے دو بجے تک کا وقت ہی مقرر ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کچھ ہے دیر میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جائیں گے۔
پی ٹی آئی کے کارکنان آج مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کریں گے

،تصویر کا ذریعہReuters
قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں پُرامن احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام کے مطابق اس سلسلے میں بڑے اور چھوٹے شہروں میں مظاہرے ہوں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔
شیڈول کے تحت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ سے ڈی چوک تک ریلی نکالی جائے گی۔ کراچی کی راشد منہاس روڈ جبکہ لاہور میں لبرٹی چوک پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’گورنر پنجاب کے عہدے سے مستعفی ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
عمران خان نے آج پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے جس میں شرکت کے لیے پنجاب کے گورنر عمر سرفراز چیمہ اور نگراں وزیر اعلی عثمان بزدار کو طلب کیا گیا ہے۔
عمر سرفراز چیمہ لاہور سے اسلام روانہ ہو گئے ہیں اور وہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ایک بیان میں عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ انھوں نے گورنر پنجاب کے عہدے سے مستعفی ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ’پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ گورنر کے پی شاہ فرمان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔
نئے قائد ایوان کا انتخاب: امیدوار آج دن دو بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتے ہیں, شہباز شریف متحدہ اپوزیشن کے امیدوار

تحریک عدم اعتماد کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اب معمول کے مطابق دفتری امور شروع ہو چکے ہیں۔
قائد ایوان یعنی نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے سلسلے میں کاغذات نامزدگی آج دن دو بجے تک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں ابھی تک کوئی بھی کاغذات نامزدگی جمع کروانے نہیں آیا تاہم متعلقہ دفتر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے متفقہ امیدوار شہباز شریف ہیں اور گذشتہ شب ہی اپوزیشن نے اپنے امیدوار کے لیے فارم لے لیا تھا۔
شہباز شریف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پہلے ہی نامزد ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ابھی تک کسی امیدوار کو نامزد کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
’ڈاکٹر ارسلان جیسے محب وطن کے گھر پر چھاپہ قابل مذمت ہے‘, اسد عمر کا پیغام
X پوسٹ نظرانداز کریں, 1X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر مبینہ چھاپے اور ’اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی‘ کی مذمت کی ہے۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ رات ڈاکٹر ارسلان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے خاندان سے تمام فونز چھین لیے گئے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ انھیں یہ جان پر افسوس ہوا ہے جبکہ شریں مزاری نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’یہ حیران کن نہیں کیونکہ تنقید پر عدم برداشت غصے کا باعث بنتی ہے۔‘
اسد عمر کہتے ہیں کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے کیونکہ ’ڈاکٹر ارسلان جیسے محب وطن نوجوان قوم کا اثاثہ ہیں۔‘ فواد چوہدری کے مطابق ’پوری تحریک انصاف ارسلان خالد کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہو گی۔‘
پی ٹی آئی نے اپنے پیغام میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاہم ایف آئی اے نے اب تک اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 2X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
’تعمیر نو کی جدوجہد کا آغاز کرنا ہے‘, احسن اقبال
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے مطابق عمران خان کے زوال کی وجہ ’جھوٹ، بہتان اور ذاتی انا‘ تھی مگر اب تعمیر نو کا وقت ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم برطرف ہوا اور یہ اعزاز عمران نیازی کے نام آیا-
’جب جھوٹ، بہتان اور ذاتی انا کی بنیاد پر خوشنما اور پر فریب نعروں کا سہارا لے کر سیاست کی جائے گی تو یہی انجام ہو گا- اب پاکستان کی معیشت، سیاست اور معاشرت کی تعمیر نو کی جدوجہد کا آغاز کرنا ہے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
شیخ رشید آج رات ’عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی‘ کریں گے
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وہ آج رات نو بجے اپنی رہائش گاہ لال حویلی کی بالکونی سے اپنے حلقے کےعوام کا شکریہ ادا کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’(میں) عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کروں گا۔‘
جہاں اکثر اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا وہیں عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید ان چند اتحادیوں میں سے تھے جو آخری وقت تک عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ پیر کو درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کی درخواست پر سماعت کریں گے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے دوران وزیراعظم نے خط موجود ہونے کا دعویٰ کیا اور خط کے دعوے سے ملکی مفاد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
اس درخواست میں عمران خان کے علاوہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سفارتکار اسد مجید، سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کافی عرصے کے بعد منظر عام پر آئے ہیں اور وہ ایسے وکلا میں شامل ہیں جو اہم معاملوں پر عدالتوں میں درخواستیں دائر کرتے ہیں۔ ماضی میں سپریم کورٹ نے ان کے داخلے پر پابندی بھی عائد کی تھی۔
گورنر کے پی شاہ فرمان کا مستعفی ہونے کا اعلان, ’شہباز شریف کو وزیراعظم کا پروٹوکول نہیں دے سکتا‘
گورنر خیبر پختونخوا (کے پی) شاہ فرمان نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن کے رہنما شہباز شریف کے وزیر اعظم بنتے ہی گورنر کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
گورنر کے پی شاہ فرمان نے کہا ہے کہ ’شہباز شریف کے بطور وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لینے والے دن اپنا استعفی بجھوا دوں گا۔ (میں) شہباز شریف کو وزیراعظم کا پروٹوکول نہیں دے سکتا۔‘
انھوں نے ستمبر 2018 کے دوران اس عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس آج

،تصویر کا ذریعہEPA
سابق وزیر اعظم عمران خان نے آج اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس بلا لیا ہے۔
وہ اس اجلاس میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اس کور کمیٹی میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چوہدری، پرویز خٹک اور شفقت محمود سمیت دیگر اہم نام شامل ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
