کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت
پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔
لائیو کوریج
سندھ میں کرفیو نہیں لگا بس عوام گھر میں رہیں: سعید غنی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لاک ڈاؤن میں کراچی کے صبح و شام کیسے گزر رہے ہیں
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ان دنوں جیسے دوپہر ڈھلتی ہے تو گلیوں اور محلوں میں چہل پہل اور محفلیں جم جاتی ہیں۔
یہ اور بات ہے کہ حکومت سندھ نے صوبے میں 15 روز کے لیے کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور دفاتر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگ آپس میں سماجی فاصلہ رکھیں اور کورونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیل نہ پائے، لیکن روایات اور سماجی و ثقافتی رابطے اس کے درمیان دیوار ہیں۔
سفری پابندیوں سے پاکستانی شہری کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پاکستان سمیت مختلف ممالک کی طرف سے سفری پابندیاں سخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے ان ملکوں سے آنے والے شہریوں پر پابندی عائد کر دی ہے جہاں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔ ان میں چین، ایران، اٹلی، فرانس، جرمنی، سپین سمیت یورپ کے کئی ممالک شامل ہیں۔ جبکہ چند ممالک نے ان ملکوں سے آنے والے شہریوں کا 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا لازمی قرار دیا ہے۔
سفری پابندیوں کے نتیجے میں پاکستانی شہری ان ملکوں کا سفر نہیں کر سکتے جنھوں نے صرف اپنے شہریوں کو ملک واپسی کی اجازت دی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی حکام کی جانب سے جمعے سے ملک میں واپس آنے والے شہریوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ طیارے پر سوار ہونے سے قبل کوورنا کا ٹیسٹ کروائیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے سلسلے میں لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے 'ہمیں خطرہ ہے کہ معاشرے میں افراتفری پھیلے گی، کمزور طبقہ مشکل کا شکار ہو گا۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن سے ہسپتالوں میں طبی عملہ بھی متاثر ہو گا، ادویات کی فراہمی میں مشکل ہو گی۔ ہمیں سماجی دوری کا خیال رکھنا چاہیے اور عوام خود سے اس پر عمل کریں۔'
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مکمل طور پر لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب ہے کہ ملک میں کرفیو نافذ کر دینا۔ 'اس وقت یہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کے وسائل پاکستان کے پاس نہیں۔ ضرورت پڑنے پر ہم لوگوں کو کلسٹر میں لاک ڈاؤن کریں گے۔'
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وبا پھیلی تو 4 سے 5 فیصد مریضوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑے گی اور ان کو یہ سہولت فراہم کرنا مشکل ہو گا۔
وزیر اعظم نے کہا ’ہمیں سماجی دوری کا خیال رکھنا چاہیے اور عوام خود سے اس پر عمل کریں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قرنطینہ کارگر ہے اس لیے گھروں میں رہیں: مرتضیٰ وہاب
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا آپ کو کورونا ہے یا نہیں؟
،ویڈیو کیپشنآپ کو کیسے پتا چلے گا کہ کہیں آپ کو کورونا وائرس تو نہیں لگ گیا؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سماجی دوری کا مطلب کیا؟
کراچی میں وائرس عام آبادی میں پھیل رہا ہے
سندھ کی وزیرِ صحت عذرا پیچوہو نے کراچی میں کورونا وائرس کی عام آبادی میں موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے تو جو لوگ بیرون ممالک سے آ رہے تھے ان میں وائرس کی موجودگی تھی اس کے بعد جو ان کے قریب تھے ان میں منتقل ہوا اور اب ایسے متاثرین آرہے ہیں جن میں کسی متاثرہ فرد سے رابطے کی ہسٹری نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ کہ آبادی میں وائرس کی گردش ہو رہی ہے اس وجہ سے لوگوں کو نہایت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔‘
اس سے قبل جمعرات کو وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے بھی کہا تھا کہ عوام کورونا وائرس کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص جو بیرون ملک سے پاکستان آیا تھا، اس نے احتیاط نہیں کی اور لوگوں سے ملتا رہا، دعوتوں میں جاتا رہا اور بالاخر اس ایک شخص نے اپنے سارے گھر والوں کو اور وہ لوگ جن سے اس کی ملاقات ہوئی تھی ان سب کو اس وائرس سے متاثر کر دیا اور اب ان تمام افراد کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں۔‘
پاکستان سٹاک مارکیٹ کو سٹے بازوں، مندی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات اٹھا رہا ہے؟
پاکستان میں جمعے کو کورونا وائرس کے 40 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 495 تک پہنچ گئی۔
جمعے کو جہاں صوبہ پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت میں مزید 44 افراد میں کووڈ-19 وائرس کی تصدیق ہوئی وہیں کراچی میں اس سے ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی ہے، جس کے بعد پاکستان میں اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
جمعے کو ہلاک ہونے والے 77 سالہ مریض کا تعلق کراچی سے بتایا گیا ہے جبکہ اس سے قبل دو افراد خیبر پختونخوا میں ہلاک ہوئے تھے۔
وفاقی اور صوبائی اعداد و شمار کے مطابق جمعے کی شب تک سندھ میں 249، پنجاب میں 96، بلوچستان میں 92، خیبر پختونخوا میں 23, گلگت بلتستان میں 21 اور اسلام آباد میں کورونا کے 10 متاثرین موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج
پاکستان میں کورونا وائرس پر بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ اس صفحے پر آپ ملک میں کووڈ-19 کے پھیلاؤ اور اس سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کر سکیں گے۔