عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کیا عمران خان کا اپنے خلاف سازش سے متعلق بیانیہ عوام کو سڑکوں پر لا رہا ہے؟

  2. پاکستان میں ڈرون حملے سے متعلق گردش کرتی خبروں کی حقیقت کیا ہے؟

  3. صدر عارف علوی رخصت پر چلے گئے، شہباز سے حلف نہیں لیں گے

    ایوانِ صدر نے اعلان کیا ہے کہ صدر عارف علوی کو ڈاکٹرز نے طبی بنیاد پر کچھ دن کے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

    اُن کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر یعنی سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نومنتخب وزیرِ اعظم عارف علوی سے حلف لیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. قومی اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک ملتوی

    نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کے انتخاب اور خطاب کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کی کارروائی 16 اپریل شام پانچ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

  5. امریکہ سے برابری کے تعلقات استوار کرنا ہوں گے: نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اتارچڑھاؤ کا شکار رہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تعلقات بگاڑ لیں۔

    ان کے مطابق ہمیں برابری کی سطح پر امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ آج کی سفارتکاری معاشی مضبوطی پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ہم معاشی طور پر مضبوط نہیں ہو گی تو پھر ہمارے سفارتکاری کسی کام کی نہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو اربوں ڈالر کی برآمدات کرتا ہے۔

  6. سی پیک کو پاکستان سپیڈ سے آگے بڑھائیں گے: نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف

    گوادر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین پاکستان کا ایک وفادار، قابل اعتبار اور سکھ کا دوست ہے۔ چین نے ہمیشہ ہمیں دوست جانا، یہ دوستی لازوال ہے۔ یہ دونوں ممالک کے دلوں میں بستی ہے۔ چین سے پاکستان کی دوستی ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔

    اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ دور حکومت میں اس دوستی کو جو کمزور کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں وہ داستان قابل افسوس ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پاکستان سپیڈ سے آگے بڑھائیں گے۔

    شہباز شریف نے سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے تعاون کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

  7. بریکنگ, نو منتخب وزیراعظم کا کم سے کم ماہانہ اجرت 25 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان

    شہباز

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے یکم اپریل سے کم سے کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 25 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ گذشتہ دور میں پینشنرز کو نظر انداز کیا گیا۔ انھوں نے یکم اپریل سے سول اور ملٹری پینشنز میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    شہباز شریف کے مطابق مہنگائی کے اس دور میں راتوں رات تو تبدیلی ممکن نہیں مگر ہمت اور کوشش کریں گے۔

    اس کے علاوہ اُنھوں نے اُن سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 10 فیصد اضافہ کریں گے جن کی تنخواہیں ایک لاکھ روپے تک ہیں۔

    شہباز شریف نے بینظیر انکم سپورٹ کارڈ بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان ملک کے لیے دی، کیا برا تھا کہ اگر اُن کا نام اس پروگرام پر رہتا۔

    اُنھوں نے کہا کہ نئی حکومت اُن کا نام بحال کرے گی اور اس پروگرام کو مزید وسعت بھی دے گی۔

  8. روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے ڈالر نکالے جانے کی تردید, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ان خبروں کی تردید کی گئی ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں ڈالرز نکالے گئے ہیں۔

    پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے بڑی تعداد میں ڈالرز نکالے جانے کی خبریں آنی شروع ہوئیں۔

    ان خبروں کے مطابق پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنی سرمایہ کاری نکالنی شروع کر دی ہے۔

    پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنے اعلامیے میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے بڑی تعداد میں اچانک ڈالروں کے اخراج کی خبروں کو مسترد کرتے کہا کہ اب تک اپریل میں آٹھ کروڑ 60 لاکھ ڈالر ان اکاؤنٹس میں آ چکے ہیں اور ان اکاؤنٹس میں اب تک کی جانے والی سرمایہ کاری چار ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. معیشت کے لیے ڈیڈلاک نہیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے: نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف

    معیشت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی مگر اس کا حشر نشر کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اگر اس پیشکش کو قبول کرلیا گیا ہوتا تو اس کا کریڈٹ ان کو جاتا اور ہزاروں لوگ یوں بے روزگاری کی چکی میں نہ پس رہے ہوتے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ معیشت کے لیے ڈیڈلاک نہیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں اس وقت بدقسمتی سے تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ خسارہ ہونے والا ہے۔ ساڑھے تین برس میں ہوش ربا قرضے لیے گئے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ 20 ہزار ارب روپے قرض کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ کے کل قرضوں کا 80 فیصد اضافہ ہے۔

    شہباز شریف کے مطابق ان کے دور میں فیکٹریوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہو گیا اور لہلاتے کھیت زرد پڑ گئے۔

    ان کے مطابق تقسیم نہیں تفہیم سے کام لینا ہوگا۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب وہ اس کا ازالہ کریں گے۔

  10. معیشت کے استحکام کے لیے خون پسینہ بہانا ہو گا: شہباز شریف

    نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ نجانے یہ کیسی تبدیلی کی ہوا چلی کہ معیشت تباہ ہو گئی ہے اور معاشرہ تباہ ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق اب سالہا سال لگ جائیں گے اس زہر آلود پانی کو صاف کرنے میں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے ملک کی معیشت اس وقت گھمبیر مسائل کا شکار ہے۔ اس کے لیے ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی، خون پسینہ بہانا ہوگا۔

    ان کے مطابق اگر اس ملک کی ڈوبتی کشتی کو بچانا ہے تو اس کے علاوہ کوئی نسخہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتا ہے کہ اتحاد، اتحاد اور صرف اتحاد۔ شہباز شریف نے کہا کہ جمہوریت اور معیشیت کے لیے ڈیڈلاک نہیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ نہ کوئی غدار تھا اور نہ ہے۔

  11. بریکنگ, شہباز شریف: خط کے معاملے میں سازش ثابت ہوئی تو گھر چلا جاؤں گا

    شہباز

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جھوٹ پر جھوٹ بولا جا رہا تھا کہ کوئی خط آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب اس کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہیے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ان کی آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بہت پہلے ملاقات ہو چکی تھی اور اس حوالے سے بہت پہلے فیصلے ہو چکے تھے۔

    ان کے مطابق بہت مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ تاریخ کی اس نااہل حکومت کے خلاف عدم اعتماد لے کر آئیں گے۔ ان کے مطابق آپس میں مشاورت کے بعد 8 مارچ کو یہ قرارداد جمع کروائی گئی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اس ایوان کے ہر ہر رکن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ حقیقت ہے کیا۔ ان کے مطابق یہ سچ سامنے آنا چاہیے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اس خط پر پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کو ان کیمرا بریفنگ ہو گی جس میں مسلح افواج اور انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان سمیت مراسلہ لکھنے والے سفیر بھی شامل ہوں گے۔

  12. سیلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر کا راستہ دکھا دیا ہے: شہباز شریف

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے انتخاب کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور حق کی کامیابی ہوئی اور باطل کی شکست ہوئی۔

    آج کا دن پوری قوم کے لیے ایک عظیم دن ہے کہ اس ایوان نے ایک ’سیلیکٹڈ وزیرِ اعظم‘ کو اپنے گھر کا رستہ دکھایا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ڈالر روپے کے مقابلے میں آٹھ روپے نیچے گیا ہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کو مبارکباد دی کہ انھوں نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا اور آئین شکنی کو ختم کر دیا، جسے یادگار دن کے طور منانا چاہیے۔

  13. شہباز شریف: پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے ملک کی وزارتِ عظمٰی تک کا سفر

  14. شہباز شریف پاکستان کے 23 ویں وزیرِ اعظم منتخب، 174 ارکان نے ووٹ دیا

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شہباز شریف پاکستان کے 23 ویں وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔ اُنھیں قومی اسمبلی کے 174 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ شاہ محمود قریشی کو ایک بھی ووٹ نہیں مل سکا۔

  15. نتیجے کا اعلان اب سے کچھ لمحوں بعد ہو گا

    اسمبلی

    قائدِ ایوان کی نشست کے سامنے موجود یہ ڈائس نتیجے کے اعلان کے بعد نئے قائدِ ایوان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس پر پاکستان کے سرکاری نشریاتی اداروں پی ٹی وی، اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے مائیک لگے ہوئے ہیں۔

  16. قومی اسمبلی میں نئے وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل

    اسمبلی
    اسمبلی

    اس وقت قومی اسمبلی کا عملہ ووٹوں کی گنتی کر رہا ہے۔ ووٹنگ کے بعد شہباز شریف مہمانوں کی گیلری کی طرف گئے جہاں اُنھوں نے حمزہ شہباز اور مریم نواز سے ملاقات کی۔

  17. معاملہ حل نہیں ہوا تو عدالت فیصلہ سنائے گی: چیف جسٹس

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر معاملہ مل کرحل نہیں ہوا تو عدالت اب اپنا فیصلہ سنائے گی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اُنھیں کل تک کا وقت دیا جائے، وہ مشاورت کریں گے، جس عدالت نے کہا کہ آج ہی کوئی فیصلہ کرنا ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 28 مارچ کو عثمان بزدار نے استعفیٰ دیا اور یکم اپریل کو گورنر نے استعفیٰ منظور کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ پنجاب اس وقت بغیر حکومت کے چل رہا ہے۔

    اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی سپیکر نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے کیونکہ اُنھیں آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کرنی دی گئیں۔

    حمزہ شہباز کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپیکر پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ کے امیدوار ہیں سو قانون کے مطابق ڈپٹی سپیکر اسمبلی کے معاملات کو دیکھے گا۔

    تاہم اُنھوں نے کہا کہ سپیکر نے غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کے اختیارات کالعدم قرار دے دیے اوراجلاس 16 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔

  18. نہیں چاہتے کہ اسمبلی کے معاملات باہر آئیں، رضامندی سے حل ہونے چاہییں: لاہور ہائی کورٹ

    پنجاب اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Assembly

    پنجاب اسمنبلی میں وزیر اعلی کا الیکشن کروانے کے معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہاٸی کورٹ نے درخواستوں کی سماعت شروع کر دی ہے۔

    وکیل حمزہ شہباز اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پرسوں تک کی تاریخ کا کہا تھا مگر یہ نہیں مانے

    جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 16 اپریل سے قبل انتخابات کروانا ممکن نہیں کیونکہ بہت سارے معاملات کو بہتر بنانا ہے۔

    عدالت نے اس موقع پر کہا کہ مشاورت کے لیے اس لیے کہا تھا تاکہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں مگر آپ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پرانی پنجاب اسمبلی کی عمارت میں انتخابات کروائے جاسکتے ہیں۔ اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 16 اپریل میں صرف چار دن رہ گئے ہیں، سو انتظار کر لیا جائے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم 16 اپریل کو اسمبلی اجلاس نہیں کروانا چاہتے۔

    چیف جسٹس نے اُن سے کہا کہ وہ راستہ نہ کھولا جائے جو نامناسب ہو۔

    اُنھوں نے کہا کہ نہیں چاہتے کہ اسمبلی کےمعاملات بایر آئیں اسی لیے باہمی رضامندی سے مساٸل حل ہونے چاہییں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جب آپ لچک نہیں دکھائیں گے تو ن لیگ، ق لیگ کیا لچک دکھائیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ آپ لوگ اچھے طریقے سے حل نکالیں، یہ وقت ہے، اس کو سنبھال لیں، ایک دفعہ راستہ کھلا تو پھر آپ دیکھیے گا۔

  19. پی ٹی آئی کے واک آؤٹ کے بعد حکومتی بینچز خالی

    اسمبلی
    اسمبلی

    قومی اسمبلی میں سے پی ٹی آئی کے ارکان کے واک آؤٹ کے بعد حکومتی بینچز خالی ہیں جبکہ جی ڈی اے کی سائرہ بانو سمیت تین ارکان اب بھی ایوان میں موجود ہیں۔

  20. بریکنگ, شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بھی قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے رہی ہے۔

    اُن کے جاتے ہی ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے بھی نشست چھوڑ دی اور ایوان ایاز صادق کے حوالے کر دیا۔