کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پنجاب میں کورونا وائرس کے 658 متاثرین، پاکستان میں تعداد 1870 سے زیادہ

    punjab

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں منگل کی صبح تک اس بیماری کے 658 مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جس کے بعد پاکستان میں مجموعی تعداد 1872 ہو گئی ہے۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق کووڈ 19 سے صونے میں اموات کی تعداد 9 ہے جبکہ 5 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    پنجاب میں کورونا وائرس کے متاثرین

    قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین اور تبلیغی جماعت کے کارکن

    • ڈی جی خان - 207
    • ملتان - 89
    • رائے ونڈ - 27
    • فیصل آباد - 5

    دیگر متاثرین

    • لاہور - 130
    • گوجرانوالہ - 62
    • راولپنڈی - 44
    • جہلم - 28
    • ننکانہ صاحب - 13
    • فیصل آباد 9
    • ڈی جی خان - 5
    • حافظ آباد - 5
    • منڈی بہاؤالدین - 4
    • میانوالی - 3
    • رحیم یار خان - 3
    • ملتان - 2
    • وہاڑی - 2
    • سرگودھا - 2
    • خوشاب - 1
    • ناروال - 1
    • بہاولنگر - 1
    • بہاولپور - 1
    • اٹک - 1
    • لیہ - 1
    • قصور - 1
  2. وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاشی پیکج کی منظوری متوقع

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعظم عمران خان اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

    کابینہ کو ملک میں کورونا کی وبا سے پیدا شدہ صورتحال اور حکومتی اقدامات سے آ گاہ کیا جا ئے گا۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیر کو وزیراعظم کے 1200 ارب روپے کے معاشی پیکج کی منظوری دی تھی، جس کی منظوری کابینہ آج دے گی۔

    توانائی ڈویژن کی جانب سے کابینہ کو بجلی کی پیدا وار اورڈیمانڈ کے علاوہ ٹیرف اور گردشی قرضہ کے ایشوز پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ انٹر نیشنل لیبر کانفرنس کے اختیار کردہ کنونشن اور پروٹوکول بھی اوورسیز پا کستانیز ڈویژن کی جانب سے پیش کئے جائیں گے۔

  3. کیا پاکستان آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط نرم کروا سکتا ہے؟

  4. پاکستان میں ہلاکتیں 25، متاثرین کی تعداد 1866 ہو گئی

    pak

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں سندھ، پنجاب، بلوچستان، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد 1866 تک پہنچ گئی ہے۔

    حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 240 افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    پنجاب

    پنجاب بدستور ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں اب متاثرین کی تعداد 652 تک پہنچ گئی ہے۔

    پنجاب میں اب تک نو افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی پانچ تعداد ہے۔

    پنجاب کے متاثرین میں 291 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جن میں سے 207 ڈیرہ غازی خان، 80 ملتان اور پانچ فیصل آباد قرنطینہ میں ہیں۔ رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع کے شرکا میں سے بھی 27 کو وہاں بنائے گئے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی متاثرین کی تعداد 128 ہو گئی ہے۔ بقیہ متاثرین میں سے 62 کا تعلق کا گجرات، 28 کا جہلم، 40 کا راولپنڈی، 13 کا ننکانہ صاحب اور 11 کا گوجرانوالہ سے ہے۔

    اس کے علاوہ فیصل آباد میں نو، ڈیرہ غازی خان اور حافظ آباد میں پانچ، پانچ، منڈی بہاؤالدین میں چار، رحیم یار خان اور میانوالی میں تین، تین، ملتان، رحیم یار خان، وہاڑی اور سرگودھا میں دو، دو جبکہ نارووال، خوشاب، قصور، اٹک، بہاولنگر اور بہاولپور میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

    سندھ

    صوبہ سندھ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق منگل کو حیدرآباد میں تبلیغی جماعت کے مزید 14 ارکان سمیت صوبے میں کورونا وائرس کے 65 نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد متاثرین کی تعداد 625 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 41 علاج کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جبکہ سات ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

    کراچی میں 45 نئے مریضوں کے بعد متاثرین کی کل تعداد 294 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں اب کورونا کے مریضوں کی کل تعداد 57 ہو چکی ہے جبکہ جامشورو میں دو اور جیکب آباد اور دادو میں ایک ایک مریض موجود ہے۔

    سندھ میں ان 355 متاثرین میں سے 297 میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔

    ان کے علاوہ 272 متاثرین کو سکھر اور لاڑکانہ کے قرنطینہ میں رکھا گیا جن میں سے 23 صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    بلوچستان

    ‎منگل کو بلوچستان میں مزید دو نئے مریضوں کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 154 ہوگئی ہے۔

    ‎حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق اب تک کل 1854 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں 138 زائرین اور 16 مقامی شہریوں میں کورونا پایا گیا ہے۔

    دیگر صوبے و علاقہ جات

    خیبر پختونخوا میں متاثرین کی تعداد 221 تک پہنچ چکی ہے جبکپہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کے متاثرین سات افراد کے اضافے کے بعد 58 ہو گئے ہیں۔

    گلگت بلتستان میں متاثرہ افراد کی تعداد 148 تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایسے افراد کی تعداد چھ بنتی ہے۔

  5. پنجاب: کاروبار کی سہولت کے لیے 18 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. وزیر صحت پنجاب: تبلیغی جماعت والے خود کو آئسولیٹ کر لیں

    yasmin rashid

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ تبلیغی اجتماع میں جانے والوں کو خود کو آئسولیٹ کرنا چاہیے کیوں کہ 50 ارکان میں سے 27 کے ٹیسٹ مثبت آنا تشویش ناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمیں کو بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے، مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے نجی ٹی وی پر کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ آہستہ ہوجائے گا، اگلے پانچ روز میں صورتحال دیکھ کر لاک ڈاؤن بڑھانے کا فیصلہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ 15 اپریل تک ملک میں کورونا کے حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ لاہور میں کورونا کے علاج کے لیے 3 اور راولپنڈی میں ایک اسپتال کو مخصوص کررہے ہیں جبکہ بہاولپور اور مظفر گڑھ میں بھی کورونا کے علاج کے لیے اسپتالوں کو مخصوص کردیا ہے۔

  7. حکومت نے کورونا ہیلپ لائن متعارف کرا دی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس سے متعلق آگاہی کے لیے حکومت نے وٹس ایپ پر کورونا ہیلپ لائن متعارف کروائی ہے۔

    حکومت کے مطابق اس ہیلپ لائن سے کورونا وائرس سے متعلق تمام معلومات حاصل کی جا سکیں گی، جس میں تازہ ترین اعداوشمار اور کورونا ٹیسٹ کے لیے قریبی لیب کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس ہیلپ لائن سے مدد حاصل کرنے کے لیے 00923001111166 پر 'Hi' کے بعد اپنا پیغام لکھنا ہوگا۔

    اس ہیلپ لائن کے بارے میں وزیر اعظم کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے معلومات شیئر کی گئی ہیں۔

  8. کورونا کے خلاف جنگ میں جان دینے والے ڈاکٹرز کی کہانی

  9. ’غیر تصدیق شدہ ٹیسٹ کٹس‘: فواد چوہدری کی این ڈی ایم اے کو تنبیہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتوں اور این ڈی ایم اے کو وارننگ دینا چاہتا ہوں، کورونا وائرس کی غیر تصدیق شدہ ٹیسٹک کٹس کی بھر مار ہو رہی ہے، اگر بیمار مریض کو ٹیسٹ صحت مند ظاہر کر دے گا تو اس کا مطلب ہے کئی جانوں کو خطرے میں ڈالنا، جب تک ڈریپ پاکستان کی اپنی کٹس کی تصدیق کرتا ہے آپ امپورٹ کریں لیکن صرف تصدیق شدہ کٹس۔

    تاہم فواد چوہدری نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں غیر تصدیق شدہ کٹس کے بارے میں کہاں سے معلومات حاصل ہوئیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    وزیر کی ٹویٹ کے بعد این ڈی ایم اے نے ایک وضاحت جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے پاس آنے والی کورونا وائرس کی تمام ٹیسٹ کٹس چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے آئی ہیں۔

  10. خیبرپختونخوا: لاک ڈاؤن کی پابندی کرنے پر صوبائی وزیر صحت کا عوام کو شکریہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صوبے کی سب سے زیادہ متاثرہ یونین کونسل مانگا (تحصیل مردان) کی فضا کی بنائی گئی دو تصاویر شیئر کرتے ہوئے عوام کا لاک ڈاؤن کی سخت پابندی کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    یاد رہے کہ یونین کونسل مانگا وہ علاقہ ہے جہاں کورونا وائرس کے باعث پاکستان کی سب سے پہلی ہلاکت واقع ہوئی تھی۔ سعودی عرب سے عمرے کی ادائیگی کے بعد یہاں پہنچنے والا ایک مقامی شخص ہلاک ہو گیا تھا، تاہم اپنی ہلاکت سے قبل انھوں نے علاقے کی عوام کے لیے دعوت عام کا انعقاد کیا تھا۔ بعدازاں درجنوں مقامی افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

    صوبائی وزیر صحت کے مطابق یہ تصاویر سوموار کو شام پانچ بج پر 13 منٹ پر بنائی گئی تھیں تاہم ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مانگا کی گلیاں اور سٹرکیں مکمل طور پر سنسان ہیں۔ تیمور جھگڑا نے اس یونین کونسل میں لاک ڈاؤن کو مؤثر بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 221 ہیں جبکہ اب تک پانچ افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  11. وزیر اعلیٰ سندھ: لاک ڈاؤن میں نرمی 4 اپریل کے بعد

    مراد علی شاہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ 4 اپریل کے بعد سندھ میں لاک ڈاؤن میں نرمی لانا شروع کریں گے، مگر ایک طریقہ کار کے تحت ایسا کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بروقت لاک ڈاؤن کرنے سے زیادہ فائدہ ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ کیسز تبلیغی اجتماع سے واپس آنے واللے افراد کی وجہ سے ہیں۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کرنے میں تاخیر ہوگئی، اگر 15مارچ سے بھی لاک ڈاؤن کردیتے تو ابھی لاک ڈاؤن ختم کرنے پر غور کر رہے ہوتے۔

  12. کرسی سلامت رہے!

  13. کورونا وائرس: ٹیلی کلینک آپ کے لیے کیسے مددگار؟

  14. خود ساختہ تنہائی کے بارے میں یاد رکھنے والی پانچ اہم باتیں

    اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ کورونا وائرس کا شکار ہیں، یا آپ کسی ایسے شخص سے رابطے میں رہے ہیں جسے کورونا وائرس ہو چکا ہے، یا کسی ایسی جگہ ہو کر آئے ہیں جہاں اس وائرس کے بہت سارے مریض موجود ہیں، تو خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیں۔

    لیکن اس خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے اور اس کا درست طریقہ کیا ہے؟ خود ساختہ تنہائی کے بارے میں یاد رکھنے والی پانچ اہم باتیں جانیے ہماری ساتھی ثمرہ فاطمہ کی اس ڈیجیٹل ویٹیو میں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  15. بریکنگ, پنجاب میں بھی 13 نئے مریض، تعداد 651 ہو گئی, پاکستان میں متاثرین 1788، ہلاکتیں 23، صحت یاب 76

    پیر کو پنجاب میں سب سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد یہاں متاثرین کی کل تعداد 651 ہو گئی ہے جبکہ اب تک صوبے میں نو افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں جن میں سے تین ہلاکتیں پیر کو ہوئیں۔

    اب تک صوبے میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد پانچ ہے۔

    اس اضافے کے بعد پاکستان میں کل متاثرین کی تعداد 1788 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 76 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 23 ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    پنجاب کے متاثرین میں 291 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جن میں سے 207 ڈیرہ غازی خان، 80 ملتان اور پانچ فیصل آباد قرنطینہ میں ہیں۔ رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع کے شرکا میں سے بھی 27 کو وہاں بنائے گئے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی متاثرین کی تعداد 128 ہو گئی ہے۔ بقیہ متاثرین میں سے 62 کا تعلق کا گجرات، 28 کا جہلم، 40 کا راولپنڈی، 13 کا ننکانہ صاحب اور 11 کا گوجرانوالہ سے ہے۔

    اس کے علاوہ فیصل آباد میں نو، ڈیرہ غازی خان اور حافظ آباد میں پانچ، پانچ، منڈی بہاؤالدین میں چار، رحیم یار خان اور میانوالی میں تین، تین، ملتان، رحیم یار خان، وہاڑی اور سرگودھا میں دو، دو جبکہ نارووال، خوشاب، قصور، اٹک، بہاولنگر اور بہاولپور میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

  16. بریکنگ, حیدرآباد میں تبلیغی جماعت میں کورونا کے 43 نئے مریض، سندھ میں تعداد 566, پاکستان میں متاثرین 1775، 23 ہلاکتیں جبکہ 76 صحت یاب

    صوبہ سندھ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق پیر کی شب حیدرآباد میں تبلیغی جماعت کے 36 ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 566 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 41 علاج کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں۔۔

    سندھ میں محکمۂ صحت کی جانب سے پیر کی شب جاری کیے جانے والے سرکاری اعداد و شمار کے لیے مطابق صوبے میں 58 نئے مریض سامنے آئے ہیں

    کراچی میں متاثرین کی کل تعداد 249 تک پہنچ گئی ہے جن میں پیر کو سامنے آنے والی 21 نئے مریض بھی شامل ہیں جن میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔ کراچی میں کل 17 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ حیدرآباد میں اب کورونا کے مریضوں کی کل تعداد 43 ہو چکی ہے جبکہ جیکب آباد اور دادو میں ایک ایک مریض موجود ہے۔

    ان کے علاوہ 272 متاثرین کو سکھر اور لاڑکانہ کے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا جن میں سے 23 صحت یاب ہو چکے ہیں۔

  17. ’کورونا ٹائیگرز سے کہیں زیادہ ضرورت طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان کی ہے‘

    وزیراعلیٰ سندھ کے معاون مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے عوام سے خطاب پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو عوام کو بتانا چاہیے تھا کہ وہ کووڈ-19 کی وبا پر کیسے قابو پائیں گے مگر بدقسمتی سے اس کا پوری تقریر میں کوئی ذکر نہ تھا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ملک کو کورونا ٹائیگرز سے کہیں زیادہ ضرورت طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان اور وینٹیلیٹرز کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. بریکنگ, سندھ میں مزید ایک ہلاکت، پاکستان میں کل تعداد 23 ہو گئی

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کراچی میں کورونا وائرس سے ایک اور ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد پیر کو کراچی میں اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی ۔

    محکمہ صحت کے مطابق ہلاک ہونے والی 63 سالہ خاتون کا تعلق کراچی سے ہے جنھیں کورونا کے علاوہ دمے کی بیماری اور سانس لینے میں تکلیف جیسے مسائل کا سامنا تھا

    وزیر صحت کے مطابق متاثرہ خاتون 10 دن پہلے سعودی عرب سے واپس آئی تھیں۔

    سندھ میں کورونا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چھ ہے جبکہ پنجاب میں نو، خیبر پختونخوا میں پانچ، گلگت بلتستان میں دو جبکہ بلوچستان میں ایک مریض اس وائرس کا شکار ہو کر وفات ہا چکا ہے۔

  19. بریکنگ, پاکستان میں 150 سے زیادہ نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 1740 سے بڑھ گئی, 22 ہلاکتیں جبکہ 76 مریض صحت یاب

    پیر کو پاکستان میں ایک مرتبہ بھر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے اور ملک کے تمام صوبوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 155 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    اس اضافے کے بعد ملک میں کورونا کے متاثرین کی کل تعداد 1744 تک پہنچ گئی ہے۔ پیر کو ملک میں مزید ہلاکتیں بھی ہوئیں جس کے بعد اس وبا میں مرنے والوں کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔

    پنجاب

    پیر کو پنجاب میں سب سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد یہاں متاثرین کی کل تعداد 638 ہو گئی ہے جبکہ اب تک صوبے میں نو افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں جن میں سے تین ہلاکتیں پیر کو ہوئیں۔

    پنجاب کے متاثرین میں 291 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جن میں سے 207 ڈیرہ غازی خان، 80 ملتان اور چار فیصل آباد قرنطینہ میں ہیں۔ رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع کے شرکا میں سے بھی 27 کو وہاں بنائے گئے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی متاثرین کی تعداد 126 ہو گئی ہے۔ بقیہ متاثرین میں سے 62 کا تعلق کا گجرات، 28 کا جہلم، 40 کا راولپنڈی، 13 کا ننکانہ صاحب اور 11 کا گوجرانوالہ سے ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    اس کے علاوہ فیصل آباد میں نو، ڈیرہ غازی خان اور حافظ آباد میں پانچ، پانچ، منڈی بہاؤالدین میں چار، میانوالی میں تین، ملتان، رحیم یار خان، وہاڑی اور سرگودھا میں دو، دو جبکہ نارووال، خوشاب، قصور، اٹک، بہاولنگر اور بہاولپور میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

    سندھ

    سندھ میں محکمۂ صحت کی جانب سے پیر کی شب جاری کیے جانے والے سرکاری اعداد و شمار کے لیے مطابق صوبے میں 27 نئے مریض سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد 535 ہو گئی ہے جبکہ ان میں سے 41 علاج کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    کراچی میں متاثرین کی کل تعداد 249 تک پہنچ گئی ہے جن میں پیر کو سامنے آنے والی 21 نئے مریض بھی شامل ہیں جن میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔

    اس کے علاوہ حیدرآباد میں 12 اور جیکب آباد اور دادو میں ایک ایک مریض موجود ہے۔

    ان کے علاوہ 272 متاثرین کو سکھر اور لاڑکانہ کے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا جن میں سے 23 صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    خیبر پختونخوا

    خیبر پختونخوا میں بھی ہیر کو مزید 29 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وہاں کل تعداد 221 ہو گئی ہے۔

    نئے مریضوں میں سے 16 کا تعلق پشاور، تین کا لوئر دیر سے ہے جبکہ باجوڑ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ اور مردان میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

    اس کے علاوہ پانچ نئے مریض ان زائرین میں سے ہیں جو ایران سے واپس آئے ہیں۔

    بلوچستان

    بلوچستان کے محکمۂ صحت کے ترجمان کے مطابق صوبے میں پیر کو مزید 11 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 152 تک پہنچ گئی ہے۔

    بلوچستان میں پیر کو دو افراد اس بیماری سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

    اسلام آباد، گلگت بلتستان اور کشمیر

    شمالی علاقے گلگت بلتستان میں بھی حکام نے مزید 13 افراد میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے مشیرِ اطلاعات شمش میر کے مطابق اس اضافے سے متاثرین کی کل تعداد 141 تک پہنچ گئی ہے جبکہ دو افراد اب تک ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی متاثرین کی کل تعداد 51 ہو چکی ہے جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ مریض موجود ہیں۔

  20. سماجی فاصلہ قائم رکھیں اور احتیاط کریں، عمران خان

    وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے اور جہاں ملیں وہاں دوسروں سے فاصلہ رکھیں جس کو سماجی فاصلہ کہتے ہیں اور صرف احتیاط نہ کرنے سے اپنی اور دوسری کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم بحیثیت قوم جنگ جیتنی ہے تو جو لوگ نادار ہیں ان کی مدد کرنی ہے جس طرح انصار نے مہاجرین کی مدد کی تھی آج اسی جذبے کی ضرورت ہے اور ہمیں وہی جذبہ پیدا کرنا ہے جس کے باعث یہ قوم کورونا وائرس سے جنگ جیتے گی۔